عبدالقادر آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مولانا عبدالقادر آزاد 1939ء کو حضرت سید سعید احمدکے ہاں پیدا ہوئے، ولادت کے بعد آپ کا نام عبدالقادر آزاد تجویز کیا گیا۔جونہی یہ بچہ گود میں آیا تو خاندان کے ہر فرد نے آپ کے بارے پیران پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے سلسلہ تصوف کا وارث بننے کی نوید دی۔آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم حضرت مولانا پیر سید سعیدسے حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے مدرسہ قاسم العلوم ملتان سے سند فراغت حاصل کی۔ مولانا ڈاکٹر سید محمد عبدالقادر آزادزندگی بھر علم و حکمت کے حصول میں منہمک رہے۔آپ نے’’ حکیم الامت مجدد ملت مولانا اشرف علی تھانوی بحیثیت مفسر قران ‘‘میں پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ریاست بہاولپورمیںآپ نے مرکزی درس گاہ اسلامی مشن سے تدریسی خدمات کی ابتداء کی۔ آپ اس ادارہ کے مہتمم اور پرنسپل کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ۔ 1970 ء میں آپ لاہور آئے اور بادشاہی مسجد کی خطابت کے فرائض آپ کے سپرد کئے گئے۔ جو سب سے زیادہ چیز ان کی ممد و معاون ثابت ہوئی وہ ان کی بے نیازی سرچشمی اور استغناء تھا۔ انہوں نے دین کی خدمت کیلئے اعلیٰ طبقوں اور جدید تعلیم یافتہ حضرات میں تبلیغ و اصلاح دین کو اپنا نصب العین بنایا ۔ مولانا آزاد ایک محنتی اورا نتھک انسان تھے‘ بیکار بیٹھنا ان کیلئے امر محال تھا۔مولانا آزادسادگی ‘ نفاست ،پاکیزگی متانت کا مزاج رکھتے تھے ۔ آپ کا انداز گفتگو دلکش ‘ خندہ جبیں اور زبان میں میٹھاس تھی۔ ضرورت مند وں کا مجمع رہائش گاہ پر ہر وقت موجود رہتا ،دسترخواں ہر وقت بچھا رہتا ۔کوئی سائل کوئی سفارشی سب کو جیب میں ہاتھ ڈال کر جو نکلتا مٹھی بند کر کے دے دیتے ۔ جُبہ اور دستار والے بھی آپ کے پاس آتے اور شرٹ پتلون والے سب کے ساتھ محبت کا سلوک فرماتے ۔

1974ء میں جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی تو بادشاہی مسجد میں عالم اسلام کے سربرہان مملکت کی امامت کی سعادت آپ کو حاصل ہوئی۔شاہ فیصل مرحوم کی طرف سے آپ کو یہ اعزاز حاصل رہا آپ ہر سال فریضہ حج کیلئے ساتھیوں سمیت حجاز مقدس حاضری دیتے ۔آپ نے تحفظ ناموس رسالت کی ہر تحریک میں حصہ لیا۔ 1977؁ء میں جب تحریک نظام مصطفیؐ چلی مولانا آزاد نے سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور محراب ومنبر سے حق کی آواز کو بلند کر کے محبت رسول اللہ ؐ کا پیغام دیا۔

مولانا آزاد دینی علوم کے ساتھ ساتھ روحانی و سیاسی بصیرت کے بھی حامل رہے ہیں۔ اسلام کی حقانیت اور تمام ادیان پر برتری دلائل سے ثابت کرتے ۔ انہوں نے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مولانا مفتی محمود اور مولانا عبداللہ درخواستی مولانا غلام غوث ہزاروی سے سیاسی اورمولانا خان محمد کندیاں شریف والے اور اپنے والد گرامی حضرت پیر سید سعید سے دینی و روحا نی فیض حاصل کیا۔ مولانا آزاد دنیا کے اکثر ممالک میں اشاعت اسلام کیلئے تشریف لے جاتے رہے جن میں امریکہ‘ برطانیہ‘ ناروے‘ ڈنمارک‘ سویڈن‘ انڈونیشائ‘ ملیشیا‘ سعودی عرب‘ کویت‘ عراق‘ ایران‘ سوڈان‘ برونائی‘ دارالسلام مصر‘ لیبیا چاڈ وغیرہ جیسے ممالک شامل ہیں۔ جب بھی فارغ وقت ہوتا کسی نہ کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے ہوتے اور ان کی تصنیفی مصروفیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ کم از کم 100 کتابیں ان کی تصنیفات ہیں اور انہوں نے ہر عنوان پر لکھا ۔ بیرونی ممالک میں ان کے مقالات عربی ،اُردو اور انگلش میں شائع ہوتے رہے۔۔14 جنوری 2003ء کہ یہ علم و عمل کا سورج غروب ہو گیا

تصانیف[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]