عبد الرحمن السمیط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد الرحمن السميط
(عربی میں: عبد الرحمن السميطخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اکتوبر 1947  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کویت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 اگست 2013 (66 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کویت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت کویتی
مذہب اسلام
عملی زندگی
تعليم باطنی امراض اور معدی مِعَوِی امراض طب [2]
مادر علمی بغداد یونیورسٹی، لیورپول یونیورسٹی، میک گل یونیورسٹی
پیشہ طبیب، داعئ اسلام
تنظیم کنگز کالج ہاسپٹل
اعزازات
شاہ فیصل ایوارڈ[3]
ویب سائٹ
ویب سائٹ [Direct-Aid.org]

عبد الرحمن بن حمود السميط (15 اكتوبر 194715 اگست 2013) دور حاضر کی عظیم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ کویت کے ایک رئیس گھرانے میں پیدا ہوئے۔ یہ بچپن سے ہی ملنسار، اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے والے رقیق القلب انسان تھے۔ انھوں نے دوسروں کی مدد کے لیے اپنے وطن میں عیش و عشرت کی زندگی کو چھوڑ کر افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں چلے گئے۔ اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ انہوں نے دعوت اسلامی اور یتیموں اور بے کسوں کی مدد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا۔

بعض کارنامے[ترمیم]

  • افریقا میں دعوت اسلامی کی تقریباً 29 سالہ مدت میں ان کے ہاتھوں 11.2 ملین سے زیادہ افراد نے اسلام قبول کیا۔
  • تقریباً 5700 مساجد تعمیر کروائے۔
  • تقریباً 15000 یتیموں کی کفالت کی۔
  • پینے کے پانی کے لیے تقریباً 9500 کنویں کھدوائے۔
  • 860 مدارس بنوائے۔
  • 4 جامعات قائم کئے۔
  • 204 اسلامی مراکز قائم کئے۔

ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سعودی عرب نے ان کو شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔

احوال زندگی[ترمیم]

افریقا میں دوران میں قیام ان پر کئی بار جان لیوا حملے بھی ہوئے۔ الحمد للہ وہ ان حملوں سے بچ نکلے۔ اور دعوتی سفر میں وہ موزمبیق اور کینیا وغیرہ کے جنگلات میں کئی بار جنگلی جانوروں کی زد میں آگئے۔ اور زہریلے سانپوں نے ان کو کئی بار ڈنک مارا ، لیکن اللہ نے ان کو بچالیا۔

آزمائشیں[ترمیم]

ان کو دوبار جیل جانا پڑا۔ پہلی بار 1970ء بغداد کی جیل میں رکھا گیا۔ اور قریب تھا کہ ان کو سزائے موت دی جاتی۔ لیکن اس بار بھی بچ گئے۔ دوسری بار 1990ء میں کویت اور عراق کے مابین جنگ کے دوران میں بھی انہیں گرفتار کیا گیا۔ اور شدید ترین اذیتوں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ ان کی پیشانی اور ہاتھ پیر سے گوشت نوچے گئے۔ اس سلسلے میں کبھی تذکرہ نکلتا تو وہ کہتے کہ مجھے اس وقت یقین تھا کہ موت صرف اسی وقت آئے گی جس وقت اللہ نے میری تقدیر میں لکھی ہوگی۔ وہ اپنے آبائی وطن کویت بہت کم ہی آتے تھے۔ بس رشتے داروں کی زیارت یا علاج کے لیے ہی آتے تھے۔

وفات[ترمیم]

کافی عرصے سے علیل چل رہے تھے۔ اور ایک بار تو ان کی وفات کی افواہ بھی اڑ گئی تھی۔ بالآخر یہ شخص 15 اگست 2013ء کو دنیا کے بہت سے یتیموں کو اور مسکینوں کو حقیقت میں یتیم کرکے اس فانی دنیا سے رخصت ہوا۔ کویت کے وقت کے مطابق صبح کے ساڑھے آٹھ بجے ان کی تدفین وتکفین ہوئی۔ اللہ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

حوالہ جات[ترمیم]