عامر خان (اداکار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عامر خان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیے عامر خان (ضد ابہام)۔
عامر خان (اداکار)
(انگریزی میں: Aamir Khan خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
AamirKhan.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 مارچ 1965 (54 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ کرن راؤ (2005–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
تعداد اولاد 3   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد اولاد (P1971) ویکی ڈیٹا پر
والد طاہر حسین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلم اداکار،  فلم ہدایت کار،  فلم ساز،  منظر نویس،  ٹیلی ویژن میزبان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ہندی،  اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (2010)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایت کار (برائے:تارے زمیں پر) (2008)
IND Padma Shri BAR.png فنون میں پدم شری  (2003)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ (انگریزی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

عامر خان ایک بھارتی اداکار، فلم ساز اور مصنف ہیں۔ آپ 14 مارچ، 1965ء کو طاہر حسین کے گھر پیدا ہوئے۔ 1973ء میں اپنے چچا ناصر حسین کی فلم یادوں کی بارات میں بطور چائلڈ سٹار کے پہلی مرتبہ پردہ سکرین پر نمودار ہوئے۔ گیارہ سال بعد فلم "ہولی" میں کام کیا مگر انہیں فلمی دنیا میں کامیابی اور پزیرائی ان کے چچا زاد بھائی منصور خان کی فلم قیامت سے قیامت تک سے ملی جو 1988ء میں جاری ہوئی۔ اس فلم میں انہیں بہترین ڈیبیو اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ 90 کی دہائی میں ان کی کئی مشہور فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں راجا ہندوستانی، سرفروش، بازی اور عشق وغیرہ شامل تھیں۔ 2000ء کے بعد ان کی اداکاری میں ایک بہت بڑی تبدیلی واقع ہوئی۔ جب انہوں نے لگان فلم میں کام کیا۔ لگان فلم کو آسکر کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔ لگان کے بعد انہوں نے کئی سپر ہٹ فلموں میں کام کیا جن کو بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل ہوئی ان فلموں میں منگل پانڈے، تارے زمین پر، گجنی، تھری ایڈیٹس وغیرہ۔ شامل ہیں۔ عامر خان نے ان فلموں میں حقیقی زندگی کی تصویریں پیش کرنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر تارے زمین پر اور تھری ایڈیٹس تدریسی نظام میں موجود خرابیوں کی نشان دہی کے حوالے سے بہترین فلمیں تصور کی جاتی ہیں۔ ان کی فلمیں عام اور کمرشل موضوعات سے ہٹ کر ہوتی ہیں۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

عامر خان باندرہ، ممبئی کے ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان ابتدا ہی سے فلمی دنیا سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے والد طاہر حسین ایک فلمساز اور ہدایت کار تھے۔ ان کے چچا ناصر حسین بھی اسی میدان سے وابستہ تھے۔

نجی زندگی[ترمیم]

80 کے دہائی کے آخر میں عامر خان نے رینا دت سے شادی کی۔ مگر ایک غیر مسلم کو ان کے خاندان نے بطور بہو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں ابتدا میں ان کی یہ شادی خفیہ رہی۔ رینا سے عامر خان کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ سنہ 2002ء میں عامر خان اور رینا کے درمیان میں طلاق ہوئی۔ 2005ء میں عامر خان نے کرن راؤ سے شادی کی جو بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لگان میں کام کر چکی تھیں۔ عامر خان زیادہ تر اپنی فلموں پر توجہ دینے کے لیے مشہور ہیں۔ اس لیے وہ زیادہ تر اشتہارات اور ایوارڈ شوز میں نظر نہیں آتے ۔

مقبولیت[ترمیم]

