عبد الرؤف اصغر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مفتی عبد الروف اصغر
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1977ء (عمر 42 سال)
بہاولپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت پاکستان
مذہب اسلام
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ سپریم کمانڈر
تنظیم جیش محمد
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

جیش محمد کا سپریم کمانڈر، افغانستان میں شمالی اتحاد کے خلاف جنگ کے دوران احمد شاہ مسعود کے محاصرے سے بچ کر نکلنے والا دہشت گرد، امریکا،انڈیا اور اسرائیل کے خلاف سینکڑوں کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ،جیش محمد کے چیف مسعود اظہر کا چھوٹا بھائی،انڈین طیارے کی ہائی جیکنگ میں ملوث اور بھارت کو انتہائی مطلوب یہ بھائی کے نام سے جانا جاتا ہے اور کشمیر میں اس کی شدت پسندانہ کارروائیاں عروج پر ہیں۔ ہر وقت اپنی جیب میں خطرناک اور قیمتی اسلحہ رکھتا ہے،افغانستان اور کشمیر وغیرہ میں سینکڑوں فدائین اس کے بھیجے ہوئے اور تربیت یافتہ ہیں۔ پاکستان کے شہر راواپنڈی میں ایک بار یہی عبد الروف جب پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوا تو پولیس انچارج راجا ثقلین نے تفشیش کے دوران پتا لگایا کہ اس کے تعلقات 9/11 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ہونے والے حملے کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ اور پاکستان سے گرفتار کی گئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے قریبی تعلقات ہیں۔ قیمتی گھڑیوں،مہنگے اسلحہ کا شوقین اور قیمتی ترین گھوڑوں کے اصطبل کا مالک یہ شخص اس وقت دنیا کے مطلوب ترین افراد میں سے ایک ہے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مفتی عبد الرؤف نامی یہ شخص پاکستان کی شہر صحرائی شہر بہاولپور میں سن 1977ء میں پیدا ہوا۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔ وہ ایک سرائیکی ہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد سے افغانستان چلا گیا اور وہاں ملا عمر کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر شمالی اتحاد کے خلاف گوریلا جنگ لڑی۔ یہ ان مجاہدین میں شامل ہے جو احمد شاہ مسعود کے سخت حصار سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ جلال آباد سے کر کابل تک کی تمام جنگوں میں شریک رہنے والا مفتی اب ایک دہشت گرد کے روپ میں پاکستان میں موجود ہے۔

پہلی بار پر منظر عام پر[ترمیم]

مفتی عبد الروف کا نام پہلی بار اس وقت منظر عام پر آیا جب 1999ء میں انڈین طیارہ ہائی جیک ہوا۔ بھارت نے اسے ہائی جیکنگ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جس کے متیجے میں اس نے اپنے بڑے بھائی مسعود اظہر کو چند ساتھیوں کی مدد کے ساتھ بھارت کی قید سے چھڑوا لیا۔

دہشت پسندانہ کارروائیوں میں ملوث[ترمیم]

نومبر 2001ء بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، جس کی وجہ سے پاکستان میں جیش محمد کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور چیف مسعود ازہر کو زیر حراست لے لیا گیا۔ اس دوران کمان سنبھالنے سامنے آیا مفتی عبد الروف جو چیف مسعود اظہر کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس نے ان کارروایئوں کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا اور کشمیر کی طرفداری کرتے ہوئے بھارت پر جارحانہ تنقید کی۔ اسے مزید ایسیے حملوں کے لیے تیار رہنے کا کہا۔ جس پر بھارت نے اسے دہشت گرد قرار دے دیا۔ اس نے اس پر رد عمل کے طور پر کشمیر و افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز سے تیز کر دیا۔ اس کے تیار کردہ فدائین نے افغانستان میں امریکی افواج کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ اس نے اپنے نا معلوم مقام پر موجود ٹریننگ سینٹروں میں ہزاروں فدائین تیار کیے جو اس اپنی جان دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر کے چند ایک مطلوب ترین افراد اس کا حصار کیے رہتے ہیں ایک پل کے لیے بھی اسے اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے۔ اس کے ساتھی امریکن سٹین گنوں اور قیمتی ہتھیاروں کا بے تحاشا استعمال کرتے ہیں۔

