مندرجات کا رخ کریں

عبد اللہ بن حسون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عبد اللہ بن حسون
(عربی میں: عبد الله بن حسون)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1515ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1604ء (8889 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پرانے شہر سالے میں سیدی عبد اللہ بن حسون کے مزار اور حسونیہ زاویہ کے صدر دفتر کا داخلہ
عبد اللہ بن حسون کے مزار کے اندر
عبد اللہ بن حسون کی شمعیں

عبد اللہ بن احمد بن حسن خالدی سلاسی سلاوی مشہور طور پر ابن حسون کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ فاس میں 1515ء میں پیدا ہوئے اور 1604ء میں سلا میں وفات پائی۔ ابن حسون کو شہر سلا کے قطب اور اولیاء میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کا نام ہر سال میلاد النبی ﷺ کی تقریبات میں شمع جلانے کے رسم سے جڑا ہوا ہے، جس کی صدارت زاویہ حسونیہ کرتی ہے۔ [1]

نسب اور علمی سلسلہ

[ترمیم]

ان کا صوفیانہ نسب امام جزولی تک جاتا ہے۔ انھوں نے علم اور تصوف شیخ عبد اللہ ہبطی سے حاصل کیا، جو براہِ راست شیخ الغزوانی مول القصور سے علم و تصوف کے سلسلے میں منسلک تھے۔ بعض مورخین کے مطابق عبد اللہ بن حسون نے امام الغزوانی مول القصور سے بھی علم حاصل کیا، جس کا سلسلہ امام التباع سے امام جزولی تک پہنچتا ہے۔

عبد اللہ بن حسون اپنے زمانے کے ایک ممتاز عالم، فاضل اور بااخلاق شخصیت تھے۔ انھوں نے فقہ، تصوف اور علوم عقلی میں مہارت حاصل کی اور شاذلیہ سلسلے کے ایک قطب بن گئے۔

علمی خدمات

[ترمیم]

عبد الله بن حسون نے اپنے شیخ عبد اللہ ہبطی کے تصوف کے طریقہ کار کو سلا میں پھیلایا۔ سلا کے جامع اعظم میں انھوں نے تدریس کی، فقہ مالکی، منطق، نحو، علم کلام، حساب اور تصوف کی روحانی تعلیم دی۔ انھوں نے علوم اور معارف کو لوگوں تک پہنچایا جو انھوں نے جبل الہبط سے حاصل کیں اور اس سے سلا میں علمی اور ثقافتی زندگی کو فروغ ملا۔

جہاد اور دفاع

[ترمیم]

عبد الله بن حسون نے غیر ملکی قابضین کے خلاف جہاد میں حصہ لیا، جیسے کہ مشہور معرکہ وادی المخازن اور پرتگالیوں کے خلاف سلا اور الرباط میں لڑائیاں۔ محمد بن علی دكالی لکھتے ہیں کہ "وہ ایک بہادر اور مجاہد تھے۔ پرتگالی حملوں کے دوران انھوں نے اپنے مریدوں کے ساتھ دشمن کو پسپا کیا اور بھاری نقصان پہنچایا۔ لوگوں نے انھیں قدر کی نگاہ سے دیکھا اور سمجھا کہ وہ زندگی میں اور مرنے کے بعد بھی قابل احترام ہیں۔"

ان کی تربیت میں طلبہ میں جهاد اور دشمن کی نفرت کے جذبات شامل تھے، جس کے نتیجے میں محمد العياشي جیسے قومی ہیرو سامنے آئے۔

مشہور شاگرد

[ترمیم]

عبد اللہ بن حسون کے مشہور شاگردوں میں شامل ہیں:

محمد عياشی مالكی (ت 1641)

محمد سعيد عتابی (ت 1623)

محمد بن محمد الواوزغتی (ت 1662)

محمد بن ابی بكر الدلائی (ت 1046)

احمد بن محمد ابن عطيہ (ت 1607)

محمد قجيری (ت 1046)

عبد اللہ سائح (ت 1076)

زاویہ حسونیہ اور شمعوں کی تقریب

[ترمیم]

زاویہ حسونیہ کے پاس سلا اور اس کے نواح میں بہت سی جائدادیں تھیں جو شمعوں کی تزئین اور میلاد کی رات غریبوں کو کھانا دینے کے اخراجات کے لیے وقف تھیں۔ ضریح ابن حسون سلا میں جامع اعظم کے قریب واقع ہے اور سلطان مولای إسماعيل بن علی شريف نے اس کی تعمیر کروائی۔ بعد میں حسن الثانی نے ضریح کو وسعت دی اور مرمت کروائی، جس سے یہ سلا کے سب سے خوبصورت اور مزین مزارات میں شامل ہو گیا۔

وفات

[ترمیم]

عبد اللہ بن حسون 1013 ہجری / 1604 عیسوی میں سلا میں وفات پا گئے اور جامع اعظم کے پیچھے دفن ہوئے۔ ان کے شاگرد اور زاویہ کے پیروکار ہر سال میلاد کی شمعوں کی تقریبات جاری رکھتے ہیں، جو آج بھی محمد السادس کی سرپرستی میں منعقد ہوتی ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. جمال بامي (2012)۔ "عبد الله بن حسون السلاوي"۔ الرابطة المحمدية للعلماء