عبد الحی فرنگی محلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

عبد الحی فرنگی محلی لکھنؤ بھارت کے ایک حنفی فقیہ اور عالم دین تھے، جو ابوالحسنات لکھنوی کی کنیت سے معروف ہیں۔

ولادت[ترمیم]

26 ذوالقعدہ 1264ھ بمطابق 24 اکتوبر 1848ء کو بانڈہ، ہندوستان میں  پیدا ہوئے۔ آپ اپنے وقت کے عظیم عالم دین تھے، جو بہت سی معروف کتب کے مصنف ہیں۔

نسب[ترمیم]

محمد عبد الحئی بن محمد عبد الحليم انصاری لكھنوی صحابی رسولﷺ حضرت ابو ایوب انصاری کی نسل سے  ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آپ کے اجداد نے مدینہ منورہ سے ہرات، وہاں سے لاہور، پھر دہلی اور بالآخر سہالی اور فرنگی محل نزد لکھنؤ ہجرت کی۔ متقی اور نیک علماء نے ہمیشہ اس جگہ کو اپنا مسکن بنایا۔ مولانا عبد الحئی نے پانچ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنا شروع کیا۔ اللہ پاک نے انہیں بچپن ہی سے اتنا عمدہ حافظہ عطا فرمایا تھا کہ ان کے اپنے بیان کے مطابق انہیں وہ سرزنش بھی یاد تھی جو ایک مرتبہ انہیں کی گئی جب وہ صرف تین سال کے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے حافظ قاسم علی صاحب سے قرآن سیکھا۔ اس دوران ان کے والدین نے جونپور ہجرت کی جہاں انہوں نے حافظ ابراہیم سے حفظ جاری رکھا۔ آپ نے 10 سال کی عمر میں حفظ مکمل کرلیا۔ دوران حفظ آپ نے اپنے والد صاحب سے کچھ فارسی کتب بھی پڑھیں۔

جب آپ گیارہ سال کے ہوئے تو آپ نے اپنے والد صاحب سے علوم اسلامی کی تعلیم حاصل کرنے شروع کر دی جو تب جونپور  میں  تدریس کر رہے تھے۔ آپ نے میزان الصرف سے لے کر تفسیر بیضاوی تک تمام کتاب سترہ سال کی عمر تک مکمل کر لیں۔ اپنے والد کی وفات کے بعد آپ نے ریاضی کی کچھ کتب اپنے والد صاحب کے استاد محترم مولانا محمد نعمت اللہ (1290ھ) سے پڑھیں۔

اللہ تعالٰی نے مولانا عبد الحئی کو بچپن ہی سے لکھنے پڑھنے کا شوق عطا کیا تھا۔ انہوں نے ہو وہ کتاب پڑھائی جو انہوں نے پڑھی۔ حیران کن طور پر انہوں نے ہر مضمون میں ایک پراسرار مہارت پیدا کر لی تھی۔ کوئی بھی درسی کتاب ان کے لیے مشکل نہ رہی اس حد تک کہ وہ شرح الاشارات از طوسی، افق المبین اور قانونات طب وغیرہ اور  کسی بھی نئے مصنف کی کتاب پڑھا سکتے تھے جو انہوں نے پہلے نہ پڑھی ہو۔

انہوں نے کچھ عرصہ حیدر آباد میں پڑھایا۔ بعد ازاں آپ لکھنؤ چلے آئے جہاں آپ نے باقی عمر دین کی خدمت میں گزاری۔

کار ہائے  علمی[ترمیم]

مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کے والد اور نزھۃ الخواطر کے مصنف مولانا عبد الحئی فخر الدین ندوی (1996ء تا 1923ء) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مولانا عبد الحئی کے بیانات میں کئی مرتبہ شرکت فرمائی اور ان کو بہت ذہین، فاضل، بحر علم اور اس حد تک شرعی پیچیدگیوں پر مکمل عبور رکھنے والا پایا کہ وہ بین الاقوامی طور پر ایک معروف عالم جانے گئے۔ جب بھی کوئی مباحثہ ہوتا تو مولانا عبد الحئی تب تک خاموشی اختیار کیے رہتے جب تک کہ باقی علما اپنی اپنی آراء کا اظہار نہ کر لیتے اور آخر میں علماء فیصلہ کن رائے کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے۔ ہر ایک مکمل رضامندی سے ان کا فیصلہ تسلیم کرتا تھا۔ وہ بھارت کے عجائب میں سے تھے اور ان کی نیکوکاری پر کسی ایک نے بھی کوئی اختلاف نہیں کیا۔     

