عباس بن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عباس بن عبدالمطلب سے رجوع مکرر)
عباس بن عبد المطلب
(عربی میں: العباس بن عبد المطلب‎‎ ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 568ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 فروری 653ء (84–85 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ لبابہ بنت حارث  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد اللہ بن عباس،  فضل ابن عباس،  عبید اللہ بن عباس،  تمام بن عباس،  معبد ابن عباس،  قثم بن عباس،  ام حبيب بنت عباس،  ام كلثوم بنت عباس،  کثیر بن عباس،  عبد الرحمن بن العباس  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد
والد عبد المطلب[2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ نتیلہ بنت جناب  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ تاجر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  فتح مکہ،  غزوہ حنین[2]  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عباس ابن عبد المطلب (پیدائش: 568ء15 فروری 653ء) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔خاتمُ المہاجرین حضرت سیّدنا ابو الفضل عباس بن عبدُالمطلب رضی اللہُ عنہما کی پیدائش واقعۂ فیل سے پہلے ہوئی ، آپ غزوۂ بدر سے پہلے ہی ایمان لاچکے تھے مگر مصلحتاً ایمان خفیہ رکھا ہوا تھا ، جنگِ بدر میں کفّار زبردستی آپ کو لائے چنانچہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اعلان کیا کہ کوئی عباس کو قتل نہ کرے کہ وہ مجبوراً لائے گئے ہیں ، اسی غزوے میں آپ قیدی ہوئے اور فدیہ دے کر چھوٹے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم بھی آپ کی عظمت و شان کے معترف تھے۔صحابۂ کرام آپ سے مشاورت کرتے اور آپ کی رائے لیا کرتے تھے۔آپ رضی اللہُ عنہ عطر اور کپڑے کے تاجر تھے ، حضرت عفیف کِندی رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اپنے اہل و عیال کے لیے مکّے کے کپڑے اور عطر لینا تھا تو میں مکّے کے تاجر حضرت عباس کے پاس آیا۔

پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں وفدِ داریین آیا جنھوں نے آپ کو کئی تحائف دیے ،ان میں ایک ریشمی جبہ بھی تھا جو سونے سے آراستہ تھا ، حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ جبہ حضرت عباس رضی اللہُ عنہ کو دیا تو آپ نے عرض کی : میں اس کا کیا کروں گا! (کہ ریشم اور سونا تو مَردوں پر حرام ہے۔ ) حُضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : اس سے سونا الگ کر کے اپنی خواتین کے لیے زیور بنالیں یا ویسے ہی اس سونے کو اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کر لیں اور ریشمی جبہ فروخت کرکے اس کی قیمت کو استعمال میں لے لیں۔ چنانچہ وہ جبہ آپ نے ایک یہودی کو آٹھ ہزار درہم میں بیچ دیا۔

ناصرف آپ بلکہ آپ کے غلام بھی تجارت میں ماہر تھے ، خود بیان کرتے ہیں کہ 20 اوقیہ سونے کے بدلے (جو غزوہ بدر میں فدیہ ادا کیا تھا) اللہ پاک نے مجھے 20 غلام عطا کیے ، وہ سب کے سب تاجر تھے اور بہت سارا مال کما کر دیتے تھے ، ان میں سے جو غلام سب سے کم کما کر دیتا تھا اس کی مقدار بیس ہزار درہم تھی۔ آپ نے 70 غلام آزاد کیے اور اپنا گھر مسجدِ نبوی کی توسیع کے لیے وقف کر دیا۔ نیز آپ کے سخی ہونے کو تو خود حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیان فرمایا ہے چنانچہ ایک موقع پر پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم لشکر کی تیاری میں مصروف تھے کہ اتنے میں حضرت عباس بھی آگئے ، آپ نے حضرت عباس کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : یہ تمھارے نبی کے چچا ہیں جو عرب میں سب سے بڑھ کر سخی اور صلہ رحمی (یعنی عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک) کرنے والے ہیں۔آپ کی وفات 88 سال کی عمر میں ہوئی ، نمازِ جنازہ امیرُ المؤمنین حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہُ عنہ نے پڑھائی اور تدفین جنّتُ البقیع میں ہوئی۔ [4][5][6] [7] [8][9][10]

نام و نسب[ترمیم]

