عبدالحمید چولپان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالحمید چولپان
Choʻlpon 1997 Uzbekistan stamp.jpg
ازبکستتانی حکومت کی طرف سے چولپان کی یاد میں جاری شدہ یادگاری ٹکٹ
پیدائش عبدالحمید سلیمانوغلی یونسوف
1893
اندیجان، ترکستان
وفات 4 اکتوبر 1938
پیشہ شاعر، ڈراما نگار، ناول نگار، ادیب و مترجم
اہم اعزازات
  • علی شیر ناووئی ایوارڈ (1991)
  • نشان آزادی(1999)

عبدالحمید سلیمانوغلی یونسوف انگریزی: Abdulhamid Sulaymon oʻgʻli Yunusov،(ازبک: Abdulhamid Sulaymon oʻgʻli Yunusov, Абдулҳамид Сулаймон ўғли Юнусов، 1893 – 4 اکتوبر 1938) کا شمار ازبکستان کے نامور شعراء، ادیبوں اور ناول نگاروں میں ہوتا ہے، آپ ازبکستان میں اپنے اصلی نام سے زیادہ قلمی نام چولپان سے مشہور ہیں، آپ ازبکستان سے تعلق رکھنے والے پہلے ادیب ہیں جس نے ازبکستانی زبان کے بے شمار اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور ازبکستانی شاعری کے ساتھ ساتھ ڈراما نگاری، ناول نگاری اور ترجمہ کے فن میں بھی مہارت حاصل کی ہے ۔[1][2] عبدالحمید چولپان کا شمار بیسویں صدی کے ممتاز جنوبی ایشیائی شاعروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے۔[3] آپ وہ پہلی شخصیت ہیں کہ جس نے ویلیم شیکسپئیر کے مشہور ڈراموں کو پہلی بار ازبکستانی زبان میں ترجمہ کیا۔

لسانی خدمات[ترمیم]

چولپان کی ازبکستانی زبان کے لیے خدمات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے آپ کی ادبی خدمات ازبکستان کے شاعروں اور ادیبوں کے لیے مثالی نمونہ اور معتبر حوالہ کا کام دیتی ہیں، آپ کا شمار ازبکستانی زبان کے ان اولین مصنفیں میں ہوتا ہے جنہوں نے ازبکستانی ادب میں ادبی حقیقت پسندی کو فروع دیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

عبدالحمید سلیمانوغلی یونسوف 1893ء میں اندیجان، ازبکستان میں پیدا ہوئے، ان کے والد سلیمانقل ملا محمد یونسوغلی گاوں کی ایک ہردلعزیز شخصیت تھے، چولپان نے ابتدائی تعلیم گاوں کے ایک مدرسے سے حاصل کی اس کے بعد انہوں نے ایک روسی میڈیماسکول توزیم (روسی: Ру́сско-тузе́мная шко́ла)میں داخلہ لیا یہ ترکستان کا ایک ایلیمنٹریاسکول تھا جوکہ غیرروسیوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

1919ء سے 1920ء تک عبدالحمید چولپان نے ایک ازبکستانی اخبار ترکروستا میں بطور ایڈیٹر ان چیف کے طور خدمات انجام دیں، انہوں نے کئی اخبارات، رسائل اور میگزین کے ایڈیٹوریل انچارج بھی رہے جن میں اشتروکیوم، قزلبایروق(The Red Flag)، ترکستون(Turkestan)، بوژورواخباری(Bukhara News) اور درھون شامل ہیں۔

ریاستی دہشت گردی کا نشانہ[ترمیم]

ازبکستان کے دیگر انقلابی شاعروں اور ادیبوں عبداللہ قودیری اور عبدالروف فطرت کی طرح ان کو بھی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور 1937ء میں جوزف اسٹالن کے دور حکومت میں انہیں گرفتار کیا گیا اور انہیں ملک و ملت کا دشمن قرار دے کر 4 اکتوبر 1938 کو تختہ دار پر چڑھایا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Choʻlpon"۔ Ensiklopedik lugʻat (Uzbek زبان میں)۔ Toshkent: Oʻzbek sovet ensiklopediyasi۔ صفحہ 398۔ 5-89890-018-7۔
  2. Komiljon Zufarov (ویکی نویس.)۔ "Choʻlpon"۔ Oʻzbek sovet ensiklopediyasi (Uzbek زبان میں)۔ Toshkent: Oʻzbek sovet ensiklopediyasi۔ صفحہ 601۔
  3. "Uzbek Literature"۔ دائرۃ المعارف بریٹانیکا۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اپریل 2012۔