عبد القیوم (غازی آبادی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

غازی عبد القیوم شہید برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) کے شہر غازی آباد ضلع ہزارہ کے رہنے والے تھے۔ تلاش روزگار میں کراچی منتقل ہو گئے تھے اور گھوڑا گاڑی چلایا کرتے تھے۔ اس قلیل آمدنی سے اپنی بوڑھی ماں، بیوہ بہن، ضعیف چچا اور نوبیاہتا بیوی کی کفالت کرتے تھے (ان کی شادی کو دس دن ہوئے تھے)۔ غازی صوم و صلواۃ کے پابند تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

اسمِ گرامی:غازی عبدالقیوم خان شہید۔والد کااسم گرامی:عبد اللہ خان علیہ الرحمہ۔لقب: غازی ِاسلام،محافظ ناموس مصطفیٰﷺ۔آپ کاتعلق غیوروبہادرقوم پٹھان سےتھا۔آپ کاتعلق ایک غریب اور مذہبی گھرانےسےتھا۔1932ء میں ان کےوالدِگرامی عبد اللہ خان کاانتقال ہو گیا۔

تاریخِ ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت باسعادت 1330ھ مطابق 1912ء کو’’غازی آباد‘‘ضلع ہزارہ میں ہوئی۔

حصول علم[ترمیم]

غازی عبد القیوم خان کو بچپن ہی سے مذہبی تعلیم کا شوق تھا۔ چھٹی جماعت پاس کرکے گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھنا شروع کر دیا۔ اکثر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے رہتے۔ اسکول چھوڑ کر قرآنِ مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گئے، صوم و صلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے۔

سیرت وخصائص[ترمیم]

غازی اسلام،شہید اسلام،محافظِ ناموس رسالت ،محسن ِ امت،پیکرِغیرت وحمیت،کشتۂ عشق ومحبت،عاشق رسول غازی عبدالقیوم شہید۔رسم شبیری اور ضرب حیدری کی یاد تازہ کرنےوالے عاشق جانباز،مصطفیٰ کریمﷺ کےجان نثار،عاشق ِصادق،محافظ عظمتِ محبوبِ خداﷺ،شمع مصطفیٰﷺ کایہ بےتاب پروانہ مذہب سےلگاؤ گھٹی میں شامل تھا۔ اس کی بےداغ جوانی پروان چڑھی تو صحیح معنوں میں ایک مسلمان اور صالح جوان کی پاکیزہ جوانی تھی۔نماز روزہ کسبِ حلال پر عمل اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان خالص اور رسول اکرمﷺ سےبےپاں عقیدت ومحبت ان کےایمان کےاجزائے ترکیبی تھے۔آج کےبرعکس اس وقت برصغیر کےہرمسلمان کی تعمیر انہیں خطوط پرہوتی تھی۔غازی عبدالقیوم شہید﷫ ایک بوڑھے چچا،ضعیف والدہ،اور ایک بیوہ بہن کےکفیل،اور ان کےعلاوہ ایک نئی نویلی دلہن کی آرزؤں اور تمناؤں کےامین تھے۔وقوعہ سےچندعرصہ قبل ان کی شادی ہوئی تھی۔بڑی بڑی کتب،اوراعلیٰ ڈگریوں کےحامل نہیں تھے۔بلکہ ایک ناظرہ قرآن مجید کے تلاوت کرنے والے سیدھے سادے دیہاتی مسلمان تھے۔البتہ بدروحنین،خیبر وکربلا،فاتحین ِ اسلام کےواقعات سنےہوئے تھے۔جانثارانِ اسلام سےوالہانہ عقیدت ومحبت رکھتےتھے۔

انتخابِ خداوندی[ترمیم]

جب ان کی عمر 21/22 سال کی ہوئی تو 1934ء میں ان کی شادی کردی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے۔یہاں گھوڑا گاڑی چلاتے تھے۔لیکن ان کا زیادہ تر وقت گھر کےقریبی مسجد میں تلاوتِ قرآن، ذکر اللہ اور نوافل وغیرہ میں گزرتا تھا۔ وہیں باجماعت نماز بھی اداکرتےتھے۔امام صاحب نےدرس میں نتھورام کی خرافات کابیان کیا،غازی صاحب کی غیرت ایمانی نےکروٹ لی،اور وہیں مسجد کےصحن میں اللہ تعالیٰ سےعہدکیا کہ اس گستاخ کوجہنم واصل کرکےاللہ کی زمین کواس سےپاک کروں گا۔دوسرے ہی دن بازار سے ایک چاقو خریدا اور نتھو رام ہندو کی آئندہ پیشی کا انتظار کرنے لگے۔

پس منظر[ترمیم]

ایک بدبخت نتھورام آریہ سماجی ہندو تھا جس نے 1933ء میں اپنے خبث باطن کا اظہار " ہسٹری آف اسلام " نامی کتاب لکھ کر کیا جس میں اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدس کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس حرکت سے مسلمانوں میں سخت غم وغصہ پیدا ہو گیا۔ اس ملزم کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم ہو ا اور اس کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ لیکن کراچی کے جوڈیشنل کمشنر نے اس کی عبوری ضمانت منظور کرکے اس کو رہا کر دیا۔ اس پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔۔ غازی کو جب امام مسجد نے یہ افسوسناک خبر سنائی کہ ایک خبیث ہندو نتھورام نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے تو آپ تڑپ اٹھے اور اسی وقت عہد کیا کہ وہ اس کافر کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔

وقوعہ[ترمیم]

