عبد الرحیم بھرچونڈی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیر عبد الرحیم بھرچونڈی شریفخانقاہ قادریہ بھر چونڈی شریف کے چوتھے سجادہ نشین ہیں۔ آپ شیر خدا بادشاہ سے معروف ہیں۔

ولادت[ترمیم]

مولانا پیر عبد الرحیم شہید ابن مولانا عبد الرحمن ابن حافظ محمد عبد اللہ 1330ھ/1910ء میں بھر چونڈی شریف، ضلع گھوٹکی میں پیدا ہوئے۔

نام[ترمیم]

ساتویں دن جدا مجد شیخ ثالث نے عبد الرحیم نام تجویز کیا۔ کسی نے پوچھا : صاحبزادے کا نام کیا تجویز کیا ہے؟ فرمایا ہم نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پورا کیا ہے ،وہ اس طرح کہ اپنا نام عبد اللہ، صاحبزادے کا نام عبد الرحمن اور پوتے کا نام عبد الرحیم، تینوں ناموں سے لفظ ‘‘ عبد ‘‘ ہٹانے سے بسم اللہ شریف پوری ہو جاتی ہے ۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

جدامجد شیخ ثالث کو آپ سے بہت محبت تھی۔ اکثر آپ دادا جان کے سینے پر کھیلتے رہتے تھے۔ آپ ابتدا ہی سے غیر معمولی ذہین تھے، جو سبق دوسرے طالب علم گھنٹوں میں یاد کرتے اسے آپ منٹوں میں یاد کر لیتے۔ قرآن مجید کی تعلیم شروع ہوئی، پندرہ پارے حفظ اور پندرہ ناظر ہ پڑھے۔ درسی کتابیں پہلے مولانا عبد الکریم ( ساکن میانوالی ) سے، پھر سراج الفقہا مولانا سراج احمد (خان بیلوی ثم خانپوری )سے پڑھیں اور آخرمیں سید مغفور القادری ( شاہ آباد شریف، ضلع رحیم یار خاں ) سے پڑھنا شروع کیا، شرح جامی، شرح و قایہ اور مشکوٰۃ شریف تک کتابیں خود سمجھ کر پڑھیں حتٰی کہ دوسری کتابوں کے سمجھنے کا خاصا ملکہ پیدا ہو گیا ۔

شخصیت[ترمیم]

پیر عبد الرحیم نہایت بلند ہمت اور بے ہاک شخصیت کے مالک تھے، اسلام اور مسلمانون کے تحفظ اور سر بلندی کے لیے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کرتے تھی کئی ایسے واقعات پیش آئے کہ ہندووں نے نو مسلم عورتوں کو قید کر کے ارتداد پر مجبور کیا پیر صاحب کسی خطرے کو دل میں نہ لاتے ہوئے میدان آ گئے اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے جب تک ان نو مسلم خواتین کو آزاد نہ کرادیا۔

تحریک پاکستان[ترمیم]

اپنے والد ماجد مجاہد اعظم مولانا عبد الرحمن کے زیر سایہ رہ کر انجمن احیاالاسلام اور تنظیم المشائخ کی بے مثال خدمات انجام دیں اور اس دور میں جب کہ کانگر س پوری طرح صوبۂ سندھ پر چھائی ہوئی تھی۔ آپ نے تحریک پاکستان اور دو قومی نظریہ کی بھر پور اشاعت و حمایت کی یہ انہی مشائخ کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ صوبۂ سندھ کی رائے عامہ مسلم لیگ کے حق میں ہموار ہو گئی اور عوام الناس نے بڑے جوش و خروش سے نظریۂ پاکستان کو اپنایا ۔

سنی کانفرنس میں شرکت[ترمیم]

1946ء میں والد ماجد کی قیادت میں ڈیڑھ سو افراد کی جماعت کے ساتھ آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں شریک ہوئے اور قیام پاکستان کی پر زور تائید کی۔ اہل سنت کی اس نمائندہ کانفرنس میں متحدہ پاک و ہند کے تقریباً پانچ ہزار علما و مشائخ کا قیام پاکستان کی خاطر اپنی تمام کوششوں کو صرف کر دینے کا عہد ایک ضرب کلیمی تھی جس نے کانگر س کے سامریوں کا طلسم توڑ کر رکھ دیا تھا۔ انجمن احیاء الاسلام اور تنظیم المشائخ کے بعد آپ جمیعت علماء پاکستان، سندھ کے نائب صدر منتخب ہوئے اور جس جرأت و ہمت اور خلوص وایثار سے جمیعت کی سر گرمیوں میں حصہ لیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

سجادہ نشین[ترمیم]

1960ء میں شیخ ثالث عبد الرحمن کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے تو آپ کی مصروفیات ہیں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا لیکن جس حسن و خوبی سے آپ نے ذمہ داریوں کو نبھایا، موجودہ دور میں اس کی مثال پیش کرنا مشکل ہے۔ آپ کے دل میں دین و ملت کا بے پناہ درد تھا۔ اگر چہ آپ پر قاتلانہ حملے کیے گئے ،طرح طرح سے آپ کو اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن اس مرد خدا کے قدم پیچھے ہٹنے کی بجائے ہمیشہ آگے ہی بڑھتے رہے۔

عملی جہاد[ترمیم]

1965ء کی جنگ میں راجستھان سیکڑ میں عملی طور پر حصہ لیا، اپنے مریدین حر مجاہدین کے کئی دستے مسلح کر کے محاذ پر بھیجے اور دود فعہ خود محاذ پر تشریف لے گئے۔ پیرعبد الرحیم نظریۂ اسلام کے زبردست حامی تھے۔ 1971ء کے انتخابات میں جمیعت علمائے پاکستان کے صوبۂ سند کے نائب صدر ہونے کی حیثیت سے علی الاعلان اسلامی قوتوں کا ساتھ دیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ عوام کے اذہان میں صحیح اسلامی اقدار کو اس قدر راسخ کر دیا جائے کہ وہ نظریۂ اسلام کے علاسہ کسی نظرئے اور ازم کو قبول نہ کریں۔

وفات[ترمیم]

30 رجب، 21 ستمبر ( 1391ھ/1971ء) کی شام کو جب کہ پیر عبد الرحیم چار غیر مسلح آدمیوں کے ساتھ تھے، مخالفین نے فائرنگ کر کے آپ کا قتل کر دیا۔ آپ کے جنازہ میں ایک لاکھ افراد نے شرکت کی ،آ پ کی آخری آرام گاہ بھر چونڈی شریف میں ہے۔ آپ کی شہادت سے ملت اسلامہ ایک عظیم مجاہد سے محروم ہو گئی۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عباد الرحمن ،مغفورالقادری، عبد الرحمن، ص 248۔ حافظ الملت اکیڈمی بھرچونڈی شریف سندھ
  2. تذکرہ اکابرِاہلسنت ،صفحہ 222،محمد عبد الحکیم شرف قادری ،نوری کتب خانہ لاہور