عبد الرحمن اوزاعی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرحمن اوزاعی
(عربی میں: عبد الرحمن الأوزاعي ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخطيط اسم الأوزاعي.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 707  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بعلبک[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 774 (66–67 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بیروت[2]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات اختناق  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
عملی زندگی
استاذ عطاء بن ابی رباح، محمد باقر، قتادہ بن دعامہ، ابن شہاب زہری، مالک بن انس، ابراہیم بن ابی عبلہ  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص سفیان ثوری، مالک بن انس، عبد اللہ ابن مبارک  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فقیہ، الٰہیات دان، فلسفی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

بیروت، شام، مراکش اور اندلس کے امام عالی مقام الامام الحافظ ابو عمرو عبد الرحمن بن عمرو بن یُحمد اوزاعی ایک مشہور و معروف محدث تھے اور اپنے زمانے میں اہل شام کے امام ہوا کرتے تھےـ موجودہ زمانے میں شہر لبنان میں ان کے القاب میں ایک لقب "امام العیش المشترک" کا اضافہ کیا جاتا ہے، کیونکہ یہود و نصاری کے تعلق سے ان کا موقف نہایت نرمی پر مبنی ہوا کرتا تھاـ اسی طرح ان کا ایک دوسرا لقب "شفیع النصاری" بھی مشہور ہے، اس لقب کا پس منظر یہ ہے کہ ایک دفعہ جبل لبنان کے رہنے والے مسیحیوں کے گروہ نے بغاوت کردی اور اطاعت سے منہ پھیر لیا، لہذا شام کے والی اور عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دونوں نے جبل لبنان میں رہنے والی مسیحیوں کو شہر بدر کرنے کا عزم کیا، تو امام اوزاعی فرمان خلافت کے سامنے مضبوطی سے ڈٹ گئے اور ان کو انصاف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ٹکڑے کی بغاوت کے سبب پوری جماعت کو سزا دینا بالکل درست نہیں ہے، ان کے اس فیصلے کو دیکھتے ہوئے فرمان شاہی واپس لے لی گئی اور جبل لبنان کے رہائشی حکومت کی پکڑ سے بچ گئے اور انہوں نے امام اوزاعی کے احسان کو یاد رکھا۔[3]

راجح قول یہ ہے کہ امام اوزاعی کی پیدائش شہر بعلبک میں ہوئی، انہوں نے اپنے بچپن کے کچھ ایام کرک بقاعیہ نامی گاؤں میں فقر اور یتیمی کی حالت گزارے، پھر اپنی ماں کے ساتھ شہر بیروت کوچ کرگئےـ اس سے قبل وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ دمشق میں رہا کرتے تھے، انہوں نے حلب حماة، قنسرین اور دیگر کئی شہروں میں نقل مکانی کی ـ ان کو اوزاعی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ الاوزاع ایک یمنی حمیری قبیلہ تھا جو ذی الکلاع بن قحطان سے نکلا تھا، جس کے کچھ افراد دمشق میں باب الفرادیس کے قریب ٹھہرے، جس جگہ ان کا قیام تھا اس گاؤں کو "الاوزاع" کہا جاتا تھا، علما، فقہا اور مؤرخین نے امام اوزاعی کے والدماجد، والدہ ماجدہ اور ماموں وغیرہ کے بارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں لکھا جتنا امام صاحب نے خود بتایا ہے، مگر انہوں نے اشارہ کیا ہے کہ امام صاحب کے ایک چچابھی تھے اور یہ چیز ثابت شدہ ہے کہ امام نے ایک سے زیادہ مرتبہ شادیاں کی ہیں، ان کی تین بچیاں اور ایک بچہ تھا، ان کی بیٹیوں سے ان کے دو پوتے بھی ہوئے۔[4]

امام اوزاعی کی زندگی دو اہم سیاسی زمانوں میں گزری، لہذا انہوں نے دولت بنی امیہ کی بساط الٹتے اور دولت عباسیہ کو قائم ہوتے دیکھا، ان کے معاصر خلفاء میں؛ الولید بن عبدالملک، سلیمان بن عبد الملک، عمر بن عبد العزیز، یزید بن عبد الملک، ابراہیم بن الولید، مروان بن محمد، ابو العباس السفاح اور ابو جعفر منصور تھےـ امام اوزاعی کا زمانہ علم کی فراوانی اور علما، فقہا، قراء اور محدثین کی کثرت کا زمانہ تھا اس زمانے کی اہم شخصیات میں سے؛ مالک بن انس، جعفر الصادق، سفیان ثوری، حسن بصری، محمد بن سیرین، ابو حنیفہ، لیث بن سعد اور دیگر علما تھےـ امام اوازعی اپنے زمانے کے بہت سے علما سے علمی، فقہی اور جرأت میں فوقیت رکھتے تھے، انہوں نے مسائل فقہیہ کے تعلق سے تیرہ سال کی عمر سے ہی فتوی دینے شروع کردئے تھے اور سترہ سال کی عمر تک پہونچتے ہوئے مسائل عقائدیہ میں بھی فتوی دینے لگےـ امام اوزاعی اس اسلامی قاعدے "الرحلة فی طلب العلم" پر بہت مضبوطی سے ایمان رکھتے تھے، اسی سبب انہوں نے یمامہ، بصرہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس وغیرہ کا سفر کیا، کئی مرتبہ حج بیت اللہ کیا، یہی وجوہات تھیں کہ وہ علوم دینیہ و شرعیہ میں بہت گہرائی وگیرائی رکھتے تھے، امام اوزاعی نے اموی و عباسی دور میں دو بار قضا کا منصب ٹھکرایا، تو جب ان یزید بن ولید کے زمانے میں قاضی بنائے گئے تو صرف ایک دفعہ عدالت میں آئے پھر استعفی دے دیا، ان کا ایمان تھا کہ قضا کا منصب بہت اہم ذمہ داری ہے، کسی عام انسان کے لیے یہ ذمہ داری بہت مشکل ہے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. اجازت نامہ: CC0
  3. أحمد بن يحيى بن جابر بن داود البلاذريّ (1988م). فُتوح البُلدان، الجزء الثاني. بيروت - لُبنان: دار ومكتبة الهلال. صفحة 167.
  4. حسان علي حلاق (1431هـ - 2010م). موسوعة العائلات البيروتية: المُجلَّد الأوَّل (الطبعة الأولى). بيروت - لبنان: دار النهضة العربية. صفحة 51 - 52. ISBN 9786144021415.
  5. أبو زرعة الدمشقي، تحقيق: خليل المنصور (1417هـ - 1996م). تاريخ أبي زرعة الدمشقي (حديث رقم 2320) (الطبعة الأولى). بيروت - لبنان: دار الكتب العلمية.