عبد القدیر خان
| عبد القدیر خان | |
|---|---|
| (اردو میں: عَبْد الْقَدِير خان) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 1 اپریل 1936ء [1] بھوپال |
| وفات | 10 اکتوبر 2021ء (85 سال)[2] اسلام آباد |
| وجہ وفات | کووڈ-19 [3] |
| مدفن | شاہ فیصل مسجد [4] |
| طرز وفات | طبعی موت |
| شہریت | |
| قد | 1.98 میٹر |
| تعداد اولاد | 2 |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | ڈلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی جامعہ کراچی |
| پیشہ | طبیعیات دان [5]، انجینئر ، استاذ جامعہ ، دھات کار ، نظریاتی طبیعیات دان ، جوہری طبیعیات دان ، سائنس دان |
| مادری زبان | اردو |
| پیشہ ورانہ زبان | اردو ، انگریزی |
| شعبۂ عمل | طبیعیات ، نویاتی طبیعیات ، دھات کاری |
| ملازمت | ڈلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ، یورینکو گروپ ، خان ریسرچ لیبارٹریز ، غلام اسحاق انسٹیٹیوٹ برائے انجینیرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی |
| مؤثر | سلطان بشیر الدین محمود |
| اعزازات | |
| ویب سائٹ | |
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| IMDB پر صفحات | |
| درستی - ترمیم | |
ڈاکٹر عبد القدیر خان (پیدائش: 1 اپریل 1936ء - وفات:10 اکتوبر 2021ء) پاکستانی سائنس دان اور پاکستانی ایٹم بم کے خالق تھے۔ ان کا تعلق پختون قبیلے یوسف زئی سے تھا۔
پیدائش
[ترمیم]ڈاکٹر عبد القدیر خان ہندوستان کے شہر بھوپال میں ایک اردو بولنے والے گھرانے میں 1 اپریل 1936ء کو پیدا ہوئے۔[6][7][8][9][10]
تعلیم
[ترمیم]عبد القدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی[11][12] ، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ [13] اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن[14] میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان لوٹ آئےـ عبد القدیر خان نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئری کی اسناد حاصل کیں۔[15]
عملی زندگی
[ترمیم]تعلیم حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر "انجینئری ریسرچ لیبارٹریز" کے پاکستانی ایٹمی پروگرام میں حصہ لیا۔ بعد ازاں اس ادارے کا نام صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے یکم مئی 1981ء کو تبدیل کرکے ’ ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے نومبر 2000ء میں ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی درسگاہ کی بنیاد رکھی۔
عبد القدیرخان پر ہالینڈ کی حکومت نے غلطی سے اہم معلومات چرانے کے الزام میں مقدمہ دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسروں نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انھوں نے عبد القدیر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام کتابوں میں موجود ہیں ـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیاـ
عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنھوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ 10 اکتوبر 2021ء اسلام آباد میں وفات پائی۔
ایٹم بم
[ترمیم]مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی۔ بالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورمیں آپ نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے۔
اس موقع پر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔
اس کے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ مغربی دنیا نے پرپگینڈا کے طور پر پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بخوشی قبول کر لیا۔ پرویز مشرف کے دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبد القدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظربند رہے۔
مضامین
[ترمیم]انھوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔
اعزازات
[ترمیم]1993ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند سے نوازا۔ 14 اگست 1996ء میں صدر پاکستان فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغا بھی ان کو عطا کیا گیا۔[16][17]
مزید خدمات
[ترمیم]ڈاکٹر عبد القدیر خان نے سیچٹ (sachet) کے نام سے ایک فلاحی ادارہ بنایا ـ جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم عمل ہے۔
شادی
[ترمیم]ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران میں ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی، جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔[18][19][20]
وفات
[ترمیم]ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صبح 6 بجے کے قریب پھیپھڑوں کے مرض کے سبب کے آر ایل ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کی طبیعت مزید خراب ہو گئی، ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے انھیں بچانے کی پوری کوشش کی تاہم 10 اکتوبر 2021ء کی صبح 7 بج کر 4 منٹ پر وہ پاکستانی قوم کو سوگوار چھوڑ کر. دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کی وصیت کے مطابق ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔[21][22][23] وجہ وفات کورونا پیچیدگی اور پھیپھڑوں سے خون بہنا تھی۔[24][25]
میراث
[ترمیم]اشاعتیں
[ترمیم]مزید دیکھیے
[ترمیم]- ڈاکٹر عبدا لقدیر خان گولڈ میڈل
- ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنسز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی
- اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مصنف: اینڈریو بیل — ناشر: انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا انک. — Encyclopædia Britannica — اخذ شدہ بتاریخ: 1 دسمبر 2016
- ↑ https://ecodiario.eleconomista.es/asia/noticias/1018764/02/09/Liberan-a-Abdul-Qadeer-Khan-el-padre-de-la-bomba-atomica-en-Pakistan.html
- ↑ Nuclear scientist Dr Abdul Qadeer Khan passes away at 85 in Islamabad
- ↑ https://www.reuters.com/world/obituary-pakistan-nuclear-scientist-aq-khan-centre-proliferation-scandal-dies-2021-10-10/
- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — ربط: https://d-nb.info/gnd/128499567 — اخذ شدہ بتاریخ: 24 جون 2015 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ Dr Abdul Qadeer khan Share his Experience Must Watch۔ Riphah TV۔ 25 نومبر 2019۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-30 – بذریعہ YouTube
- ↑ "Overview of Dr.Abdul Qadeer Khan's Life"۔ خیبر نیوز
- ↑ "Overview of Dr.Abdul Qadeer Khan's Life on his 83rd Birth Anniversary"۔ اے آر وائی نیوز۔ 1 اپریل 2019۔ 2021-10-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-19
- ↑ "Tribute to Dr A Q Khan"۔ پاکستان اوبزرور۔ 2 اپریل 2021۔ 2021-10-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-19
- ↑ "Dr. Abdul Qadeer Khan faces discrimination because he is a Mohajir & not considered Son of Soil - video Dailymotion". Dailymotion (بزبان انگریزی). 28 May 2013. Retrieved 2022-04-18.
