عبدالرحمن بن عوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبدالرحمن بن عوف
عبد الرحمن بن عوف 2.png
عبدالرحمن بن عوف کا خطاطی نام
صحابی
پیدائش 580.
مکہ
وفات 652 (عمر 72)
احترام در اسلام
مؤثر شخصیات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

عبدالرحمن بن عوف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی تھے ان کا لقب تاجر الرحمن تھا۔ آپ عشرہ مبشرہ میں بھی شامل ہیں۔ [1][2]

المبنى المشيد حول ضريح الصحابي الجليل عبد الرحمن بن عوف.jpg

حدیث میں ذکر[ترمیم]

ان 10 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذکر عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے کہ:

عبدالرحمن بن عوف رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عثمان رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں، علی رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، طلحہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، زبیر رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، عبدالرحمن رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، سعد رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہيں ، سعید رضی اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں، ابوعبیدہ رضي اللہ تعالٰی عنہ جنتی ہیں[3] ۔

حالات زندگی[ترمیم]

ان کا نام زمانۂ جاہلیت میں عبدالکعبہ تھا۔ وہ ان پانچ خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے ابتدا ہی میں سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے علاوہ اس وقت تک سیدنا عثمان بن عفان‘ زبیر بن العوام‘ طلحہ بن عبیداللہ اور سعد بن ابی وقاص] مسلمان ہوئے تھے۔ ابھی تک اللہ کے رسول دارِ ارقم نہیں گئے تھے۔ اللہ کے رسول نے ان کا نام تبدیل فرمایا۔ عبدالکعبہ اور ایک روایت کے مطابق عبدعمرو کی جگہ ان کا نام عبدالرحمن رکھ دیا۔ ان کے والد عوف کا تعلق بنو زہرہ سے تھا۔ ان کی والدہ کا نام شفاء تھا۔ ان کا تعلق بھی بنو زہرہ سے تھا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف کے والدین آپس میں چچا زاد تھے۔ یہ ہجرت سے 44 سال پہلے پیدا ہوئے۔ قبول اسلام کے وقت ان کی عمر کم وبیش 30 سال تھی۔ عمر میں اللہ کے رسول سے 10 سال چھوٹے تھے۔ قریشی تھے۔ ان کا حسب نسب چھٹی پشت پر جا کر اللہ کے رسول سے مل جاتا ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف عشرہ مبشرہ میں سے تھے اور شروع ہی سے پاکیزہ نفس انسان تھے۔ اپنی سلامت روی کی بدولت زمانۂ جاہلیت ہی میں شراب چھوڑ دی تھی۔ ان کے والد عوف تاجر تھے۔ زمانۂ جاہلیت میں وہ تجارت کے لیے یمن گئے ہوئے تھے کہ راستے میں ان کے دشمنوں نے انہیں قتل کر دیا۔ ان کی والدہ شفاء بنت عوف اسلام کی نعمت سے مالا مال ہوئیں اور ہجرت بھی کی۔ اللہ کے رسول کی والدہ ماجہ کا تعلق بھی بنو زہرہ سے تھا۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف بھی اپنے والد کی طرح تاجر پیشہ تھے۔ ان کا خاندان بنو زہرہ کثرت تعداد اور دولت وثروت کے لحاظ سے زیادہ نمایاں نہ تھا‘ اس لیے ان لوگوں کو مناصب حرم میں سے کوئی منصب نہ مل سکا۔ سیرت نگاروں کے مطابق اسلام قبول کرنے والوں میں ان کا تیرھواں نمبر تھا۔ اسلام لانے کے سبب انہیں بھی بہت ستایا گیا‘ اس لیے یہ بھی حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے پہلے قافلے میں شامل ہو گئے۔ لیکن بعد میں واپس مکہ آگئے اور 13 نبوی کو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی۔ مدینہ آئے تو اپنا گھر بار اور تجارت ہر چیز حتی کہ بیوی بچے بھی مکہ میں چھوڑ آئے۔ یہاں پہنچے تو بالکل قلاش تھے۔ اللہ کے رسول نے ان کے اور سیدنا سعد بن ربیع کے ما بین مواخات کا رشتہ قائم کیا۔ ان کے اسلامی بھائی نے بے مثال ایثار سے کام لینا چاہا۔ لیکن سیدنا عبدالرحمن کی بے نیاز اور غیور طبیعت نے شکریہ کے ساتھ ان کی پیشکش نامنظور کی۔ سیدنا سعد کا کہنا تھا کہ میں مدینہ طیبہ کے امیر ترین لوگوں میں سے ہوں۔ میرے کئی باغات اور زرعی زمینیں ہیں‘ دو بیویاں ہیں۔ میں اپنا آدھا مال آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ دونوں بیویاں دیکھ لیں جو آپ کو پسند آئے میں اسے طلاق دے دیتا ہوں جب عدت گزر جائے تو اس سے نکاح کر کے اپنا گھر بسا لیں۔ مگر اس قریشی نوجوان نے ان کے جواب میں کہا: ’’اللہ آپ کے مال میں برکت عطا فرمائے۔ مجھے آپ بازار کا راستہ بتا دیں جہاں خرید وفروخت ہوتی ہو۔‘‘ سیدنا سعد نے کہا کہ بنو قینقاع کا بازار بڑا مشہور ہے۔ یہ بازار’’البقیع‘‘ کے بائیں جانب کچھ فاصلے پر تھا۔ وہ صبح سویرے بازار گئے۔ شام کو واپس آئے تو ان کے پاس کچھ فاضل پنیر اور گھی تھا۔ اس کے بعد وہ روزانہ بازار جاتے اور سامان خرید کر فروخت کرتے۔ ایک دن ان کے لباس پر حجلہ عروسی کی بشاشت جھلک رہی تھی‘ یعنی زعفرانی رنگ کا اثر تھا۔ اللہ کے رسول نے دیکھا تو پوچھا: ’’عبدالرحمن! کیا ماجرا ہے؟‘‘ عرض کیا: میں نے ایک انصاری عورت سہلہ بنت عاصم یا ام ایاس بنت ابی الحیسر انس بن رافع بن امرئ القیس سے شادی کر لی ہے۔ ارشاد ہوا: ’’اس کو مہر کیا دیا؟‘‘ عرض کیا: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا۔ فرمایا: ’’ولیمہ ضرور کرو‘ چاہے ایک بکری ہی ہو۔‘‘[4] سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی تجارت دن بدن بڑھتی چلی گئی۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسول کی خدمت میں چار ہزار درہم لے کر حاضر ہوئے۔ ان کے پاس اس روز آٹھ ہزار درہم تھے۔ فرماتے ہیں: میں نے چار ہزار درہم اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑے ہیں اور چار ہزار اللہ کے رسول کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے حاضر ہو گیا۔ اللہ کے رسول نے دعا فرمائی: [بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ فِیْمَا أَمْسَکْتَ وَفِیْمَا أَعْطَیْتَ] ’’اللہ تمہارے اس مال میں بھی برکت دے جو تم نے گھر میں رکھا اور اس میں بھی جو تم نے اللہ کی راہ میں دیا۔‘‘ یہ اللہ کے رسول کی دعا کی برکت تھی کہ وہ صحابہ کرام میں سے امیر ترین شخص بن گئے۔ جیسے جیسے ان کے مال ودولت میں اضافہ ہوتا گیا ویسے ویسے وہ اللہ کی راہ میں زیادہ خرچ کرتے چلے گئے۔ ان کی سخاوت کے بارے میں سیرت نگاروں نے بہت سے واقعات بیان کیے ہیں۔ ایک موقع پر جہاد کے لیے انہوں نے پانچ سو گھوڑے اور پندرہ سو اونٹ پیش کیے۔ دو مرتبہ چالیس چالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں دیئے۔ ان کی ایک قیمتی زمین مدینہ میں تھی وہ زمین سیدنا عثمان بن عفان کے ہاتھ چالیس ہزار دینار میں فروخت کر کے ساری رقم فقراء بنی زہرہ اور امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف بڑے جری اور بہادر تھے۔ وہ بدر سمیت تمام غزوات میں اللہ کے رسول کے ساتھ شریک ہوئے۔ بدر میں ابوجہل کو قتل کرنے والے دو انصاری نوجوانوں نے ابوجہل کا اتا پتا انہی سے پوچھا تھا۔ بدر کے میدان میں وہ دشمن سے کچھ زرہیں چھین کر لے جا رہے تھے کہ ان کے زمانۂ جاہلیت کے ایک دوست امیہ بن خلف نے انہیں دیکھ کر کہا: کیا تمہیں میری ضرورت ہے؟ میں تمہاری ان زرہوں سے بہتر ہوں۔… اور جب امیہ اور اس کے بیٹے علی کو سیدنا عبدالرحمن بن عوف گرفتار کر کے لے جا رہے تھے تو اچانک سیدنا بلال کی نظر امیہ پر پڑی۔ بے ساختہ بولے: اوہو! کفار کا سرغنہ امیہ بن خلف‘ اب یا تو یہ رہے گا یا میں‘ پھر انہوں نے انصار کی مدد سے دونوں باپ بیٹے کو واصل جہنم کر دیا۔ سیدنا عبدالرحمن فرمایا کرتے تھے: ’’اللہ بلال پر رحم کرے! میری زرہیں بھی گئیں اور میرے قیدیوں کا بھی صفایا ہو گیا۔‘‘ اُحد کے میدان میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اپنی بہادری کے جوہر دکھائے۔ وہ ان صحابہ میں سے تھے جو اللہ کے رسول کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ انہوں نے لڑتے لڑتے منہ پر چوٹ کھائی۔ ان کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا۔ انہیں اس جنگ میں بیس یا اس سے زیادہ زخم آئے جن میں سے بعض کاری زخم پاؤں پر لگے‘ یوں وہ ساری زندگی کے لیے لنگڑے ہو گئے۔ ان کی زندگی کا ایک اور روشن پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب شعبان 6ہجری میں اللہ کے رسول نے ان کی قیادت میں ایک لشکر اپنے سامنے بٹھا کر خود اپنے دست مبارک سے ان کے سر پر پگڑی باندھی‘ پیچھے شملہ چھوڑا اور ہاتھ میں علم عنایت فرمایا۔ ان کو لڑائی میں سب سے اچھی صورت اختیار کرنے کی وصیت فرمائی۔ ارشاد فرمایا: ’’اگر وہ تمہاری اطاعت کر لیں تو تم ان کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کر لینا۔‘‘ انہوں نے دومۃ الجندل پہنچ کر تین دن تک دعوت اسلام دی۔ قبیلہ بنو کلب کا بادشاہ اصبغ بن عمرو عیسائی تھا‘ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے ساتھ اس کی قوم کے بہت سارے لوگ بھی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے اللہ کے رسول کے حسب فرمان اصبغ کی بیٹی سیدہ تماضر سے شادی کر لی اور انہیں اپنے ساتھ مدینہ لے آئے۔ مشہور راوی حدیث ابوسلمہ اسی خاتون کے بطن سے تھے۔ کسی قریشی کی بنو کلب میں یہ پہلی شادی تھی۔ آپ نے متعدد شادیاں کیں۔ آپ کے ہاں بیس بیٹے اور آٹھ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ ان کے ایک بیٹے کا نام عثمان تھا جس کی والدہ کسریٰ کی بیٹی غزال تھی۔ جو مدائن کی فتح کے موقع پر لونڈی بنی تھی۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص اس لشکر کے قائد تھے۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف بڑے صائب الرائے تھے۔ وہ نہ صرف اللہ کے رسول کے زمانہ اقدس میں نمایاں صحابہ میں سے تھے بلکہ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق کے دور میں بھی ان کے مشیر خاص تھے۔ وہ ان کی موجودگی میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروق کے دور میں عراق پر لشکر کشی کا مسئلہ سامنے آیا تو صحابہ کرام نے سیدنا عمر فاروق کا نام بطور سپہ سالار پیش کیا۔

