عالمی قافلہ صمود
گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی باضابطہ فہرست کے مطابق شرکا ممالک[1] وہ ممالک جو شرکا کی باضابطہ فہرست میں شامل نہیں مگر جن کے شہری یا عوامی شخصیات نے اس اقدام میں حصہ لیا[a]
وہ ممالک جن کی طرف سے ابھی تک کوئی وفد بحیری بیڑے میں شامل نہیں ہوا مگر ان ممالک نے حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی[13]
وہ ممالک جنھیں حصہ لینے کے لیے شامل کیا جانا تھا لیکن آخرکار انھوں نے حصہ نہیں لیا[14] | |
| مخفف | GSF |
|---|---|
| بانیان | |
| قسم |
|
| مقصد | غزہ کا محاصرہ توڑنا، انسانیت پسندانہ امداد پہنچانا اور عوام کی قیادت میں ایک انسانیت پسندانہ راہداری کا قیام |
| رکنیت | چوالیس (44) سے زائد ممالک سے پندرہ ہزار سے زیادہ مندرج شرکا |
| ویب گاہ | globalsumudflotilla |
عالمی قافلہ صمود جسے انگریزی میں گلوبل صمود فلوٹیلا (عالمی صمود بحیری بیڑا) اور عربی میں اسطول صمود عالمی (عالمی قافلہ استقامت) کہا گیا ہے، بین الاقوامی شہری قیادت میں بحری مہم ہے جو وسط 2025 میں شروع ہوئی۔ اس کا مقصد غزہ کی پٹی پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنا ہے۔ نام ”صمود“ عربی لفظ سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ’ثبات / استقامت‘ یا ’مزاحمت‘ ہیں۔ یہ مہم فریڈم فلوٹیلا کوالیشن، گلوبل موومنٹ ٹو غزہ اور مغرب صمود فلوٹیلا کے تعاون سے جولائی 2025 میں شروع ہوئی۔ فلوٹیلا میں 50 سے زائد جہاز اور 44 سے زائد ممالک کے ہزاروں افراد شامل ہیں، جو اسے شہری قیادت میں سب سے بڑا بحری قافلہ بناتا ہے۔ 2010 سے قبل اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کچھ کوششیں کامیاب ہوئیں مگر اس کے بعد زیادہ تر جہاز روکے یا حملہ کیے گئے، جن میں 2025 کے مئی، جون اور جولائی کے واقعات بھی شامل ہیں۔ ستمبر تک تین ڈرون حملوں کی اطلاع ملی، جس پر تین بحری جہاز امدادی کارروائی کے لیے روانہ کیے گئے۔
قافلے اگست 2025 کے آخر میں اوٹرانٹو، جینوا اور بارسیلولونا سے روانہ ہوئے، پھر کاتانیا، سیروس اور تیونس سے مزید جہاز شامل ہوئے۔ کچھ قافلے موسمی حالات کی وجہ سے عارضی طور پر رکے۔ 3 ستمبر کو اطالوی قافلہ سسلی پہنچا اور تیونس کے جہاز تیونس شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ چار دن بعد ہسپانیہ کے قافلے کے کچھ جہاز شمالی تیونس پہنچے، جہاں 9 ستمبر کی صبح ایک مرکزی جہاز میں آگ لگی، جس پر مشتبہ طور پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ اگلی رات ایک اور جہاز پر بھی حملہ ہوا۔ 19 ستمبر کو ہسپانیہ اور تیونس کے قافلے سسلی میں ملا کر یونان کی جانب روانہ ہوئے۔ 22 ستمبر کو یونانی قافلہ میلوس سے کریٹ روانہ ہوا اور 24 ستمبر کی رات گیارہ جہازوں پر ڈرون حملے ہوئے۔
اس مہم کی حمایت میں متعدد غیر ملکی وزرا، اطالوی سیاست دان، ہسپانیہ و پرتگال کے پارلیمانی اراکین، پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان، صدر کولمبیا گستاوو پیترو اور اقوام متحدہ کی فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی خصوصی نامہ نگار فرانچسکا البانیزے شامل ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے شرکا کو دہشت گرد قرار دے کر قید کرنے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل کی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا روکنے کا اعلان کیا۔ حملوں کے جواب میں اطالوی وزارت دفاع نے آلپینو (Alpino) اور ویرجینیو فازان (Virginio Fasan) نامی جہاز روانہ کیے جبکہ ہسپانیہ کے وزیر اعظم پیدرو سانچز نے فُرور (Furor) جہاز بھیجا۔ یورپی کمیشن نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا کی حمایت نہیں کرتا۔
غزہ کی طرف آخری مرحلہ
[ترمیم]27 ستمبر سے رپورٹ ہوئی کہ ہسپانوی، اطالوی، یونانی اور ترکی حکومتیں ایک ساتھ اس فلوٹیلا کی نگرانی کر رہی تھیں اور ترکی نے مبینہ طور پر ڈرونوں کے ذریعے نگرانی کی۔ ترکی کی اس نگرانی کی تصدیق صدر رجب طیب اردوغان کے دفتر نے کی۔ اگلے دن فلوٹیلا غزہ کی طرف روانہ ہوئی، جب تک بحری امدادی دستوں کی آمد نہیں ہوئی۔ 29 ستمبر کو ایک جہاز کریٹ، قبرص اور مصر کے درمیان ٹوٹ گیا اور پانی بھرنے لگا، جس پر ترکی اور این جی او ”ایمرجنسی“ نے عملے کو دوسرے جہاز پر منتقل کرایا۔
30 ستمبر کو اعلان ہوا کہ اطالوی بحریہ فلوٹیلا کے ساتھ 150 سمندری میل تک جائے گی، اس کے بعد ان کا ساتھ ختم ہو جائے گا۔ اسی دن اسپین نے بھی اعلان کیا کہ اس کی بحریہ 120 سمندری میل کے بعد فلوٹیلا کے ساتھ نہیں جائے گی۔ ترکی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ فلوٹیلا کی حفاظت جاری رکھے گا۔
اسرائیل کی مداخلت
