عبد العزیز مراد آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد العزیز مراد آبادی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1894  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بھوج  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 31 مئی 1976 (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ مفتی امجد علی اعظمی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ معلم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

حافظ ملت عبد العزیز مراد آبادی ایک بھارتی سنی مسلمان عالم دین اور الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کے بانی ہیں۔

ولادت[ترمیم]

ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ایک مغربی ضلع مرادآباد کے قصبہ بھوج پور میں 1314ھ بمطابق 1894ء میں پیدا ہوئے۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

اسم گرامی عبد العزیز بن حافظ غلام نور بن ملا عبد الرحیم۔ آپ کا یہ نام آپ کے دادا ملا عبد الرحیم صاحب نے شیخ عبد العزیز محدث دہلوی کی نسبت سے رکھا اور فرمایا کہ میرا یہ بیٹا بڑا عالمِ دین بنے گا۔ وقت ولادت پاس پڑوس کی بڑی بوڑھیوں نے ’’پیرا‘‘ کہا، دنیائے اسلامیان ہند میں استاذ العلماء جلالۃ العلم اور حافظ ملت کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ کے آبا و اجداد کا تعلق انصار برادری سے ہے۔ معاشی حالت اگرچہ ہمیشہ کمزور رہی لیکن شرافت نجابت میں قصبہ بھوج پور میں یہ گھرانہ مشہور تھا۔ گھر کا ماحول اسلامی قوانین و ضوابط پر کاربند تھا۔ والد اور جد اعلیٰ انتہائی مذہبی اور دینی مزاج رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن سے شروع ہوئی۔ چنانچہ آپ نے ناظرہ، و حفظ قرآن کی تکمیل والد سے فرمائی، پرائمری درجات کی تعلیم بھوج پور میں ہوئی۔ فارسی کی ابتدائی تعلیم مولوی عبد المجید مراد آبادی سے اور پیپل سانہ میں حافظ نور بخش اور حکیم مولوی مبارک ﷲ سے گلستان تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے قصبہ بھج پور کی بڑی مسجد کے خطیب و مدرسہ حفظ القرآن کے مدرس مقرر ہو گئے۔ شب وروز یونہی گزرتے رہے۔ ماہ رمضان المبارک میں ہر سال شبینہ خوانی کے لیے شہر مراد آباد لوگوں کی دعوت پر تشریف لے جاتے۔ آپ کی صحتِ قراءت اور زود خوانی کا چرچا جلد ہی پورے شہر میں ہو گیا۔ عالم یہ تھا کہ پورا قرآن شریف تنہا محراب شریف میں سنا کر اٹھتے اور ذرہ برابر تھکان محسوس نہیں کرتے۔ پانچ سال تک یہی سلسلہ رہا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع، گھریلو ذمہ داریوں اور کاموں کا بوجھ پھر عمر کا کافی حصہ بھی گزر چکا تھا۔ تعلیم و تعلم کا کسے خیال ہوتا؟ مگر جد کریم کی پیشن گوئی بہرحال پوری ہونی تھی۔ شہر مراد آباد کے طبیب حاذق جناب مولوی حکیم محمد شریف صاحب حیدرآبادی تلمیذ رشید حضرت مولانا عبد الحق خیر آبادی گاہے بگاہے بسلسلہ علاج و معالجہ بھوج پور تشریف لایا کرتے تھے اور نماز کا وقت ہوتا تو حافظ ملت کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ ایک دن فرمانے لگے۔ حافظ صاحب آپ قرآن بہت عمدہ پڑھتے ہیں اور بڑی محبت سے فرمایا آپ طب بھی پڑھ لیجئے۔ میں آپ کو حکمت پڑھاؤں گا۔ حافظ ملت نے فرمایا۔ میں غریب آدمی مسجد کی امامت اور مدرسہ کی تدریس میرا ذریعہ معاش، روزانہ آمدورفت میرے لیے ممکن نہیں۔ حکیم صاحب نے فرمایا۔ آپ بذریعہ ٹرین مراد آباد آجائیں اور سبق پڑھ کر ٹرین ہی سے بھوج پور چلے جائیں۔ کرایہ میں جو صرف ہوگا وہ میں خود برداشت کروں گا۔ آپ نے والد صاحب سے عرض کیا۔ انہوں نے اجازت دے دی اور فرمایا روز کا آنا جانا مناسب نہیں۔ مراد آباد رہ کر ہی پڑھو۔ الغرض! ملازمت ترک فرما کر آپ حکیم صاحب کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے گلستان کا امتحان لے کر فرمایا آپ کا دماغ عربی کے لائق ہے اور میزان و منشعب وغیرہ شروع کرایا۔ وہ سب بھی دو ماہ کے اندر اندر ختم ہوگئیں۔