عباس نام ، ابوالفضل کنیت ، والد کا نام عبد المطلب اور والدہ کا نام نتیلہ تھا، شجرہ نسب یہ ہے۔ عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدالمناف الہاشمی القرشی آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا تھے، لیکن عمر میں کچھ زیادہ فرق نہ تھا، غالباً حضرت عباس ؓ دویا تین برس آپ سے پہلے پیدا ہوئے تھے۔ [11] [12] [13]

ابتدائی حالات[ترمیم]

حضرت عباس رضی اللہ عنہ عہد طفولیت میں ایک مرتبہ گم ہو گئے تھے،ان کی والدہ نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی نذر مانی ،چنانچہ ان کے صحیح وسلامت مل جانے کے بعد نہایت تزک واحتشام کے ساتھ یہ نذرپوری کی گئی،بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلی عرب خاتون تھی ،جنھوں نے ایام جاہلیت میں خانہ کعبہ کو دیبا وحریر سے مزین کیا۔ [14] زمانہ جاہلیت میں وہ قریش کے ایک سربرآوردہ رئیس تھے،خانہ کعبہ کا اہتمام وانصرام اور لوگوں کو پانی پلانے کا عہدہ ان کو اپنے والد عبد المطلب سے وراثت میں ملا تھا۔ [15]

آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خلعتِ نبوت عطا ہوا اور آپ نے مکہ میں علانیہ دعوتِ توحید کی صدا بلند فرمائی تو حضرت عباس ؓ نے گو بظاہر ایک عرصہ تک بیعت کے لیے ہاتھ نہیں بڑھایا،تاہم دل سے وہ اس تحریک کے حامی تھے، چنانچہ اہل یثرب نے جب رسالت پناہ کو مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی اور زمانہ حج میں بہتر (72) انصار نے کفار سے چھپ کر منیٰ کی ایک گھاٹی میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس رازداری کے موقع پر حضرت عباس ؓ بھی موجود تھے،انھوں نے انصار سے خطاب کرکے کہا گروہ خزرج تم کو معلوم ہے کہ محمد اپنے خاندان میں معزز و محترم رہے ہیں اور دشمنوں کے مقابلہ میں ہم نے ہمیشہ ان کی حفاظت کی ہے،اب وہ تمھارے پاس جانا چاہتے ہیں،اگر مرتے دم تک ان کا ساتھ دے سکو تو بہتر ورنہ ابھی سے صاف جواب دے دو،[16]انصار ؓ نے اس کے جواب میں جان نثار و وفاشعاری کی ہامی بھری اور اس کے کچھ عرصہ کے بعد ہی آنحضرت ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے گئے۔ </ref>[17][18]

جنگ بدر[ترمیم]

مشرکین قریش کے مجبور کرنے پر ان کے ساتھ معرکہ بدر میں شریک ہوئے، لیکن رسول اللہ حقیقتِ حال سے آگاہ تھے،آپ نے صحابہ کرام ؓ کو ہدایت فرمائی کہ اگر اثنائے جنگ میں ابو بختری عباس اور دوسرے بنی ہاشم سامنے آجائیں تو قتل نہ کیے جائیں ،کیونکہ وہ زبردستی میدان میں لائے گئے ہیں، حضرت ابوحذیفہ ؓ بول اٹھے کہ ہم اپنے باپ، بیٹے،بھائی سے درگزر نہیں کرتے تو بنی ہاشم میں کیا خصوصیت ہے،واللہ اگر عباس رضی اللہ عنہ مجھ کو ہاتھ آئیں گے تو میں ان کو تلوار کی لگام دوں گا، آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرؓ کی طرف مخاطب ہوکر فرمایا ابوحفص دیکھتے ہو، عمِ رسول اللہ کا چہرہ تلوار کے قابل ہے؟حضرت عمرؓ نے کہا اجازت دیجئے کہ اس کا سراڑا دوں؛ لیکن حضرت ابو حذیفہ ؓ ایک بلند پایہ صحابی تھے، یہ جملہ اتفاقاً زبان سے نکل گیا تھا، آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ مواخذہ نہ فرمایا۔ [19]