- ↑ "Profile: Abdul Qadeer Khan"۔ 20 فروری 2004۔ 2006-06-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2006-08-03 – بذریعہ BBC News
- ↑ "Dr. Abdul Qadeer Khan, Founder and Ex-Chairman Dr. A Q Khan Research Laboratories"۔ Pakistanileaders۔ 2010-09-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-09-26
- ↑ "Dr. Abdul Qadeer Khan"۔ storyofpakistan.com۔ Islamabad: Story of Pakistan Press Foundation۔ 17 اکتوبر 2013۔ ص 1۔ 2015-01-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-01-22
- ↑ Owen Bowcott (6 فروری 2009)۔ "Profile: Abdul Qadeer Khan"۔ The Guardian۔ 2018-06-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-19
- ↑ Owen Bowcott (6 فروری 2009)۔ "Profile: Abdul Qadeer Khan"۔ The Guardian۔ 2018-06-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-06-19
- ↑ Abdul Qadeer Khan (HI, NI & Bar) remains the only Pakistani who got the Nishan-i-Imtiaz, the highest civil award twice. He also got the Hilal-i-Imtiaz, along with Munir Ahmad Khan, in 1989. A
- ↑ Shabbir, Usman, Remembering Unsung Heroes: Munir Ahmed Khan, Defence Journal, 27 June 2004
- ↑ William Langewiesche (نومبر 2005)۔ "The Wrath of Khan"۔ دی اٹلانٹک (میگزین)۔ 2011-09-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-10
- ↑ عبد القدیر خان دائرۃ المعارف بریطانیکا پر.
- ↑ "PID"۔ Press Information Department۔ 4 نومبر 2021۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-09-06
- ↑ "Nuclear scientist Dr Abdul Qadeer Khan given state funeral, laid to rest in Islamabad"۔ Dawn۔ 10 اکتوبر 2021۔ 2021-10-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-10
- ↑ https://www.city42.tv/10-Oct-2021/72985
- ↑ "Dr Abdul Qadeer disappointed with PM Imran for not inquiring after his health"۔ Dawn۔ 13 ستمبر 2021۔ 2021-10-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-10
- ↑ https://urdu.geo.tv/latest/266157
- ↑ "Abdul Qadeer Khan: 'Father of Pakistan's nuclear bomb' dies"۔ BBC News۔ 10 اکتوبر 2021۔ 2021-10-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-10-10
- 1936ء کی پیدائشیں
- 1 اپریل کی پیدائشیں
- 2021ء کی وفیات
- 10 اکتوبر کی وفیات
- اسلام آباد میں وفات پانے والی شخصیات
- نشان امتیاز وصول کنندگان
- ستارۂ امتیاز وصول کنندگان
- ہلال امتیاز وصول کنندگان
- اسلام آباد کی شخصیات
- اسلام آباد میں کورونا وائرس کی وبا سے اموات
- بھوپال کی شخصیات
- بھوپال کے سائنس دان
- بلجئیم میں پاکستانی تارکین وطن
- بیسویں صدی کی پاکستانی شخصیات
- پاکستان کو بھارتی تارکین وطن
- پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا سے اموات
- پاکستان میں نیوکلیائی توانائی
- پاکستانی اسکولوں اور کالجوں کے بانیان
- پاکستانی جاسوس
- پاکستانی زیر حراست اور قیدی شخصیات
- پاکستانی سائنسدان
- پاکستانی سیاسی جماعتوں کے بانیان
- پاکستانی طبیعیات دان
- پاکستانی علما
- پاکستانی کاروباری شخصیات
- پاکستانی کالم نگار
- پاکستانی ماہرین نیوکلیائی طبیعیات
- پاکستانی محققین
- پاکستانی مسلم شخصیات
- پاکستانی معلمین
- پاکستانی موجدین
- پاکستانی مہندسین
- پاکستانی یاداشت نگار
- پشتون شخصیات
- جامعہ ہمدرد کا تدریسی عملہ
- جوہری پھیلاؤ
- جوہری جنگ
- ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج کے فضلا
- شمالی کوریا پاکستان تعلقات
- طرحبند نویاتی اسلحہ
- غلام اسحاق انسٹیٹیوٹ برائے انجینیرنگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا تدریسی عملہ
- جامعہ کراچی کے فضلا
- کراچی کی شخصیات
- کراچی کے انجینئرز
- مسلم سائنس دان
- مسلمان علما
- منصوبہ-706
- مہاجر شخصیات
- نظریاتی طبیعیات دان
- نیوکلیائی توانائی
- ویکی منصوبہ پاکستان کے مضامین