نہ جانے حکیم صاحب کو کیا سمجھ میں آیا کہ اس کے بعد خود پڑھانا چھوڑ دیا اور کہا کہ اب مجھے مطالعہ کرنا پڑے گا اور میرے پاس وقت نہیں ہے۔ اس لیے اب آپ مدرسہ جایئے، چنانچہ حافظ ملت نے جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لے لیا۔ تین سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے مگر شرح جامی سے آگے نہ بڑھ سکے۔ علم کی پیاس جو شدت اختیار کرچکی تھی۔ وہ بھی کلی طور پر نہ بجھ پا رہی تھی۔ تعلیم حسب منشا نہ ہونے کی وجہ سے کسی اچھے مدرسے اور کسی مشفق مدرس کی تلاش شروع کردی۔

حسن اتفاق سے آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد مراد آباد میں ہونا طے پایا۔ اس میں مشاہیر علما کا اجتماع ہوا۔ غور و فکر کے بعد رجحان قلب حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب اعظمی کی طرف ہوا۔ درخواست پیش کی تو فرمایا۔ شوال سے اجمیر شریف آجاؤ۔ مدرسہ معینیہ میں داخلہ لے کر تعلیمی سلسلہ شروع کرادوں گا۔

حسب ہدایت حضور حافظ ملت، حضرت محدث اعظم مولانا سردار احمد صاحب اور مولانا غلام جیلانی صاحب میرٹھی وغیرہم اجمیر شریف 1342ھ میں پہنچے۔ اگرچہ آپ سب بھی حضرات اس وقت معیاری طالب علم نہ تھے مگر حسب وعدہ صدر الشریعہ نے داخلہ فرمالیا۔ درسی کتابیں دیگر مدرسین پر تقسیم ہوگئیں۔ حضرت صدر الشریعہ نے از راہ شفقت خارجی اوقات میں تہذیب اور اصول الشاسی کا درس دینا شروع کیا۔ ملاحسن تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حافظ ملت نے معاشی تنگی اور خانگی مصروفیت کا تذکرہ کرکے تعلیمی سلسلہ ختم کر دیا اور دورہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حضرت صدر الشریعہ نے بگڑ کر فرمایا ’’اگر زمین پھٹ جائے اور آسمان ٹوٹ پڑے یہ تو ممکن ہے مگر آپ کی ایک کتاب چھوٹے یہ ممکن نہیں‘‘ چنانچہ حافظ ملت نے اپنا ارادہ ملتوی فرمادیا اور پوری دلجمعی کے ساتھ حضرت کی خدمت میں رہے۔ 1350ھ میں تعلیمی سلسلہ دورہ حدیث کے بعد ختم ہوا۔ اجمیر شریف میں مدرسہ معینیہ سے سند فراغت حاصل کی۔

بیعت و ارادت[ترمیم]

آپ کو شرف بیعت اعلیٰ مولانا سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی سے حاصل ہے۔ انہوں نے مرید کرکے خلافت سے نوازا۔ حضرت کے استاذ محترم حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل ہے۔ حضور حافظ ملت سے سلسلہ امجدیہ کی توسیع و اشاعت سلسلہ اشرفیہ کی بہ نسبت زیادہ ہوئی ہے۔

