عالیہ (پاکستانی اداکارہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عالیہ (انگریزی: Aaliya) پاکستانی فلمی صنعت کی معروف اداکارہ کراچی میں پیدا ہوئی لیکن انہیں شہرت لاہور میں بننے والی فلموں سے ملی جب یہ صرف پانچ سال کی تھیں تو فلم ’’اونچے محل‘‘ میں چائلڈ اسٹار کے طور پر کام کیا۔ نو سال کی عمر میں فلم ساز میاں شفیق اور ہدایت کار این ای اختر کی پنجابی فلم ’’رشتہ‘‘ میں سنتوش کمار، صبیحہ خانم، نذر اور رنگیلا جیسے نامور اداکاروں کے مقابل کام کرتے ہوئے انتہائی عروج تک پہنچیں۔ عالیہ کو شروع ہی سے رقص کرنے کا شوق تھا یہی وجہ ہے ابتدائی فلموں میں انہوںنے صرف رقاصہ کے طور پر شامل کیا گیا۔ عالیہ نے رقص میں وہ فنی باریکیاں بھی شامل کیں جو اب نظر نہیں آتیں۔ رقص میں مہارت کی وجہ سے عالیہ نے کئی فلموں میں رقاص کی غیر موجودگی میں اپنے رقص خود کیے۔ 1969ء میں پنجابی فلم ’’دھی رانی‘‘ میں اپنی عمدہ پرفارمنس کے ذریعے فلموں میں ہیروئن آنے لگیں، یہ بات 1970ء کی ہے جب فلم ساز وحید مراد نے کراچی سے لاہور جاکر پنجابی فلم ’’مستانہ ماہی‘‘ بنانا شروع کی۔ اس فلم میں وحید مراد کی ہیروئن عالیہ تھیں۔ ہدایت کار افتخار خان، وحید مراد اور عالیہ پر نور جہاں کی آواز میں گانا ’’سیونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آگیا‘‘ فلم بند کر رہے تھے۔ لیکن اپنے دلفریب رقص میں شہرت حاصل کرنے والی عالیہ اس وقت بے حد نروس تھیں۔ شاید وحید مراد کے سامنے رقص کرتے ہوئے گھبرارہی تھیں، اس گانے کی فلم بندی کے دوران ہدایت کار بار بار انہیں کہہ رہا تھا کہ وہ اس رقص میں آنکھوں اور چہرے کے تاثرات کو بھی لے کر آئیں۔ بار بار ری ٹیک سے وقت بھی برباد ہورہا تھا۔ وحید مراد کی عادت تھی جب وہ کسی فلم کے فلم ساز ہوتے تھے تو ہدایت کار کے کام میں مداخلت نہیں کرتے تھے لیکن بار بار کی ری ٹیک نے انہیں مداخلت کرنے پر مجبور کر دیا۔ وحید مراد نے عالیہ کو خود اپنے چہرے پر ہدایت کار کی ڈیمانڈ کے مطابق تاثرات ابھار کر اور آنکھوں میں وارفتگی اور شیفتگی کا مظاہرہ کر کے دکھایا۔ علاوہ عالیہ کو یقین دلایا کہ اگر تم نے یہ گانا اس کے بولوں کے حقیقی روح کے مطابق فلم بند کرادیا تو اس کے حوالے سے فن کی دنیا میں ہمیشہ اس طرح زندہ رہوگی جس طرح ماضی میں اداکارہ نکہت سلطانہ نے فلم ’’سسرال‘‘ کا گانا ’’جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا‘‘۔ نبیلہ پر فلم ’’بدنام‘‘ کا گانا ’’بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے‘‘۔ صبیحہ خانم پر فلم ’’سوال‘‘ کا گانا ’’لٹ الجھی سلجھا جارے بالم‘‘۔ مسرت نذیر پر فلم ’’شہید‘‘ کا گانا ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘۔ یاسمین پر فلم ’’عشق پر زور نہیں‘‘ کا گانا’’دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے‘‘ اور نیلو پر فلم ’’سات لاکھ‘‘کا گانا ’’آئے موسم رنگیلے سہانے جیا نہیں مانے تو چھٹی لے کے آجا بالما‘‘۔ انمول انداز سے فلم بند کرا کے سیلو لائڈ کے فیتے پر سدا کے لیے امر ہوگئیں۔ وحید مراد کی حوصلہ افزائی اور مثالوں نے عالیہ کے دل و دماغ پر خاطر خواہ اثر کیا، چناںچہ انہوںنے اپنی ساری صلاحیتیں بروئے کار لاکر اس گانے کو دل کی گہرائیوں سے کچھ اس طرح فلم بند کرایا کہ سیٹ پر موجود ہر شخص سحر زدہ ہو گیا۔ وحید مراد نے اس خوشی میں سب کو مٹھائی کھلائی اور عالیہ نے اپنے ہاتھوں سے وحید مراد کو لڈو کھلایا کیوں کہ وحید مراد ان کو ترغیب نہ دیتے تو وہ کسی طو رپر یادگار پرفارمنس کا مظاہرہ نہ کرپاتیں۔