عبدالمصطفی الازہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالمصطفی الازہری
معلومات شخصیت
پیدائش نومبر 1915  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بریلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 18 اکتوبر 1989 (73–74 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مفتی امجد علی اعظمی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم،  فقیہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

شیخ الحدیث عبدالمصطفٰی الازہری صدر الشریعہ مفتی محمدامجد علی اعظمی (صاحبِ بہارِ شریعت) کے صاحبزادے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

محمد عبد المصطفٰی الازہری۔لقب: شیخ الحدیث، نائبِ صدر الشریعہ۔تخلص: ماجد۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے: عبدالمصطفٰی الازہری بن صدر الشریعہ مفتی محمدامجد علی اعظمی (صاحبِ بہارِ شریعت) بن علامہ جمال الدین بن مولانا خدا بخش

تاریخِ ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت باسعادت ابتداِ ماہِ محرم الحرام 1334ھ مطابق ماہِ نومبر 1915ء کو’’بریلی شریف‘‘ انڈیا میں ہوئی۔ جب آپ کی ولادت ہوئی اس وقت صدر الشریعہ ’’منظرِ اسلام‘‘ بریلی میں مدرس تھے۔ولادت کے ساتویں دن عقیقے کے موقع پر صدرالشریعہ آپ کو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں لےگئے،نام تجویز کرنے اور دعا کی درخواست کی۔اعلیٰ حضرت نے نومولود کو دیکھ کر مسرت کا اظہار کیا۔آپ نے بچے کی پیشانی پر بوسہ دیااور دم فرمایا۔بچے کےنام میں ’’عبد المصطفیٰ‘‘ کا اضافہ تجویز فرمایا اور صدرالشریعہ کو پیش گوئی فرمائی کہ تمھارا یہ بیٹا بہت ہی ذہین اور بہت ہی عظیم ہوگا،اور انشاء اللہ یہ تمھارا نائب،عالم وفاضل بنے گا،اور جہاں تک نام کا تعلق ہے تو میں اپنا نام آپ کے بیٹے کو دیتا ہوں[1]

تحصیلِ علم[ترمیم]

آپ نے قرآن مجید اپنے مولِد بریلی شریف کے دار العلوم منظرِ اسلام میں مولانا احسان علی مظفر پوری سے پڑھا۔پھر والد ماجد کے جامعہ عثمانیہ اجمیر شریف میں مدرس مقرر ہونے پر علامہ ازہری نے اپنے آبائی وطن قصبہ گھوسی اعظم گڑھ میں محلہ کریم الدین کے مکتب میں اُردو سیکھی۔ علامہ ازہری کو 1926ء میں آپ کے والد مکرم نے جامعہ عثمانیہ (اجمیر شریف) بلالیا۔ جہاں آپ نے کتب فارسی مولانا عارف بدایونی سے پڑھیں۔علومِ عربیہ اسی مدرسہ میں حکیم عبدالمجید، مفتی امتیاز احمد اور مولانا عبدالحیٔ سواتی سے حاصل کی اور اکثر علوم و فنون ابتدا سے انتہا تک اپنےوالد مکرم سے پڑھے۔ جب صدر الشریعۃ دوبارہ بریلی شریف جانے لگے تو علامہ ازہری کو اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ ازہر قاہرہ (مصر) بھیج دیا۔ چنانچہ حج کی ادائیگی اور زیارت روضۂ رسول علیٰ صاجہا الصلوٰۃ والسلام سے فراغت کے بعد جامعہ ازہر تشریف لے گئے اور تین سال جامعہ ازہر میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے جامعہ کی طرف سے دو سندیں ’’شہادۃ الاہلیۃ، وشہادۃ العالیہ‘‘ حاصل کیں[2]

بیعت وخلافت[ترمیم]