جیش محمد کے دھڑے ہونے کے بعد[ترمیم]

2003 میں جب جیش محمد کا چیف غائب تھا تو اس کے کچھ قریبی ساتھیوں نے اس سے غداری کی اور الگ ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں دو مشہور نام بھی شامل تھے۔کمانڈر عبد الجبار اور عبد اللہ شاہ مظہر۔ انہوں نے ایک اور نام سے اپنی علاحدہ جماعت کھڑی کی جو تحریک غلبہ اسلام کے نام سے جانی جاتی ہے۔ عبد الروف جو اس وقت تک ایک ماسٹر مائنڈ ہتھیارے کا روپ دھار چکا تھا نے اس علیحدگی کو لے کر دل برداشتہ ھوا اس وقت اک لڑائی جب کراچی کی بطحاء نامی ایک مسجد میں ان دونوں گروہوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا فائرنگ کی ابتدا کمانڈرعبدالجبارکی طرف سے ھوئ اور مقدمہ چلا۔ تب سے لے کر اب تک عبد الروف اورعبدالجبارنامی یہ دہشت پسند اشخاص اپنے مکمل ٹرینڈ ساتھیوں کے ساتھ ایک دوسرے پیچھے ہے اور مسلسل ایک دوسرے کو اپنی غضب ناکی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

قیمتی ترین چیزوں کا شوقین[ترمیم]

مفتی عبد الروف نامی یہ شخص جو اس وقت جیش محمد نامی تنظیم کا سپریم کمانڈر ہے، قیمتی مہنگے جدید ترین پسٹلز کا شوقین ہے۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ایک بار اسے پاکستانی سرکار نے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے لاکھوں روپے مالییت کی امریکن میڈ پسٹلز اور گنیں بر آمد ہوئی۔ س کے پاس کئی کروڑ مالیت کی ایک رنگ اور ایک ہی نمبر پلیٹ کی گاڑیاں ہر وقت تیار کھڑی رہتی ہیں۔

بیرون ملک تک رسائی[ترمیم]

2011 کے بمبئی حملوں میں مفتی عبد الروف کا نام بھی لیا جاتا رہا لیکن یہ کسی قسم کے مخالف ایکشن سے بچا لیا اور بدلے میں دھر لیا گیا اس کے ساتھیوں کو جو اب بھی انڈیا کی جیل میں قید ہیں۔ اس کی رسائی انڈیا، کشمیر،افغانستان، بنگلہ دیش، نیپال کے ملکوں تک ہے۔ یہ جب چاہتا ہے اپنے ساتھیوں کو جعلی پاسپورٹ پر تخریب کاری کے لیے باہر بھجوا دیتا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ یہ شخص جعلی پاسپورٹوں کی تیاری میں خصوصی مہارت رکھتا ہے۔ اور اآج تک اسے رنگے ہاتھوں بے نقاب نہیں کیا جا سکا۔

بیرون ملک گرفتاری کا انکشاف[ترمیم]

14-04-2011 کو چلی کے حکام نے دعوا کیا کہ انہوں نے مشہور دہشت گرد مفتی عبد الروف جو 1999 کی ایڈین ائیر لائن کی ہائی جیکنگ کا ماستر مائنڈ رہ چکا ہے کو گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے جس صخص کو گرفتار کیا وہ عبد الروف نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے۔

مطلوب ترین افراد میں شامل[ترمیم]

مفتی عبد الروف نام کا یہ شخص دنیا کے چند مطلوب ترین افراد میں شامل ہے۔ اس پر انڈین طیارہ ہائی جیکنگ، انڈین پارلیمنٹ پر حملہ، کشمیر و افغانستان میں سیکنڑوں کارروایئوں میں ملوث یہ شخص آج بھی اطلاعات کے مطابق زندہ ہے اور اپنے مخالفین کے لیے دہشت کا نشان بنا ہوا ہے۔

