عبد الرحمٰن الناصر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دیگر ہمنام لوگوں کے لیےاسی نام والے، دیکھیے عبد الرحمٰن۔
امیرالمومنین[1]
عبد الرحمٰن سوم
عبد الرحمٰن سوم اور اس کا کورٹ مدینہ الزہراء
عبد الرحمٰن سوم اور اس کا کورٹ مدینہ الزہراء

امیرالمومنین[1]
دور حکومت 16 جنوری 929 – 15 اکتوبر 961
تاج پوشی 16 جنوری 929 (aged 38)[2]
8وان امیر خلافت قرطبہ
دور 16 اکتوبر 912 – 16 جنوری 929
تاریخ تاج پوشی 17 اکتوبر 912 (عمر 21)[3]
معلومات شخصیت
اصل نام کنیت: ابو المعترف[4] (أبو المطرف)
لقب: ال نصیر Lideenillah[1] (الناصر لدين الله)
نسب: عبد الرحمٰن ابن محمد ابن عبد اللہ ابن محمد بن عبد الرحمان اوسط ابن [[پہلا خلیفہ دوم|پہلا خلیفہ ]] ابن الحکم ابن ہاشم ابن عبد الرحمٰن الداخل ابن معاویہ ابن ہشام بن عبدالملک ابن عبدالملک بن مروان ابن مروان بن حکم ابن الحکم ابن عبد العاص ابن امیہ بن عبد شمس[5][6]
پیدائش 7 جنوری 891(891-01-07)
قرطبہ[7]
وفات 15 اکتوبر 961(961-10-15) (عمر  70 سال)[4]
قرطبہ[8]
مدفن Alcázar of Córdoba[9]
مذہب اہل سنت (مالکی فقہ)[10]
زوجہ فاطمہ bint Al-Mundhir[11]
Marjan[12] or Murjan[13] (favorite)
والد محمد ابن عبد اللہ
والدہ منزہ (اصلی ماریہ؟)[1]
خاندان خلافت امویہ (Spanish branch)
House of Íñiguez
نسل ترتیب ولادت کے حساب سے بیٹے ابن حزم اندلسی:[11]
الحکم دوم (مرجان کا بیٹا)[13]
عبد العزیز
الاسباغ
عبید اللہ
عبد الجبار
عبد الملک
سلیمان
عبد اللہ
مروان
المنظر
ال موجیرا
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبدالرحمن الناصر (912ء تا 961ء)اندلس میں خلافت امویہ کا سب سے مشہور حکمران تھا جو عبدالرحمن الثالث اور عبدالرحمن اعظم کے ناموں سے بھی معروف ہے۔

وہ جب تخت پر بیٹھا تو ملک کی حالت بہت خراب تھی۔ ہر طرف بغاوتیں پھیلی ہوئی تھیں اور بادشاہ کا حکم قرطبہ سے باہر چلنا بند ہو گیا تھا۔ الناصر کی عمر اس وقت صرف 22 سال تھی لیکن اس کے باوجود اس نے ایسی قابلیت سے حکومت کی کہ دس پندرہ سال کے اندر ملک میں امن قائم کر دیا۔ اس نے نہ صرف اسلامی اندلس میں امن قائم کیا بلکہ شمال کے پہاڑوں میں قائم عیسائی ریاستوں کو بھی باجگزار بنا لیا۔

عبد الرحمن نے فوجی قوت کو بڑی ترقی دی۔ اس کی فوج تعداد ڈیڑھ لاکھ تھی۔اس کے دور میں بحری قوت میں بھی بہت اضافہ ہوا اور اندلس کے بحری بیڑے میں 200 جہاز شامل تھے جبکہ ساحلوں پر پچاس ہزار سپاہی ہر وقت حفاظت کے لیے موجود رہتے۔

