عامر الہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امیر الہی
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیRight-handed batsman (RHB)
گیند بازیRight-arm Leg break (LBG)
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ12 December 1947 
بھارت  بمقابلہ  Australia
آخری ٹیسٹ12 December 1952 
Pakistan  بمقابلہ  بھارت
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 6 125
رنز بنائے 82 2562
بیٹنگ اوسط 10.25 16.85
100s/50s -/- -/3
ٹاپ اسکور 47 96
گیندیں کرائیں 400 24822
وکٹ 7 513
بولنگ اوسط 35.42 25.77
اننگز میں 5 وکٹ 30
میچ میں 10 وکٹ 6
بہترین بولنگ 4/134 4/134
کیچ/سٹمپ -/- 67/-
ماخذ: Cricinfo.com

امیرالٰہی ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔[1]وہ یکم ستمبر 1908 ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔امیرالٰہی اس پاکستان کی اولین کرکٹ ٹیم کاحصہ تھے جس نے-53 1952ء میں بھارت کادورہ کیاتھا ان کاشمار ان12گنے چنے کرکٹرز میں ہوتاہے جنہوں نے دوملکوںکی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی تھی۔ یہ اعزاز ان کواس لیے ملا کہ وہ اس سے قبل1947ء میں بھارت کی طرف سے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کھیل چکے تھے۔انہوں نے اپنے کیرئیر میں6 ٹیسٹ کھیلے جس میں پانچ ٹیسٹ میں وہ پاکستان کی طرف سے شریک ہوئے۔وہ بھی بھارت کے خلاف پاکستان کی طرف سے اولین سریزمیں جبکہ جب انہوں نے اپنے آخری ٹیسٹ میں کلکتہ کے مقام پر جب انہوں نے میدان کارخ کیاتو اس وقت ان کی عمر 44 سال ہوچکی تھی۔ میڈیم پیسرکی حیثیت سے بائولنگ کاآغازکرنے کے بعد وہ لیگ بریک اورگگلی بھی کرتے رہے اوراسی حوالے سے ان کوشہرت ملی۔

ابتدائی کرکٹ[ترمیم]

ٹیسٹ کرکٹ میں وارد ہونے سے قبل وہ 1936ء میں بھارتی ٹیم کے ساتھ انگلینڈ کے دورے پرگئے تھے اور 42.94 کی اوسط سے17 وکٹوں کے مالک بنے۔ اس کے بعد 1948-1947ء میں آسٹریلیا کے دورہ میں وہ اچھی کارکردگی دکھانے کے خواہش مند تھے مگر یہاں ان کے لیے مشکلات سامنے تھیں جب وہ 65.87 کی قدرے مہنگی اوسط سے صرف8وکٹوں تک رسائی حاصل کرسکے۔آزادی کے بعد پاکستان جانے اورپھراس کے بعدپاکستان کی ٹیم کے ساتھ بھارت آنے کے بعد انہوں نے 38.76 کی اوسط سے 13 وکٹیں حاصل کیں۔

امیر الٰہی بھارت میں قیام پاکستان سے قبل ایک مانے ہوئے کھلاڑی تھے انہوں نے 24.72 کی اوسط سے رانجی ٹرافی میں 193 وکٹیں حاصل کررکھیں تھیں اسی بناپروہ بروڈا کو47-1946ء میں رانجی ٹرافی جتوانے میں نمایاں کردارکے حامل تھے۔تاہم پاکستان کاشہری بننے کے بعدان کی سب سے نمایاں کارکردگی بھارت کے خلاف مدراس(حال چنائی) میں تھی جب انہوں نے ذو الفقار احمد کے ساتھ مل کر آخری وکٹ کی شراکت میں 104 رنز بنائے جس میں ان کا حصہ47 رنز تھا۔

امیرالٰہی کے ٹیسٹ کیرئیر کاجائزہ لیاجائے توانہوں نے بھارت کی طرف سے اپنا پہلااورآخری ٹیسٹ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جس میں وہ صرف4رنزبناسکے اورمیکوئل کی گیند پرملرکے ہاتھوں کے کیچ ہو گئے اور دوسری انگزمیں ان کی باری نہیں آئی۔ 12 دسمبر سے18 دسمبر تک سڈنی کے مقام پرکھیلے جانے والا یہ ٹیسٹ ڈرا رہا۔ اس کے بعد وہ بھارت کے لیے کوئی ٹیسٹ نہ کھیل سکے۔