پرویز مشرف پر حملہ کا ماسٹر مائنڈ[ترمیم]

انڈین خبر رساں ایجنسی سٹار نیوز کے مطابق عبد الروف نے 2003 اور 2007 میں فوجی آمر اور اس وقت کے صدر پاکستان پرویز مشرف پر دہشت گرد حملے کرائے۔ جس میں پرویز مشرف بال بال بچے اور دونوں حملے ناکام ثابت ہوئے۔ ان حملوں کے بعد عبد الروف کو پاکستانی ایجنسیوں نے گرفتار کر لیا۔ لیکن پراسرار طور پر عبد الروف ان کی گرفت سے بچ نکلا اور فرار ہو گیا۔ اب تک کی موصولہ اطلاعات کے مطابق اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا۔[1][2]

برطانیہ پر سب سے بڑا اٹیک 7/7[ترمیم]

سات جولائی دو ہزار پانچ کو لندن یکے بعد دیگرے خود کش دھماکے ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 52 افراد قتل اور 1200 سے زائد تعداد زخمی ہوئی۔ یاد رہے یہ حملہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے پہلا خود کش حملہ تھا۔2005ء میں لندن میں ہونے والے خود کش حملوں کی تحقیقات کرنے والے برطانوی خفیہ اداروں نے حکومت پاکستان کو بتایا کہ چار خودکش بمباروں میں سے دو شہزاد تنویر اور صدیق خان نے فیصل آباد میں جیش محمد کے خود کش ٹرینر اسامہ نذیر سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ان کی ایک اور شخص سے بھی انتہائی خفیہ ملاقات ہوئی جو آج تک منظر عام پر نہ آ سکی۔ ان دونوں بمباروں سے ملاقات کرنے والا کوئی اور نہیں مفتی عبد الروف تھا۔ اس نے پاکستان میں بیٹھ کر برطانیہ میں ہونے والے حملے کی فول پروف پلاننگ کی۔ برطانوی خفیہ اداروں نے اپنی رپورٹس میں کئی بار جیش محمد کا تعلق 7/7 دھماکوں سے بتایا ہے۔

حالیہ کشمیر میں اٹیک 26/09/2013[ترمیم]

جب بھی پاکستان اور اں ڈیا کے درمیان بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے اور امن کا کوئی راستہ دکھائی دینے لگتا ہے تو اسی وقت دہشت کا ایک نیا روپ انگڑائی لے کر بیدار ہوتا ہے۔ یہی کچھ 26 تاریخ کو کشمیر میں ہوا۔ بی بی سی کے مطابق سرینگر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق سرینگر میں مسلح افراد کی جانب سے تین شرپسندوں کی طرف سے فوجی چھاونی پر ہونے والے حملے میں6فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ اس حملے سے پہلے سرینگر کے سامبا سیکٹر کے پولیس اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں 4پولیس اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ان حملوں میں 2عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اور اس کے بعد کئی گھنٹوں کی مسلسل جنگ کے بعد تینوں حملہ آوروں کو مار گرایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ کارروائی پاکستان اور بھارت کے وزرائ اعظم کی آپس میں بات چیت سے کچھ پہلے ہی کی گئی تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات کشیدہ ہوں۔ اور ایسا ہی کارگل کے موقع پر بھی ہوا جس کی وجہ سے دونوں اطراف کی افواج آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ مشہور جہادی تنظیم جیش محمد کی طرف سے کیا گیا۔ تاکہ افضل گورو کی موت کا بدلہ لیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے بھی دہشت گرد عبد الروف اصغر کا ہاتھ ہے۔ وہ ایسے حملوں کا ماہر مانا جاتا ہے۔ اس حملے کے بعد عبد الروف اصغر کا اصل چہرہ اور بھی خوفناک ہو گیا ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ انڈیا کے خلاف اپنے ساتھیوں کی مدد سے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے اور کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔ دہشت کے اس روپ کو کیا کوئی روک پائے گا؟اس سوال کا جواب تاحال کسی کے پاس نہیں[3][4]

کشمیر کے انتخابات اور جیش محمد کا موقف[ترمیم]