اس جنگ میں دوسرے مشرکین قریش کے ساتھ حضرت عباس ؓ عقیل ؓ اور نوفل بن حارث بھی گرفتار ہوئے تھے،اتفاق سے حضرت عباس ؓ کی مشکیں اس قدر کس کر باندھی گئی تھیں کہ وہ درد ناک آواز کے ساتھ کراہ رہے تھے،یہاں تک کہ آنحضرت ان کی کراہ سن کر رات کو آرام نہ فرماسکے،صحابہ کرام ؓ کو معلوم ہو تو انھوں نے ان کی مشکیں ڈھیلی کر دیں۔ [20]

اسیرانِ جنگ کے پاس کپڑے نہ تھے، آنحضرت نے سب کو کپڑے دلوائے لیکن حضرت عباس ؓ کا قد اس قدر اونچا تھا کہ کسی کا کرتا ان کے بدن پر ٹھیک نہیں اترتا تھا ،عبد اللہ بن ابی نے جو حضرت عباس ؓ کا ہم قد تھا، اپنا کرتا منگوا کر دیا ،آنحضرت نے منافق ہونے کے باوجود مرنے کے بعد اس کی لاش کو اپنا کرتا پہنانے کے لیے دیا،وہ درحقیقت اسی احسان کا معاوضہ تھا۔

دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا، چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ انصار کے ایک قبیلہ خزرج سے تھیں اس لیے انھوں نے آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ عباس ؓ ہمارے بھانجے ہیں ہم ان کا فدیہ چھوڑ دیتے ہیں،لیکن آنحضرت نے مساوات کی بنا پرگوارا نہیں فرمایا اور دولت مند ہونے کے باعث ان سے ایک بڑی رقم طلب فرمائی[21] حضرت عباس ؓ نے ناداری کا عذر پیش کرکے کہا میں دل سے پہلے ہی مسلمان ہو چکا تھا،مشرکین نے مجھ کو بجبراس جنگ میں شریک کیا،ارشاد ہوا کہ دل کا حال خدا جانتا ہے اگر آپ کا دعویٰ صحیح ہے تو خدا اس کا اجر دے گا، لیکن ظاہری حالت کے لحاظ سے کوئی رعایت نہیں ہو سکتی ،ناداری کا عذر بھی قابل تسلیم نہیں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ آپ مکہ میں ام الفضل کے پاس ایک بڑی رقم رکھ آئے ہیں، حضرت عباس ؓ نے متعجب ہوکر کہا خدا کی قسم اس رقم کا حال میرے اورام الفضل کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا، بے شک آپ رسولِ خدا ہیں اور اپنی طرف سے نیز اپنے بھتیجے عقیل و نوفل بن حارث کی طرف سے گرانقدر فدیہ دے کر مخلص حاصل کی۔ [22] [23]

تاخیر اسلام اور قیامِ مکہ کی غایت[ترمیم]

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک عرصہ تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہنا اور علانیہ دائرہ اسلام میں داخل نہ ہونا درحقیقت ایک مصلحت پر مبنی تھا،وہ کفار مکہ کی نقل وحرکت اور ان کے رازہائے سربستہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دیتے تھے، نیز اس سر زمین کفر میں جو ضعفائے اسلام رہ گئے تھے ان کے لیے تنہا مامن وملجا تھے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب کبھی رسالت پناہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہجرت کی اجازت طلب کی تو آپ نے باز رکھا اور فرمایا کہ " آپ کا مکہ مکرمہ میں مقیم رہنا بہتر ہے ، خدا نے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے ،اسی طرح آپ پر ہجرت ختم کرے گا۔ [24]

گو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرصہ تک اپنے ایمان و عقیدہ کو مشرکین قریش سے مخفی رکھا؛ تاہم وہ اپنے دلی رحجان کو چھپانہ سکے، ایک مرتبہ حضرت حجاج بن علاط رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت سے اجازت لے کر مکہ مکرمہ آئے اس زمانہ میں جنگِ خیبر درپیش تھی اور اہل مکہ نہایت بے چینی کے ساتھ اس کے نتیجہ پر آنکھیں لگائے ہوئے تھے، لوگوں نے ان کو مدینہ کی طرف سے آتے ہوئے دیکھ کر گھیر لیا اور جنگ کی خبر پوچھی بولے،خیبر کی جنگ میں مسلمانوں کو نہایت عبرت ناک شکست ملی، محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم گرفتار ہوئے اور ان کے اکثر جان نثار قتل کیے گئے ہیں، اپنا مال لینے آیا ہوں کہ دوسرے تاجروں کو خبر نہ ہونے سے پہلے اہل خیبر سے تمام مالِ غنیمت خرید لوں۔