1952-53ء دورہ بھارت[ترمیم]

پاکستان آنے کے بعدجب پاکستان کی کرکٹ ٹیم 53-1952ء میں اپنے اولین دورہ بھارت کے لیے روانہ ہوئی تو امیرالٰہی اس کاحصہ تھے۔ دہلی کے مقام پرمنعقدہ پہلے ٹیسٹ میں بھارت نے پہلے کھیلتے ہوئے372 رنز بنائے امیر الٰہی نے وجے ہزارے کو72رنزپرآئوٹ کیا جبکہ وجے منجریکر23' گل محمد21 اورغلام محمد کو50 رنزپر آئوٹ کرکے134 رنزکے عوض 4 وکٹوں کے مالک بنے۔ جبکہ بیٹنگ میںپہلی اننگز میں 9 اوردوسری باری میں کوئی رنزبنائے بغیر پویلین لوٹ گئے۔بھارت یہ ٹیسٹ ایک اننگز اور 72 رنز سے جیت گیاتھا۔دوسرا ٹیسٹ لکھنئو میں تھا یہاں پاکستان نے بھارت کو ایک اننگز اور 43 رنز سے شکست دے کر بدلہ اتار دیا تھا۔بھارت کی ٹیم پہلی اننگز میں106 رنزپرڈھیر ہو گئی تھی۔ فضل محمود نے 52 رنز دے کر5 کھلاڑیوں کوآئوٹ کیاتھا۔ درحقیقت یہ فضل محمود کا ٹیسٹ تھا تاہم امیرالٰہی بائولنگ سے محروم رہے البتہ بیٹنگ میں صرف 4 رنزبناسکے۔دوسری اننگز میں فضل محمود نے ایک بارپھر صرف42 رنز دے کر7 کھلاڑیوں کی اننگز کاخاتمہ کیا اورامیرالٰہی نے بھی 20 رنزکے عوض 2 وکٹیں لے کران کا ساتھ دیا۔سیریز کاتیسرا ٹیسٹ بمبئی (حالیہ ممبئی)میں تھا جو بھارت نے10 وکٹوں سے جیت لیا۔186 رنزتک محدود رہنے والی پاکستانی اننگز میں امیر الٰہی کوئی سکور نہ بناسکے جبکہ بائولنگ میں بھی 65 رنزدے کر ان کے حصے میں کوئی وکٹ نہ آئی۔دوسری اننگز میں بھی وہ صرف ایک رنز ہی بناسکے۔سیریزکاچوتھا ٹیسٹ چنائی(سابقہ مدراس)میں تھا جوبغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوا پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے344 رنز کامجموعہ اکٹھا کیا جس میں امیر الٰہی کے47 رنز شامل تھے ۔ جواب میں بھارت کی ٹیم 6 وکٹوں پر 175 رنز ہی بناسکی اس میچ میں ذوالفقاراحمداورامیرالٰہی کے درمیان آخری وکٹ پر سنچری پارٹنرشپ میچ کااہم پہلو تھا۔اس سیریز کاآخری ٹیسٹ جو امیر الٰہی کابھی آخری ٹیسٹ تھا کلکتہ کے مقام پرکھیلا گیا۔ امیرالٰہی4رنزبناسکے اور29 رنزکے عوض پنکج رائے کی وکٹ کے مالک بنے ۔ دوسری باری میں ان کی بیٹنگ آئی اورنہ ہی ان کوبائولنگ کاموقع ملا۔ یہ ٹیسٹ ڈراہوا تاہم بھارت پانچ ٹیسٹ میچزکی سیریز2-1سے جیت گیا۔اس سریز کے بعد امیرالٰہی دوبارہ ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیل سکے۔

وفات[ترمیم]

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ابتدائی دور کے عظیم کھلاڑی 72 سال اور118 دن کی عمرمیں 28 دسمبر 1980ء کوکراچی میں انتقال کرگئے لیکن پاکستان کرکٹ میں ٹیسٹ کیپ نمبر1حاصل کرنے کا اعزازہمیشہ انہی کے پاس رہے گا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Amir Elahi".