عبد الصمد صارم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الصمد صارم
معلومات شخصیت
پیدائش 19 دسمبر 1918  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بجنور ضلع،  اتر پردیش،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 ستمبر 2003 (85 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن فیصل ٹاؤن،  لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب
جامعہ الازہر  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ استاد جامعہ،  سفرنامہ نگار،  سوانح نگار،  عالم دین  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی،  اردو،  فارسی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

مولانا پروفیسر عبد الصمد صارم (پیدائش: 19 دسمبر 1918ء — وفات: 29 ستمبر 2003ء) عربی زبان و ادب کے ممتازعالم، ماہر تعلیم، محقق، مترجم اورینٹل کالج لاہور میں فارسی کے پروفیسر اور عالم دین تھے۔ ان کی علوم اسلامیہ، سوانح، فقہ، شخصیات اسلام، سیرت، تصوف، عربی و فارسی علوم اور تراجم پر مشتمل تصانیف کی تعداد اندازاً 362 کے قریب ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

عبد الصمد صارم 19 دسمبر 1913ء کو سیوہارہ، بجنور ضلع، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1] ان کا نام حسن مصطفیٰ، عرفیت عبد الصمد، کنیت ابو الکمال اور تخلص صارم تھا۔ والد کام قاضی ظہور الحسن ناظم سیوہاروی تھا۔ اردو اور فارسی کی تعلیم اپنے والد اور مولوی عبد الرحمٰن سیوہاروی سے حاصل کی۔ 14 برس کی عمر میں عربی اور علوم اسلامیہ کی تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند چلے گئے اور وہاں پانچ سال زیرِ تعلیم رہنے کے بعد سند فراغت حاصل کی۔ 1936ء میں مولوی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ جب کہ منشی فاضل کی تعلیم فتح پور دہلی سے حاصل کی۔ بعد ازاں علم السنہ و شرقیہ کی تعلیم جامعہ الازہر قاہرہ چلے گئے۔ 1942ء میں جامعہ الازہر سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد ریاست حیدرآباد دکن آ گئے، لیکن خرانی صحت کی بنا پر 1943ء میں لاہور آئے اور آتے ہی رسالہ شاہکار کے مدیر مقرر ہوئے۔ اس کے علاوہ انجمن حمایت اسلام کے شعبہ تصنیف و تالیف سے بھی منسلک رہے۔ 1944ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور کے شعبہ عربی میں ان کا تقرر ایڈیشنل مولوی کے طور پر ہوا۔ دورانِ ملازمت انہوں نے زبدة العلماء کا امتحان بھی پاس کیا۔ ان کے اساتذہ میں جامعہ الازہر اور جامعہ مصریہ کے نامور علماء ڈاکٹر طہٰ حسین، احمد امین شیخ زنکلوئی، شیخ قطیشیا اور طنطاوی جویری شامل ہیں۔ مولانا عبد الصمد اوائل عمر میں ہی کتب بینی اور تصنیف کی طرف رجحان رکھتے تھے۔ جامعہ الازہر میں دورانِ تعلیم ہی انہوں نے تاریخ القرآن لکھی۔ چوں کہ مولانا عبد الصمد دیوبند اور جامعہ الازہر کے جید علماء اور اساتذہ کی شاگردی کا اعزاز حاصل تھا، اس لیے کلاسیکی عربی میں انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ شعبی عربی میں تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی مشغول رہے۔ عربی کے علاوہ فارسی اور اردو میں لاتعداد کتب تصنیف و تالیف کیں۔ مضمون نگاری کے علاوہ شاعری سے بھی شغف رکھتے تھے۔[2] اعلیٰ تدرسی خدمات کے اعتراف میں 1963ء میں لیکچرار ہوئے اور بعد ازاں اسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی پائی۔ اورینٹل کالج میں تقریباً 35 سال تک تدرسی فرائض انجام دینے کے بعد 1975ء میں سبکدوش ہو گئے۔ مولانا عبد الصمد نے ساری زندگی تصنیف و تالیف میں گزاری۔ قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، سوانح، سفرنامہ اور علوم اسلامیہ پر ان کی تصانیف کی تعداد بہت زیادہ ہے۔[3]

تصانیف و تالیفات[ترمیم]

  • تاریخ القرآن
  • تاریخ التفسیر
  • تاریخ تصوف
  • ایران کے چشم دید حالات (1950ء)
  • سفرنامہ حج و زیارت (1959ء)
  • انتخابِ تاریخ
  • مقامِ غالب (1968ء)
  • مقالات صارم
  • مضامین صارم
  • سفرنامہ صارم
  • تاریخ الفقہ
  • تنقیدات طہٰ حسین
  • تعلیمات اسلام
  • الدر المکنون
  • اربعین اعظم
  • آنسو
  • زر خالص
  • اردو کا بڑا شاعر اور محسن
  • خلق مسلم
  • اخلاقی کہانیاں
  • رابعہ بصری (ترجمہ)
  • امیر معاویہ
  • عمر بن عبد العزیز
  • امام زین العابدین
  • سیرت حضرت علی
  • سیرت عائشہ
  • ابن خلدون
  • ابو ذر غفاری
  • خانہ کعبہ
  • خلق عظیم
  • قصس القرآن
  • سوانح مولانا قاسم ناناتوی
  • سیرت امام بخاری
  • سیرت امام مالک
  • سیرت امام احمد بن حنبل
  • شعر العرب
  • روح کیا ہے
  • عقائد الاحناف
  • سوانح حسن بصری

حدیث[ترمیم]

  • حسنات الاخبار، المعروف بہ تاریخ الحدیث: مطبوعہ اول:رجب1354ھ/اکتوبر1935ء

وفات[ترمیم]

مولانا عبد الصمد صارم کی وفات 29 ستمبر 2003ء کو لاہور میں ہوئی۔ ان کی آخری آرام گاہ لاہور کے فیصل ٹاؤن قبرستان میں ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات مشاہیر لاہور، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل، لاہور، 2018ء، ص 259
  2. پروفیسر ڈاکٹر نسرین اختر، تاریخ یونیورسٹی اورئینٹل کالج لاہور 1963ء-2001ء ، سنگت پبلشرز لاہور، 2006ء، ص 231
  3. تاریخ یونیورسٹی اورئینٹل کالج لاہور، ص 232