شوریٰ کا اجلاس جاری تھا۔ اجلاس میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف بھی موجود تھے‘ انہوں نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی۔ اس موقع پر انہوں نے جو دلائل پیش کیے آئیے ذرا ان کو پڑھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ یہیں ٹھہریں‘ لشکر عراق بھیج دیں۔ اللہ نہ کرے اگر اسلامی لشکر نے شکست کھائی تو وہ اسلام کی شکست نہ ہو گی بلکہ مسلمانوں کے ایک گروہ کی شکست ہو گی۔ اگر آپ جنگ کے میدان میں اتر گئے اور شکست کھا گئے تو مسلمانوں کی ترقی رک جائے گی اور اسلام کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ان کی اس مدلل تقریر نے تمام ارکان شوریٰ کی آنکھیں کھول دیں اور سب نے پر زور الفاظ میں اس کی تائید کی۔ اب سوال پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی قیادت کون کرے؟ یہ مسئلہ بھی اس دانشور شخصیت نے حل کر دیا۔ انہوں نے مجلس میں کھڑے ہو کر فرمایا: ’’میں نے پا لیا۔‘‘ سیدنا عمر فاروق نے پوچھا: ’’وہ کون ہے؟‘‘ آپ نے کسے پا لیا؟ بولے: سعد بن ابی وقاص۔ اس حسن انتخاب پر ہر طرف سے صدائے تحسین بلند ہوئی۔ بیت المقدس کی فتح مسلمانوں کو لڑے بغیر ہی نصیب ہو گئی۔ اس موقع پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا اس کے گواہوں میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف بھی شامل تھے۔ سیدنا عمر فاروق شام کے دورے پر تھے۔ اسی دوران ان کو اطلاع ملی کہ وہاں طاعون کی وبا پھیل گئی ہے۔ انہوں نے پلٹنا چاہا تو سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح نے اس کی بھر پور مخالفت کی اور کہا کہ ’’آپ شام ضرور جائیں‘ کیا آپ تقدیر الٰہی سے فرار ہونا چاہتے ہیں؟‘‘ اس موقع پر سیدنا عبدالرحمن بن عوف آگئے۔ آپ نے اللہ کے رسول کی حدیث بیان کی کہ آپ نے فرمایا: ’’جب تم کسی شہر میں وبا کی خبر سنو تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم وہاں (پہلے ہی) موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔‘‘[5] سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں: شام سے واپس پلٹنے کی وجہ صرف سیدنا عبدالرحمن بن عوف کی روایت کردہ حدیث تھی۔ اگر ان کے حالات زندگی کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی نہایت زیرک اور صائب الرائے شخصیت تھے۔ ان کو امیر المؤمنین عمر فاروق کا بے حد قرب اور اعتماد حاصل تھا۔ بعض واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر فاروق اپنے بعد خلافت کی ذمہ داریاں انہی کو سونپنا چاہتے تھے مگر وہ اس پر قطعاً راضی نہ ہوئے۔ بلاشبہ وہ نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے۔ انتہائی مالدار ہونے کے باوجود وہ بڑے منکسر المزاج تھے۔ "ایک مرتبہ روزے سے تھے‘ افطاری کے وقت ان کے سامنے کھانا رکھا گیا تو فرمایا: مصعب بن عمیر کو اُحد کے میدان میں شہید کر دیا گیا وہ مجھ سے بہتر تھے۔ ان کو ایک ایسی چادر میں کفن پہنایا گیا کہ اگر اسے سر پر ڈالا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے تھے اور اگر پاؤں پر ڈالتے تو سر ننگا ہو جاتا تھا۔ میں نے ان کو اس حالت میں دیکھا۔ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب شہید ہوئے‘ وہ مجھ سے بہتر اور افضل تھے‘ پھر ہمیں دنیا سے وہ کچھ دیا گیا جو کچھ دیا گیا۔ (یعنی ہمیں بے حد وحساب دولت دی گئی) حتی کہ ہمیں ڈر لگا کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ ہمیں فوراً (دنیا ہی میں) دے دیا گیا ہے۔ یہ کہہ کر وہ زار وقطار رونے لگے اور کھانا چھوڑ دیا"۔[6] سیدنا عبدالرحمن بن عوف امہات المؤمنین کا بے حد احترام کرتے تھے۔ امہات المؤمنین کو بیت المال سے معقول مقدار میں خرچ ملتا تھا‘ اس کے باوجود بہت سارے غنی صحابہ ان کے ایک ادنیٰ اشارے پر ہر قسم کی مالی قربانی دینے کے لیے ہر آن ہر گھڑی تیار رہتے تھے۔ مگر عبدالرحمن بن عوف کا معاملہ سب سے مختلف تھا۔ ان کے ایک باغ کی قیمت چار لاکھ درہم تھی‘ انہوں نے اس کی پیداوار امہات المؤمنین پر خرچ کرنے کی وصیت فرمائی۔ انہوں نے بدری صحابہ کے لیے وصیت کی تھی کہ ان میں جو زندہ ہیں ان سب کو میری وفات کے بعد میراث سے چار چار سو دینار دیے جائیں۔ جب ان کی وفات کے وقت بدری صحابہ کو گنا گیا تو ان کی تعداد سو تھی۔ اس طرح چالیس ہزار دینار کی خطیر رقم صرف بدری صحابہ کو ادا کی گئی۔ ان صحابہ میں سیدنا عثمان بن عفان بھی شامل تھے۔ سبھی کو معلوم تھا کہ وہ نہایت امیر کبیر اور مالدار انسان ہیں۔ سیدنا عثمان کے لیے یہ کوئی بڑی رقم بھی نہ تھی‘ آپ تو غنی تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ بھی حسب وصیت رقم وصول کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: ’’ہاں! کیوں نہیں‘ میں یہ رقم ضرور وصول کروں گا۔ میرا یہ بھائی بڑا بابرکت تھا۔ اس کا مال حلال اور برکت والا ہے۔ اس طرح انہوں نے بھی چار سو دینار وصول کیے۔ جب سیدنا عمر فاروق کو سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے مجوسی غلام ابولؤلؤ فیروز نے فجر کی نماز پڑھاتے ہوئے خنجر گھونپا تو انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنی جگہ کھڑا کر دیا۔ لوگ سیدنا عمر فاروق کی آواز نہیں سن رہے تھے۔ وہ سبحان اللہ‘ سبحان اللہ کہہ رہے تھے‘ چنانجہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف نے مختصراً نماز پڑھائی۔ سیدنا عمر فاروق نے اپنے بعد جن شخصیات کے بارے میں فرمایا کہ ان کو میرے بعد خلیفہ چن لینا ان میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف بھی شامل تھے۔ جب شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا تو یہ مسئلہ بڑا مشکل تھا کہ کس کو خلیفہ منتخب کیا جائے۔ مگر انہوں نے یہ مسئلہ بھی بڑی خوش اسلوبی سے حل کر دیا اور آخر کار صحابہ کے مشورے سے سیدنا عثمان بن عفان کو خلیفہ قرار دینے کا اعلان کر دیا۔ وہ سیدنا عثمان بن عفان کے دور خلافت میں ان کا مکمل ساتھ دیتے رہے۔ ان کو خیر خواہی کے ساتھ نیک مشورے دیتے رہے اور زندگی بھر خلافت کے استحکام کے لیے کوشاں رہے۔

وفات[ترمیم]

ان کی وفات سیدنا عثمان بن عفان کے عہد خلافت میں ہوئی۔ وفات کے وقت ان کی عمر 72 برس کے لگ بھگ تھی۔ انہوں نے وصیت کی کہ میرا جنازہ سیدنا عثمان بن عفان پڑھائیں۔ چنانچہ ان کی وصیت کے مطابق امیر المؤمنین عثمان بن عفان نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع الغرقد میں سپرد خاک کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sunnah.com/urn/636260
  2. http://www.usc.edu/org/cmje/religious-texts/hadith/abudawud/040-sat.php#040.4632
  3. جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر1713
  4. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر1969
  5. مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 1588
  6. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1220