عبد القدیر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبدالقدیرخان
ہلال امتیاز، نشان امتیاز (دو دفعہ)
Qadeerkhan.jpg
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
پیدائش 1 اپریل 1936 (1936-04-01) ‏(80)بوپھال, مدیہہ پردیش، هندوستان
سکونت اسلام آباد, پاکستانی دارالخلافه
شہریت پاکستان
قومیت پاکستانی
میدان Metallurgical Engineering
ادارے یونیرکو گروپ
خان ریسرچ لیبارٹریز
فزیکل ڈاینامک ریسرچ لیبارٹری
غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجنیرنگ و ٹیکنالوجی
مادر علمی جامعہ کراچی
ٹیکنیکل یونیورسٹی برلن
کیتھولک یونورسٹی لیوان
ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی
علمائی مشیر Martin J. Brabers [1]
دیگر تعلیمی مشیر بشیر سید
وجہِ معروفیت برائے پاکستان کیلیۓ ایٹمی پروگرام
اہم انعامات ہلال امتیاز (14-8-1989)
نشان امتیاز (14-8-1996 اور 23-3-1999)
شریک حیات ھینی قدیر خان

پیدائش: 1936ء

پاکستانی سائسندان۔پاکستانی ایٹم بم کے خالق۔ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔عبد القدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ عبد القدیر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعدازاں اس ادارے کا نام صدریاکستان جنرل محمدضیاءالحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبدلقدیر خان نے نومبر 2000ء میں ککسٹ نامی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔

جدید روایتی میزائل کا معائنہ کرتے ہوئے

عبدالقدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے عبدالقدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ

عبدالقدیرخان وه مایه ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتهائی قلیل عرصه میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافته سائنس دانوں کو ورطه حیرت میں ڈالدیا. مئی 1998ء کوآپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابله میں وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی ـ بالآخر وزیراعظم میاں محمد نوازشریفنے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کۓ ـ اس موقع پر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا که ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ یوں آپ پوری دنیا میں مقبول عام ہوۓ. سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔ اسکے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا جارها ہے۔ مغربی دنیا نے پرپگینڈا کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے بخوشی قبول کرلیا۔ پرویزمشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹرعبدالقدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظربند رہے۔ انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔

1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔

فاروق لغاری سے نشان امتیاز حاصل کرتے ہوئے

14 اگست 1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغا بھی انکو عطا کیا گیا۔

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet کے نام سے ایک فلاحی اداره بنایا ـ جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم عمل ہے.

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔

مزید دیکھئیے[ترمیم]

ڈاکٹر عبدالقدیر خان گولڈمیڈل، جوکہ سائنسی خدمات پر پاکستانی سائنسدانوں کو دیا جاتا ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "The Wrath of Khan - Magazine". The Atlantic. 2004-02-04. اخذ کردہ بتاریخ 2010-09-26.