علامہ ازہر ی نے بچپن میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا احمد رضا خان محدث بریلوی کے دست پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیاتھا اور جوانی میں مفتی اعظم ہند علامہ مصطفٰی رضا خان بریلوی اور صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی کی طرف سے سلسلہ عالیہ قادریہ میں اجازت و خلافت حاصل کی۔

سیرت وخصائص[ترمیم]

فقیہ ابنِ فقیہ،عالم ِباعمل،مردِ حق،صاحبِ محاسنِ کثیرہ، جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،شیخ الحدیث علامہ مولانا عبد المصطفٰی الازہری۔آپ یادگارِ اسلاف،اور شریعتِ محمدیہ کا نمونہ تھے۔آپ کے تمام امور سنتِ مصطفیٰﷺ کے سانچے میں ہوتےتھے۔ عظیم باپ کے عظیم فرزند ِ ارجمند تھے۔آپ نے ِ صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی کی نیابت و جانشینی کا صحیح حق ادا کیا۔ شیخ الحدیث مملکتِ پاکستان کے بطلِ جلیل، اسلام کے عظیم سپاہی،دین ومسلک کے شاندار قائد، قرآن وحدیث، فقہ، علوم ِ عربیہ اور فنونِ اسلامیہ کے بحرِ زخار، صوفی و درویش صفت، فاضلِ مدینہ، بغداد،اجمیر، بریلی اور جامعہ ازہر کی بارگاہوں اور درسگاہوں کے طالب ِ علم و خوشہ چیں،سلفِ صالحین کے کردار کا عکسِ جمیل، عاشقِ محبوبِ خدا،شیدائے غوث اعظم، و امام ِ اعظم،محبِ اعلیٰ حضرت،محبوبِ مفتیِ اعظم تھے۔ پچاس سال تک مسندِ درس وتدریس پرقال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرتے رہے۔اسی طرح آپ دار العلوم امجدیہ کے شیخ الحدیث، جماعتِ اہل سنت پاکستان کے صدر،جماعتِ اہل سنت اور جمعیت علما پاکستان کے بانی رکن،ممبر قومی اسمبلی، رکن مجلس شوریٰ اور بے شمار دینی ومذہبی انجمنوں، اداروں کے سرپرستِ اعلیٰ تھے۔آپ کی پوری زندگی ہوش سنبھالنے سے حیاتِ مستعار کی آخری سانس تک ایک تحریک، ایک انجمن، انقلابِ مصطفوی، عشقِ محمدی اور ترویج و اشاعت مذہبِ حق کی ایک عظیم کاوش اور جہد ِ مسلسل سے عبارت ہے۔

عادات و خصائل[ترمیم]

خوش مزاج، ظریف الطبع، سادگی، تواضع، وقار علمی،مگر درویشی و استغنا لیے ہوئے، قناعت پزیر، ہر دم مسلک کی اشاعت کی دھن، کوہِ استقامت، باہمت اور بڑے باحوصلہ،خود نمائی سے گریز مگر علم کی بے عزتی ناگوار،گھریلو معاملات کے ہر جز سے با خبر،اور اہل خانہ کی ضروریات کا انتظام خود فرماتے،مہمان نواز،بات میں بات پیدا کرنا اور وہ بھی ندرت کے انداز میں حاضر جوابی کےساتھ ان کی ذہانت کا زندہ ثبوت تھا۔بہت ہی با اخلاق شریف النفس، بڑوں میں بڑے،چھوٹوں میں چھوٹے،لیکن خود دار ایسے کہ اپنے علم و کردار،فضل وکمال اور دین ومسلک کو کبھی چند ٹکوں میں فروخت نہیں کیا۔آپ﷫ علما کے قدردان، چھوٹوں پر مشفق و مہربان ، سادگی میں سلفِ صالحین کے نقش قدم پر تھے۔ مساکین کے دکھ درد ، خوشی و غمی میں ساتھی تھے ۔ حقوق العباد کی فکر تھی ، پڑوسیوں سے اخلاق و مروت سے پیش آتے تھے۔ سماجی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ تدریس کو عبادت سمجھتے تھے۔ لہذا طلبہ کی تعلیم و تربیت پر نہایت توجہ فرماتے تھے۔ وقت کی قدر ٹائم کی پابندی رکھتے تھے ۔ درس تدریس میں ناغہ نہیں کرتے روزانہ بلا نا غہ وقت سے پہلے پہلے پہنچ جاتے تاکہ پورا وقت طلبہ کی تعلیم پر صرف کیا جائے ۔