نتھورام کا مقدمہ جس روز سندھ ہائی کورٹ میں دو انگریز ججوں کے سامنے پیش ہونا تھا اس دن عدالت کے باہر ہندو اور مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی جو فیصلہ سننے کے انتظار میں تھے۔ نتھورام اپنے وکلا کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا ہوا کور ٹ میں داخل ہوا۔

غازی موقع ملتے ہی کورٹ روم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے آپ نے موقع ملتے ہی اپنے نیفے میں چھپا ہوئے خنجر کو نکالا اور عقاب کی طرح جھپٹ کر اس ملعون کے جسم میں اتار دیا۔ اس خیال سے کہ یہ بدبخت کہیں زندہ نا بچ جائے غازی نے ایک بھرپور وار اس کی گردن پر کر کے اس کی شہ رگ بھی کاٹ دی۔ اس خبیث کا کام تمام کرنے آپ نے اس کی لاش پر تھوک دیا اور فرمایا "

اس خنزیر نے میرے آقا کی توہین کی تھی اس لیے میں نے اس کو جہنم رسید کر دیا ہے " اس کے بعد آپ نے نہایت اور سکون سے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد عدالت میں بھگدڑ مچ گئی اور جج بھی سراسیمہ ہو گئے۔

مقدمہ[ترمیم]

مقدمہ قتل کی سماعت کے دوران میں ایک انگریز جج نے جب آپ سے دریافت کیا کہ تم نے بھری عدالت میں اس واردات کی ہمت کیسے کی تو آپ نے عدالت میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا " تم انگریز کیا اپنے بادشاہ کی توہین برداشت کرسکتے ہو؟ نہیں تو پھر میں اپنے دین ودنیا کے آقا رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کی توہین کیسے برداشت کر سکتا تھا"۔ آپ نے اپنی صفائی پیش کرنے سے انکار کر دیا۔ سیشن کورٹ نے آپ کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سزا سن کر آپ خوشی اور مسرت ضبط نہیں کرسکے اور آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی۔ مسلمانوں نے جب اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنا چاہی تو آپ نے فرمایا

" آپ لوگ مجھے دربار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں حاضری کی سعادت سے کیوں محروم کرنا چاہتے ہیں؟ "

عدالت عالیہ میں[ترمیم]

عدالت عالیہ میں آپ کی سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی۔ ہر پیشی پر آپ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے مسلمانوں کے بے پناہ ہجوم ہوا کرتا تھا جو آپ پر گل پاشی کرتا اور نعرہ تکبیر بلند کرتا رہتا تھا۔ انگریز حکومت اپنی فطری مسلم دشمنی اور ہندو نوازی کے باعث ہر صورت آپ کو سزا دینا چاہتی تھی۔ بالآخر آپ کی اپیل اعلیٰ عدالت نے خارج کرکے آپ کی سزا برقرار رکھی۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا " مجھے اپنی قسمت پر ناز ہے کہ میرے ہاتھوں وہ خبیث جہنم رسید ہوا اور میرے رب نے مجھے شہادت جیسی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ ایک جان کیا چیز ہے، اگر ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوتیں تو وہ سب اپنے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر قربان کردیتا۔

مفکر پاکستان کی نظر میں[ترمیم]

مسلمانوں کا ایک بھاری وفد لاہور علامہ اقبال کے پاس پہنچا اور کہا ”آپ وائسرائے سے مل کر عبد القیوم کی سزائے موت کی بجائے عمر قید سے بدل دینے کے لیے کہیں۔“ علامہ نے یہ سب کچھ سنا اور کوئی دس منٹ تک گہری سوچ میں ڈوبے رہے۔ لبوں کو جنبش تک نہ دی۔ آنکھیں بھر آئیں اور جذبے سے کپکپاتی آواز میں پوچھا ” کیا عبد القیوم کمزور پڑ گیا ہے؟“ جواب ملا ”نہیں وہ تو اسے اپنی خوش بختی سمجھتا ہے۔“ علامہ کا چہرہ سرخی سے تمتمانے لگا۔ ”بولے، جب وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی منت کروں جو زندہ رہا تو غازی اور پھانسی چڑھ گیا تو شہید"۔

شہادت[ترمیم]

19ذوالحجہ 1353ھ 13 مارچ 1935ء کو آپ کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا۔ آپ کی عمر اس وقت 23 سال تھی۔ یہ دن لوح تاریخ پر ثبت ہو گیا۔ غازی عبد القیوم شہادت سے ہم کنار ہو کر امر ہو گیا۔“

جنازہ[ترمیم]

شہید کے جنازے میں ہزاروں مسلمان شریک ہوئے جن کے ہجوم پر انگریزی حکومت کے ایما پر انگریز فوج و پولیس نے گولیوں کی بارش کردی۔ سینکڑوں مسلمان اس درندگی کا شکار بنے۔ یہاں تک کے مکانوں کی چھتوں پر موجود عورتیں اور بچے جو شہید کا جنازہ دیکھ رہے تھے وہ بھی اس شقاوت سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ اصل میں گورے فوجیوں نے خاموشی سے پھانسی دینے کے بعد جب اس غازی کو میوہ شاہ قبرستان لاکر دفن کرنا چاہا تو ہزاروں مسلمان جمع ہو گئے۔ گھبرا کر انگریز فوج نے چاکیواڑہ میں مجمع پر گولی چلادی اور 122 مسلمانوں کو شہید اور دو ہزار کو زخمی کر دیا۔ شہید کو کراچی کے مشہور قبرستان میوہ شاہ میں سپردخاک کیا گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شہیدان ناموس رسالت۔صفحہ 73محمد متین خالد فاتح پبلشر لاہور

ماخذومراجع: