عبد العزیز الحلوانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد العزیز الحلوانی
معلومات شخصیت

ابو محمدعبد العزیز حلوانی (المتوفیٰ 456ھ1056ء) پورا نام عبد العزيز بن احمد بن نصر بن صالح الحلوانی البخاری ہے شمس الائمہ لقب تھا،۔

حلوانی کی نسبت[ترمیم]

کنیت ابو محمد، لقب شمس الائمہ ہے۔ فقہ حنفی کے بہت بڑے فقیہ حلوانی حلوا فروخت کرنے کی طرف نسبت ہے اور بعض اوقات حلوائی کہا جاتا ہے۔ بخارا میں اپنے وقت کے حنفیہ کے امام تھے۔
ان کے والد بہت مفلس اورتنگدست تھے اور مٹھائی بنا کر بیچا کرتے تھے ان کی عادت تھی کہ اکثر وبیشتر فقہا کرام کو مٹھائیاں وغیرہ بھیجتے رہتے تھے اوران سے عرض کرتے کہ بس میرے بیٹے کے لیے دعا فرمایا کریں۔ ان کی سخاوت، حسن عقید ت اورگریہ وزاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بیٹے نے علم کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا اوروہ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم ثابت ہوئے جو شمس الائمہ حلوانی کہلائے[1] علامہ ذہبی، سیراعلام النبلاء میں امام حلوانی کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ان سے شمس الائمہ سرخسی، فخرالاسلام بزدوی اور ان کے بھائی صدر الاسلام نے علم حاصل کیا [2]

علمی مقام[ترمیم]

ابن کمال پاشا نے آپ کو مجتہدین فی المسائل میں شمار کیا ہے۔ فقہ آپ نے حسین ابی علی نسفی شاگردی ابی بکر محمد بن فضل تلمیذ عبد اللہ سبذ مونیس ے حاصل کی اور حدیث کو ابی شعیب صالح بن محمد بن صالح بن شعیب اور مجازی اور ابی سہل احمد بن محمد بن مکی الانماطی اور ابا اسحٰق رازی اور اسمٰعیل بن محمد زاہد اور عبد اللہ بن محمد کلا باذی اور عبد اللہ بن حسین کتاب اور حافظ محمد بن احمد غنجا رو غیر ہ سے سنا اور روایت کیا اور امام طحطاوی کی شرح معانی الآثار کو ابی بکر محمد بن عمر بن حمدان سے روایت کیا اور آپ سے شمسل لائمہ بکر زنجری اور محمد بن علی والد شمس الائمہ بکر زنجری اور شمس الائمہ محمد سرخسی اور ابی بکرمحمد بن حسین اور فخر الاسلام علی بن محمد بن حسین بزدوی اور ان کے بھائی صدر الاسلام ابو الیسر محمد بن محمد اور قاضی جمال الدین ابو نصر احمد بن عبد الرحمٰن وغیرہ نے تفقہ اور روایت کیا،حافظ الحدیث ابو محمد عبد العزیز بن محمد نخشبی اپنی معجم شیوخ میں آپ کو اپنے شیوخ میں بیان کر کے کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے آپ کی تمام امالی سنی ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

ان کی تصنیفات یہ ہیں؛

  • المبسوط(فقہ کی کتاب)
  • النوادر فی الفروع
  • الفتاوى فی الفروع
  • شرح ادب القاضی امام ابو يوسف[3]

وفات[ترمیم]

آخری عمر میں آپ بخدا سے شہر کش میں تشریف لے گئے اور وہیں ماہ شعبان 448ھ یا 458ھ میں وفات پائی اور آپ کی نعش کو بخارا میں لاکر قبرستان کلاباذ میں دفن کر دیا گیا جواب زیارت گاہ و خاص ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. راہِ علم مؤلف: شیخ الاسلام ابراہیم زرنوجی،صفحہ73
  2. سیراعلام النبلا
  3. موسوعہ فقہیہ ،جلد اول صفحہ 457، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا