عبد الرحمٰن بن قاسم عتقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الرحمٰن بن قاسم عتقی
Ibn al qasim.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 750  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصر  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 806 (55–56 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مصر  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت و جماعت
فقہی مسلک مالکی
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو عبد اللہ عبد الرحمن بن قاسم بن خالد بن جنادہ عتقی سنہ ولادت 132 ہجری مطابق 750 عیسوی اور سنہ وفات 191 ہجری مطابق 806 عیسوی ہے۔ مالک بن انس کے ساتھ تقریباً بیس سال تک رہے، امام مالک کے خاص تلامذہ میں تھے، ان سے سماعت کرتے پھر اس کو اچھی طرح یاد کرتے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ امام مالک نے ایک روز ان سے کہا: ”اللہ کے واسطے سنو تم علم کو خوب عام کرو۔“[2] ابن قاسم عتقی امام مالک کے علوم کے سب سے بڑے عالم تھے، زاہد متقی اور حکام سے دور رہنے والے شخص تھے، ان کے ہدایا و تحائف کو قبول نہیں کرتے تھے اور یہ بات کہا کرتے تھے ”حاکموں کی قربت و مجلس میں خیر نہیں ہوتا۔“[3]

امام مالک کی وفات کے بعد امام مالک کے تلامذہ نے ابن قاسم عتقی کی طرف رجوع کیا اور خوب استفادہ کیا، مالکی مذہب کی مدونہ کبری کو لکھنے والے یہی ہیں جو مالکی مذہب کی بڑی کتابوں میں سے ہے۔ در حقیقت ابن قاسم عتقی مالکی مذہب کی پہلی حجت ہیں، یہاں تک کہ امام مالک کے سب سے زیادہ ساتھ رہنے والے شاگرد عبد اللہ بن وہب ان کے بارے میں کہتے ہیں: ”اگر تم امام مالک کی فقہ حاصل کرنا چاہیے ہو تو ابن قاسم کے پاس جاؤ، اس لیے کہ انھوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنائے رکھا اور ہم دوسرے تلامذہ دوسرے کاموں میں مشغول ہو گئے۔“[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 5 مارچ 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education
  2. "الديباج المذهب في معرفة علماء أعيان المذهب". IslamKotob – Google Books سے. 
  3. "سير أعلام النبلاء» الطبقة التاسعة» عبد الرحمن بن القاسم". library.islamweb.net. 
  4. "مالك حياته وعصره أراؤه الفقهية لمحمد أبو زهرة". IslamKotob – Google Books سے.