مندرجات کا رخ کریں

عام بٹیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جرمنی میں

عام بٹیر یا گھاگر بٹیر / گھاگرہ بٹیر (انگریزی: Common quail) تیتر کی طرح فربہ مگر تقریباً بغیر دم کا ہلکے براؤن رنگ کا پرندہ جس کا جسم سرخی مائل تکونے دھبوں کے پروں سے مزین ہوتا ہے۔ نر کے حلق پر ایک Anchor (لنگر) نما کالا نشان ہوتا ہے۔

حجم

[ترمیم]

بغیر دم کی فاختہ تقریباً 17 سینٹی میٹر۔

مسکن

[ترمیم]

تقریباً مکمل برصغیر سوائے سری لنکا کے۔ رنگوں کی تفریق کے بنا پر دو ذیلی قسم کے ہوتے ہیں۔ مقامی اور موسم سرما میں نقل مکانی بھی کرتے ہیں۔

عادات و اطوار

[ترمیم]

جوڑے یا جُھنڈ گھاس کے میدانوں اور کھیتوں میں ملتے ہیں۔ مقامی آبادی میں موسم سرما میں وسط و مغربی ایشیا سے نقل مکانی والے پرندوں کی وجہ سے کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔ غذا کی فراہمی پر کبھی کبھی بڑے جھنڈ اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ پرواز پَھرپھراہٹ والی مگر سیدھی ہوتی ہے اور کچھ دور اڑنے کے بعد پھر سے جھاڑیوں میں اُتر پڑتے ہیں۔

غذا

[ترمیم]

اناج، گھاس کے بیج، دیمک وغیرہ۔ بٹیر کا پھندا کے ذریعے شکار عام تھا، مگر ہندوستان میں اب ایسا کرنا سخت منع ہے۔ کئی ممالک میں اس کی فارمنگ کی جاتی ہے۔ ان کا ذائقہ لذیذ ہوتا ہے۔

آواز

[ترمیم]
آواز

تیز سیٹی جیسی شروع میں، پھر آہستہ۔

گھونسلے کا موسم

[ترمیم]

عام طور پر فروری تا اکتوبر مگر زیادہ تر مارچ تا مئی۔ ان کا تنکوں و گھاس کا چھوٹا گھونسلا ہوتا ہے جو جو گھنی گھاس یا زرعی علاقوں میں بنایا جاتا ہے۔

6 سے 14 تک انڈے دیتے ہیں جو سرخی مائل اور بھورے دھبوں سے مزین ہوتے ہیں۔

بقا کی صورت حال

[ترمیم]

بقا کی صورت حال: محفوظ

مقدس کتب میں

[ترمیم]

بائبل کی گنتی کی کتاب میں ان کا ذکر ہے۔[1] اس کے علاوہ قرآن میں ”من و سلویٰ“ کے سلسلہ سے انہی کا تذکرہ ہے۔ عربی میں بٹیر کو ”سلویٰ“ کہتے ہیں۔ نبی موسیٰ کی قوم جب صحرا سے گذر رہی تھی تو اس زمانے میں بڑی تعداد میں پائے جانے والی بٹیر ان کے خیموں کے نزدیک آجاتے تھے جسے وہ پکڑ کر کھا لیتے تھے۔ ”من“ ایک طرح کا جھاڑی دار پودا ہے جس کے پھل و کونپلوں میں مٹھاس ہوتی ہے۔ بھوک کی حالت میں صحرا کے مسافر اسے بھی کھا لیتے تھے۔[2]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. گنتی باب 11، آیت 31 تا 35
  2. حافظ شائق احمد یحییٰ (مارچ 2026)۔ "ہندوستانی پرندے: شناخت، عادات و اطوار"۔ اردو ماہنامہ سائنس۔ نئی دہلی۔ ج 33 شمارہ 3: 35–36