عبدالعزیز ابن سعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ابن سعود

نجد کا سعودی خاندان انیسویں صدی کے آغاز میں جزیرہ نمائے عرب کے بہت بڑے حصے پر قابض ہو گیا تھا لیکن مصری حکمران محمد علی پاشا نے آل سعود کی ان حکومت کو 1818ء میں ختم کردیا تھا۔ سعودی خاندان کے افراد اس کے بعد تقریباً 80 سال پریشان پھرتے رہے یہاں تک کہ 20 ویں صدی کے اوائل میں اسی خاندان میں ایک اور زبردست شخصیت پیدا ہوئی جس کا نام عبدالعزیز ابن سعود تھا جو عام طور پر سلطان ابن سعود کے نام سے مشہور ہیں۔

سعودی حکومت کا قیام[ترمیم]

ابن سعود انیسویں صدی کے آخر میں اپنے باپ کے ساتھ عرب کے ایک ساحلی شہر کویت میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے تھے۔ وہ بڑے با حوصلہ انسان تھے اور اس دھن میں رہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آبا و اجداد کی کھوئی ہوئی حکومت دوبارہ حاصل کرلیں۔ آخر کار 1902ء میں جبکہ ان کی عمر تیس سال تھی، انہوں نے صرف 25 ساتھیوں کی مدد سے نجد کے صدر مقام ریاض پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے باقی نجد بھی فتح کرلیا۔ 1913ء میں ابن سعود نے خلیج فارس کے ساحلی صوبے الحساء پر جو عثمانی ترکوں کے زیر اثر تھا، قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد یورپ میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی جس کے دوران ابن سعود نے برطانیہ سے دوستانہ تعلقات قائم رکھے اور ترکوں کے خلاف کاروائی کی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد شریف حسین نے خلیفہ بننے کا اعلان کردیا تو ابن سعود نے حجاز پر بھرپور حملة کردیا اور چار ماہ کے اندر پورے حجاز پر قبضہ کرلیا اور 8 جنوری 1926ء کو ابن سعود نے حجاز کا بادشاہ بننے کا اعلان کردیا۔ سب سے پہلے جس ملک نے ابن سعود کی بادشاہت کو تسلیم کیا وہ روس تھا۔ روس نے 11 فروری 1926ء کو حجاز و نجد پر سعودی حکومت کو تسلیم کیا لیکن برطانیہ نے تاخیر سے کام لیا اور معاہدہ جدہ کے بعد تسلیم کیا۔ اس طرح سعودی مملکت اپنے زوال کے ایک سو سال بعد ایک بار پھر پوری قوت سے ابھر آئی اور عرب کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔

موتمر اسلامی[ترمیم]

مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر قبضے کے بعد ابن سعود نے خلیفہ بننے کی کوشش نہیں کی بلکہ حجاز کا انتظام سنبھالنے اور جدید دور کے مسائل کو حل کرنے کے لیے انہوں نے 13 تا 19 مئی 1926ء کے درمیان ساری دنیا کے مسلمان رہنماؤں پر مشتمل ایک موتمر اسلامی طلب کی جس میں تیرہ اسلامی ملکوں نے شرکت کی۔ موتمر میں اسلامی ہند کے ایک وفد نے بھی شرکت کی جس کی سب سے ممتاز شخصیت مولانا محمد علی جوہر تھے۔ اگرچہ یہ موتمر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی لیکن اتحادِ اسلامی کی تحریک میں اس کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسلمانوں کا پہلا بین الاقوامی اجتماع تھا جسے ایک سربراہ مملکت نے طلب کیا تھا۔

تنازعۂ یمن[ترمیم]

1930ء میں ابن سعود نے عسیر اور نجران کے علاقوں کو بھی سعودی مملکت میں شامل کرلیا۔ یہ دونوں علاقے چونکہ یمن کی سرحد پر واقع تھے اور ان پر یمن کا بھی دعویٰ تھا اس لیے سعودی عرب کا یمن سے تصادم ہو گیا۔ سعودی عرب کی فوجوں نے جو یمن کی فوجوں کے مقابلے میں زیادہ منظم اور دینی جذبے سے سرشار تھیں، یمن کو بھی شکست دے دی اور 1934ء میں یمن کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرلیا لیکن اسی سال بعض ممتاز مسلمانوں کی کوششوں سے جن میں امیر شکیب ارسلان کا نام قابل ذکر ہے، طائف میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان 20 مئی 1934ء کو ایک معاہدہ ہو گیا اور سعودی فوجوں کو یمن سے واپس بلا لیا گیا۔ سعودی افواج نے اس سے پہلے اردن کو بھی اپنے دائرۂ اقتدار میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انگریزوں کے دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ اگر ابن سعود اردن اور یمن کی مہمات میں کامیاب ہوجاتے تو پورا جزیرہ نمائے عرب ان کے تحت آجاتا لیکن اس وقت بھی ابن سعود کی حکومت رقبے کے لحاظ سے ایشیا میں سب سے بڑی عرب حکومت تھی اور یمن، عمان اور بعض ساحلی علاقوں کو چھوڑ کر پورے جزیرہ نمائے عرب پر سعودی بالادستی قائم تھی۔

22 ستمبر 1932ء کو نجد و حجاز کی اس نئی حکومت کو سعودی عرب کا نام دیا گیا۔

اصلاحات[ترمیم]

یالتا کانفرنس کے بعد ایک بحری جہاز پر ابن سعود کی امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ (دائیں) سے ملاقات

ابن سعود اور ان کے نجدی ساتھی چونکہ محمد بن عبدالوہاب کے پیرو تھے، جو ایک عظیم مصلح تھے، اس لیے ابن سعود نے اسلامی تعلیمات پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی کوشش کی۔ ابن سعود بادشاہت کو تو ختم نہ کرسکے لیکن وہ سارے کام علماء کی ایک مجلس سے مشورے سے انجام دیتے تھے اور انہوں نے اس کی پوری کوشش کی کہ ملک میں اسلامی احکام پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے سارے ملک میں شراب کی خرید و فروخت بند کردی جو ترکوں کے دور میں حجاز وغیرہ میں عام ہو گئی تھی۔ ابن سعود جب تک زندہ رہے دوسری معاشرتی برائیوں کو بھی پھیلنے کا موقع نہ دیا۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے 1948ء میں جامعہ ازہر کے طرز پر ایک فقہ کالج قائم کیا۔

ابن سعود میں تدبر اور انتظامی صلاحیت کی وہ تمام خوبیاں تھیں جو ایک بانئ حکومت میں ہونی چاہئیں۔ انہوں نے اپنے پڑوسی ممالک سے جھگڑے طے کرنے میں جس دور اندیشی، اعتدال پسندی اور وسعت قلبی کا ثبوت دیا، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے۔

ان کے بڑے کارناموں میں عرب کے خانہ بدوشوں کو بستیوں میں آباد کرنا اور انہیں زراعت پر مائل کرنا تھا جبکہ ان کی حکومت نے لوگوں کی اخلاقی تربیت کا بھی انتظام کیا۔ ابن سعود کا ایک اور کارنامہ ملک میں امن و امان کا قیام ہے حتیٰ کہ مورخین نے یہ تک لکھا ہے کہ

  • سرزمین عرب میں کامل امن و امان قائم کرنے میں تاریخ میں صرف دو آدمی کامیاب ہوئے ایک حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے ابن سعود
  • اسکے برعکس حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ (599 – 661) 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کا منصب حضرت علی علیہ السّلام کے سامنے پیش کیا . حضرت علی رضی اللہ عنہ کا دور خلافت ریشہ دوانیوں اور انتشار کا شکار رہا مگر اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک نا اہل حکمران تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انتشار اور ریشہ دوانیاں مد مقابل ہی پیدا کرتے ہیں اور حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے دور حکومت کو سازشوں کے نظر کیا گیا جس کی مثال جنگ صفین ہے - بنی ہاشم آل نبی نے کبھی اقتدار کے حصول کے لیے سازشیں نہیں کیں اور آل سعود کے دور میں بھی مد مقابل حسین ابن علی (شریف مکہ) تھے اور یہ رسول پاک صلعم کے خاندان سے تھے اور اس وجہ سے 1908ء میں شریف مکہ کا اعزاز حاصل کیا۔

1924ء میں نجد کے فرمانروا عبدالعزیز ابن سعود سے شکست کھا کر تخت سے دست بردار ہوگیا۔ 1924ء سے 1931ء تک قبرص میں جلاوطن رہا۔ مگر آل سعود کے خلاف سازشیں نہیں کیں ـ اسی وجہ سے آل سعود کامیاب بادشاہ ثابت ہوۓ -

چونکہ عرب کا بیشتر علاقہ ریگستان اور بنجر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے اس لیے آمدنی کے ذرائع کم ہیں اس لیے سلطان ابن سعود ملک کو معاشی و تعلیمی لحاظ سے زيادہ ترقی نہ دے سکے لیک ان کے اخیر دور حکومت میں عرب میں مٹی کے تیل کے کنوئیں اس کثرت سے نکالے آئے کہ ملک کی کایا پلٹ گئی اور حکومت کو کروڑوں روپے سالانہ آمدنی ہونے لگی۔ تیل کی دریافت سے پہلے 1928ء میں سعودی عرب کی کل آمدنی 70 لاکھ ڈالر تھی اور اس میں سے نصف رقم حاجیوں پر ٹیکس لگا کر وصول کی جاتی تھی لیکن ابن سعود کے عہد کے آخری دنوں میں صرف تیل سے ہونے والی آمدنی تین کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس فاضل آمدنی سے سلطان نے کئی مفید اور تعمیری کام کیے جن میں سب سے اہم کام ریل کی پٹری بچھانا تھا۔ یہ پٹری خلیج فارس کی بندرگاہ دمام سے دارالحکومت ریاض بچھائی گئی جو ساڑھے تین سو میل لمبی ہے اور 1951ء میں مکمل ہوئی۔ ابن سعود کا 51 سالہ دور حکومت 1953ء میں ان کے انتقال کے ساتھ ختم ہوا۔ وہ سعودی حکومت کے حقیقی بانی تھے اور انہوں نے ایک پسماندہ اور بے وسائل ملک کو جس طرح ترقی کے راستے پر ڈالا، اس کی وجہ سے ان کا شمار بلا شک و شبہ تاریخ اسلام کے ممتاز حکمرانوں میں ہوتا ہے۔

ابن سعود qقران و حدیث پر مبنی عقائد کے حامل تھے جس کے نتیجے میں حجاز میں داخلے کے فوری بعد اسلام کے اصولوں کے خلاف تمام غیر اسلامی افعال کو ممنوع قرارا دے دیا گیا اور تمام سعودی عرب میں صرف قران اور حدیث کے مطابقنظام کو رائج کردیا جس کے نتیجے میں مکہ اور مدینہ ممیں تمام شرکیہ اعمال کا خاتمہ ہو گیا سعودی عرب]] میں آجکل آل سعود ہی کی حکومت ہے۔