عبدالرحمٰن بن ابی لیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد الرحمن بن ابی ليلی
کنیت أبو عيسى
لقب الانصاری الاوسى مدنی كوفی
اولاد محمد بن عبد الرحمن
عملی زندگی
طبقہ الطبقة الثانية من كبار التابعين
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبدالرحمٰن بن ابی لیلیؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

عبدالرحمٰن نام،ابو عیسیٰ کنیت،والد کا نام یسار اورکنیت ابی لیلیٰ تھی ، اس نےنام کی جگہ لے لی، نسب نامہ یہ ہے عبدالرحمن بن یسار بن بلال بن بلیل بن احیحہ بن الحلاج بن الحیرش ابن حجبا بن کلفہ بن عوف بن عمرو بن عوف اوسی انصاری۔ ابن ابی لیلی علمی اعتبار سے ممتاز تابعین میں تھے، ان کے والد ابی لیلی صحابی تھے اور متعدوغزوات میں آنحضرتﷺ کی ہمرکابی اورجہاد کا شرف حاصل کیا تھا کوفہ آباد ہونے کے بعد یہاں بودوباش اختیار کرلی تھی،، جنگِ صفین میں حضرت علیؓ کی حمایت میں شہید ہوئے ۔ [1]

پیدائش[ترمیم]

عبدالرحمن حضرت عمرؓ کے وسط عہدِ خلافت میں پیدا ہوئے۔ [2]

فضل وکمال[ترمیم]

علمی اعتبار سے عبدالرحمن بلند مرتبہ تھے، خوش قسمتی سے انہوں نے زمانہ ایسا پایا تھا جب صحابہ کرام کی بڑی تعداد موجود تھی؛چنانچہ انہوں نے ایک سو بیس انصار صحابی کو دیکھا تھا [3] اور ان میں بہتوں سے فائدہ اٹھایا ان کے فیض وبرکات نے عبد الرحمن کو دولتِ علم سے مالا مال کردیا،علامہ نووی لکھتے ہیں کہ ان کی توثیق وجلالت پر سب کا اتفاق ہے،انہیں قرآن وحدیث اورفقہ جملہ فنون میں درک تھا۔

قرآن[ترمیم]

قرآن کی قرأ ت کا خاص ذوق تھا، ان کے یہاں ہر وقت قراء کا مجمع لگا رہتا تھا ،مجاہد کا بیان ہے کہ عبدالرحمن کے ایک خاص مکان میں بہت سے مصاحف رکھے رہتے تھے،یہاں ہر وقت قراء کا مجمع رہتا تھا، صرف کھانے کے اوقات میں یہ لوگ یہاں سے ہٹتے تھے۔ [4]

حدیث[ترمیم]

حدیث کے وہ ممتاز حفاظ میں تھے، حافظ ذہبی انہیں امام لکھتے ہیں [5] صحابہ میں انہوں نے اپنے والد ابو لیلیؓ، عمرؓ، علیؓ،سعدؓ،حذیفہؓ،معاذ بن جبلؓ، مقداد بن اسودؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، ابوذر غفاریؓ،ابی بن کعبؓ، بلال بن رباحؓ،سہل بن حنیفؓ، ابن عمرؓ،عبدالرحمن بن ابی بکرؓ، قیس بن سعدؓ، ابو ایوب انصاریؓ،کعب بن عجرہؓ، عبداللہ بن زیدؓ، ابوذرغفاریؓ، ابو موسیٰ اشعریؓ،انس بن مالک، براء بن عازب، زید بن ارقم،سمرہ بن جندبؓ، صہیبؓ،عبدالرحمن بن سمرہؓ، عبداللہ بن حکم اور اسید بن حضیرؓ وغیرہ سے استفادہ کیا تھا، ان میں بعضوں سے سماع ثابت نہیں ہے۔ [6]

حلقہ درس[ترمیم]

حدیث میں ان کا علم اتنا وسیع اورمسلم تھا کہ صحابہ تک ان کے حلقہ درس میں شریک ہوکر ان کی احادیث سنتے تھے،عبدالملک بن عمیر کا بیان ہے کہ میں نے عبدالرحمن کے حلقہ درس میں متعدد صحابہ کو دیکھا جن میں ایک براء تھے،یہ لوگ خاموشی کے ساتھ عبدالرحمن کی احادیث سنتے تھے۔ [7]

مذاکرہ حدیث[ترمیم]

حفظ حدیث کے لیے مذاکرہ ضروری سمجھتے تھے ؛چنانچہ خود ان کے یہاں برابر مذاکرہ حدیث جاری رہتا تھا اور دوسروں کو بھی ہدایت کرتے تھے کہ حدیث کی زندگی اس کے مذاکرہ میں ہے۔ [8]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی پوری دستگاہ حاصل تھی، حافظ ذہبی انہیں امام وفقیہ لکھتے ہیں۔ [9]