سیاسی کردار[ترمیم]

آپ ساری زندگی نفاذِ نظامِ مصطفیٰﷺ کے لیے کوشاں رہے۔عام علما کی طرح صرف مسجد ودرس گاہ تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھا بلکہ رسول اللہ ﷺ کے دین کوتخت پر لانے کےلئے مصروفِ عمل رہے۔ مذہب کی طرح سیاست اور ملکی وبین الاقوامی حالات و معاملات پر گہری نظر رکھتےتھے۔ایک مرتبہ دورانِ تقریر فرمایا: ’’سیاست ہمارے لیے کوئی اجنبی یا انوکھا شعبہ نہیں،یہ تو دین ہی کا ایک شعبہ ہے،جس کی طرف ہم نے عملی توجہ کی ضرورت نہیں سمجھی،لیکن اس شعبۂ زندگی کے جو قائد بنے تھےوہ دین سے بیزار ی اور دوری کے باعث ناکام ہوچکے ہیں۔لہذا اب ہمیں اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا اور دستور ساز اسمبلی میں پہنچ کر نظامِ مصطفیٰﷺ کا درس دینا ہوگا‘‘۔

قائدِ ملتِ اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی نے 1978ء کی ملتان سنی کانفرنس میں خطاب کرتےہوئے علامہ عبدا لمصطفٰی الازہری کے متعلق فرمایا: ’’ شیخ الحدیث،جانشین ِ صدرالشریعہ، سیاسی ہیں۔شکل و صورت دیکھ لیں، لمبا کرتا دیکھ لیں،عمامہ دیکھ لیں، اگر دل دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ بھی دیکھ لیجئے،ان کے جسم کے ہر حصے سے عشقِ مصطفیٰﷺنکلے گا۔بلکہ ان کے خون کے ہر قطرے میں محبتِ مصطفیٰﷺ کی روانگی ہوگی۔اگر یہ سیاست ہے تو ہم اس الزام کو قبول کرتےہیں‘‘۔(روئداد سنی کانفرنس)۔آپ ﷫ دومرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئےملک و قوم کے لیے عظیم خدمات انجام دیں۔جن میں سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردلوانے، قانون توہینِ رسالت،اور قانون شہادت، اسی طرح جمعۃ المبارک کی تعطیل اہم ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ممبر قومی اسمبلی بننے کے بعد بھی آپ کے رہن سہن میں کوئی فرق نہیں آیا۔آج بھی لوگ گواہ ہیں،جس مکان میں حضرت پہلے رہتےتھے ،بعد میں بھی اسے میں رہے۔اسی طرح آپ نے کسی قسم کی رعایت،کسی قسم کا لین دین،اور نہ ہی مراعات حاصل کیں۔ہمیشہ کی طرح روزانہ سعود آباد سے بذریعہ بس یا ویگن دار العلوم امجدیہ آیا کرتےتھے۔

تاریخِ وصال[ترمیم]

16/ربیع الاول 1410ھ مطابق 18/اکتوبر 1989ء،بروز منگل،بوقتِ فجر، یہ جلالۃ العلم واصل باللہ ہوئے۔دارالعلوم امجدیہ کراچی میں آپ کا مزار مقدس ہے۔ [3]

  1. ۔شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفٰی الازہری: 105
  2. مفتیِ اعظم اور ان کے خلفاء:462
  3. انوار علمائے اہل سنت سندھ صفحہ 1051زین العابدین شاہ زاویہ پبلشر لاہور۔