اس خبر سے یکایک تمام مکہ مکرمہ میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی وادیٔ بطحاء کا ہربچہ بادہ انبساط سے مخمور ہو گیا، گھر گھر خوشی کے ترانے گائے جانے لگے،لیکن حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گھر ماتم کدہ تھا، وہ افسردہ دل اور مغموم صورت حجاج بن علاط ؓ سے تخلیہ میں ملے اور پوچھا،حجاج !کیا یہ خبر صحیح ہے بولے نہیں خدا کی قسم آپ کے لیے نہایت خوش آیند خبر ہے ،خدا نے آپ کے بھتیجے کو خیبر پر کامل فتح عطا فرمائی، اکثر رؤسائے خیبر قتل کیے گئے ان کا تمام مال واسباب مجاہدین اسلام کے ہاتھ آیا اورمیں نے رسول اللہ کو اس حال میں چھوڑا کہ خیبر کی شہزادی داخلِ حرم ہو رہی تھی، میں اسلام قبول کر چکا ہوں اور یہاں صرف اس لیے آیا ہوں کہ بلطائف الحیل اپنا مال لے کر رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں،آپ میرے جانے کے بعد تین دن تک اس خبر کو پوشیدہ رکھیں،کیونکہ مجھے تعاقب کا خوف ہے۔

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مسرت و انبساط کی کوئی انتہا نہ رہی وہ بمشکل تین دن تک اس کو چھپا سکے اور چوتھے روز نہا دھوکر اور بیش قیمت کپڑے زیب بدن کرکے ہاتھ میں عصا لیے ہوئے خانہ کعبہ آئے اور طواف کرنے لگے، لوگوں نے چھیڑ کر کہا خدا قسم !یہ مصیبت پر اظہار صب رہے بولے قسم ہے اس ذات کی جس کی تم نے قسم کھائی ہرگز نہیں ! بالکل غلط ہے، خیبر فتح ہو گیا اور اس کا ایک ایک چپہ محمد اور ان کے اصحاب کے تصرف میں ہے،لوگوں نے تعجب سے پوچھا یہ خبر کہاں سے آئی؟فرمایا: حجاج بن علاطہ ؓ نے بیان کیا جو اسلام قبول کر چکے ہیں اور یہاں محض اپنا مال لینے آئے تھے ، اس حقیقت نے مشرکین مکہ کی تمام مسرت خاک میں ملادی اور وہ ایک فریب خوردہ دشمن کی طرح دانت پیسنے لگے۔ [25] [26][27][28][29][30][31]

اسلام و ہجرت[ترمیم]

فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہجرت کی اجازت مل گئی،چنانچہ وہ مع اہل و عیال رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور علانیہ بیعت کر کے مستقل طور سے مدینہ میں سکونت پزیر ہوئے۔ [32]

غزوات[ترمیم]

فتح مکہ کی فوج کشی میں شریک تھے، حنین کی جنگ میں حضرت خیرالانام کے ہمرکاب تھے اور رہوار رسالت کی باگ تھامے ہوئے ساتھ ساتھ دوڑتے تھے،فرماتے ہیں کہ اثنائے جنگ میں جب کفار کا غلبہ ہوا اور مسلمانوں کے منہ پھر گئے، تو ارشاد ہوا ،عباس ؓ ! نیزہ برداروں کو آواز دو،فطرۃ میری آواز نہایت بلند تھی،میں نے این اصحاب السمرہ؟ کا نعرہ مارا تو سب کے سب یکا یک پلٹ پڑے اور مسلمانوں کا بگڑا ہوا کھیل بن گیا،[33] محاصرہ طائف ، غزوۂ تبوک اور حجتہ الوداع میں بھی شریک تھے۔ [34][35][36]

آنحضرت ﷺ کی وفات[ترمیم]

