عامرعلی شاہین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


عامرعلی شاہینؔ ایک پاکستانی صحافی اور پاکستان تحریک انصاف شمالی پنجاب لیبر ونگ کے انفارمیشن سیکرٹری ہیں آپ کے کالم کی کیپشن " تصورشاہینؔ" ہے آپنے کالمز کے ذریعے آپ پاکستانی عوام میں مندرجہ ذیل سوچ کو بیدارکرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب میرے ہم وطن ان باتوں پرنہ صرف غور کریں گئے بلکہ عملی طور پر بھی اِس مشن کا حصہ ہوں گے: حضورﷺ اور اُن کی اہلبیتؑ کی محبت امت محمدیؐ میں پیدا کی جائے، بارہ اماموں کے بارے میں عوام کو بتایا جائے جن کا ذکر اب علما کے منہ پر صرف بغض اہلبیت رسولﷲؐ کی وجہ سے نہیں آتا،بنواُمیہ اور بنوعباس کے مظالم کے بارے میں بتایا جائے جو اُنہوں نے حضورؐ کی اہلبیتؑ پر صرف اقتدار کی ہوس میں کیا اور یہی وجہ بنی کہ آج ہم مسلمان تقسیم در تقسیم ہوتے جا رہے ہیں،اولیاءﷲؓ کی محبت دلوں میں پیدا کی جائے اور ساتھ ساتھ اُن کے پیغام کو لوگوں تک پہنچایا جائے کیونکہ اُن کے حقیقی مشن کو آج لوگ بھول چکے ہیں ورنہ ائمہ اطہارؑ کا علم ہم سب کو ضرور ہوتا جو صرف مخصوص لوگوں کو آج ہے،سعودی گورئمنٹ کے خلاف آواز بلند کی جائے کہ وہ بی بی فاطمہؑ، ائمہ اطہارؑ اور تمام باقی مزرات کو دوبارہ تعمیر کریں جو انہوں نے اپنی وہابیت کی وجہ سے شہید کیے ہیں،پاکستان میں ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو مزرات کو صرف اِس لیے شہید کر رہے ہیں تاکہ اُن کے دجالی منصوبہ کامیاب ہو سکے،اتحادبین المسلمین کو فروغ دیا جائے تاکہ اُمت محمدیؐ ایک جھنڈے تلے اکھٹی ہو سکے،پوری دنیا میں مسلمانوں کا قتل عام بند کیا جائے،اُن تاریخی کتابوں کو درست انداز میں بتایا جائے جو آج کے کئی پبلشیرز نے دجالی و یذیدی سوچ کے تحت تبدیل کردی ہیں تاکہ اُن تاریخی حقائق کا لوگوں کو نہ پتہ چل سکے جس سے وہ درستی پر آسکیں،اپنے اُن حقیقی قومی ہیروز کے بارے میں بتایا جائے جن کو آج قوم فراموش کر چکی ہے،ملک میں جاگیرداری نظام کے خلاف آواز بلند کی جائے کیونکہ یہ جاگیدار طبقہ وہ ہے جس کو قوم سے غداری کی وجہ سے انگریز نے جاگیریں عطا کیں اور آج یہ ہمارے حکمران بن بیھٹے ہیں نیز تمام جاگیریں مزارعوں میں تقسیم کی جائیں تاکہ ہمارے ملک کا کسان خوشحال ہو سکے،مزدور کی تنخواہ کو بڑھایا جائے تاکہ وہ اور اُس کا خاندان بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکے،چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے،ڈائون سائزنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے،ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا خاتمہ کیا جائے تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے کیونکہ ہرجرم کا آغاز غیر مستحکم معاشی حالت پر ہوتا ہے،خواتین اور بزرگوں کو مکمل تحفظ دیا جائے جیسے ہمارے دین میں اِس کا حکم ہے،طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ کیے جائے کیونکہ یہ طبقاتی تقسیم کوپیدا کرنے کی بنیادی جڑ ہے،اُردو زبان کو فروغ دیا جائے کیونکہ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتی جو اپنی قومی زبان کو اہمیت نہیں دیتی،حکومت تمام سطحوں پر مفت تعلیم کی سہولت پیدا کرئے کیونکہ ایک بہت بڑی تعداد صرف اِس لیے تعلیم سے محروم ہے کہ اُن میں اتنی قوت نہیں کے وہ تعلیمی اخراجات برداشت کرسکیں،جمہوریت کے خلاف اُٹھنے والی ہر قوت کے خلاف آوازبلند کی جائے،اسپتالوں کو بہتر بنایا جائے اور مفت دوا دی جائے،ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے جن کا تعلق لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا، سمگلنگ اور دوسرے کالے کرتوتوں سے ہے،سماجی ثقافتی تعصب پسندی کا خاتمہ کیا جائے اور اسلامی بھائی چارہ کو فروغ دیا جائے،خارجہ پالیسی کو درست سمت چلایا جائے جس سے قومی وقار میں اضافہ ہو،دنیا میں ہر سامراجی قوت کے خلاف آواز بلند کرنا جو کسی قوم کا حق صلب کر رہی ہے