عبد الغفور عرف حضرت سوات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مولانا عبدالغفور آخوندقادری عرف حضرت سوات اور سیدو بابا سوات ،امام المجاہدین، شیخ الاسلام والمسلمین سے شہرت رکھتے ہیں۔

نام[ترمیم]

حضرت آخوند صاحب سوات کا اصلی نام عبدالغفور اور والد کا نام عبدالوحید تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب مہمندوں کے قبیلہ صافی سے جاملتا ہے۔

ولادت[ترمیم]

آپ علاقہ شامیزے (سوات) کے موضع جبڑی میں 1794ء بمطابق 1209ھ کو پیدا ہوئے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

پشاور کے مشہور عالم وعارف حافظ محمد عظیم معروف بہ گنج والے میں حاضر ہوکر سلسلہ قادریہ میں مرید ہوئے اور مرشد کی طرف سے اجازت وخلافت حاصل کی۔ آپ شیخ المشائخ صاحبزادہ محمد شعیب صاحب ساکن تورڈھیری کی خدمت میں پہنچ کر طریقہ قادریہ میں بیعت ہو کر ریاضت و مجاہدات میں مشغول ہو گئے۔ دریائے کابل اور دریائے سوات کے جنگلوں میں کافی عرصہ زہد و عبادت میں گذارا ۔ جب سلسلہ قادریہ کے اسباق طریقت کو مکمل کر کے اپنے پیر و مرشد کے حضور میں پہنچے ۔ تو صاحبزادہ صاحب نے آپ کو ہر چہار سلاسل یعنی قادریہ ، نقشبندیہ ، چشتیہ اور سہروردیہ میں ماذون اور صاحب مجاز فرمایا۔ آپ نے اس سلسلہ مبارکہ کی بہت اشاعت کی ۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ آپ کے نام سے موسوم ہو کر قادریہ چشتیہ نقشبندیہ کا ایک خانوادہ مشہور ہوگیا۔اب آپ کا سلسلہ صرف صوبہ سرحد ہی نہیں ، بلکہ کابل، ہرات ، غزنی ، ہندوستان اور عرب تک پھیل چکا تھا اور ہر جگہ آپ کے خلفاء مصروف تبلیغ تھے، اور اشاعت سنت نبوی ﷺ کر رہے تھے۔

سیر و سیاحت[ترمیم]

حصولِ علم کا شوق اور زہد و تقویٰ سے رغبت رہی۔ تعلیم کے ابتدائی مدارج طے کرنے کے بعدآپ گھر سے نکل کرگجر گڑھی (ضلع مردان) میں مولانا عبدالحکیم سے حصولِ تعلیم کرتے رہے۔چمکنی(پشاور) اور زیارت کاکا صاحب نوشہرہ پھر پشاور میں حضرت جی صاحب میں رہےاور آخرمیں تور ڈھیری ضلع مردان میں کچھ عرصہ مولانا محمد شعیب کی خدمت میں گزارا۔سکھوں اور درانیوں کی جنگ میں آپ نے دوست محمد خان فرمان روائے افغانستان کا ساتھ دیا۔ چوبیس سال کی عمر میں ستمبر 1835ءاپنے وطن لوٹ آئے۔ پہلے پہل علاقہ ملوچ (سوات) کی ایک مسجدمیں قیام کیا۔ وہاں سے موضع رنگیلا منتقل ہوئے۔پھر سوات کے اوڈی گرام نامی تاریخی گاؤں کے قریب غازی بابا(پیر خوشحال) کے مزار میں قیام پزیر رہے اور بعدازاں مرغزار کی خوب صورت وادی کی راہ لی۔ وہاں سے مرغزارکے قریب سپل بانڈی نامی گاؤںمیں مقیم ہوگئے۔ وہاں شادی کی اور 1845 میں اس جگہ سے نکل کر سیدو میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ جو اس وقت صرف سیدو کے نام سے پہچانا جاتا تھا لیکن ان کے مستقل قیام کی وجہ سے سیدو، سیدو شریف کہلانے لگا۔ سیدو میں مقیم ہو جانے کے بعد آپ نے مخلوقِ خدا کی فلاح وبہبود کی طرف توجہ دی۔مختلف جگہوں پر جاکرلوگوں کو امر بالمعروف نہی عن المنکر پر عمل کی ترغیب دی۔