انڈیا کے زیر تسلط جموں کشمیر میں انتخابات کا جیسے ہی فیصلہ ہوا تو جیش محمد کا یہ مفتی عبد الروف ایک بار پھر متحرک ہو گیا۔ اس کی جماعت جیش محمدنے اعلان کیا کہ وہ ان انتخابات کا سختی سے بائیکاٹ کرے گا اور اس کے لیے اس سے جو بن پڑا وہ کر گزریں گے۔ اپنے اس موقف کا اس جماعت نے کشمیر میں اس نے بڑی آزادی سے پرچار کیا۔ بڑے بڑے پوسٹر کشمیر کی اہم شاہراہوں پر لگائے گئے۔ جس میں واضح طور پر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان درج تھا۔ لیکن جب انڈیا حکومت کسی صورت انتخابات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوئی توجیش محمد نے آتنک کا سہارا لیا اور پے درپے انڈین فوج پر حملے شروع کر دیے۔

اوڑی میں دہشت کا ایک نیا انداز[ترمیم]

اوڑی میں چھ سے زائد آتنک وادیوں نے دریائے جہلم کنارے فوج کی31فیلڈ آرڈی نینس کے کیمپ پر اچانک یلغار کر دی،خونریز جھڑپ12گھنٹے جاری رہی،ہر طرف خون آلود لاشیں بکھر گئیں۔ تین آتنک وادیوں نے کیمپ کے اندر داخل ہوکرگولیوں اور یو بی جی ایل لانچرز کا بھرپور استعمال کیا، کیمپ میں افراتفری پھیل گئی، گولہ باری کے دوران زوردار دھماکوں سے نزدیکی بستیاں لرز اٹھیں،عینی شاہدین کے نزدیک یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بھارتی افواج بوکھلا گئی۔ جس کے نتیجے میں رجمنٹ کے ٹو آئی سی لیفٹنٹ کرنل سنکلپ کمار سمیت 5اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ تین پولیس اہلکار بھی گولیوں کی زد میں آکر مارے گئے۔ جھڑپ کے دوران فوج کی ایک بارک بھی خاکستر ہو گئی۔ پولیس نے بتایا کہ اس جھڑپ میں مجموعی طور پر22اہلکار ہلاک ہو گئے جن میں لیفٹنٹ کرنل اور ایک جے سی او سمیت فوج کے 8اہلکاراور جموں کشمیر پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت3اہلکار شامل ہیں جن کی شناخت کی جا رہی ہے۔ تحقیق کے بعد پتا چلا کہ اس حملے میں مفتی عبد الروف کے قریبی ساتھی ملوث تھے۔

افضل گورو کا بدلہ[ترمیم]

پاکستان کی راج دھانی میں موجود کشمیر کے علاقے مظفر آباد میں جیش محمد نے اعلان کیا تھا کہ وہ انڈیا کی جیل میں پھانسی پانے والے افضل گورو کی موت کا بدلہ لے گا۔ اور اس کے لیے اس کے پاس تین سو سے کچھ اوپر فدائی کارکنوں کا جتھہ موجود ہے۔ جو وقتا فوقتا بدلہ لے گا۔ اسی بدلے کی آگ کو لے کر مفتی عبد الروف مسلسل اپنے ساتھیوں کو کسی طرح سرینگر بھجوانے کے لیے کوششوں میں لگا ہوا تھا۔ تاکہ وہ افضل گورو کی موت کے بدلے کے ساتھ ساتھ انتخابات کو بھی سبوتاژ کر سکے۔ اس نے یکے بعد دیگرے چھ جگہ کارروائی کی۔ جس میں اس کے دس سے زیادہ ساتھی مارے گئے اور بھارتی فوج کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ جیش محمدنے صرف اسی پر بس نہیں کی۔ وہ افضل گورو کی موت کا بدلہ ہر انڈین فوجی سے لینا چاہتے ہے۔ یاد رہے یہ حالیہ کارروائیاں تب کی گئیں جب انڈین پرائم منسٹر مودی کشمیر آنے والے تھے۔ انتخابات کے لیے جب وہ کشمیرآئے تو پورے سرینگر کو چھاونی میں بدل دیا گیا۔ خوف کی یہی فضا مفتی عبد الروف کی جیش محمد پیدا کرنا چاہتی تھی جس میں وہ کامیاب رہے۔ اب آتنک کا یہ روپ کس منظر میں سامنے آتا ہے ابھی یہ دیکھنا باقی ہے۔

