عبد العظیم حسنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد العظیم حسنی
سیدالکریم، شاہ عبدالعظیم
ولادت 4 ربیع الثانی 173ھ
وفات جمعہ 15 شوال، 252ھ، المعتزّ باللہ عبّاسی کے دور میں۔
ری، ایران
نسب والد : عبدللہ بن علی
والدہ : ہیفاء بنت اسمٰعیل

اولاد :
محمد
ام سلمہ

شاہ عبد العظیم حسنی بروز جمعرات 4 ربیع الثانی سنہ 173 ہجری کو خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں مدینہ میں پیدا ہوئے۔ (آپ کو شاہ عبدالعظیم حسنی بھی کہا جاتا ہے)۔ آپ کے والد کا نام عبدللہ بن علی اور والدہ کا نام "ہیفاء" تھا جو اسمٰعیل بن ابراہیم کی نیک اور پاکباز بیٹی تھیں۔ آپ کی کنیت "ابوالقاسم" اور "ابوالفتح" ہے۔آپ حسنی سادات کے علما اور علم حدیث کے راویوں میں سے تھے۔ عبدالعظیم حسنی کا نسب چار پشتوں میں امامحسن ابن علی سے ملتا ہے۔ تاریخ میں انہیں با تقوا، امین، صادق، دین شناس عالم دین، شیعہ اصول دین کا قائل اور محدث کے عناوین سے یاد کیا ہے۔ شیخ صدوق نے ان سے منقول احادیث کو جامع اخبار عبد العظیم کے نام سے جمع کیا ہے۔[1][2][3]

نسب[ترمیم]

حضرت عبدالعظیم حسنیؑ کا نسب چار پشتوں میں سبط الرسول ﷺ، سید شباب اہل الجنہ امام حسن مجتبیٰؑ سے ملتا ہے۔ "عبدالعظیم بن عبدللہ بن علی بن حسن بن زید بن علی بن حسن بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم (ع)"

ازواج و اولاد[ترمیم]

حضرت عبدالعظیم حسنیؑ کی زوجہ محترمہ آپ کی چچازاد تھی آپ کو ان کے بطن سے دو بچے بنام محمد اور ام سلمہ عطا ہوئے۔ شیخ عباس قمی آپ کے ایک بیٹے کی خصوصیات لکھتے ہوئی فرماتے ہیں: محمد ایک بزرگ شخصیت کے حامل تھے اور زہد و عبادت کے مقام پر بہت شہرت رکھتے تھے۔[4]

مقام علمی[ترمیم]

ابو تراب رویانی کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ ابو حماد رازی کہتے تھے کہ میں سامرا میں امام ہادی(ع) کی خدمت میں وارد ہوا اور بعض حلال و حرام کے مسائل کے بارے میں سوال کیا۔ جب واپسی کا ارادہ کیا تو امام(ع) نے فرمایا: چنانچہ اگر دینی امور میں حلال و حرام کی [تشخیص] کے بارے میں تمہارے اوپر کوئی مسئلہ دشوار ہوا تو عبدالعظیم بن عبداللہ حسنی سے سؤال کرو اور انہیں میرا سلام پہنچا دو۔[5]

مروی احادیث[ترمیم]

کتب حدیثی اور متون روایی میں عبدالعظیم حسنی سے منقول احادیث کی تعداد ایک سو سے بھی زیادہ ہے۔ صاحب بن عباد کہتے ہیں: آپ کثرت سے احادیث نقل کرتے تھے اور امام جواد(ع) اور امام ہادی(ع) سے آپ نے حدیث نقل کی ہے۔[6] آپ سے کچھ کتابیں بھی اس وقت ہمارے اختیار میں ہیں جیسے کتاب "خُطَب امیرالمؤمنین‌"[7] اور کتاب "یوم و لیلہ" جو ظاہرا اعمال پر مشتمل ہے جو ائمہ اطہار(ع) کی احادیث میں مختلف اذکار کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں۔ اور ہر مکلف دن اور رات میں مستحب یا واجب عمل انجام دے سکتا ہے۔ آپ کی ایک اور کتاب "روایات عبدالعظیم حسنی‌" کے نام سے معروف ہے۔[8] بعض بزرگان نے عبدالعظیم حسنی سے احادیث نقل کی ہیں منجملہ شیخ صدوق نے آپ سے منقول حدیثوں کے مجموعے کو "جامع اخبار عبدالعظیم‌" کے نام سے جمع کیا ہے۔ آپ نے بغیر واسطہ اماموں سے جو احادیث نقل کی ہیں ان میں دو احادیث امام رضا(ع) سے 26 احادیث امام جواد(ع) سے اور 9 احادیث امام ہادی(ع) سے نقل کیا ہے اور ان احادیث کی تعداد جو انہوں نے با واسطہ نقل کی ہیں ان حدیثوں کی تعداد 65 ہیں۔

آپ کے بارے میں لکھی گئی کتابیں[ترمیم]

حضرت عبدالعظیم حسنی(ع) کی شخصیت کی پہچان کے لیے خرداد ماہ سنہ ۱۳۹۲ ش کو آپ کے حرم میں شیخ صدوق ہال میں آپ کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر ایک عظیم شان سیمنار منعقد ہوا جس کے نتیجے میں منتشر ہونے والے آثار کی تعداد 29 تک پہنچتی ہیں۔ جن میں سے بعد کا ذکر کیا جاتا ہے:

