عبد اللہ بن سبا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن سبا
(عربی میں: عبد الله بن سبأ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 600  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 670 (69–70 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل اسلامی الٰہیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

عبد اللہ بن سبا ساتویں صدی عیسوی کی اسلامی تاریخ کا ایک کردار ہے۔ عبد اللہ بن سبا پہلا یہودی تھا بعد میں بظاہر مسلمان ہو گیا۔ اس نے دوسرے منافقین کے ساتھ مل کر نو مسلموں کو فریب دے کر اسلام کے مٹائے ہوئے خاندانی امتیاز اور نسلی عصبیت کو تعلیم اسلامیہ اور مقاصد ایمانیہ کے مقابلے میں پھر زندہ کیا۔ عبد اللہ بن سبا نے مدینہ، بصرہ، کوفہ، دمشق اور قاہرہ کے تمام مرکزی شہروں میں تھوڑے تھوڑے دنوں قیام کر کے عثمان غنی کے خلاف نہایت چالاکی، ہوشیاری اور شرارت سے علی المرتضیٰ کے حقدار خلافت ہونے کو نو مسلم لوگوں میں اشاعت دے کر بنی امیہ اور بنی ہاشم کی پرانی عداوت اور عصبیت کوجو مردہ ہو چکی تھی پھر زندہ کرنے کی کوشش کی۔ عبد اللہ بن سبا نے سب سے پہلے مدینہ منورہ یعنی دار الخلافہ میں اپنے شر انگیز خیالات کی اشاعت کرنی چاہی مگر چونکہ یہاں صحابہ کرام کی کثرت اور ان کا اثر غالب تھا۔ لہذا اس کو ناکامی ہوئی اور خود ہاشمیوں نے ہی اس کے خیالات کو سب سے زیادہ ملعون و مردود قرار دیا۔ مدینہ سے مایوس ہو کر وہ بصرہ پہنچا۔ وہاں عراقی و ایرانی قبائل کے نو مسلموں میں اس نے کامیابی حاصل کی اور اپنی ہم خیال ایک جماعت بنا کر کوفہ پہنچا۔ اس فوجی چھاؤنی میں بھی ہر قسم کے لوگ موجود تھے یہاں بھی وہ اپنے حسب منشا ایک مفسد جماعت بنانے میں کامیاب ہو ا، کوفہ سے دمشق پہنچا وہاں بھی اس نے تھوڑی سی شرارت پھیلائی، لیکن امیر معاویہ، حاکم شام کے بروقت مطلع ہو جانے سے زیادہ دنوں تک قیام نہ کر سکا، وہاں سے قاہرہ پہنچ کر اس نے سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصرہ و قاہرہ کے فسادی عناصر نے مل کر مدینہ منورہ کی طرف کوچ کیا اور حضرت عثمان کی شہادت کا واقعہ ظہور میں آیا۔ اس فتنہ نے 30 ہجری سے 40 ہجری تک مسلمانوں کو خانہ جنگی میں مصروف رکھ کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے کام کو نقصان پہنچایا۔ حضرت حسن نے 41 ہجری میں اس تفرق و تشتت کے بد نتائج محسوس کرکے عبد اللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں کا پیدا کردہ فتنہ کا بڑی ہمت و بہادری سے خاتمہ کیا اور امت مسلمہ پھر سے ایک مرکز سے وابستہ ہو گئی۔[1] عبد اللہ بن سبا کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک شخص تھا جس نے حضرت علی کی خدائی کا دعویٰ کیا، جس پر حضرت علی نے اسے زندہ جلادیا[2]۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]