ان کے طریقہ تدریس سے  طلبہ مکمل مطمئن ہوتے تھے۔ ان کے استاد مولانا نعمت اللہ ان کی تعریف میں سخاوت فرمایا کرتے تھے۔ تصنیف سے اپنی شدید محبت کی بدولت انہوں نے کئی مضامین مثلاً  عربی صرف و نحو، صوریات، منطق، فقہ اور حدیث وغیرہ پر سو(100) سے زیادہ کتب تصنیف کیں۔    ان کے والد صاحب کی وفات کے بعد انہیں قاضی کا عہدہ پیش کیا گیا لیکن انہوں نے پیشہ سے متعلق خطرات کے پیش نظر اور موجود پر قناعت کے باعث  قبول نہ فرمایا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر انہوں نے پیش کش قبول کر لی تو یہ ان کے تدریسی و تصنیفی کام میں رکاوٹ ڈالے گا۔  

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کو سچے خوابوں کا تحفہ بھی دیا گیا تھا جس میں ان کو کچھ ہدایات بھی دی جاتی تھیں۔ آپ نے سیدنا ابوبکر، عمر، ابن عباس، فاطمہ، عائشہ، ام حبیبہ اور معاویہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی زیارت کی۔ انہیں خواب میں امام مالک، امام شمس الدین سخاوی، امام جلال الدین سیوطی اور دوسرے علما دین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین  کی زیارت ہوئی  اور ان سے کسب  فیض بھی کیا جسے انہوں نے  ایک الگ کتاب میں درج کیا ہے۔    

ایک کتاب بعنوان غیبت کیا ہے اس موضوع پر ان کی معروف تصنیف ہے۔[1] 

طریق  اجتہاد[ترمیم]

اللہ پاک کی ان پر بے پناہ خصوصی عنایات میں سے ایک علم حدیث اورفقہ فی الحدیث میں دسترس اور کمال تھا۔ آپ فتویٰ جاری کرتے وقت ہمیشہ درمیانی راہ  کا انتخاب کرتے، قرآن اور حدیث سے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے مجتہدین کی آراء کو قبول فرماتے۔ یہ طریقہ کار اس وقت کے حنفی علما میں فتویٰ کے  رائج طریقہ کار سے مختلف تھا۔ مولانا بھی مذہب حنفی سے ہی  استفادہ فرماتے تھے اسی وجہ سے آپ اپنے وقت کے علما میں مجتہد کے طور پر معروف ہوئے۔[2] 

مقام بطور محدث [ترمیم]

مکہ مکرمہ  کے  مفتی  شیخ احمد بن زین دحلان نے انہیں برہان الدین مرغینانی کی تصنیف الہدایہ اور اپنے تمام اساتذہ سے سیکھی گئے تمام علوم کی روایت کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ مفتی محمد بن عبد اللہ حنبلی مکی، شیخ محمد بن محمد غربی اور شیخ عبد اللہ غنی دہلوی نے بھی انہیں مختلف اسناد کی  اجازت عطا فرمائی۔   عالم حديث اورتراجم کے بہت ماہر تھے، فقہا حنفیہ کے اکابرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

وفات[ترمیم]

آپ  ربیع  الاول 1304ھ (1886ء) کو جوانی میں 39 سال کی عمر میں وفات پا گئے اور اپنے بزرگوں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

ان کی كتابوں میں مندرجہ ذیل شہرت دوام رکھتی ہیں

  • الآثار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ
  • الفوائد البہيہ فی تراجم الحنفيہ
  • التعليقات السنيہ على الفوائد البہیہ
  • الافادة الخطيرة یہ ہیئت میں کتاب ہے
  • التحقيق العجيب (فقه)
  • الرفع والتكميل فی الجرح والتعديل - في رجال الحديث
  • ظفر الأماني في مختصر الجرجاني - في مصطلح الحديث
  • مجموعة الفتاوى دو جلدیں
  • نفع المفتي والسائل، بجمع متفرقات المسائل فقه
  • التعليق الممجد - على موطأ الإمام محمد الشيباني
  • فرحة المدرسين بأسماء المؤلفات والمؤلفين -
  • طرب الأماثل بتراجم الأفاضل
  • إنباء الخلان بأنباء علما هندستان[3]

حوالہ  جات[ترمیم]

  1. Gheebat Kya Hai By Shaykh Abdul Hayy Lakhnavi (r.a) | Kitab -o- Sunnat
  2. Maulana Abdul Hayy Lucknawi | HaqIslam
  3. موسوعہ فقہیہ ،جلد10 صفحہ 376، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا