عالمی حرارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
refer to caption
Global mean surface temperature change from 1880 to 2015, relative to the 1951–1980 mean. The black line is the annual mean and the red line is the 5-year running mean. Source: NASA GISS.
Map of temperature changes across the world
key to above map of temperature changes
World map showing surface temperature trends (°C per decade) between 1950 and 2014. Source: NASA GISS .[1]
refer to caption
Fossil fuel related carbon dioxide (CO2) emissions compared to five of the IPCC's "SRES" emissions scenarios, published in 2000. The dips are related to global recessions. Image source: Skeptical Science.
refer to caption
Fossil fuel related carbon dioxide emissions over the 20th century. Image source: EPA .

عالمی حرارت کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے:

ماحول میں حرارت کا اضافہ جو گرین ہاؤس ایفکٹ پر انسان کے اثراندازی سے ہورہاہے۔

جب لوگ کوئلہ ،تیل یا قدرتی گیس جلاتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس (سی او ٹو) پیدا ہوتی ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائڈ گیس جب پودوں اور سمندر میں جذب ہونے سے بچ جاتی ہے تو فضائی آلودگی کا باعث بنتی ہے۔ اس کرۂ ارض میں قدرتی وسائل کروڑوں برسوں سے مخفی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ پچھلی چند صدیوں یا دہائیوں میں ان وسائل کو نکالنے کے بعد کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی ان وسائل کا بے دریغ استعمال آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔

آکسیجن تمام جانداروں کے لیے ناگزیر ہے۔ جنگلات کا صفایا اس کمی کا باعث بن رہا ہے۔ آکسیجن کے تین ایٹموں کے ملنے سے اوزون گیس بنتی ہے۔ یہ گیس ہماری بیرونی فضا میں زمین سے 12کلو میٹر سے 48کلو میٹر تک اکٹھی ہو رہی ہے۔ اوزون کا یہ ہالہ ہمارے سیارے کو سورج سے آنے والی مضر شعاؤں سے بچاتا ہے۔ فضا میں آلودگی کی وجہ سے اوزون لہر میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔

مختلف جنگیں بھی عالمی حرارت میں جوق در جوق اضافے کے باعث بن رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی پر ختم ہوئی۔ امریکا نے ایٹمی اسلحہ کے استعمال سے ایٹمی تابکاری سے آلودگی کو اس حد تک بڑھایا کہ برسوں بعد بھی ان شہروں میں اپاہج بچے پیدا ہوتے رہے بلکہ آج بھی ہو رہے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں ایٹمی اسلحہ اس قدر اکٹھا ہو چکا ہے کہ اس سے اس دنیا کو کئی بار تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اور تقریباً دنیا کے اکثر ایٹمی پلانٹ غیر محفوظ ہیں۔

اثرات[ترمیم]

  • عالمی حرارت سے پوری دنیا کے حرارت میں دھیرے دھیرے اضافہ ہوتا ہے۔
  • عالمی حرارت سے موسمیاتی تبدیلیاں واقع ہونگی مثلاََ جہاں بارش ہو رہی ہے وہاں خشکی آسکتی ہے اور جہاں خشکی ہے وہاں بارشیں ہونا شروع ہوسکتے ہیں۔ اسی کچھ علاقوں میں بالکل قحط طاری ہو سکتا ہے اور کچھ علاقے سیلاب کے لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
  • ماحولیات میں گرما کا اضافہ ہو رہاہے ہر سال میں پوری دنیا کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہاہے۔
  • عالمی حرارت سے گلیشیر پگھل کر پانی میں تبدیل ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے سمندر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔

روک تھام[ترمیم]

کچھ طریقہ کار ایسے ہیں جن سے عالمی حرارت کو روکنے یا کم از کم اس میں اضافے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ مثلاََ