کھٹوعہ اور سامبا میں آتنک واد کا بڑا حملہ[ترمیم]

ایک بار پھر کشمیر وادی آتنک وادیوں کے حملے سے گونج اٹھی۔ 20 مارچ 2015 کو کشمیر کے علاقے کھٹوعہ میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ ہو گیا۔ بی بی سی کی اس بارے میں ایک رپورٹ : بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں مسلح افراد نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا ہے اور وہاں پر فوج اور پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران کم از کم دو اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ حملہ پاکستان سے متصل بھارتی سرحد کے قریب واقع ضلع کٹھوعہ کے راج باغ پولیس تھانے پر جمعے کی صبح ہوا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کی تعداد تین سے چار تھی اور وہ جدید اسلحے اور گولہ بارود سے لیس تھے۔ ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا: ’انھوں نے پہلے پولیس تھانے کے باہر نیم فوجی اہلکاروں کی حفاظتی چوکی پر حملہ کیا جس میں کئی نیم فوجی اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ بعد میں انھوں نے کئی دستی بم پھینکے اور تھانے کی عمارت میں کئی مقامات پر پوزیشن سنبھال لی۔‘ سات گھنٹے جاری رہنے والے تصادم کے بعد حکومت نے کہا ہے کہ دو مسلح حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ جموں پولیس کے سربراہ کے راجندر نے بتایا کہ دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا ہے، تاہم جائے واردات کے گرد و نواح میں تلاشی کی مہم جاری ہے اور اس مقصد کے لیے کٹھوعہ اور پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کے درمیان سڑک بند کر دی گئی ہے۔ سرکاری طور پر اس کارروائی میں دو سکیورٹی اہلکاروں اور ایک نامعلوم شخص کے ہلاک ہونے کی بھی تصدیق کی گئی ہے جبکہ زخمیوں میں سی آر پی ایف کے سات جوان، ایک پولیس اہلکار اور ایک عام شہری شامل ہیں۔ جموں میں جاری کشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران نائب وزیراعلی نرمل سنگھ نے بتایا: ’دو اہلکار اور دو حملہ آور مارے گئے۔ ایک اور شخص فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا لیکن یہ ابھی تک معلوم نہیں کہ وہ عام شہری تھا یا فورسز کا اہلکار۔‘ حکومت کے اس بیان پر حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے اراکین نے احتجاج کیا اور رکن اسمبلی علی محمد ساگر نے کہا: ’لوگ مر رہے ہیں اور حکومت کے پاس صحیح معلومات بھی نہیں ہیں۔‘ ابھی اس حملے کی گونج ختم ہی نہ ہوئی تھی کہ اگلے روز 21 مارچ 2015 کو پھر حملہ ہو گیا اس بار نشانہ بنا ایک آرمی کیمپ جو سامبا میں واقع ہے۔ دو روز میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے سرحدی اضلاع میں مسلسل دوسرا حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں بھی آرمی کا بے حد نقصان ہوا ہے۔ اس حملے کی تفصلات بھی بی بی سی پر موجود ہیں۔ تحقیقات کے بعد انڈین انٹیلی جنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ دونوں حملے جیش محمد کی طرف سے کیے گئے ہیں۔ جیش محمد جموں و کشمیر میں ایک بار پھر متحرک ہو گئی ہے۔ یہ دونوں حملے فدائی طرز کے تھے جس سے پتا چلتا ہے کہ جیش محمد افضل گورو کا انتقام لینے میں سنجیدہ ہے۔ انتہائی سخت اور کڑے پہرے والے علاقوں میں اس طرح کی فدائی کارروائی انڈین ایجنسیوں کے ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس پر بحث و مباحثہ جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کھٹوعہ پولیس اسٹیشن پر سات گھنٹے تک انڈین فورسز سے لڑنے والا عبد الروف کا قریبی ساتھی اور اس کا ٹریننگ یافتہ تھا۔

