عبداللہ بن زید بن صام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت عبداللہ بن زید بن صام ؓ
معلومات شخصیت
کنیت ابو محمد

نام ونسب[ترمیم]

عبد اللہ نام، ابو محمد کنیت، قبیلۂ خزرج سے ہیں،نسب نامہ یہ ہے عبد اللہ بن زید بن عاصم بن کعب بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن نجار بن ثعلبہ بن عمرو بن خزرج، ماں کانام ام عمارہ تھا۔

اسلام[ترمیم]

ہجرت کے بعد مسلمان ہوئے۔

غزوات[ترمیم]

بدر کے علاوہ تمام غزوات میں شرکت کی ،مشہد بیعت رضوان میں موجود تھے، [1] جنگ یمامہ میں نہایت نمایاں حصہ لیا، مسیلمہ کذاب مدعی نبوت نے ان کے بھائی حبیب بن زید کو قتل کرادیا تھا، حضرت عبدؓ اللہ وقت کے منتظر تھے جنگ یمامہ میں خوش قسمتی سے موقع مل گیا، پہلے حضرت وحشیؓ نے مسیلمہ کو تیر مارا پھر حضرت عبد اللہ نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا اورقتل کر دیا۔ [2]

وفات[ترمیم]

63ھ میں خود قتل ہوئے،یزید بن معاویہ کی خلافت سے تمام مدینہ بیزارتھا اس بنا پر اس کی بیعت توڑ کر حضرت عبد اللہ بن حنظلہؓ انصاری سے بیعت کی،یزید نے ایک لشکر بھیجا ،حضرت ابن حنظلہؓ نے تمام شہر سے جہاد پر بیعت لینا شروع کی، حضرت عبد اللہ ؓ کو خبر ہوئی تو پوچھا بیعت کی شرط کیا ہے؟ جواب ملا موت !بولے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی سے اس شرط پر بیعت نہیں کرسکتا۔ [3] لیکن چونکہ یہ حق و باطل کا معرکہ تھا ،اپنے دو بیٹوں کے ساتھ میدان میں پہنچے اور وہیں شہادت حاصل کی، یہ ماہ ذی الحجہ کی اخیر تاریخوں کا واقعہ ہے۔ اس وقت بقول واقدی وہ 70 برس کے تھے ؛لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں غزوۂ احد میں ان کی شرکت مسند میں بالتصریح مذکور ہے [4] اور اسماء الرجال کے تمام مصنفین کا بھی اس پر اتفاق ہے؛بلکہ بعض نے تو بدر کی شرکت بھی تسلیم کی ہے، غزوہ کی شرکت کے لیے 15 سال کی عمر شرط ہے، اس بنا پر وہ احد میں کم از کم پندرہ برس کے ضرور تھے اوراس لیے وفات کے وقت ان کی عمر 75 سال ٹھہرتی ہے۔

اولاد[ترمیم]

دو لڑکے تھے،خلاد اورعلی، حرہ میں قتل ہوئے۔

فضل وکمال[ترمیم]

چند حدیثیں روایت کیں ،راویوں کے نام یہ ہیں، عباد بن تمیم (بھتیجے تھے) سعید بن مسیب ،یحییٰ عمارہ، واسع بن حیان ،عبادہ بن حبیب، ابو سفیان ،مولی ابن ابی احمد

اخلاق[ترمیم]

حب رسول کا منظر یہ ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرتﷺ ان کے مکان پر تشریف لے گئے ، وہ پانی لائے اورآپ نے وضو کیا [5]آپ نے جس طرح وضو کیا تھا انہوں نے یاد کر لیا،چنانچہ ایک زمانہ کے بعد جب لوگوں نے آنحضرتﷺ کے وضو کی کیفیت پوچھی تو خود اسی طرح وضو کرکے بتلایا۔ [6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (بخاری:2/599)
  2. (اسد الغابہ:3/168)
  3. (بخاری:2/599)
  4. (مسند:4/41)
  5. (مسند:4/41)
  6. (مسند:4/38)