حجۃ الوداع سے واپس آکر آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار ہوئے ،مرض روز بڑھتا گیا، حضرت علی ؓ ، حضرت عباس ؓ اور دوسرے بنی ہاشم تیمارداری کی خدمت انجام دیتے تھے،وفات کے دن حضرت علی ؓ باہر نکلے لوگوں نے پوچھا کہ رسول اللہ کا مزاج کیسا ہے؟ چونکہ بظاہر حالت سنبھل گئی تھی ، اس لیے انھوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے اب اچھے ہیں ؛ لیکن حضرت عباس ؓ خاندانِ ہاشم کا دیرینہ تجربہ رکھتے تھے، انھوں نے حضرت علی ؓ کا ہاتھ پکڑ کر کہا ، تمھارا کہاں خیال ہے؟ خدا کی قسم تین دن کے بعد تم غلامی کروگے میں آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم عنقریب اس مرض میں وفات پائیں گے؛ کیونکہ میں خاندانِ عبدالمطلب کے چہروں سے موت کا اندازہ کرسکتا ہوں،آؤ چلو رسول اللہ سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد منصب خلافت کس کوحاصل ہوگا،اگر ہم مستحق ہیں تو معلوم ہو جائے گا ، ورنہ عرض کریں گے کہ ہمارے لیے وصیت فرماجائیں،حضرت علی ؓ نے کہا خدا کی قسم میں نہ پوچھوں گا،اگر پوچھنے پر آپ نے انکار کر دیا تو پھر آئندہ ہمیشہ کے لیے اس سے محروم ہو جاؤں گا،[37]حضرت علی ؓ کے انکار سے حضرت عباس ؓ کوبھی جرأت نہ ہوئی۔ غرض آنحضرت نے اسی روز وفات پائی،حضرت عباس ؓ نے حضرت علی ؓ اور دوسرے بنو ہاشم کی مدد سے تجہیز وتکفین کی خدمت انجام دی،چونکہ وہ آنحضرت کے عم محترم تھے،خاندانِ ہاشم میں سب سے معمر تھے،اس لیے تعزیت وماتم پرسی کے خیال سے لوگ ان ہی کے پاس آئے۔ [38] [39]

بارگاہِ نبوت میں اعزاز[ترمیم]

آنحضرت اپنے عم محترم کی نہایت تعظیم وتوقیر فرماتے تھے اوران کی معمولی اذیت سے بھی آپ کو تکلیف ہوتی تھی، ایک مرتبہ انھوں نے بارگاہِ نبوت میں شکایت کی کہ قریش جب باہم ملتے ہیں تو ان کے چہروں پر تازگی و شگفتگی برستی ہے ،لیکن جب ہم سے ملتے ہیں تو بشاشت کی بجائے برہمی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں، حضور یہ سنکر غضبناک ہوئے اورفرمایا،قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو شخص خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تم لوگوں سے محبت نہ کرے گا اس کے دل میں نور ایمان نہ ہوگا،[40]چچا باپ کا قائم مقام ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کے محصل مقرر ہوئے ،انھوں نے حسبِ قاعدہ حضرت عباس ؓ سے بھی رقم طلب کی،انھوں نے انکار کیا تو حضرت عمرؓ نے سختی سے تقاضا کیا اور آنحضرت سے جاکر صورت واقعہ عرض کیا،آپ نے فرمایا تم عباس ؓ سے کیا چاہتے ہو، بدر کے فدیہ میں تم ان سے بہت کچھ لے چکے،عباس ؓ رسول اللہ کے چچا ہیں اور چچا باپ ہی کا قائم مقام ہے۔ [41] [42] [43] [44]

خلفائے راشدین[ترمیم]

آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین نے بھی حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت واحترام کا مخصوص لحاظ رکھا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اگر کبھی گھوڑے پر سوار ہوکر ان کی طرف سے گذرتے تو تعظیما اتر پڑتے اور فرماتے کہ "یہ رسول اللہ کے عم محترم ہیں۔ [45]

