عبد الغني علامه

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حضرت علامه رحمة الله علیه نے ۱۹۴۰ سنه بمطابق ۱۳۵۸ هجری میں ایک علمی گھرانےميں آنکھ کھولے، ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگ حاجي مير عالم صاحب سے حاصل کيا ، مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے ملک کےمختلف مدارس وجامعات کا رُخ کیا اور بهت سے جید وممتاز علما کرام سے استفاده کیا، اپنے علمي سلسله کے آخري مرحله طے کرنے کيلئے ملک کے معروف تعلیمي اداره جامعه دار العلوم حقانیه اکوڑه خٹک پشاور ميں استاذ العلماء حضرت مولانا عبد الحق نور الله مرقده کےتلمُذ کا شرف حاصل کیا ۔

علامه شهید کا علمی سلسله[ترمیم]

اور دوره حدیث کے سالانه امتحان میں ممتاز نمبروں کیساتھ پهلی پوزيشن حاصل کی ۔

فراغت کی بعد درس وتدریس کو اپنا مشغله بنايا، اپنے دور کے جامع الاوصاف اور جید علما کرام میں آپ کا شمار هونے لگا الله تعالی نے بے مثال حافظه او بهتری خداد  صلاحیتوں سے نوازا تھا ؛ خصوصا حدیث وفقه تو آپ کا طره امتیاز تھا جس کا مُنه بولتا ثبوت آپ کی کثرت اور دور دراز علاقوں تک عوام وخواص کا مرجع او معاشره ميں انتهائي مشهور اور مقبول هونا تھا ۔

اس کے علاوه آپ کو متعدد علوم وفنون پر دسترس حاصل تھا، اسی خاطر علامه شهید جیسی عظیم صفت سے موسوم هونے لگا احادیث نبویه صلی الله علیه وسلم کیساتھ محبت که اور ان کیساتھ مهارت اَوج سے مِل رہا تھا ۔

احادیث کے پڑھانے کيلئے جب مسند حدیث پر تشریف فرماتے تو اس وقت تک کتاب پر نظر نهیں ڈالتا جب تک گھنٹوں اور مسلسل تحقیق سینکڑوں تلامذه اور عُشاق نبي صلی الله علیه وسلم کے سامنے انتهائی مؤثرانه اور فصیحانه انداز  میں پیش نه کرتا ۔

علامه شهید ؒ کے بارے هم علما کے یه نظر ایک مُسلم حقیقت ہے که هم عصروں کے درمیان کچھ نه کچھ تعصُب وخودبینی هوا کرتا ہے ؛ لیکن حضرت علامه شهید وه شخص تھا که اس حقیقت کا تصور آپ کے بارے وجود ميں آنے سے قاصر تھا ۔

علامه شهید دوسروں کی نظر میں[ترمیم]

موجوده دور میں عالم اسلامي سطح پر یگانه دهر حضرت مولانا محمّد تقي عُثماني صاحب اور ملک کی مشاهیر علما کرام اور شیوخ آپکے بارے میں بهت عظیم شخصیت نے سمجھا ۔

اور دیگر شیوخ عظام کے طرف سے آپ کو جبل العِلم اور دیگرالفقیه الاکبر اور دیگر شیخ خُراسان سے اور دیگر دوسری عُمده القاب سے نوازا کیا تھا ۔

علامه کا حلیه مبارکه[ترمیم]

حضرت علامه حسین پلکوں، حسین آنکھوں اور کشاده پیشانی نے آپ کو امتیازي جلا بخشی تھی، چاندي جیسی داڑھی، سُنهری چهره، درمیانه قد نے بے مثال بنایا تھا ۔

فصیحانه اور عام فهم کلام کے ذریعه سےلوگوں کے دلوں میں گھر بنا لیا تھا ۔

کانوں تک پهنچی والی زلفوں سے سُنت نبوي  ؐکا یاد دلا تھا، چلنے کا عجب انداز اپنایا جو سو فیصد تکبر وخودبینی سے خالی هوا کرتا، کسی کو متوجه هوتا تو صرف سر پھيرنے کی بجائے همه تن متوجه هوتا جس کی وجه سے کسی کو آپ کو برابر نظر کرنے کی صلاحیت نه هوتا ۔

سفید پگڑی کو همیشه لباس کا حصہ بناتا، کسی سے ملنے کے وقت چهرے پر مسکراھٹ کانمودار کر کے دِل جوئی کا اظهار کرتا رہا ۔

علامه شهید کا علمي خدمات[ترمیم]

جامعه اکوڑه خٹک پشاور میں مولانا عبد الحق حقاني صاحب کے هاں سند فراغت کے بعد علمي میدان کا شهسوار بنا اور الله تعالی نے مسائل حل کرنے ميں عجیب ملکه اور شرح صدر سے مالا مال کر کے، اسلاف کا یادگار چھوڑا ۔

