عبد العزیز بن باز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد العزیز بن باز
(عربی میں: عبد العزيز بن باز ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 22 نومبر 1912[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ریاض  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 مئی 1999 (87 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ[4]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرۃ العدل  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ اندھا پن[5]  ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص ربیع المدخلی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہر اسلامیات،  مفتی،  عالم مذہب،  منصف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ،  علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر محمد بن عبدالوہاب  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
بین الاقوامی شاہ فیصل اعزاز برائے خدمات اسلام  (1982)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

عبد العزیز بن باز مفتیٔ عالم و مفتیٔ اعظم سعودی عرب تھے۔

نام و نسب[ترمیم]

نام عبد العزیز بن عبد الرحمٰن بن محمد بن عبد اللہ آل باز اور کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ شیخ سلیمان بن حمدان نے تراجم حنابلہ سے متعلق اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آل باز علم و فضل اور تجارت و زراعت میں معروف خاندان ہے جن کی اصل تو مدینہ منورہ سے ہے لیکن ان کے آباء و اجداد میں سے ایک شخص الدرعیۃ منتقل ہو گیا اور پھر اس کے بعد یہ لوگ حوطۃ بنی تمیم میں منتقل ہو گئے۔ خود شیخ ابن با نے "المجلۃ" نامی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ہمارے خاندان آل باز کے افراد الریاض، حوطہ بنی تمیم، الاحساء (ہفوف و غیر ہ) اور حجاز (مکہ و مدینہ) میں بھی ہیں حتی کہ اردن، مصر اور بعض دیگر بلادِ عرب و عجم میں بھی کچھ لوگ آل باز کہلواتے ہیں جبکہ ہمیں ان کے بارے میں باوثوق ذریعہ سے کچھ علم نہیں ہے۔[7]

ولادت[ترمیم]

ابن باز نجد کے پایۂ تخت الریاض میں 13 ذو الحجہ 1330ھ میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے اور سوائے حج و عمرہ اور موسمِ گرما میں تمام سرکاری اداروں کے الطائف چلے جانے کے وہاں سے کہیں نہیں گئے۔

تعلیم[ترمیم]

سب سے پہلے شیخ نے قرآنِ کریم حفظ کیا اور اس کے بعد علما کرام سے کسبِ علم کا آغاز کیا، کتاب و سنّت کی طرف رغبت دلانے میں سب سے زیادہ ہاتھ ان کی والدہ کا تھا جیسا کہ اپنے ایک لیکچر ’’رحلتي مع الکتاب‘‘ کے آخر میں خود انھوں نے اس کی وضاحت کی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/119426781  — اخذ شدہ بتاریخ: 27 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14429459r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6bc67j2 — بنام: Abd al-Aziz ibn Baz — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ربط : https://d-nb.info/gnd/119426781  — اخذ شدہ بتاریخ: 31 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  5. Al Jazirah — اخذ شدہ بتاریخ: 15 جنوری 2020
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14429459r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. الإنجاز للشیخ عبد الرحمن بن یوسف الرحمہ ص: 626 و 627