عبد المجید اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبدالمجید اول سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عبد المجید اول
Sultan Abdülmecid - Google Art Project.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 23 اپریل 1823 اور 25 اپریل 1823[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 25 جون 1861 (38 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن استنبول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the Ottoman Empire.svg سلطنت عثمانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ شوق افزا سلطان
تیر مجگان سلطان
گل جمال قادین افندی
رحیمہ پریستو سلطان
گلستان قادین افندی (1854–1861)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد خامس،  عبدالحمید ثانی،  محمد وحید الدین سادس،  مراد خامس،  جمیلہ سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد محمود ثانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
والدہ بزم عالم سلطان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والدہ (P25) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان عثمانی خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان سلطنت عثمانیہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
2 جولا‎ئی 1839  – 25 جون 1861 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمود ثانی 
عبد العزیز اول  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
پیشہ حاکم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Chevalier-legion-dhonneur-empire-1804.jpg لیجن آف آنر
Order of the Medjidie - Ribbon bar.svg نشان مجیدی
RUS Imperial Order of Saint Andrew ribbon.svg آرڈر آف سینٹ اینڈریو
Order of the Garter UK ribbon.png آرڈر آف گارٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Tughra of Abdülmecid I.JPG 

عبد المجید اول (ترکی زبان: Abdü’l-Mecīd-i evvel) (پیدائش: 23 اپریل 1823ء – انتقال: 25 جون 1861ء) سلطنت عثمانیہ کے 31 ویں سلطان تھے جنہوں نے 2 جولائی 1839ء کو اپنے والد محمود ثانی کی جگہ تخت سلطانی سنبھالا۔ ان کا دور حکمرانی قوم پرستوں کی تحریکوں کے آغاز کا زمانہ تھا۔ سلطان نے "عثمانیت" (انگریزی: Ottomanism) کے فروغ کے ذریعے قوم پرستی کو روکنے کی ناکام کوشش کی حالانکہ انہوں نے نئے قوانین اور اصلاحات کے ذریعے غیر مسلم اور غیر ترک اقوام کو عثمانی معاشرے میں ضم کرنے کی بھرپور سعی کی۔ انہوں نے مغربی یورپ کی اہم سیاسی قوتوں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے اور انہی اتحادیوں کے ذریعے روس کے خلاف جنگ کریمیا لڑی۔ 30 مارچ 1856ء کو معاہدۂ پیرس کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کو یورپی اقوام کا باقاعدہ حصہ قرار دیا گیا۔ عبد المجید کی سب سے بڑی کامیابی تنظیمات کا اعلان اور نفاذ تھا جس کا آغاز ان کے والد محمود ثانی نے کیا تھا۔ اس طرح 1839ء سے ترکی میں جدیدیت کا آغاز ہو گیا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

عبد المجید نے یورپی طرز پر تعلیم حاصل کی اور وہ فرانسیسی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے اور ادب اور کلاسیکی موسیقی میں بھی انہیں رغبت تھی۔ وہ اپنے والد محمود ثانی کی طرح اصلاحات کو پسند کرتے تھے اور اس حوالے سے خوش قسمت تھے کہ انہیں مصطفی رشید پاشا، محمد امین علی پاشا اور فواد پاشا جیسے ترقی پسند وزیر ملے۔ اپنے پورے دور حکومت میں وہ اصلاحات مخالف قدامت پسندوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے۔ عبد المجید پہلے عثمانی سلطان تھے جو مخصوص دنوں میں، خصوصاً جمعہ کو، ذاتی دلچسپی لے کر براہ راست عوامی شکایات سنتے تھے۔ انہوں نے تنظیمات کے نفاذ کے بعد عوام پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سلطنت بھر کا دورہ بھی کیا اور اس سلسلے میں 1844ء میں ازمیت، مدانیہ، بروصہ، گیلی پولی، چناق قلعہ، لیمنوس، لیسبوس اور ساکز کے دورے کیے۔ انہوں نے 1846ء میں بلقان کے صوبوں کا بھی دورہ کیا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے دور میں سلطنت عثمانیہ جدیدیت کی راہ پر گامزن ہوئی اور سلطنت میں امن قائم ہوا لیکن اس جدیدیت کی سلطنت عثمانیہ کو بہت مہنگی قیمت چکانی پڑی۔ تاریخ میں پہلی بار جنگ کریمیا کے دوران سلطنت عثمانیہ کو اگست 1854ء میں غیر ملکی قرضہ لینا پڑا۔ اس کے بعد 1855ء، 1858ء اور 1860ء میں بھی سلطنت نے قرضے لیے اور یوں معاشی طور پر قرضوں میں جکڑتی گئی۔ دوسری جانب شاہ کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا جس کا اندازہ استنبول میں دولمہ باغچہ جیسے عظیم الشان محل کی تعمیر سے بھی ہوتا ہے جس پر 35 ٹن سونے کی لاگت آئی۔

وفات[ترمیم]

عبد المجید 39 سال کی عمر میں 25 جون 1861ء کو تپ دق کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی جگہ عبد العزیز اول تخت سلطانی پر بیٹھے۔ انہوں نے سوگواران میں متعدد بیٹے چھوڑے جن میں سے مراد پنجم، عبد الحمید ثانی، محمد پنجم اور محمد ششم نے بعد ازاں سلطان کی حیثیت سے امور سلطنت سنبھالے۔

اہم اصلاحات[ترمیم]

  • پہلے عثمانی کاغذی نوٹوں کا اجرا (1840ء)
  • فوج کی تنظیمِ نو (1843ء1844ء)
  • عثمانی قومی ترانہ اور قومی پرچم کا انتخاب (1844ء)
  • فرانسیسی طرز پر مالیاتی نظام کی تنظیمِ نو
  • فرانسیسی طرز پر ہی ضابطۂ فوجداری و دیوانی کی تنظیمِ نو
  • مجلسِ معارفِ عمومیہ کا قیام جو پہلی عثمانی پارلیمان کا نمونہ تھی (1876ء)
  • پہلی بار جدید جامعات و تعلیمی اداروں کا قیام (1848ء)
  • غیر مسلموں پر عائد اضافی محصولات کا خاتمہ (1856ء)
  • غیر مسلموں کو فوج میں شمولیت کی اجازت (1856ء)
  • معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے انتظامی امور میں بہتری کے لیے اقدامات
  • عبد المجید کے دور میں پہلی بار پگڑی کی جگہ فاس (جو بعد ازاں ترکی ٹوپی کہلائی) کو اختیار کیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Abdulmecid-I — بنام: Abdulmecid I — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
عبد المجید اول
پیدائش: 23 اپریل 1823 وفات: 25 جون 1861
شاہی القاب
ماقبل 
محمود ثانی
سلطان سلطنت عثمانیہ
2 جولائی 1839 – 25 جون 1861
مابعد 
عبد العزیز اول
مناصب سنت
ماقبل 
محمود ثانی
خلیفہ
2 جولائی 1839 – 25 جون 1861
مابعد 
عبد العزیز اول

سانچہ:عثمانی شجرہ نسب