دہلی میں ہائی الرٹ[ترمیم]

انہی حملوں کی وجہ سے انڈین ایجنسیاں مسلسل تحقیقات کر رہیں تھیں۔ کیونکہ جیش محمد ایک بار پھر خطرناک روپ میں سامنے آ رہی تھی۔ تحقیقات کے نتیجے میں انڈین ایجنسیوں کے ہاتھ ایک خط لگا جو کشمیر کے حالیہ اٹیک کے دوران ایک آتنک وادی کی جیب سے برآمد ہوا۔ اس رقعہ میں افضل گورو کو خراج تحسین پیش کیا گیا تھا اور اس کی پھانسی کے بدلے کے طور پر جلد دہلی میں بھی حملہ کرنے کے بارے میں ذکر تھا۔ اس خط کے نیچے عبد الروف کے دستخط بھی موجود تھے۔ یہ جیش محمد اور اس کے کمانڈر عبد الروف کی طرف سے دہلی سرکار کو دی جانے والی واضح ترین دھمکی تھی۔ اسی خط کو لے کر بالاخر 6 اپریل 2015 کو پورے دہلی میں باقاعدہ ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ انٹیلی جنس کی رپورٹ کے مطابق جیش محمد کے فدائین دہلی کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹ آتے ہی حکومتی ایوانوں میں ہلچل شروع ہو گئی اور ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ ہوائی اڈوں،بندرگاہوں،لوکل بس اڈوں،رہائشی علاقوں اور ہوٹلوں میں چھان بین کا وسیع عمل شروع کر دیا ہے۔ شہر کی بڑی اور اہم عمارتوں پر سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ سخت چیکنگ اور جگہ جگہ ناکہ بندی کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پٹھان کوٹ بیس پر خوفناک حملہ[ترمیم]

بھارت کو ایک اور خوفناک آتنکی حملہ کا سامنا ہوا۔ یہ حملہ پورے طور پر انڈین سیکیورٹی ایجنسیوں اور خفیہ اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ حملہ بھارتی پارلیمنٹ کے حملے سے زیادہ خوفناک تھا۔ پٹھان کوٹ بھارتی پنجاب میں ایک میونسپل کارپوریشن ہے۔ یہ ضلع پٹھان کوٹ کا صدر مقام بھی ہے۔ 1849ءسے قبل یہ نوابی ریاست نورپور کا ایک حصہ تھا۔ پٹھان کوٹ آبادی کے لحاظ سے پنجاب کا پانچواں بڑا اور بھارت کو جموں و کشمیر کے ساتھ جوڑنے والی نیشنل ہائی وے پر پنجاب کا آخری شہر ہے۔ اِس شہر سے مقبوضہ کشمیر کو جانے والی شاہراہ پر دہلی سے 430 کلو میٹر شمال میں بھارتی فضائیہ کا ایئر بیس موجود ہے۔ اس ایئر بیس پر سال 2016 کے پہلے دن ہی پاکستانی دہشت گردوں نے جو تعداد میں پانچ تھے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ایسے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے کیا جن کا مقابلہ کرنا بیس کے فورس کے بس کی بات نہیں تھی۔ دہشت گردوں نے بیس میں داخل ہو کر حساس مقامات کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور پاکستان میں بیٹھے جیش محمد کے چیف مسعود اظہر اور کمانڈر عبد الروف سے مسلسل رابطہ جاری رکھا اور کمانڈز لیتے رہے یہ بات باقاعدہ ریکارڈ پر ہے۔ دہشت گردوں کی مسلسل گولہ باری سے ابتدائی طور پر بھارتی ایئر فورس کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع ملی جب کہ فورسز کی جوابی کارروائی سے پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ لیکن یہ غلط اطلاع تھی ابھی ایک دہشت گرد باقی تھا۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو سرچ آپریشن کے دوران پٹھانکوٹ ایئر بیس پر دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں، سرچ آپریشن کے دوران گرنیڈ دھماکے سے ایک لیفٹیننٹ کرنل ہلاک اور تین سپاہی زخمی ہو گئے۔ ذراِئع کے مطابق حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر لیفٹیننٹ کرنل سمیت گیارہ بھارتی فوجی ہلاک اور 18زخمی ہوئے ہیں۔ پٹھانکوٹ ایئر بیس حملے کے بعد نئی دہلی سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔ چار دن رہنے والے اس خوفناک حملے نے بھارتی فورسز کی ٹریننگ اور بہادری کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ انڈین حکام اس بات پر حیران رہے کہ کیسے فول پروف پلاننگ ہوئی اور ایسے ملکی حساس مقام پر چار دن تک جاری رہنے والی لڑائی میں نقصان کس کا ہوا؟ جب یہ طوفان تھما اور سیکورٹی ایجنسیوں نے پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ اس حملے کے پیچھے ماسٹر مائنڈ عبد الروف ہے جو جیش کے چیف کا چھوٹا بھائی ہے۔ حملہ آوروں کی ٹریننگ اسی کے بنائے ایک خصوصی ٹریننگ سنٹر میں ہوئی جو پاکستان پنجاب کے ایک شہر ساہیوال کے آس پاس ہے۔ انڈین حکومت نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ مولانا مسعود اظہر اور ان کے بھائی عبد الرؤف سے پوچھ گچھ کرنا چاہتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ان کے ریڈ کارنر وارنٹ بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ لیکن تاحال پٹھان کوٹ بیس کے حملے کا یہ ماسٹر مائنڈ دہشت گرد عبد الروف انڈیا بلکہ پاکستان کے اداروں کی پہنچ سے دور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ انڈیا پر ایک اور خوفناک حملے کی سازش رچ رہا ہے۔ یہ سازش کب اور کہاں ہو گی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انڈین خفیہ پولیس اہلکار کے مطابق عبد الروف کو انڈیا میں نیا داؤد ابراہیم کہا جا رہا ہے۔