حضرت عمرؓ اکثر ان کو اپنے مشوروں میں شریک کرتے تھے اور قحط وخشک سالی کے موقعوں پر ان سے دعائیں کراتے تھے، قحط عام الرمادہ کے موقع پر حضرت عمرؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر کہا خدایا! پہلے ہم رسول اللہ کا وسیلہ پکڑ کر حاضر ہوتے تھے اوراب ہم آنحضرت کے عم محترم کا وسیلہ لے کر آئے ہیں ان کے طفیل میں ہم کو سیراب کر، ان کے بعد حضرت عباس ؓ نے منبر پر بیٹھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو یکایک صاف و شفاف آسمان پر ابر نمودار ہوا اور تھوڑی ہی دیر میں بارانِ رحمت سے تمام کوہِ وبیابان جل تھل ہو گئے ،حضرت حسان بن ثابت ؓ نے اس واقعہ کو اس طرح نظم کیا ہے۔ سال الامام وقد تنابع جدبنا فسقی الغمام بعزۃ العباس ؓ امام کے دعا مانگنے پر بھی خشک سالی بڑھتی گئی لیکن عباس کی شرافت کے طفیل میں ابر نے سیراب کر دیا عم النبی وصنو والدہ الذی ورث النبی بذاک دون الناس وہ آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اورآپ کے والد کے حقیقی بھائی ہیں انھوں نے تمام لوگوں کے مقابلہ میں رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت پائی۔ احیی الا لہ بہ البلادفاصبحت محضرۃ الاجناب بعد الباس ان کے طفیل میں خدانے ملک کو زندہ کر دیا اور ناامیدی کے بعد پھر تمام میدان سرسبز ہو گئے۔ چونکہ یہ بارش نہایت غیر متوقع تھی، اس لیے لوگ فرط مسرت سے ان کے ہاتھ پاؤ ں چوم چوم کر کہتے تھے"ساقیِ حرمین! مبارک ہو ساقیِ حرمین! مبارک ہو۔ [46] [47][48][49] .[50][51]

وفات[ترمیم]

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھاسی برس کی عمر پا کر 32ھ میں بماہ رجب یا رمضان ،جمعہ کے روز رہگزین عالم جادواں ہوئے،خلیفہ ثالث ؓ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے قبر مین اترکر سپرد خاک کیا۔ [52] [53][54]

اخلاق[ترمیم]

حضرت عباس ؓ نہایت فیاض،مہمان نواز اور رحم دل تھے، حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مقام جنت البقیع میں آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس ؓ کو آتے دیکھ کر فرمایا یہ عباس ؓ عم رسول ہیں، یہ قریش میں سب سے زیادہ کشادہ دستی اور اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھتے ہیں۔ [55] دل نہایت نرم تھا دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے تو آنکھوں سے سیل اشک رواں ہوبجاتا، یہی وجہ ہے کہ ان کی دعاؤں میں خاص اثر ہوتا تھا۔ [56]

تمول و ذریعہ معاش[ترمیم]

حضرت عباس ؓ ایامِ جاہلیت میں نہایت متمول تھے،چنانچہ جنگ بدر کے موقع پر رسول اللہ نے ان سے بیس اوقیہ سونا فدیہ لیا تھا جو دوسرے قیدیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھا۔ [57] تجارت ذریعہ ٔمعاش تھی، ساتھ ہی وہ سودی لین دین بھی کرتے تھے،لوگوں کو سود پر قرض دیتے تھے،یہ سلسلہ فتح مکہ تک قائم رہا، حجۃ الوداع کے موقع پر محرم الحرام 10ھ میں آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنا مشہور آخری خطبہ دیا تو اس میں فرمایا،آج سے عرب کے تمام سودی کاروبار بند کیے گئے اور سب سے پہلا سودی کاروبار جس کو میں بند کرتا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب ؓ کا ہے۔ [58] آنحضرت مالِ غنیمت کے خمس اورفدک کی آمدنی سے بھی ان کی اعانت فرماتے تھے، رسول اللہ کی وفات کے بعد انھوں نے حضرت فاطمہ ؓ کے ساتھ خلیفہ اول سے فدک اور آنحضرت کی دوسری متروکہ جائداد میں وراثت کا مطالبہ کیا لیکن"لانورث ماترکنا صدقۃ" کی حدیث سن کر خاموش ہو گئے۔ حضرت عمرؓ بن خطاب نے اپنے عہدِ خلافت میں باغِ فدک حضرت علی اؓلمرتضیٰ اور حضرت عباس بن عبدالمطؓلب کے حوالہ کر دیا تھا، لیکن وہ دونوں باہمی اتفاق سے اس کا انتظام قائم نہ رکھ سکے اور بارگاہِ خلافت میں تقسیم کردینے کی درخواست پیش کی، حضرت عمؓر نے فرمایا کہ یہ محض گزارہ کے لیے دیا گیا ہے اس میں وراثت کا قاعدہ جاری نہیں ہو سکتا۔ [59] [60] [61] [62][63] [64]

