عبدالوہاب فرید تنکابنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

میرزا عبدالوہاب فرید تنکابنی کا شمار بھی جریان قرآنیان شیعہ یا اہل قرآن شیعہ میں کیا جاتا ہے۔[1] ان کی مشہور کتاب "اسلام و رجعت"[2] ہے جس میں انہوں نے عقیدہ رجعت کو غالیوں کا عقیدہ اور یہودیوں سے درآمد شدہ قرار دیا نیز بہت سارے عقائد و رسومات کو اپنی اس کتاب میں خرافات و بدعات میں شمار کیا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

آپ ایران کے مازانداران صوبہ کے شہر رامسر میں 1907 عیسوی میں پیدا ہوئے۔[3]

خاندانی پس منظر[ترمیم]

آپ کے والد خود ایک مجتہد تھے ان کا نام آقای شیخ محمد حسین تھا۔جب کہ آپ کی والدہ کا نام فاطمہ تھا جو ایک مشہور مجتہد آیت اللہ میرزا محمد باقر بن ملا عبدالرزاق کی بیٹی تھی۔پس آپ ایران کے رامسر شہر کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کے متعلق کتاب "بزرگان رامسر" میں لکھا ہے کہ محمد حسین بن حبیب اللہ بن قربان علی بن عبد اللہ بن منصور خان بن رحیم خان السمامی غریب تنکابنی کے نام سے مشہور تھے۔محمد ھسین ایک فقیہ ،عالم،حکیم،شاعر و ادیب اور فقہ و اصول کے استاذ تھے،نجف گئے 1304 ہجری میں،اور میرزا حبیب اللہ الرشتی،شیخ ہادی طہرانی،میرزا حسین الخلیلی کی شاگردی اختیار کی،اور 1319 ہجری میں واپس رامسر آئے،اور تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں مشغول رہے۔آپ کی 4 یا 5 کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان کے دو بیٹے تھے : عبدالوہاب فرید،اور محمد غریب۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپ نے اپنی دینی تعلیم آپنے علاقے میں ہی حاصل کی خصوصا اپنے والد سے کافی استفادہ کیا۔آپ نے اپنے والد سے فقہ و اصول پڑھا۔مقدمات حجت الاسلام آغا سید یعقوب سجادی سے پڑھا۔[4]

تعلیمی سفر اور ذمہ داریاں[ترمیم]

اس کے بعد آپ نے اپنی دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے تہران،اصفہان اور بعد میں قم کا سفر کیا۔اور آپ نے آیت اللہ حاج شیخ عبدالکریم حائری سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا۔ کافی عرصہ دانشگاه الهیات و معارف اسلامی میں استاذ کی حیثیت سے پڑھایا جہاں آپ کو بہت ساری انتظامی ذمہ داریاں دی گئیں۔ آپ چونکہ ایک روھانی یا دینی پیشوا تھے اس لیے شروع میں مذہبی لباس عمامہ و عبا و قبا پہنتے لیکن بعد میں 1941 عیسوی میں اس کا پہننا ترک کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ پہننا درست نہ تھا جس پر وہ اپنے دلائل رکھتے تھے۔ لیکن گرمیوں میں آپ مسجد سکینہ آباجی جواہردہ میں منبر پر جاتے تھے وعظ و نصیحت کے لیے اور آپ کو سننے والوں کی کافی تعداد ہوتی۔[5] آپ بہت ہی زیادہ صاحب مطالعہ شخصیت تھے اسی لیے آپ کی ذاتی لائبریری جو آج بھی موجود ہے وہ ایران کی مشہور لائبریریوں میں شمار کی جاتی ہے۔ آپ نے آیت اللہ شریعت سنگلجی کی شاگردی بھی اختیار کی اور بعد میں توحید اور قرآن فہمی کی جانب گامزن ہوئے۔

اسلام و رجعت[ترمیم]

1945 عیسوی میں آپ نے اپنی تحقیق و تالیف کے علاوہ کچھ کتابوں کے ترجمے بھی شائع کیے۔آپ کی بہت ہی مشہور کتاب"اسلام و رجعت"[6] ہے،جس میں عقیدہ رجعت کو یہودی اور غلات شیعہ کا عقیدہ قرار دیا۔یہ کتاب سنہ 1939 عیسوی میں شائع ہو۔

دیگر کتب[ترمیم]

اس کے علاوہ آپ نے کتاب "اسلام چنانکه بود"[7] بھی لکھا جس میں فرقہ پرستی کی بجائے اور خود کو شیعہ یا سنی کہنے کی بجائے خالص اسلام صدر اول کی طرف واپسی کی دعوت دی۔ ایک غیر مسلم مولف لرد اویبوری کی کتاب کتاب روش زندگی کا فارسی ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ کافی کتب لکھیں ،اور مختلف مجلوں میں آپ نے اپنی تحریریں شائع کیں خصوصا آپ نے مجلہ ہمایون علی اکبر حکمی زادہ میں چند ہی قسطیں لکھی تھیں کہ ہر طرف سے شیعہ علما نے اس مجلہ پر دباؤ بڑھانا شروع کیا،اس مجلہ میں اپنی تحریروں میں انہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ شیعوں اور سنیوں میں اس وقت تک اتحاد ہو ہی نہیں سکتا جب تک شیعہ شیعہ ہے اور سنی سنی ہے،یہ اتفاق و اتحاد صرف اس وقت ہوگا جب خالص اسلام و قرآن کی طرف پلٹیں،خود کو صرف مسلمان کہیں۔ آپ نے ایسے سخت انداز میں لکھا کہ خود علی اکبر حکمی زادہ صاحب اسرار ہزار سالہ کو بھی کہنا پڑا کہ آئندہ آپ مجلہ میں نہپیں لکھیں گے۔

کتابخانہ فرید رامسر[ترمیم]

آپ نے اپنی زمین وقف کی تاکہ ایک دینی مدرسہ بنائیں،اور لائبریری کے لیے بھی زمین وقف کی۔آخر 14 مارچ 1982 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی۔ [8] آپ اپنے لائبریری کے داخلی دروازے کے پاس دفن ہیں۔ آپ کا کتابخانہ "کتابخانه فرید رامسر" کے نام سے مشہور ہیں جس میں سینکڑوں کتب موجد ہیں،اور کافی زیادہ قلمی نسخے بھی ہیں۔[9]

عبدالوہاب فرید کی رد میں کتب[ترمیم]

عبدالوہاب فرید تنکابنی کے خلاف کافی مجتہدین اور علما نے کتب لکھی ہیں جن میں سے محدث همداني نے ایک کتاب سلاسل الحديد على عنق العنيد[10] عبد الوهاب فريد بھی لکھی۔جب کہ رجعت کے خلاف جو آپ نے کتاب لکھی اس کا بھی کافی علما نے جواب لکھا ہے جن میں سے ایک "ایمان و رجعت"[11] کے نام سے ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]