اندلس کی اس قوت اور شان کو دیکھ کر یورپ کی حکومتوں نے عبدالرحمن اعظم سے تعلقات قائم کرنا چاہے چنانچہ بازنطینی سلطنت اور فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے اپنے سفراء اس کے دربار میں بھیجے۔ اندلس کے اموی حکمران اب تک "امیر" کہلاتے تھے اور انہوں نے خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا لیکن چوتھی صدی ہجری میں بغداد پر بنی بویہ کے قبضے کے بعد عباسی خلفاء بویہی حکمرانوں کے ماتحت ہوگئے تھے۔ عبدالرحمن نے جب دیکھا کہ خلافت میں جان نہیں رہی اور وہ ایک طاقتور حکمران بن گیا ہے تو اس نے امیر کا لقب چھوڑ کر اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد سے وہ اور اس کے جانشیں خلیفہ کہلانے لگے۔

عبد الرحمن صرف ایک طاقتور حکمران ہی نہ تھا بلکہ وہ بڑا لائق، عادل اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس کے زمانے میں حکومت کی آمدنی ایک کروڑ بیس لاکھ دینار تھی۔ اس میں سے ایک تہائی رقم وہ فوج پر خرچ کرتا تھا اور باقی کو وقت ضرورت پر کام آنے کے لیے خزانے میں جمع کر دیتا تھا۔

اس کے عدل و انصاف کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مرتبہ اس کے لڑکے نے بغاوت کی۔ جب وہ گرفتار کر کے لایا گیا تو عبد الرحمن نے اس کو موت کی سزا دی۔ اس پر ولی عہد نے اپنے بھائی کو معاف کر دینے کے لیے گڑ گڑا کر سفارش کی لیکن عبدالرحمن نے جواب دیا:

ایک باپ کی حیثیت سے میں اس کی موت پر ساری زندگی آنسو بہاؤں گا لیکن میں باپ کے علاوہ بادشاہ بھی ہوں۔ اگر باغیوں کے ساتھ رعایت کروں تو سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی

اس کے بعد اس کا لڑکا قتل کر دیا گیا۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود عبدالرحمن کی زندگی ایک بادشاہ کی زندگی تھی۔ ہم اس کا مقابلہ خلفائے راشدین یا عمر بن عبدالعزیز سے نہیں کر سکتے۔ نہ وہ نور الدین اور صلاح الدین کی طرح تھا اور نہ وہ اپنے خاندان کے ہشام کی طرح تھا۔ اس نے اپنی لونڈی زہرہ کے لیے قرطبہ کے نواح میں ایک بستی قائم کی جو مدینۃ الزہرہ کہلاتی ہے۔ اس پر اس نے کروڑوں روپیہ صرف کیا۔ اس کی تعمیر چالیس سال تک جاری رہی۔ اس میں شاہی خاندان کے امراء کے بڑے بڑے محل اور ملازمین کے لیے مکانات اور سرکاری دفاتر تھے۔ اس میں ایک چڑیا گھر بھی تھا جس میں طرح طرح کے جانور پھرا کرتے تھے اور شہر کے لوگ تفریح کے لیے یہاں آیا کرتے تھے۔

مدینۃ الزہرہ کے محلات کی تکمیل ہونے کے بعد لوگوں نے خلیفہ کو مبارک باد دی۔ جمعہ کا دن تھا مسجد میں سب نماز کے لیے جمع ہوئے۔ قاضی منذر نے خطبہ پڑھا اور اس خطے میں عبدالرحمن کی اس فضول خرچی کی مذمت کی اور برا بھلا کہا۔ قاضی منذر بہت دلیر تھے اور حق بات کہنے سے کبھی باز نہیں آتے تھے۔ عبدالرحمن بھی ایک عادل حکمران تھا اس لیے اس نے قاضی کی باتیں صبر سے سنیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ عبدالرحمن کے بعد اس کا بیٹا حکم ثانی تخت پر بیٹھا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

عبد الرحمٰن الناصر
ذیلی شاخ بنو قریش
پیشرو 
عبد اللہ ابن محمد
امارت قرطبہ
912–929
خلیفہ بنے
'
خلافت قرطبہ
929–961
جانشین 
الحکم دوم