ایک مرتبه آپ سےکسی مسئله کے بارے دریافت کیا گیا، مسئله یه تھا که ایک آدمی نے آپنے بیوی سے یوں کها اگر تم نے وضوء کیا تو تجھے طلاق مسئله حل کرنے کے لیے اور طلاق نه هونے کيلئے حضرت علامه صاحب نے ایک عجیب اور حیران کن تدبیر سو جھی وه یه ہے که عورت کو بُلا لی اور اپنے حضور میں اس سے وضوء کرانے کا کها اور اس عورت نے وضوء بنایا تو آپ نے کها که وضوء هوگئ ؛ لیکن طلاق واقع نه هو گی کیونکه  یه ایک ایسا وضوء ہے جو که شرعي طریقه کے مطابق نهیں اور شوهر نے عورت سے کامل اور شرعی وضوء کا کها تھا، تو آپ نے اس جیسی پيچده مسائل حل کر قوم کاراهنمائي کرتا رہا۔

اپنے قوم وعلاقے والوں کی صحیح راه نمائي کے خاطر آپ نے ایک فقهي مجلس کا انعقاد فرمایا جس میں خطے کے جید علما آپ کے سربراهي ميں درپيش پیچده مسائل کا حل نکالتا ۔

حضرت علامهؒ کے بعد کیا ره گیا ؟[ترمیم]

حضرت علامه صاحب کا مشن اور علمي خدمات آپ کے زندگی تک محدود نہ رہا، بلكہ ایسے با استعداد تلامذه چھوڑ کرگئے جو هر ایک آپ کے مشن کو آگے بڑھانے کے درپے شب و روز ایک کر کے محنت جاری رکھا ہے ۔

خصوصا آپ کا فرزند حضرت مولانا محمّد یوسف آپ کے تمام تحریکات کيلئےمحرک بنا اور آپ کے دوره حدیث نبيؐ کے تمام اسباق کو سي ڈي ميں جمع کر فائده برائے علما کيلئے شائع کردی اور آپ کے درسي تقاریر کو ترتیب ديکر چار جلدوں ميں بخاري شریف کا شرح تیار کرنے کي عزم کیا، یه (شرح صحیح البخاری للعلامه عبد الغني) کے نام سے موسوم هوگا اور آپ کے جاري خدمات ميں سےعظیم خِدمت کُوه کوژک کي دامن ميں شرعي علوم سے آباد ایک دیني اداره بھي ہے جس ميں ایک عظیم جامع مسجد آپ هي کے حیات ميں تعمیر هوا اور اس اداره ميں بیک وقت گوناگون خدمات وفنون سے شائقين مستفيد هورهے هیں، ظاهري ومعنوي لحاظ سےایک آباد اور خطے ميں بے مثال اور لوگوں کا مرجع اداره ہے ۔

علامه صاحب ؒ کے تلامذه[ترمیم]

آپ کے بے شمار تلامذه آپ کے معتبر شخصیت کا واضح دلیل ہے، چھ ہزار کے لگ بھگ تو وه قابل ذکر تلامذه ہے جنہوں نے براه راست آپ سے حدیث سُن کر سند فراغت حاصل کیا آپ کے برکت سے آپ کے اِن تلامذه کا شمار بهت کم ہے جن سے کوئی دیني کام لیا گیا هو يه آپ کے فيوضات اور برکات کا کامیاب نتیجه ہے ۔

علامه صاحب ؒ کےشهادت[ترمیم]

حضرت علامه صاحبؒ ۲۰۱۱ ع بمطابق ۱۴۳۳ ھ بروز بدھ بوقت صبح نو بجے گھر سے اپنے علمي ٹھکانے (ادارے) کے طرف جانے کے دوران باوضوءها تھ ميں بخاري شریف ايک ٹریفک حادثه ميں جان جان آفرين کو سپر دکیا جام شهادت نوش فرماتے هوے هي، اندرون وبيرون ملک ميں آپ کے شهادت کا خبر پھيل گیا، مدارس وجامعات ميں شروع اسباق رُک گئے، اکثر علما، طلبہ اور دیندار عوام آپ کے جنازه ميں شرکت کيلئے روانه هوئے، آپ کےنماز جنازه ميں لاکھوں تعداد ميں لوگوں نے شرکت کر کے آپ کو سپرد خاک کیا اور نماز جنازه شیخ حافظ محمّد یوسف صاحب نے پڑھائي۔[1]

اللّهُمّ بعفوك اجعل الجَنَّة مثواهُ آمين .

علامه صاحب کے بارے میں ایک کتاب لکھی گئی ہے اس کے PDF مندرجه ذیل ميں ڈانلوڈ کريں ! [2]

حواله جات[ترمیم]

  1. "wikipedia.org". 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  2. "pdf" (PDF).