عبد اللہ بن عامر شامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عبد اللہ بن عامر (ولادت 21ھ۔ وفات 118ھ) عبد اللہ بن عامر قراء سبعہ میں شامل ہیں

نام[ترمیم]

پورا نام عبد الله بن عامر بن يزيد بن تميم اليحصبی الشامی، جو إمام اہل الشام اورشيخ القراءسے شہرت رکھتے ہیں کنیت ابو عمران، امام الكبير اورتابعی جليل ہیں۔

ولادت[ترمیم]

ان کی ولادت موضع رحاب میں ہوئی جو چھوٹا سا قصبہ ہے شمالی اردن کا

ملاقات[ترمیم]

بڑے صحابہ سے شرف ملاقات تھی جن میں معاویہ بن ابو سفيان، نعمان بن بشير، واثلہ ابن الاسقع، وفضالہ بن عبيد، وابو الدرداء بھی تھے

اساتذہ[ترمیم]

“تیسیر” میں ابو عمر الدوانی نے ان کا ایک استاد ابو الدرداء عویمر بن عامر مشہور صحابیؓ اورمغیرہ بن ابی شہاب المخزومی اور فضالہ بن عبید اور کہا گیا کہ ابن مجاہد التمیمی سے بھی قرأ ت کا علم حاصل کیا

شاگرد[ترمیم]

ان کے شاگردوں میں یہ نام زیادہ مشہور ہیں

البررة يحیٰ بن الحارث الذماری، واسماعيل بن عبيد الله بن ابی المہاجر، وسعيد ابن عبد العزيز، وخلاد بن يزيد بن صبيح المری، ويزيد بن ابو مالك، یہ سب علم قرأت کی وجہ سے لوگوں میں پہچان رکھتے ہیں [1]

اکابرین کے اقوال[ترمیم]

1۔ امام ذہبی نے کہا: إمام الشامین في القراء ۃ’’شام میں رہنے والے لوگوں کے قرأت میں امام ہیں۔‘‘ [2]

2۔ امام عجلی نے کہا: ’ثقہ‘ [3] 3۔ امام نسائی اور ابن حبان نے ثقہ کہا ہے۔ محمد بن سعد نے کہا: کان قلیل الحدیث [4] 4۔ یحییٰ بن حارث زماری کہتے ہیں: ابن عامرشام کے قاضی تھے دمشق کی مسجد کی تعمیر پر ان کی ذمہ داری تھی اور وہ مسجد کے رئیس تھے جب مسجد میں کسی بدعت کو دیکھتے تو اس کو تبدیل کردیتے تھے۔[5] 5۔ امام اہوازی کہتے ہیں: ’’ابن عامرامام، عالم، ثقہ تھے۔ اس علم میں جو ان کے پاس تھا جس کو روایت کیا اس کے حافظ تھے اور جس کو زبانی یاد کیا اس میں پختہ تھے، پہچان رکھنے والے، اچھا فہم رکھنے والے تھے اس چیز میں جس کو لے کر آتے تھے، سچے تھے اس چیز میں جس کو اعلیٰ درجے کے مسلمانوں سے نقل کرتے، تابعین میں سے پسندیدہ تھے، اکثر روایت کرنے والوں میں سے تھے، ان کے دن میں تہمت نہیں لگائی گئی اور ان کے یقین میں شک نہیں کیا گیا، ان کے امانت داری میں شک نہیں کیا گیا۔ ان پر روایت کرنے میں طعن نہیں کیا گیا، ان کا روایت کو نقل کرنا صحیح ہے، ان کی بات فصیح ہے، اپنے مرتبے میں بلند ہیں، اپنے کام میں درستی کو پانے والے ہیں، اپنے علم میں مشہور ہیں، ان کے فہم کی طرف رجوع کیا گیا ہے، ان کی بیان کردہ احادیث کی تعداد شمار نہیں کی جاسکتی اور انہوں نے کوئی ایسی نہیں کہی جو حدیث کے مخالف ہو۔‘‘[6] جب سیدنا ابوالدرداء دمشق کی جامع مسجد میں صبح کی نماز پڑھاتے تو لوگ ان کے پاس قرآن حکیم پڑھنے کے لیے جمع ہوجاتے تو وہ لوگوں کے دس دس کے گروہ بنا دیتے تھے اور ہر دس پر ایک کو نگران مقرر کردیتے اور خود کھڑے ہوجاتے۔ لوگوں کو غور سے دیکھتے تھے بعض بعض پر پڑھتے تھے جب ان میں سے کوئی غلطی کرتا تو اپنے نگران کی طرف رجوع کرتا جب نگران بھی غلطی کرتا تو وہ سیدنا ابوالدرداء کی طرف رجوع کرتا او راس غلطی کے بارے میں آپ سے سوال کرتا اور عبد اللہ بن عامر﷫ بھی دس کے گروہ پر نگران تھے آپ ان میں بڑے تھے جب سیدنا ابوالدرداء وفات پاگئے تو ان کے نائب ابن عامربنے تھے، آپ ان کی جگہ پر کھڑے ہوئے، آپ پر تمام لوگوں نے قرأت کی، شام والوں نے آپ کو امام پکڑلیا اور انہوں نے آپ کی قراء ات کی طرف رجوع کیا۔‘‘ [7] امام ابوعبید کہتے ہیں: ’’اہل شام کے قراء میں سے ابن عامر بھی تھے وہ اپنے زمانے میں دمشق والوں کے امام تھے اسی کی طرف ان کی قراء ت گئی۔‘‘ [8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقدمات فی علم القراءات،مؤلفین: محمد احمد مفلح القضاة، احمد خالد شكرى، محمد خالد منصور،ناشر: دار عمار - عمان (الاردن)
  2. (معرفۃ القراء الکبار: 1؍186)
  3. تاریخ الثقات: 262
  4. تہذیب الکمال: 10؍245
  5. سیر أعلام النبلا: 5؍293
  6. غایۃ النھایۃ: 1؍425
  7. احسن الأخبار: 254
  8. أحسن الأخبار: 253