عہدہ قضاء[ترمیم]

ان کا فقہی کمال اتنا مسلم تھا کہ جب حجاج نے کوفہ کے عہدہ قضا کا انتظام کرنا چاہا تو اس کی نظر انہی پر پڑی،اس کے پولیس افسر حوشب نے مخالفت بھی کی اور کہا کہ اگر آپ علی بن ابی طالب کو قاضی بنانا چاہتے ہیں تو انہیں بنائیں [10] (یعنی وہ ان ہی کی طرح تمہاری مخالفت کریں گے )لیکن حجاج نے اس کے باوجود ان ہی کو قاضی بنایا،پھر کچھ دنوں کے بعد اختلاف کی بنا پر جن کا تذکرہ آگے آئے گا معزول کردیا۔ [11]

احتیاط[ترمیم]

فتاویٰ کے جوابات دینے میں بڑے محتاط تھے، کہا کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ایک سو بیس انصاری اصحاب کو دیکھا کہ جب ان میں سے کسی سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تھا تو وہ اپنا پہلو بچا کر چاہتا تھا کہ دوسرا شخص جواب دے دے اوراب یہ حال ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ [12]

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ کا دائرہ خاصا وسیع تھا، ان میں ان کے لڑکے عیسیٰ،پوتے عبداللہ عمرو بن میمون شعبی ثابت البنانی،حکم بن عتبہ،حسین بن عبدالرحمن،عمرو بن مرہ،مجاہد بن جبیر، یحییٰ بن الجزا،ہلال الوزان،یزید بن ابی زیاد،ابو اسحٰق شیبانی،منہال بن عمرو،عبد الملک بن عمیر، اعمش اوراسمٰعیل بن ابی خالد وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [13]

سادگی[ترمیم]

طبعاً نہایت سادہ مزاج تھے تکلفات کو سخت ناپسند کرتے تھے، ایک مرتبہ وضو کے بعد منہ پونچھنے کے لیے رومال پیش کیا،انہوں نے پھینک دیا۔

ہیبت[ترمیم]

لیکن اس سادگی کے باوجود لوگوں کے دلوں میں ان کی اتنی عظمت ہیبت تھی کہ ان کے ساتھ امراء کی جیسی عظمت کرتے تھے۔ ایک آزمائش: ان کے دور قضات میں انہیں ایک سخت آزمائش سے دوچار ہونا پڑاان کا پورا گھر حضرت علی کے فدائیوں میں تھا ان کے والد ابو لیلی حضرت علی کی حمایت میں جنگ صفین میں مارے گئے تھے [14]خود یہ جنگ جمل میں حضرت علی کے پرجوش حامیوں میں تھے اوران کی فوج کا علم ان کے ہاتھ میں تھا،خارجیوں کے مقابلہ میں نہروان کے معرکہ میں بھی حضرت علیؓ کے ساتھ تھے، اس فدویت کی بناء پر حجاج نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ حضرت علیؓ پر تبرا کریں،تو یہ توریہ کرتے تھے صاف برا نہ کہتے تھے، اس لیے حجاج نے ان کو معزول کرکے انہیں مارا۔ [15]

ایک بہترین اسوہ[ترمیم]

عبدالرحمن علوی تھے یعنی حضرت عثمان کے مقابلہ میں حضرت علیؓ کی فضیلت کے قائل تھے،ان کے ایک دوسرے معاصر عبداللہ بن حکیم عثمانی تھے، لیکن اس اختلاف عقیدہ کے باوجود دونوں ایک مسجد میں نماز پڑھتے تھے اور کبھی حضرت عثمانؓ اور علیؓ کی فضیلت پر بحث ومناظرہ نہ کرتے تھے۔ [16]

وفات[ترمیم]

حجاج کے ان مظالم سے تنگ آکر اس کی مخالفت میں ابن اشعث کے ساتھ ہوگئے تھے اور اسی جنگ میں وہ کام آئے یاڈوب کر انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تہذیب التہذیب:۶/۳۶۷)
  2. (تہذیب التہذیب:۶/۳۶۷)
  3. (ابن سعد:۲/۷۶)
  4. (تذکرہ الحفاظ:۱/۵۰)
  5. (تہذیب التہذیب:۶/۲۶۰)
  6. (ایضاً:۲۶۱)
  7. (ابن سعد:۶/۷۶)
  8. (ابن سعد ایضاً:۷۶)
  9. (تذکرہ الحفاظ:۱/۵۰)
  10. (ابن سعد:۶/۷۶)
  11. (تہذیب التہذیب:۶/۳۶۱)
  12. (ابن سعد: /۷۵)
  13. (تہذیب التہذیب:۶/۳۶۱)
  14. (تہذیب الاسماء:۱/۴)
  15. (تذکرہ الحفاظ:۱/۵۰)
  16. (تاریخ خطیب بغدادی:۱۰/۲۰۱)