  • شجرکاری: عالمی حرارت کو کم کرنے کا سب سے بہترین راستہ شجرکاری (یعنی نئے پودوں کو اگانا )ہے۔ پودے اور درخت کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کردیتے ہیں اور ماحول میں اس کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔
  • مختلف توانائیوں کا استعمال کم کیا جائے جو گلوبل وارمنگ میں اضافہ کرسکتے ہیں،جو توانائی جتنی بار دوبارہ استعمال کی جاسکتی ہے اسے دوبارہ استعمال کیا جائے۔
  • ہیٹر اور ایئر کنڈشنروں کا استعمال کم کیا جائے۔ حرارتی بلب کو انرجی سیور سے متبادل کیا جائے۔
  • آگاہی:معاشرے میں اور یا کم از کم اپنے خاندان میں بھی اگر انسان اس بارے میں آگاہی پیدا کریں تو اس سے گلوبل وارمنگ پوری طرح ختم تو نہیں کیا جاسکتا لیکن کم از کم اپنے توفیق تک انسان کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسروں کو آگاہی دینا اور ان کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا انتہائی اہم قدم ہے۔
  • قابل تجدید توانائیوں کا استعمال: اگر زیادہ تر قابل تجدید توانائی استعمال کی جائے تو اس سے کافی حد تک گلوبل وارمنگ میں کمی کی جاسکتی ہے۔

اقتباس[ترمیم]

  • اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ موجودہ دہائیوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے عالمی حرارت بڑھ رہی ہے۔
While most of the current climatologists who collaborate with the United Nations believe anthropogenic CO2 emissions have exacerbated natural warming in recent decades, there is no empirical proof to support their claim.[2]
  • پیڑ پودے انسان کی بنائی ہوئی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے پرورش پاتے ہیں اور دنیا کو گرم ہونے سے بچاتے ہیں۔
The planet won’t warm as much with plant life absorbing the CO2 mankind pumps into the atmosphere.[3]
  • 1930 کی دہائی سے گلوبل وارمنگ کا رونا رویا جا رہا ہے۔[4] پھر 1970 کی دہائی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب "دا بگ فریز" کا شوشہ چھوڑا گیا۔ انسان کی وجہ سے ہونے والی موسمی تبدیلیوں کا شوشہ حکومت کو ٹیکس بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ کینیڈا نے فی گھر ہزار ڈالر کا ٹیکس اسی طرح نافذ کیا۔
Then TIME magazine’s January 31, 1977 edition had the cover story featuring “The Big Freeze.” They reported that scientists were predicting that Earth’s average temperature could drop by 20 degrees fahrenheit. Their cited cause was, of course, that humans created global cooling.
Anyone who dares to argue that climate change is NOT caused by humans is ridiculed because this is a political issue being used to raise taxes[5]
  • دوسرے الفاظ میں عالمی حرارت کے بہانے عالمی حکمرانی حاصل کرنا ہے۔
In other words, the real agenda is concentrated political authority. Global warming is the hook.[6]
  • موسمی پالیسیاں بنا کر دنیا کی دولت ہتھیا لو۔
Redistribute the World's Wealth by Climate Policy[7]
  • وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ضرورت سے زیادہ ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ (جنگلوں کی افزائیش کے لیے) کاربن ڈائی آکسائیڈ فائیدہ مند ہے۔
they most likely exaggerate the effect of greenhouse gases such as CO2. In addition, they ignore the fact that enriching the atmosphere with CO2 is beneficial.”[8]
  • 2050ء تک اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو صفر کرنا ہے تو دنیا کو مسلسل ہر دو دنوں میں تین نئے نیوکلیئر ری ایکٹر مکمل کرنے پڑیں گے۔ اور دنیا میں اتنا یورینیئم شائید نہیں ہے۔
to achieve net-zero carbon dioxide emissions by 2050, the world would need to deploy 3 [brand new] nuclear plants worth of carbon-free energy every two days, starting tomorrow and continuing to 2050.[9]
  • حکومت کے نامزد کردہ نہایت اعلیٰ نیشنل کنزرویشن کمیشن نے متحدہ امریکا کی کانگریس کے سامنے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ملک بھر میں معدنی تیل کے ذخائر 30 سالوں میں ختم ہو جائینگے۔ یہ 1909ء کی بات ہے۔
An elite government-appointed group called the National Conservation Commission is charged with taking a comprehensive inventory of natural resources in the United States and discover where resources are being inefficiently handled and even squandered. They come back to the United States Congress with an alarming report that the national supply of oil will be entirely used by within just 25 or 30 years more at the rate that the country is currently burning through the precious and decidedly finite fuel source. The year is 1909.[10]
  • امریکا میں اکتوبر (2019) کے مہینے میں اتنی سردی پہلے کبھی نہیں رہی۔
All-time record lows for the month of October are being set in city after city,[11]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

تحقیق
تعلیمی