حلیہ[ترمیم]

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہ یہ تھا،قد بلند و بالا،چہرہ خوبصورت ، رنگ سفید اور جلد نہایت نازک۔ [65]

ازواج و اولاد[ترمیم]

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں جن سے کثرت سے اولادیں ہوئیں، سب سے پہلی بیوی لبابہ بنت حارث تھیں، ان سے حسب ذیل اولادیں ہوئیں۔ فضل، عبد اللہ ، عبیداللہ، عبد الرحمن، قشم، معبد ، ام حبیبہ ام ولد سے یہ اولادیں ہوئیں۔ کثیر، تمام، صفیہ ،امیمہ تیسری بیوی حجیلہ تھیں، ان کے بطن سے حارث تھے۔ [66] [67] .[68][69]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Аббас, Абул-Фадль Эль-Гашими
  2. ^ ا ب عنوان : Аббас ибн Абд аль-Мутталиб
  3. عنوان : Абд аль-Мутталиб
  4. اکمال مع مشکاۃ ، ص606 ، اسد الغابہ ، 3 / 166 ، الاصابہ ، 3 / 512
  5. تاریخ ابن عساکر ، 8 / 313
  6. سبل الہدیٰ والرشاد ، 6 / 334 ، مدارج النبوہ ، 2 / 365
  7. طبقات ابن سعد ، 4 / 10 ، تفسیر بغوی ، الانفال ، تحت الآیۃ : 70 ، 2 / 221
  8. اسد الغابہ ، 3 / 166
  9. طبقات ابن سعد ، 4 / 15
  10. تاریخ ابن عساکر ، 26 / 324
  11. (استیعاب تذکرہ عباس بن عبد المطلب )
  12. أبو نعيم الأصبهاني (1998)۔ معرفة الصحابة۔ الرابع (الأولى ایڈیشن)۔ دار الوطن۔ صفحہ: 2120 
  13. أحمد ابن حجر العسقلاني (1415 هـ)۔ "4525- العبّاس"۔ كتاب الإصابة في تمييز الصحابة۔ 7 (الأولى ایڈیشن)۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ صفحہ: ٥١١–٥١٢۔ 24 سبتمبر 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2021 
  14. (اسدالغابہ:3/109)
  15. (ایضاً)
  16. (سیرت ابن ہشام جلد اول صفحہ 342)
  17. ابن الأثير الجزري (1994)۔ "2799- عباس بن عبد المطلب"۔ أسد الغابة في معرفة الصحابة۔ 3 (الأولى ایڈیشن)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: ١٦٣۔ 13 ستمبر 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 ستمبر 2021 
  18. أحمد ابن عساكر (1995 م)۔ "3106 - العباس بن عبد المطلب"۔ تاريخ دمشق۔ 26 (الأولى ایڈیشن)۔ دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع۔ صفحہ: ٢٧٣ –٣٨١۔ 27 اگست 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 ستمبر 2021 
  19. (ابن اسعد قسم اول جزو 4:15)
  20. (ابن سعد قسم اول جزو 4 صفحہ 7)
  21. (بخاری جلد 2 صفحہ 572)
  22. (مسند:1/353)
  23. ابن أبي عاصم۔ كتاب الآحاد والمثاني على إسلام ويب۔ صفحہ: رقم الحديث:327۔ 5 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 يونيو 2015 
  24. (اسد الغابہ :3/110)
  25. (اسد الغابہ تذکرہ حجاج بن علاطہ)
  26. "من نحن | مكتب الزمازمة الموحد" (بزبان عربی)۔ 28 سبتمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 دسمبر 2018 
  27. فهد العباس وعبدالإله العباس وعباس بصري الغنيمي العباسي الهاشمي۔ نبذات الوصل لذرية أمير المؤمنين الخليفة أبي جعفر منصور المستنصربالله العباسي (PDF)۔ دار ركابي للنشر والتوزيع۔ 08 اپریل 2022 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ 
  28. علي بن برهان الدين الحلبي۔ السيرة الحلبية الجزء الأول على ويكي مصدر 
  29. ابن كثير۔ البداية والنهاية ج2 على ويكي مصدر 
  30. موجز المسرد التاريخي لزمزم على موقع الحج والعمرة۔ 4 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 يونيو 2015 
  31. جواد علي۔ المفصل في تاريخ العرب قبل الإسلام على الموسوعة الشاملة۔ صفحہ: (1/1892)۔ 4 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 يونيو 2015 