[ترمیم]1 اکتوبر کو فلوٹیلا میں میڈیا اور صحت کے کارکنوں کے لیے مخصوص جہاز روانہ ہوا، جو اسرائیل کی طرف سے غزہ میں صحافیوں اور طبی عملے پر حملوں کے جواب میں تھا۔ ابتدائی گھنٹوں میں فلوٹیلا کو اسرائیلی جنگی جہاز اور نامعلوم ڈرونوں نے گھیر لیا مگر ابتدائی کوششیں ناکام رہیں۔ بعد میں اسرائیلی بحریہ نے متعدد جہازوں کو روکا اور کچھ پر پانی کی توپیں استعمال کی گئیں۔ اس دوران 13 جہاز روکے گئے، جبکہ 30 جہاز اب بھی غزہ کی طرف رواں تھے۔[15]
رد عمل
[ترمیم]اسرائیل کی مداخلت کے بعد یورپ اور دیگر جگہوں پر احتجاج ہوا۔ اٹلی میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے، طلبہ نے یونیورسٹیوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر قبضہ کیا۔ جرمنی، ترکی، اسپین، بیلجیم اور لیبیا میں بھی مظاہرے ہوئے۔ آسٹریلیا میں برسبین میں مظاہرہ منعقد ہوا۔
تنظیموں اور ریاستوں کی مذمت
[ترمیم]ترکی کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کو ”دہشت گردانہ اقدام“ قرار دیا۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا۔
حواشی
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Delegations from across the world". Global Sumud Flotilla (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-09-02.
- ↑ "Flotilla of Hope: Mauritania Joins Maghreb Mission to Break Gaza Siege" (بزبان انگریزی). Safa News Agency. 23 Jul 2025. Retrieved 2025-09-02.
- ↑ "Sarajevan Boris Vitlacil joins Global Sumud Flotilla heading to Gaza". N1 Sarajevo (بزبان انگریزی). 31 Aug 2025. Retrieved 2025-09-02.
- ↑ Benas Gerdžiūnas (2 Sep 2025). "Lithuanian joins Greta Thunberg on Gaza flotilla: we want to open a humanitarian corridor". lrt.lt (بزبان انگریزی). LRT. Retrieved 2025-09-02.
- ↑ Darío D'Atri (31 Aug 2025). "Jorge González, el único capitán argentino de la Global Sumud Flotilla que intenta llegar a Gaza con ayuda humanitaria" [Jorge González, the only Argentine captain of the Global Sumud Flotilla trying to reach Gaza with humanitarian aid.]. Clarín (بزبان ہسپانوی). Retrieved 2025-09-02.
- ↑ Ellie Aben; Sheany Yasuko Lai (23 Aug 2025). "Asian activists ready to set sail with largest-ever Gaza aid flotilla". Arab News (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-09-02.
- ↑ "Sumud Nusantara". Sumud Nusantara (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-09-02.
- ↑ "Une flottille internationale quitte Barcelone pour soutenir Gaza, Greta Thunberg à bord" [An international flottilla leaves Barcelona to support Gaza, Greta Thunberg on board]. Euronews (بزبان فرانسیسی). 31 Aug 2025. Retrieved 2025-09-01.
- ↑ "Libyan ship Omar Al-Mukhtar to join Global Sumud Flotilla to break Gaza blockade". Middle East Eye (بزبان انگریزی). 5 Sep 2025. Retrieved 2025-09-06.
- ↑ Cele Fierro; Anderson Bean; Brian Bean (2 Sep 2025). "On the Flotilla to Gaza". Tempest (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-09-06.
- ↑ "'Global Sumud Flotilla': la più grande flotta civile diretta a Gaza sta per salpare, sostenuta da 44 Paesi e centinaia di volti noti" ["Global Sumud Flotilla": the largest civilian flotilla heading to Gaza is about to set sail, supported by 44 countries and hundreds of celebrities]. Italia che cambia (بزبان اطالوی). 26 Aug 2025. Retrieved 2025-09-06.
- ↑ David BM (20 Aug 2025). "Global Sumud Flotilla: Euskal Herria se embarca en la misión internacional por Palestina" [Global Sumud Flotilla: Euskal Herria embarks on the international mission for Palestine]. Ecuador Etxea (بزبان ہسپانوی). Retrieved 2025-09-06.
- ↑ Saleh Salem (11 Sep 2025). "Egypt activists attempt to join Global Sumud Flotilla to break Israel's siege on Gaza". The New Arab (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-09-11.
- ↑ Nikita Jain (31 Aug 2025). "Global Sumud Flotilla Departs from Barcelona to Gaza, to join Tunisia convoy on Sep 4". Maktoob Media (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-08-31.
- ↑ Kylie MacLellan; Christina Anagnostopoulos; Heather Timmons; Cynthia Osterman (1 Oct 2025). "Live: Israel says it has stopped several vessels from Gaza aid flotilla" (بزبان انگریزی). Reuters. Retrieved 2025-10-02.