عبدالقادر ملا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Abdul Quader Molla
আব্দুল কাদের মোল্লা
فائل:AbdulQuaderMollaPP.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 14 اگست 1948  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
Amirabad, Bangladesh[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 دسمبر 2013 (65 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ڈھاکہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
شریک حیات Sanoara Jahan
عملی زندگی
مادر علمی ڈھاکہ یونیورسٹی
پیشہ صحافی
آجر در Executive editor of The Daily Sangram
تنظیم جمعات اسلامی

عبدالقادر ملّا مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی کا راہنما تھا۔ 1971ء کی خانہ جنگی میں اس نے مذہبی اور قومی وابستگی کی بنیاد پر علیحدگی پسندوں کے خلاف پاکستان کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان کے حامیوں پر عتاب کا سلسلہ شروع ہوا جس کا نشانہ جماعت اسلامی بھی بنی۔ 2013ء میں ایک خاص عدالت نے عبدالقادر کو "جنگی جرائم" کے الزام میں موت کی سزا سنائی۔[4] عالمی تنظیموں نے عدالتی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ 12 دسمبر 2013ء کو بنگلہ دیشی جنتا نے عبدالقادر کو پھانسی دے دی۔ [5]

ردّعمل[ترمیم]

عبدالقادر کی پھانسی پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سید منور حسن نے مذمت کی۔ پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے انتہائی افسوسناک اور المناک اقدام قرار دیا۔[6] پاکستان قومی اسمبلی نے اکثریت سے قرادرداد مذمت منظور کی، البتہ پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، اور عوامی نیشنل نے قرارداد پر دستخط نہیں کیے۔ چودھری نثار نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس واقعہ کو "عدالتی قتل" قرار دیا۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]