مندرجات کا رخ کریں

عبد الرءوف محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عبد الرءوف محمد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1959ء (عمر 66–67 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سرکاری ملازم   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد الرءوف محمد (انگریزی: Abdul Rauf Mohammad) (پیدائش: 1959) [1]ایک افغان نژاد سابقہ عبوری وزیر ہیں جنھوں نے طالبان حکومت کے دوران 1996 سے 1999 کے درمیان وقفے وقفے سے وزیر صحت کے طور پر خدمات انجام دیں۔[2] وہ 2000 سے 2014 تک ناروے میں مقیم رہے، جہاں سے بعد میں انھیں ملک بدر کر دیا گیا۔[3][4]

طالبان کے ساتھ وابستگی

[ترمیم]

عبد الرءوف نے 1978 میں افغانستان سے پاکستان ہجرت کی، جہاں انھوں نے اسلامی قانون میں تعلیم حاصل کی۔[2] 1985 میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین میں شمولیت اختیار کی اور 1991 تک لڑتے رہے۔[2] 1996 میں ملا عمر کو طالبان کا سربراہ چُننے والے اجلاس میں شریک رہے اور اسی دوران طالبان میں شامل ہو گئے۔ 1996–1999 تک عبوری وزیر صحت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اسامہ بن لادن سے کئی بار ملاقات کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔[2]

ناروے میں قیام

[ترمیم]

2000 میں انھوں نے اقوام متغدہ کے ذیلی ادارے کے ذریعے پناہ لی اور اپنے خاندان کے ساتھ ناروے آ گئے۔[2] انھوں نے ڈرامین شہر میں مسجد قائم کی اور بس ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔[1][5] 2009 میں ان کے حلقے سے وابستہ 25 نوجوانوں کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں نگرانی میں رکھا گیا، جس میں سے کچھ عرصہ بعد یہ نوجوان لوگ ایک اہل حدیث ادارہ Profetens Ummah (نبی کی امت) سے وابستہ ہو گئے۔[2][6]ان کے آٹھ بچے ہیں۔n.[1]

انھوں نے انٹرنیٹ پر جہاد کی حمایت میں ویڈیوز جاری کیں اور خود کو "اسلامسٹ" کہلوانے پر فخر ظاہر کیا۔[7] 2008 میں انھیں اپنی بیٹی پر تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے جرم میں 120 دن کی قید کاٹی۔[2]

2011 میں انھیں قومی مفادات کے تحت ناروے سے نکلنے کا حکم دیا گیا اور 2014 میں خفیہ طور پر ملک بدر کر دیا گیا۔[2]

قانونی کارروائیاں

[ترمیم]

2015 میں انھوں نے ناروے کی حکومت پر مقدمہ کیا تاکہ دوبارہ داخلہ حاصل کر سکیں، مگر مقدمہ ہار گئے۔ [8][9]ان کے اہل خانہ اب بھی ناروے میں مقیم ہیں۔[5] نارویجن سپریم کورٹ نے 2016 میں ان کی ملک بدری کے فیصلے کو برقرار رکھا۔[10]


جرمنی میں سیاسی پناہ کی کوشش

[ترمیم]

2016 میں Der Spiegel کے مطابق انھوں نے جعلی سفری دستاویزات پر جرمنی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پناہ کی درخواست مسترد کر دی گئی اور انھیں افغانستان واپس بھیج دیا گیا۔[3]

خلاصہ

[ترمیم]

عبد الرءوف محمد ایک افغان نژاد سابق عبوری وزیر ہیں جنھوں نے 1996 سے 1999 کے دوران طالبان حکومت میں وقفے وقفے سے وزیر صحت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1978 میں افغانستان سے پاکستان ہجرت کر گئے تھے، جہاں انھوں نے اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں 1985 سے 1991 تک سوویت یونین کے خلاف مجاہدین میں بھی لڑے۔ ملا عمر کو طالبان کا سربراہ منتخب کرنے والے اجلاس میں شریک ہونے کے بعد وہ طالبان میں شامل ہوئے اور وزیر کے طور پر کام کیا۔ اُن پر اسامہ بن لادن سے کئی بار ملاقاتوں کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ 2000 میں انھوں نے اقوام متحدہ کے توسط سے ناروے میں پناہ لی، جہاں وہ ایک مسجد قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بس ڈرائیور کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔ تاہم، اُن پر بنیاد پرستی پھیلانے، جہاد کی حمایت میں ویڈیوز جاری کرنے اور انتہا پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی سرپرستی جیسے الزامات لگے۔ 2008 میں انھیں بیٹی پر تشدد کے الزام میں قید کی سزا بھی ہوئی۔ 2011 میں نارویجن حکومت نے قومی سلامتی کے مفاد میں انھیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا، جس پر 2014 میں عمل ہوا۔ ان کی دوبارہ داخلے کی کوششیں، بشمول قانونی چارہ جوئی، ناکام رہیں اور ناروے کی سپریم کورٹ نے ان کی ملک بدری کو برقرار رکھا۔ 2016 میں وہ جعلی دستاویزات کے ساتھ جرمنی میں داخل ہونے کی کوشش میں بھی ناکام رہے اور افغانستان واپس بھیج دیے گئے، جبکہ ان کے اہل خانہ اب بھی ناروے میں مقیم ہیں۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 "Eks-Taliban-minister (51) fra Drammen kastes ut av landet". Drammens Tidende (بزبان ناروی). 15 Apr 2011.
  2. 1 2 3 4 5 6 7 8 "Taliban-minister kastet ut av Norge i hemmelighet" (بزبان ناروی). NRK. 5 Aug 2014.
  3. 1 2
  4. ↑
  5. 1 2 "Tidligere Taliban-minister vil tilbake til Norge". Aftenposten (بزبان ناروی). 25 Feb 2015.
  6. ↑ "Talibanminister kastet ut av Norge" (بزبان ناروی). TV 2. 5 Aug 2014.
  7. ↑ "Her er de 30 mest ekstreme islamistene i Norge". Dagbladet (بزبان ناروی). 2 Nov 2013.
  8. ↑ "- Det har vært mye ut og inn av hemmelige rom". Dagbladet (بزبان ناروی). 27 Feb 2015.
  9. ↑ "Eks-talibanminister vil til Norge" (بزبان ناروی). NRK. 20 Mar 2015.
  10. ↑ "Taliban-minister fikk avslag på å komme inn igjen i Norge"۔ 20 جون 2016
  1. Matthias Gebauer; Christoph Schult; Wolf Wiedmann-Schmidt (16 Dec 2016). "Taliban-Minister beantragte in Deutschland Asyl" [Taliban minister requested asylum in Germany] (بزبان جرمن). Der Spiegel. Retrieved 2016-12-16. Vor wenigen Wochen landete nach SPIEGEL-Informationen ein Mann mit einer Lufthansa-Maschine aus der saudischen Hauptstadt Riad in Frankfurt am Main. Er versuchte, mit einem gefälschten Pass die Grenzkontrolle zu passieren. Als der falsche Ausweis aufflog, beantragte er für sich und seine Familie Asyl.
  2. "High-ranking Taliban member sought asylum in Germany"۔ برلن: Fox News۔ 16 دسمبر 2016۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-12-16۔ The magazine reported Friday that Abdul Rauf Mohammad, who was the Taliban's health minister in Afghanistan during the late 1990s, arrived in Frankfurt from Saudi Arabia several weeks ago.