2013ء میں ان کی فلم دھوم 3 نے انکو اور بھی زیادہ مقولیت دے دی۔ دھوم3 نے بالی وڈ کی ساری فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے اور بالی وڈکی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بن گئی۔ اس فلم میں عامر خان بطور ایک چور کے نمودار ہوئے، اس فلم میں عامر خان ڈبل شاٹ ہوتے ہیں، فلم میں ایک گانا بھی تیار کیا گیا، جس پر تقریباََ 5کروڑ لاگت آئی۔ اس گانے کا نام ملنگ ملنگ تھا۔ یہ گانا بالی وڈ کا سب سے مہنگا گانا ریکارڈ ہوا۔

2014ء میں دسمبر کے آخر پر انہوں نے اپنی ایک اور فلم بنائی، جس کا نام پی کے تھا، پی کے فلم میں عامر خان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، پی کے فلم نے عامر خان کی ہی بنائی ہوئی فلم دھوم3 کا ریکارڈ توڑ دیا اور بالی وڈ کی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم بن گئی۔ اس فلم پر کیس بھی ہوا کیوں کہ یہ ہندو مذہب کے کافی خلاف تھی، مگر اس فلم کا مقصد ذات پات اور مذہب سے پاک انسان کو دکھانا تھا، بارحال کیس کا یہ فیصلہ ہوا جس نے یہ فلم دیکھنی ہے وہ دیکھے جس نے نہیں دیکھنی وہ نہ دیکھے، اس فلم کا پہلا پوسٹر رد کر دیا گیا تھا کیونکہ اس میں عامر خان ننگے کھڑے تھے اور ساتھ ان کے پاس ایک ٹیپ ریکارڈر تھا جسے وہ دونوں ہاتھوں سے اس طرح تھامے ہوئے تھے کہ جسے دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ واقعی ننگے ہیں۔ فلم، پی کے 2014ء - 2015 ء کی کامیاب فلم ہے۔ اس فلم میں عامر خان کا کردار ایک ایلین کا ہے جو دوسری دنیا سے یہاں آتا ہے ،مگر اس کا سپیس شپ واپس چلا جاتا ہے۔ عامر خان پی کے فلم کی وجہ سے عوام میں اور بھی زیادہ مقبول ہوئے۔

تنقید[ترمیم]

23 نومبر 2015ء کو نئی دہلی میں ایک تقسیم انعامات کے جلسے میں عامر خان نے "بڑھتی عدم رواداری" کا تذکرہ کیا اور کہا کہ انہوں نے اس کا احساس پچھلے چھ سے آٹھ مہینے میں یہ زیادہ محسوس کیا۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ان کی اہلیہ کرن راؤ نے ملک چھوڑنے کا تک مشورہ دے دیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ بھارت کو بہت چاہتے ہیں اور ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔[3]

تھپڑ مارنے کی مہم[ترمیم]

بھارت کی ایک سیاسی جماعت شیو سینا نے جو مہاراشٹر میں بر سر اقتدار اتحاد کا حصہ ہے، اس بیان پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور احتجاج کیا۔ اسی کی لدھیانہ اکائی نے عامر خان کو تھپڑ مارنے والے کسی بھی شخص کو ایک لاکھ روپیے کے انعام کا اعلان کیا۔ حالانکہ مہاراشٹرائی قائدین نے اس پیش کش سے خود کو الگ کر دیا [3]، تاہم لدھیانوی شاخ کے قائدین کو نہ تو پارٹی سے نکالا اور نہ ہی کوئی صفائی طلب کرنے یا تادیبی کارروائی کی پہل کی کوئی کوشش کی گئی۔

آن لائن تھپڑ مارنے کی مہم[ترمیم]

شیو سینا کے قائدین کے تھپڑ مارنے کی دعوت پر ریاستہائے متحدہ امریکا کے میامی ایڈ اسکول کے ہیمانیش آشار اور دھُوَنی شاہ نے ایک ویب سائٹ کی تخلیق کی جہاں پر لوگ اپنی نفرت کے اظہار یا تفریح کے لیے عامر خان کو آن لائن تھپڑ مارسکتے ہیں۔[4]

فلمیں[ترمیم]

چند مشہور فلمیں

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]