عبداللہ بن حوالہ ازدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد اللہ بن حوالہ اَزدیصحابی رسول اور اصحاب صفہ میں شمار ہوتے ہیں۔
عبد اللہ نام، ابومحمد کنیت، والدکانام حوالہ، قبیلۂ ’’أزد‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں ۔[1] امام ابوعیسیٰ ترمذی اور علامہ ابونعیم اصبہانی نے عبد اللہ بن حوالہ کو اصحابِ صفہ میں شمارکیا ہے ۔[2]
عبد اللہ بن حوالہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے پیادہ پا روانہ کیا، ہم خالی ہاتھ لوٹ آئے اور جنگ میں کچھ بھی ہاتھ نہیں آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں میں جہد ومشقت اور تھکاوٹ کے آثار نمایاں محسوس کیے ، تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! تو ان لوگوں کو میرے سپردمت کر ورنہ میں انہیں کمزور وناتواں بنادوں گا۔ نہ انہیں ان کی ذات پرچھوڑ، ورنہ عاجز وبے بس ہوجائیں گے اور نہ انہیں لوگوں کے حوالہ کر اور نہ ان کا محتاج بنا، ورنہ لوگ ان پر ترجیحی معاملہ کریں گے ، اپنی ذات کو ہرمعاملہ میں مقدم رکھیں گے اور انہیں کچھ نہیں دیں گے ، پھر پیغمبر علیہ الصلاۃ والسلام نے اپنا دستِ شفقت میرے سرپررکھتے ہوئے فرمایا: اے حوالہ کے فرزند! جب تم خلافت کے مسئلہ کو خوب ابھرتا ہوا دیکھنا توسرزمینِ شام کی راہ لینا اور وہیں مقیم ہوجانا، کیونکہ اس وقت زلزلے ، بڑے بڑے فتنے کے ظہور کا وقت بہت قریب ہوگا اور قیامت اس وقت اتنی قریب ہوگی، جتنا میراہاتھ تمہارے سرسے قریب ہے ۔ ’’مسند احمد‘‘ میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پرغریب مسلمانوں کو یہ خوشخبری سنائی کہ خداکی قسم! ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم لوگ سرزمینِ ’’فارس‘‘ سرزمینِ ’’روم‘‘ اور سرزمینِ ’’شام‘‘ فتح کرلوگے ، تم میں سے ہرایک کے حصہ میں بہت سے اونٹ اور بہت سی بکریاں آئیں گی اور ایک ایک شخص کو سوسودینار دیے جائیں گے پھر بھی وہ اسے کم ترسمجھے گا اور ناراض ہوگا ۔[3] اس روایت سے ابن حوالہ کی غربت ومسکنت ظاہر ہوتی ہے اور صفہ کے طالب علموں کی خاص پہچان یہی ہے کہ یہ حضرات صحابۂ کرام میں ضعفاء اور غرباء ہوتے تھے ۔ ابن حوالہ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی ، اپنی اس محبت کا اظہار بڑے نرالے اور اچھوتے انداز میں کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور یہ خواہش ظاہر کی کہ اے اللہ کے رسول! معلوم نہیں ، کب آپ ہمارے درمیان میں سے تشریف لے جائیں ، جس کی بناپر مجھے یہاں - مدینہ منورہ میں - رہنا دوبھر معلوم ہو۔ آپ مجھے کسی ایسے شہر کا پتہ بتائیے جہاں میں آپ کے وصال کے بعد سکونت اختیار کرلوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شام‘‘ چلے جانا، یہ سن کر میں خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرہ سے بھانپ لیاکہ مجھے سرزمینِ’’ شام ‘‘ناپسند ہے ، تو فرمایا: ’’شام‘‘ کی حقیقت جانتے بھی ہوکہ’’ شام‘‘ کیا چیزہے ؟ اللہ تعالیٰ ’’شام‘‘ سے مخاطب ہوکر فرماتاہے ’’یاشام أنت صفوتي من بلادي أدخل فیک خیرتي من عبادي‘‘ اے شام! تو میرے تمام ملکوں اور تمام سرزمینوں میں منتخب اور پسند یدہ سرزمین ہے ۔ میں تمہارے اندر اپنے منتخب اور چیدہ بندوں کو ہی داخل کرتاہوں ۔ [4] یہ فضیلت سن کر اپنے محبوب نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعدشام چلے گئے اور اہلِ شام نے ان سے کافی علم حاصل کیا اور ان سے احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنیں مثلاً: ابوسعید خولانی، جبیربن نفیر، مرثدبن وداعۃ وغیرہ۔ کچھ دنوں کے لیے ’’مصر‘‘ بھی تشریف لے گئے ، اہلِ مصر نے بھی کافی فیض اٹھایا، جن میں ربیعہ بن لقیط نجیبی وغیرہ ہیں ۔ پھرشام واپس آگئے اور اس مقدس سرزمین میں بعمرِ 72؍ سال امیر معاویہ کے عہدِ خلافت 58ھ میں وفات پائی۔ یہی علامہ واقدی ، ابنِ حبان وغیرہ کی رائے ہے ، البتہ علامہ ابنِ عبدالبر اور ابنِ یونس نے تاریخِ وفات 80ھ ذکر کی ہے ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الإصابۃ : 2/ 326۔
  2. (حلیۃ الأ ولیاء: 2/3
  3. الإستیعاب : 2/ 330۔
  4. الدر المنثور:مؤلف: عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي ناشر: دار الفكر - بيروت