  • رسالۃ فی فضل سیدنا عبد العظیم الحسنی المدفون بالری، مؤلف صاحب بن عباد۔
  • أخبار عبد العظیم بن عبد اللہ بن علی بن الحسن بن زید بن الحسن بن علی بن أبی طالب (ع)، مؤلف شیخ صدوق اور یہ کتاب الذریعۃ میں "حیاۃ عبد العظیم الحسنی" کے نام سے مذکور ہے۔
  • جنات النعیم فی أحوال سیدنا الشریف عبد العظیم، عربی، مؤلف ملا اسماعیل کزازی اراکی متوفی سنہ ۱۲۳۶ ہ.
  • روح و ریحان یا جنۃ النعیم والعیش السلیم فی أحوال السید الکریم والمحدث العلیم عبد العظیم الحسنی (علیہ السلام)، فارسی، مؤلف : الحاج الشیخ باقر کجوری مازندرانی متوفی سنہ ۱۲۵۵ہ.
  • التذکرۃ العظیمیۃ، عربی، مؤلف الحاج الشیخ محمد ابراہیم کلباسی متوفی سنہ ۱۳۶۲ ہ.
  • لخصایص العظیمیۃ فی أحوال السید أبی القاسم عبد العظیم بن عبد اللہ الحسنی(ع)، مؤلف شیخ جواد شاہ عبدالعظیمی متوفی سنہ ۱۳۵۵ ه.
  • عبد العظیم الحسنی حیاتہ ومسندہ،
  • مسند حضرت عبد العظیم حسنی، فارسی، مؤلف عزیز اللہ عطاردی قوچانی، متوفی ۳ مرداد ۱۳۹۲.
  • آشنائی با حضرت عبد العظیم حسنی(ع) و مصادر شرح حال او، مؤلف رضا استادی.
  • بررسی کلی روایات حضرت عبد العظیم حسنی(ع)، مؤلف محمد کاظم رحمان ستایش.
  • شناخت نامہ حضرت عبد العظیم حسنی وشہر ری، مؤلف سید محمد حسین حکیم و علی أکبر زمانی نژاد.
  • مجموعۃ مقالات کنگرہ حضرت عبد العظیم حسنی(ع).
  • حکمت نامہ حضرت عبد العظیم الحسنی(ع)، فارسی، مؤلف محمد محمدی ری شہری.
  • عبدالعظیم الحسنی العالم الفقیہ والمحدّث المؤتمن، سیرتہ ومسندہ، عربی، مؤلف أحمد بن حسین العبیدان.

رحلت[ترمیم]

منقول ہے کہ آپ دسویں امام حضرت امام علی نقیؑ کے حکم کی بنا پر معتز عباسی کے ظلم و جور سے محفوظ رہنے کے لیے سامرہ سے "رے" کی جانب تشریف لائے اور پھر آپ نے چند سال اسی شہر میں مخفی طور پر زندگی گزارنے کے بعد رحلت پائی۔[9]

مدفن اور زیارت[ترمیم]

آپ کی رحلت 15 شوال سنہ 252 ہجری کو امام ہادی (ع) کے زمانے میں واقع ہوئی۔ نجاشی نقل کرتے ہیں: شاہ عبدالعظیم حسنی (ع) بیمار ہوئے اور اسی بیماری میں دنیا سے چل بسے۔ شیخ طوسیؒ فرماتے ہیں: شاہ عبدالعظیم حسنی (ع) نے شہر رے میں وفات پائی اور ان کی قبر اسی شہر میں واقع ہے۔ محدث نوریؒ کے مطابق کسی شیعہ مؤمن کو خواب میں رسول اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اس وقت پیغمبر اکرم(ص) نے ان سے فرمایا: کل "عبدالجبار بن عبدالوہاب رازی" کے گھر سیب کے باغ میں میری نسل سے ایک شخص دفن ہوگا۔ اس شخص نے اس باغ کو خریدا اور اسے عبدالعظیمؑ اور دیگر شیعوں کی اموات کے نام وقف کر دیا۔[10] اسی وجہ سے حرم عبدالعظیم حسنی "مسجد شجرہ" یا "مزار نزدیک درخت" کے نام سے معروف تھا۔[11] شیخ صدوقؒ نے انکی قبر کی زیارت کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق شہر ری کا ایک شخص امام علی النقی(ع) کی خدمت میں وارد ہوا اور کہا: حضرت سیدالشہداء (ع) کی زیارت سے مشرف ہوکر آیا ہوں تو امامؑ نے فرمایا: قبر شاہ عبدالعظیمؑ جو تمہارے نزدیک ہے، کی زیارت کا ثواب قبر حسین بن علیؑ کی زیارت کے ثواب کے برابر ہے۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الذریعہ، ج۷، ص۱۶۹. بر آستان کرامت، ص۵.
  2. عمدہ الطالب، ص۹۴.
  3. رجال نجاشی، ص۲۴۸.
  4. جنہ النعیم، ج۳، ص۳۹۰. عمدہ الطالب، ص۹۴.
  5. مستدرک الوسائل، ج۱۷، ص۳۲۱.
  6. مسند الامام الجواد، ص۳۰۲.
  7. رجال نجاشی، ص۲۴۷
  8. خاتمہ مستدرک، ج۴، ص۴۰۴.
  9. الفہرست، ص۱۹۳.
  10. خاتمہ مستدرک، ج۴، ۴۰۵.
  11. عمدہ الطالب، ص۹۴. بر آستان کرامت، ص۱۲.
  12. ثواب الاعمال، ص۹۹.