عبدالشکور گورائیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں


عبدالشکور گورائیہ
ادیب
عرفیت شکور
تخلص شکور
ولادت جوڑیاں، سیالکوٹ، پنجاب، پاکستان
ابتدا 1972ء
اصناف ادب شاعری
ذیلی اصناف غزل، نظم، مرثیہ
سرگرم دور 1995


عبدالشکور گورائیہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سیالکوٹ -[1] جسے شہر اقبال بھی کہا جاتا ہے کے مغرب میں واقع خوبصورت قریہ جوڑیاں میں پیدا ہوئے عبدالشکور گورائیہ پاکستان کے سیالکوٹ پنجاب میں مقیم پنجابی اور اردو زبان کے نوجوان شاعر اور صحافی ہیں، اپنی پنجابی اور اردو زبان میں شاعری اور صحافتی خدمات کہ وجہ سے مشہور ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد آپ نے شعبۂ صحافت کو اپنا پیشہ بنایا، روزنامہ آساس-[2] روزنامہ پاکستان-[3]، روزنامہ اسلام-[4]، رنگ ٹیلی ویژن چینل اسلام آباد-[5] اور روزنامہ ایکسپیریس-[6] اور ملک کے دیگر چیدہ چیدہ اخبارات سے منسلک رہے، گزشتہ تین سال سے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے)آر آیی یو جے-[7] کی ایگزیکٹیو کونسل کے سینئر ممبر ہیں اور راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کی ادبی کمیٹی کے نائب صدر ہیں۔ شمالی علاقہ جات سے شایع ہونے والے اخبار روزنامہ اذان کے ایڈیٹر رہے اور ماھنامہ ینگ مین اسلام آباد کے بھی مدیر رہے، پیشنٹس ویلفئیر ایسوسی ایشن جوڑیاں سیالکوٹ کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں، اس وقت اسلام آباد میں ایک بڑے اشاعتی ادارے سے بطور نیوز ایڈیٹر منسلک ہیں-

پنجابی نمونہ کلام[ترمیم]

تیرے پلو دیاں تاراں جدوں لہراندیاں نیں

واہ وچ فیر سرگوشیاں ہندیاں نیں

یاری ویکھ کے ساڈی لوکی کیندے نیں

ایہہ لکیراں قوس و قزح دیاں لگدیاں نیں

تو اکھان وچ کاجل جدوں پانی ایں

دن ویلے ای شاماں لگدیاں نیں

پینگھ تے بیٹھ یاں جے زلفاں اڑدیاں نیں

آسمان دیاں گھٹاواں لگدیاں نیں

جندڑی ترے ناتوں شکور نے وار دتی

گلاں اودیاں ہالاں وی کانیاں لگدیاں نیں

میری نوائے شوق سے شورِ حریمِ ذات میں غلغلہ ہائے الاماں بُت کدہ صفات میں

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں میری نگاہ سے خلل تیری تجلّیات میں

گرچہ ہے میری جستجو دَیر و حرم کی پابند میری فغاں سے رستخیز کعبہ و سومنات میں

گاہ مری نگاہِ تیز چیر گئی دلِ وجود گاہ اُلجھ کے رہ گئی میرے توہّمات میں

تُو نے یہ کیا غضب کیا، مجھ کو بھی فاش کر دیا میں ہی تو ایک راز تھا، سینۂ کائنات میں

-

اردو نمونہ کلام[ترمیم]

غزل
جب دل بڑا ہی ملال ہوتا ہے

یار کو ملنا پھر محال ہوتا ہے
اک نشہ سا ہے ان کے سخن میں
اور حال ہمارا بے حال ہوتا ہے
چاہتے ہیں ہم بھی کریں کوئی بات
ارشاد چپ رہو فی الحال ہوتا ہے
وہ خود کرتے ہیں ہمارے دل کی جب باتیں
فن ان کا اس وقت کمال ہوتا ہے
جیسے چڑھ کے اتر جاتے ہیں دریا
سکون نصیب من کو لازوال ہوتا ہے
یوں پڑی ہے شبنم آج پھولوں پہ شکور
رخ کا ان کے جمال ہوتا ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. [ http://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D9%84%DA%A9%D9%88%D9%B9 اردو ویکیپیڈیا میں عبدالشکور گورائیہ کے گاؤں کے بارے میں معلومات]
  2. [ http://www.dailyasas.com.pk روزنامہ پاکستان]
  3. [ http://www.dailypak.com روزنامہ آساس]
  4. [ http://www.dailyislam.pk روزنامہ اسلام]
  5. [ http://www.rung,tv رنگ ٹیلی ویژن]
  6. [ http://www.express.com.pk روزنامہ ایکسپریس]
  7. [ http://www.riuj.com.pk آر آیی یو جے]