مشاغل[ترمیم]

فراغت کے بعد ایک سال تک بریلی میں حضرت کی خدمت میں رہے۔ شعبان 1352ء میں حضرت مولانا صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی نے جامع مسجد آگرہ میں مولانا نثار احمد صاحب کانپوری کے وصال کے بعد متعین کرنا چاہا تو آپ نے انکار فرمادیا اور عرض کیا کہ میں ملازمت نہیں کروں گا۔ حافظ ملت کا خیال تھا کہ تجارت کریں گے اور حتی الوسع دینی خدمات فی سبیل ﷲ انجام دیں گے۔ لیکن اسی سال ماہ شوال کے آخر میں حضرت صدر الشریعہ نے آپ کو بریلی شریف بلوالیا اور مبارک پور مدرسہ اشرفیہ میں درس تدریس کے سلسلے میں ارشاد فرمایا۔ میں ہمیشہ باہر رہا اس کے باعث میرا ضلع خراب ہو گیا۔ بدمذبیت اور گمراہیت نے پورے ضلع پر قبضہ جمارکھا ہے۔ اس لیے دین کے لیے میں آپ کو مبارک پور بھیج رہا ہوں، جائیے اور کام کیجئے۔ آپ نے عرض کیا۔ حضرت میں ملازمت نہیں کروں گا۔ اس پر صدر الشریعہ نے فرمایا… میں نے ملازمت کے لیے نہیں کہا بلکہ خدمت دین کے لیے کہا ہے۔ اس پر آپ خاموش رہے۔ پھر فرمایا یہ مت دیکھنا کہ کیا مل رہا ہے۔

جامعہ اشرفیہ کا قیام[ترمیم]

آپ نے صدر الشریعہ علامہ امجد علی (صاحب بہار شریعت ) کے حکم پر تکمیل درسیات کے بعد اعظم گڑھ ضلع کے قصبہ مبارکپور تشریف لائے اس وقت یہاں ایک مدرسہ مصباح العلوم کے نام سے قائم تھا۔ حافظ ملت کی انتھک محنت کے باعث یہ مدرسہ ایک عظیم الشان پھل دار درخت کی حیثیت سے جامعہ اشرفیہ کے نام سے متعارف ہوا۔ چنانچہ جامعہ اشرفیہ کے فاضلین آج بھی اس جامعہ کے پرانے نام کی طرف نسبت کرتے ہوئے دنیابھر میں مصباحی معروف ہیں

اخلاق و کردار[ترمیم]

حافظ ملت ایک عہد ساز اور انقلاب آفریں شخصیت کے مالک تھے۔ آپ نے زندگی کے قیمتی لمحات انتہائی خوبی سے دین ومسلک کی خدمت و اہتمام میں گزارے۔ آپ کے پاکیزہ اور روحانی کیفیات سے سرشار وجود میں بھی اخلاق کریمانہ اور اوصاف بزرگانہ کا ایک جہاں آباد تھا۔ آپ اخلاق، جہد مسلسل، استقلال، ایثار، ہمت، کردار، علم، عمل، تقوی، تدبر، اسلامی سیاست، ادب، تواضع، استغناء، توکل، قناعت اور سادگی جیسے بے پناہ اوصاف سے بھی مزین تھے۔

وفات[ترمیم]

84 برس کی عمر پا کر 2 جمادی الاولی 1396ھ مطابق 31 مئی 1976 ء بروز دوشنبہ کے دن وفات پائی۔[2][3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. المدینہ العلمیہ۔ "فیضان حافظ ملت"۔ مکتبہ المدینہ۔ صفحہ 3۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2017۔ نادرست |=مردہ ربط (معاونت)
  2. مفتی اعظم ہند ص 139
  3. حیات حافظ ملت و عمیر صاحب اویسی

بیرونی روابط[ترمیم]