عبد الرحیم خان خاناں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبدالرحيم خان سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خان خاناں
عبد الرحیم خان خاناں
عبد الرحیم خان خاناں

خان خاناں
ساتھی yes
معلومات شخصیت
پیدائش 17 دسمبر 1556  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1626 (69–70 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
اولاد Jana Begum  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد بیرم خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان جلائر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل جانا بیگم
دو بیٹے
دیگر معلومات
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان برج بھاشا[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مقبرۂ عبدالرحیم (دہلی میں)، جہاں عبدالرحیم مدفن ہے۔

عبد الرحیم خان خاناںعبد الرحیم یا مختصر طور پر رحیم کے نام سے جانے جاتے تھے، مغل درباری جو بیرم خان اور سلیمہ سلطان بیگم کے اکلوتے بیٹے تھے۔

ولادت[ترمیم]

عبد الرحیم لاہور میں پیدا ہوئے بیرم خان کے بیٹے تھے جو اکبر کے اتالیق تھے۔ والد کے قتل کے بعد جب ابھی اُنکی عمر 5سال تھی تو بادشاہ اکبر نے اُنہیں اپنے پاس بُلا لیا اور شہزادوں کے ساتھ پرورش کی۔ اکبر نے بیرم خان کی دوسری بیوی سلیمہ سلطان بیگم سے شادی کرلی اس طرح رحیم خان اکبر کے سوتیلے بیٹے بن گئے۔

اکبر کے رتن[ترمیم]

20سال کی عمر میں شہزادہ سلیم (جہانگیر)کے اتالیق مقرر ہوئے۔ عبد الرحیم نے مغل سلطنت میں اچھا کردار ادا کیا۔ نہایت حسین تھے۔ مختلف معرکوں میں سپاہیانہ جوہر دکھائے اور کئی بغاوتوں کو ناکام کیا۔ بہادر سپاہی ،عالم فاضل اور عربی،فارسی،ترکی ،سنسکرت کے ماہر تھے۔ ہندی میں شعر کہتے تھے۔ ان سب خوبیوں کی وجہ سے اہم نورتن رہے۔

علمی مقام[ترمیم]

وہ ایک اچھے شاعر اور قصہ گو بھی تھے۔ وہ علم نجوم میں مہارت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ اردو زبان کے ایک فصیح و بلیغ شاعر تھے۔ انہیں سنسکرت پر بھی عبور حاصل تھا۔ پنجاب کے نو شہر ضلع میں ایک دیہات کو ان کے نام خان خانخانہ سے موسوم کیا گیا ہے۔

وفات[ترمیم]

اُن کی وفات بادشاہ جہانگیر کے دور میں ہوئی۔ ان کا مقبرہ نظام الدین ایسٹ میں موجود ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/119432099 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb137395061 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://viqarehind.com/اکبر-کے -نو-9-رتن قسط10/