مزار شریف افغانستان میں واقع بھارتی قونصلیٹ پر حملہ[ترمیم]

جیش کے دہشت گردوں نے انڈیا پر حملے کے بعد افغانستان میں اس کے سفارت خانے کو نشانہ بنایا۔ اس سفارت خانے پر حملے سے جیش محمد کی پلاننگ مزید کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ یہ ہندو دھرم کا سخت دشمن ہے اور دنیا میں جہاں کہیں بھی بھارت اپنے مفادات کے یے موجود ہو گا یہ وہاں ضرور پہنچے گا۔ ابھی پٹھان کوٹ حملے کی گونج تھمی بھی نہ تھی کہ افغانستان میں جیش کا ایک نیا روپ سامنے آیا۔ یہ ایک منظم حملہ تھا۔ تین سے چار جیش کے فدائی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے اور ساتھ والی عمارت میں گھس کر مسلسل قونصل خانے پر گولہ باری کرتے رہے۔ جس کے نتیجے میں بارہ افراد زخمی اور کچھ کی موت ہوئی۔ جوابی حملے سے چاروں دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا جب کچھ دن قبل انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے کابل اور پھر پاکستان کا مختصر دورہ کیا۔ اور ٹھیک ایک ماہ بعد جیش محمد کے فدائی جلال آباد افغانستان کو اپنے غیظ و غضب کا نشانہ بنا کر آتنکی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ ان کے پیچھے واضح طور پر ماسٹر مائنڈ عبد الروف کا ہاتھ ہے۔ اگر دیکھا جاے تو جیش اس وقت زیادہ حملے کرتی ہے جب نواز شریف اور مودی کے درمیان بات چیت کسی نتیجہ خیز موڑ پر پہنچتی ہے۔ عالمی طاقتوں کو اب یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جیش کا مولانا چیف اور اس کا کمانڈر عبد الروف کسی صورت پاکستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس لیے ان کے خلاف موثر کارروائی کی جانی چاہیے۔

حوالہ جات[ترمیم]