  32. ابن سعد۔ الطبقات الكبرى، الطبقة الثانية، رقم الحديث 4532. الحديث على إسلام ويب۔ 24 يناير 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 يونيو 2015 
  33. (مسند :1/207)
  34. ابن الأثير۔ أسد الغابة ج3۔ صفحہ: 61 
  35. محمد رضا۔ عثمان بن عفان ذو النورين، على المكتبة الشاملة۔ 16 سبتمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  36. صلاح الدين الصفدي۔ الوافي بالوفيات، على المكتبة الشاملة۔ 4 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  37. (صحیح بخاری :2/927)
  38. (استیعاب تذکرہ عباس بن عبد المطلب)
  39. ابن سعد۔ الطبقات الكبرى، الطبقة الثانية. الحديث على إسلام ويب۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  40. (جامع ترمذی مناقب حضرت عباس ؓ ومسند :1/207)
  41. (جامع ترمذی وغیرہ مناقب عباس ؓ)
  42. ابن كثير۔ تفسير القرآن العظيم على ويكي مصدر 
  43. ابن حجر۔ الإصابة ج4۔ صفحہ: ص30 
  44. ابن سعد۔ الطبقات الكبرى، الطبقة الثانية. الحديث على إسلام ويب۔ 24 يناير 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  45. (استیعاب تذکرہ عباس ؓ)
  46. (استیعاب تذکرہ عباس بن عبد المطلب ؓ)
  47. ابن سعد۔ الطبقات الكبرى، الطبقة الثانية۔ 24 يناير 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  48. أبو الفرج الأصفهاني۔ كتاب الأغاني۔ 5 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  49. ابن كثير۔ البداية والنهاية۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  50. ابن عبد البر۔ الاستيعاب في معرفة الأصحاب. على إسلام ويب۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  51. ابن الأثير۔ أسد الغابة ج3۔ صفحہ: ص61 
  52. (استیعاب تذکرہ عباس بن عبد المطلب ؓ)
  53. المزي۔ عَبَّاس بن عَبْد المطلب، تهذيب الكمال۔ 5 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  54. (اسد الغابہ:3/101)
  55. نور الدين علي بن أبي بكر الهيثمي۔ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، كتاب المناقب، باب ما جاء في العباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن جمع معه من ولده، 15469. على إسلام ويب.۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  56. (مسند:1/353)
  57. (صحیح مسلم وابوداؤد)
  58. (بخاری باب غزوۂ خیبر)
  59. موقع إسلام ويب۔ وفاة العباس بن عبد المطلب عم الرسول صلى الله عليه وسلم 12 رجب 32 هـ.۔ 5 مارس 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  60. ابن عساكر۔ تاريخ دمشق، رقم الحديث 26795، على إسلام ويب 
  61. ابن كثير۔ البداية والنهاية، ج4، على ويكي مصدر. 
  62. ابن هشام۔ السيرة النبوية، على إسلام ويب۔ 3 مارس 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 يونيو 2015 
  63. الذهبي۔ تاريخ الإسلام، على إسلام ويب۔ 25 ديسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  64. الترمذي۔ صحيح البخاري، كتاب الاستسقاء، على إسلام ويب۔ 5 أبريل 2016 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  65. (طبقات ابن سعد قسم اول جزو 4 صفحہ 2)
  66. الترمذي۔ سنن الترمذي، كتاب المناقب، باب مناقب العباس بن عبد المطلب، على إسلام ويب۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  67. مجلة البحوث الإسلامية۔ التوسل المشروع والممنوع، على مجلة البحوث الإسلامية۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 يونيو 2015 
  68. مركز الفتوى، موقع إسلام ويب۔ حقيقة ودلالة توسل عمر بالعباس۔ 12 نوفمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 يونيو 2015