عبد القادر رائے پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد القادر رائے پوری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1873  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ضلع سرگودھا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 اگست 1962 (88–89 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سرگودھا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر

عبد القادر رائے پوری (پیدائش: 1873ء— وفات: 16 اگست 1962ء) ڈھڈیاں ، جھاوریاں، ضلع سرگودھا، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ عبد الرحیم رائے پوری سے سلوک کی تعلیم حاصل کی اور مجاز بیعت و ارشاد ہوئے۔ خلفاء میں سید ابو الحسن علی ندوی، نفیس الحسن الحسینی شاہ مولانا شاہ عبد الجلیل رائے پوری، امیر تبلیغ حاجی عبد الوھاب ،امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد علی لاہوری، ماسٹر منظور محمد ،مولانا عبد الرحمن بھکھروی، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا محد انوری ،شاہ عبد الوحید، مولانا عبد المنان، عبد العزیز گمتھلوی کے نام نمایاں ہیں۔[1]

شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری کی طالب علمی

حضرت اقدس مولانا الحاج شاہ عبد القادر صاحب رائے پوری نور اللہ مرقدہٗ نے اپنی طالب علمی کے واقعات بہت ہی کثرت سے سنائے۔ یہ ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ سردی میں کوئی کپڑا سردی کا نہیں تھا۔ کسی سے اظہار کو غیرت مانع تھی۔ اس کی انتہائی کوشش میں رہتا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو۔ جب تک مسجد کے کواڑ کھلے رہتے، حمام کے سامنے سیکنے کے بہانے سے بیٹھارہتا اورجب سب چلے جاتے تو مسجد کے اندر زنجیر لگاکر مسجد کی صف کے ایک کونے پرلیٹ کر کروٹیں بدلتا ہوا دوسرے کونے تک پہنچ جاتا۔ وہی صف اوڑھنا بچھونا بن جاتی تھی۔ سر اورپیروں کی طرف سے خوب ہوا لگتی رہتی تھی۔ تہجد کے وقت اسی طرح کروٹیں بدلتا ہوا دوسری جانب آجاتا،صف بچھ جاتی۔ پھر ارشاد فرمایا وہ سردی تو گذرگئی لیکن اللہ کے فضل سے اس کے بعد سے کوئی سال ایسا نہیں گزرا کہ مالک کی طرف سے ایک دو لحاف عمدہ ہدیہ کے اندرنہ آئے ہوں۔ حضرت نور اللہ مرقدہٗ نے اپنی طالب علمی کی جد وجہد اور رائے پور کی ابتدائی حاضری کے واقعات اتنی کثرت سے سنائے کہ ان کے لکھنے کے واسطے بڑا دفتر چاہئے۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ سہارنپور کی طالب علمی کے دور میں داخلہ بند ہوچکا تھا۔ مطبخ تو مدرسہ کے اندر اس وقت تک قائم ہی نہیں ہوا تھا۔ طلبہ کو وظیفہ ملا کرتا تھا۔ دارالطلبہ بھی نہیں بنا تھا۔ اس لیے طلبہ کا قیام مساجد میں رہتا تھا۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ ایک مسجد میں ہمارا پانچ آدمیوں کا قیام تھا۔ ایک طالب علم امام تھا اس کاکھانا محلہ سے آتا تھا، اوردو کا وظیفہ مدرسہ سے تھا۔ وہ اسباق سے فارغ ہونے کے بعد اپنی روٹی خود ہی پکایا کرتے تھے۔ کبھی دال بھی پکالی ورنہ چٹنی۔ تین آدمیوں کا کھانا ہم پانچ آدمی کھایا کرتے تھے۔ پیٹ صرف اس دن بھرتا تھا جب کہ محلہ میں کسی جگہ دعوت ہوتی تھی یا جمعرات وغیرہ کو مسجد میں کوئی اور کچھ دے جائے، ورنہ آدھی بھوک ہی اکثر کھانے کی نوبت آتی تھی۔ حضرت نے موجودہ طلبہ کے ہنگاموں پرکئی مرتبہ ارشاد فرمایا کہ یہ تم لوگوں نے مطبخ جاری کرکے کیا ہے، دونوں وقت پکی پکائی بے فکری سے ملتی ہے۔ اس لیے کبھی روٹی کچّی مل جاتی ہے، کبھی سالن ناپسند ہوجاتا ہے۔ ہم لوگوں کو اسباق کے بعد اس زمانے میں اپنی اپنی روٹی پکانے کی فکر پڑجاتی تھی۔ اپنے ہی ہاتھ سے طلبہ عام طور سے پکاتے تھے۔ کچّی پکّی جیسی پک جاتی تھی، اسی کو غنیمت سمجھتے تھے۔ اپنی پکائی ہوئی ہوتی تھی، اس میں عیب نہیں نکلتا تھا۔ اب مطبخ سے پکّی پکائی ملتی ہے، سینکڑوں عیوب اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں اور شکم سیر روٹی کھاکر لغویات کی سوجھے ہے۔ ہم لوگوں کوا تنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ ان خرافات کی سوجھے، حدیث پاک کے اندر بھی اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔’’ الا یوشک رجل شبعان علی اریکتہ یقول علیکم بہذا القرآن فما وجدتم فیہ من حلال فاحلوہ فما وجدتم فیہ من حرام فحرّموہ وانّما حرم رسول اللّٰہ کما حرم اللّٰہ ‘‘ الحدیث (مشکوٰۃ بروایۃ ابی داؤد) ترجمہ: ’’ عنقریب ایک زمانہ آئے گا کہ ایک آدمی پیٹ بھرا اپنے مزین تخت پر بیٹھا ہوا کہے گا کہ بس قرآن پاک کو مضبوط پکڑو، ہم صرف اسی کو مانیں گے جو حلال وحرام قرآن میں ہے، حالانکہ اللہ کے رسول نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ ایسی ہی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہیں‘‘۔ یہ ارشاد مبارک ان لوگوں کے بارے میں ہے جو حدیث شریف کا انکار کرتے ہیں۔ اورحضورا قدس ﷺ نے سچ فرمایا کہ یہ ساری باتیں پیٹ بھرائی اورپیسے سے پیدا ہوتی ہیں۔ فقر وفاقہ میں لغویات اور خرافات کی نہیں سوجھتی۔ حضرت نور اللہ مرقدہٗ اپنے رائے پور کی حاضری کے ابتدائی دور کے قصّے بھی بہت ہی لطف اورمزے لے لے کر سنایا کرتے تھے، کیونکہ اپنے شیخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری قدس سرہٗ کے خادم خاص تھے۔ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت شیخ قدس سرہٗ کو لٹانے کے بعد جب دوپہر کو حضرت آرام فرماتے تو میں کواڑ بند کرکے مہمانوں کے کھانا پکنے کی جگہ جاتا۔ معز الدین مرحوم جو بڑے حضر ت کے مہمانوں کے کھانے پکانے کے منتظم تھے،وہ سب مہمانوں کو کھلاکر مطبخ بند کرکے اپنے گھر چلے جاتے۔ میں وہاں جاکر دیکھتا، کبھی ایک آدھ روٹی بچی ہوئی ہوتی۔ سالن کی دیگچیوں سے پونچھ کر کھالیتا اور کبھی کچھ بھی بچا ہوا نہیں ہوتا تھا تو سوکھے ہوئے ٹکڑے طاقوں وغیرہ میں رکھے ہوئے مل جاتے تھے ان کو پیالے میں ڈال کر پانی میں بھگوکر نمک ڈال کر، اوراگر نمک نہ ملتا تو بغیر نمک ہی کے کھا لیا کرتا تھا۔ کبھی پیٹ بھرتا،کبھی نہ بھرتا۔ کسی دوسرے سے تو کیا کہتا، میں نے کبھی معزالدین مرحوم سے بھی یہ نہیں کہا کہ تم نے میرے واسطے روٹی نہیں رکھی۔ اوربھی اس قسم کے واقعات سناکر ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ آج کل کے خدام کے لیے اگر کھانا نہ بچے تو منتظم کی جان کو آجائیں۔​ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابو الحسن علی ندوی: سوانح حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری، مکتبہ اسلام، لکھنؤ، 2005ء۔
  2. ۔ مولانامحمدزکریامہاجرمدنی کی آپ بیتی سے ماخوذ