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 Fletcher، Richard (2006) [First published 1992]۔ "Chapter 4: The Caliphate of Córdoba"۔ Moorish Spain (اشاعت 2nd)۔ Berkeley, California: University of California Press۔ صفحات 53–54۔ آئی ایس بی این 978-0-520-24840-3۔ 
  2. Wasserstein، David (1993)۔ The Caliphate in the West: An Islamic Political Institution in the Iberian Peninsula (snippet view)۔ Oxford: Clarendon Press۔ صفحہ 11۔ آئی ایس بی این 978-0-19-820301-8۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2010۔ 
  3. Azizur Rahman، Syed (2001)۔ The Story of Islamic Spain (snippet view)۔ New Delhi: Goodword Books۔ صفحہ 129۔ آئی ایس بی این 978-81-87570-57-8۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2010۔ "[Emir عبد اللہ died on] 16 Oct.، 912 after 26 years of writing an intro to the first caliph and leaving his fragmented and bankrupt kingdom to his grandson ‘Abd ar-Rahman. The following day, the new sultan received the oath of allegiance at a ceremony held in the "Perfect salon" (al-majils al-kamil) of the Alcazar." 
  4. ^ 4.0 4.1 Gordon، Matthew (2005)۔ "Document 15: Abd al-Rahman سوم الاندلس"۔ The Rise of Islam۔ Greenwood guides to historic events of the medieval world۔ Westport, Connecticut: Greenwood Publishing Group۔ صفحہ 151۔ آئی ایس بی این 978-0-313-32522-9۔ 
  5. Lane-Poole 1894، p. 11
  6. Lane-Poole 1894، p. 22
  7. Byers، Paula Kay, ویکی نویس (1998)۔ "Abd al-Rahman III"۔ Encyclopedia of World Biography۔ Volume 1: A – Barbosa (اشاعت 2nd)۔ Thomson Gale۔ صفحہ 14۔ آئی ایس بی این 978-0-7876-2541-2۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2010۔ 
  8. Cite error: حوالہ بنام EB کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  9. Kennedy، Hugh N. (1996)۔ Muslim Spain and Portugal: A Political History of al-Andalus (snippet view)۔ London: Longman۔ صفحہ 99۔ آئی ایس بی این 978-0-582-49515-9۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2010۔ "The Caliph died on 15 اکتوبر 961 and was buried with his predecessors in the Alcazar at Cordoba." 
  10. Daftary، Farhad (1992)۔ اسماعیلی: تاریخ اور الہیات۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 173۔ آئی ایس بی این 978-0-521-42974-0۔ "۔۔۔ the Umayyad ʿAbd al-Raḥmān III, who was a Mālikī Sunnī۔" 
  11. ^ 11.0 11.1 Vallvé Bermejo، Joaquín (1999)۔ Al-Andalus: sociedad e instituciones [Al-Andalus: Society and Institutions]۔ Volume 20 of Clave historial (Spanish زبان میں)۔ Madrid: Real Academia de la Historia۔ صفحات 48–50۔ آئی ایس بی این 978-84-89512-16-0۔ 
  12. Marín، Manuela (2002)۔ "Marriage and Sexuality in Al-Andalus"۔ میں Lacarra Lanz، Eukene۔ Marriage and Sexuality in Medieval and Early Modern Iberia۔ Volume 26 of Hispanic issues۔ New York: Routledge۔ صفحہ 14۔ آئی ایس بی این 978-0-415-93634-7۔ 
  13. ^ 13.0 13.1 Kassis، Hanna (1999)۔ "A glimpse of openness in medieval society: Al-Ḥakam II of Córdoba and his non-Muslim collaborators" (Festschrift in Honor of János M. Bak)۔ میں Nagy، Balázs؛ Sebők، Marcell۔ The Man of Many Devices, Who Wandered Full Many Ways۔ Budapest: Central European University Press۔ صفحہ 162۔ آئی ایس بی این 978-963-9116-67-2۔