مندرجات کا رخ کریں

عبد الرحیم موسوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عبد الرحیم موسوی
(فارسی میں: عبدالرحیم موسوی ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مناصب
چیف آف جنرل اسٹاف   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
13 جون 2025 
محمد باقری  
 
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1960ء (عمر 65–66 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قم   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت ایران   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان فارسی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری ایران   ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ ايرانی فوج   ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ میجر جنرل   ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں ایران عراق جنگ ،  ایران اسرائیل جنگ 2025ء   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

سید عبد الرحیم موسوی (پیدائش: 1960ء) اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل ہیں جو 13 جون 2025ء کو اسرائیلی حملے میں جنرل محمد باقری کی ہلاکت کے بعد 23 خرداد 1404 ہجری شمسی (مطابق 13 جون 2025ء) سے ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ 2017ء سے 2025ء تک آٹھ سال کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے سپہ سالار (آرمی چیف) بھی رہے۔ وہ جامعہ عالی دفاعِ ملی میں فیکلٹی رکن ہیں۔

موسوی نے جامعہ عالی دفاعِ ملی سے دفاعی نظم و نسق میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی اور ایرانی بری فوج کے ملٹری اکیڈمی سے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران فوج میں توپ خانہ دستے کے رکن کی حیثیت سے شریک رہے۔ وہ 2005ء سے 2007ء تک فوج کے مشترکہ اسٹاف کے سربراہ رہے اور 2007ء سے 2016ء تک ایرانی فوج کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر 2016ء سے 2017ء تک مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ رہے۔

زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

سید عبد الرحیم موسوی 1960ء میں شہر قم میں پیدا ہوئے۔ وہ 1979ء میں ایرانی فوج میں شامل ہوئے اور اسی برس بری فوج کے افسری کالج میں تعلیم شروع کی۔ ایران عراق جنگ کے دوران توپ خانہ کے افسر کے طور پر مغربی (کردستان) اور جنوب مغربی (خوزستان) محاذوں پر سرگرم رہے۔ ان کے جنگی تجربے کا دورانیہ کل ملا کر 96 مہینے بنتا ہے۔

جنگ کے بعد 1997ء میں انھوں نے ملٹری کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج (دافوس) کا کورس مکمل کیا اور جامعہ عالی دفاعِ ملی سے دفاعی نظم و نسق میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ وہ 2005ء سے 2015ء تک فوج کے نائب کمانڈر اور اس کے ساتھ ساتھ فوج کے اسٹریٹیجک اسٹڈیز سینٹر کے سربراہ رہے۔ 2005ء سے قبل وہ بری فوج میں منصوبہ بندی اور تربیت کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ 2016ء میں انھیں مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں منتقل کیا گیا اور وہاں 2017ء تک نائب سربراہ کی ذمہ داری سنبھالی۔

ایران عراق جنگ

[ترمیم]

ابتدائی طور پر موسوی کو کردستان محاذ بھیجا گیا جہاں وہ کردستان کی اٹھائیسویں ڈویژن کے ساتھ متعین رہے۔ بعد میں وہ بری فوج کی تینتیسویں توپ خانہ دستے میں شامل ہوئے اور خوزستان کے محاذ پر خدمات انجام دیں۔ وہ والفجر 4، والفجر 9، بیت المقدس 5، قادر، نصر اور دیگر عسکری کارروائیوں میں شریک رہے۔ انھیں جنگ کا زخمی بھی قرار دیا گیا ہے۔

فوجی قیادت

[ترمیم]

30 اگست 2017ء کو رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای نے انھیں بریگیڈیئر جنرل سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر فائز کرتے ہوئے ایرانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔ اس سے قبل وہ ایک سال تک جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ رہ چکے تھے۔

فضائی دفاعی کمان

[ترمیم]

7 جون 2019ء کو رہبر معظم نے انھیں بری فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ہی، خاتم الانبیا فضائی دفاعی کمان کا بھی سربراہ مقرر کیا۔

حوالہ جات

[ترمیم]