تحریک جہاداور حضرت سوات[ترمیم]

جذبہ دینی کے تحت اسماعیل دہلوی کی تحریک جہاد میں شرکت کی، اور پشاور میں انکی طرف سے جنگ بھی کی، اظہارحقیقت کے بعدتحریک جہاد علیحدگی اختیار کرلی، اور ‘‘جماعت مجاہدین’’ کے باطل عقائد سے مسلمانوں کو آگاہ کیا،انہی کےحکم سے آپ کےخلیفہ حضرت مولانا نصیر احمد قصہ خوانی نے تقویۃ الایمان کے رد میں احقاق حق تالیف کیا،

احکام شرعیہ کا نفاذ[ترمیم]

تحریک جہاد سے بددل ہوکرسوات تشریف لےگئے، اور بڑی جدو جہد کےبعد احکام شرعی کا نفاذکیاآپ اس اسلامی ریاست کے شیخ مقرر ہوئے،تمام معاملات دستور اسلامی کےمطابق فیصل ہوئے،

جنگ آزادی میں شرکت[ترمیم]

آپ نے اس زہد و تقویٰ ، مشاہد ہ و مراقبہ ، ذکر وفکر ، امر باالمعروف نہی عن المنکر اور اشاعت سلسلہ کے ساتھ ساتھ ’’ جہاد باالسیف ‘‘ بھی کیا۔ نہایت ہی شجاعت ، ہمت اور استقلال کے ساتھ وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جو رہتی دنیا تک زندہ رہیں گے اور جن کی یاد ہمیشہ رہے گی ۔ جب کبھی مورخ تاریخ مجاہدین سرحد لکھے گا تو وہ آپ کے جہادوں کو فراموش نہیں کرے گا اور نہ ہی کر سکتا ہے۔1857؁ء میں آپ نے اپنی جماعت کے ستھ امبیلہ کے مقام پر انگریزوں سے جہاد کیا، اور انہیں زبردست شکست دی، 1863ء میں آخوند صاحبِ سوات (سیدوبابا) نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ کونڑ،باجوڑ،دیر، جندول،بونیر اور سوات کے لشکر آخوند صاحب کے جھنڈے تلے جمع ہوگئے اور انگریزوں پر حملہ کردیا گیا۔ انگریزوں نے بونیر پر لشکر کشی کی۔ بونیر میں امبیلہ کے مقام پر انگریزی فوج اور مجاہدین کے لشکر کے درمیان میں خون ریزجنگ ہوئی۔ جنگ کے بعد انگریز امبیلہ سے واپس چلے گئے۔ یہ جنگ امبیلہ کمپین 1863ء کے نام سے مشہور ہے۔

اولاد[ترمیم]

حضرت سوات کے دو فرزند بنام عبدالحنان میاں گل اور عبدالخالق میاں گل تھے ۔ عبدالخالق میاں گل صاحب کے فرزند ارجمند عالی مرتبت میاں گل عبدالودود صاحب ہیں۔ آپ نے خود بنفس نفیس اپنی حکومت

وصال[ترمیم]

ساتویں محرم الحرام 1295ھ بمطابق 12 جنوری 1877ء کو بمقام سیدوشریف آپ کا وصال ہوا، وہیں سپرد خاک کیے گئے، جہاں ایک بڑی مسجد میں آپ کا عالی شان مزار عوام و خواص کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔موجودہ بادشاہ سوات میاں گل عبد الودود آپ کے صاحبزادے میاں گل عبد الخالق کے صاحبزادہ ہیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیاء پاکستان جلد اول ،عالم فقری، صفحہ284 تا288 شبیر برادرزلاہور
  2. سوات سیاحوں کی جنت،فضل ربی راہی،صفحہ167 تا 169ناشر شعیب سنز سوات
  3. تذکرہ علماء و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 149 تا 157،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جان یکہ توت پشاور

مزید دیکھیے[ترمیم]

[1][2]

  1. http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-%D8%B3%D9%88%D8%A7%D8%AA%D8%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%88%D8%B1%D9%82.4556/page-2
  2. http://ziaetaiba.com/ur/personality/