عبد اللہ بن مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن مسعود
(عربی میں: عبد الله بن مسعود ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عبد الله بن مسعود.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش 6ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 653 (52–53 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ زینب بنت ابو معاویہ  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ قاضی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ،  تفسیر قرآن  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد،  غزوہ خندق،  غزوہ خیبر،  غزوہ حنین،  فتح مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن مسعود (عربی: عَبْدُ اللهِ بنُ مَسْعُوْدِ بنِ غَافِلِ بنِ حَبِيْبٍ الهُذَلِيُّ ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے۔ براویتے آپ سے پہلے صرف پانچ افراد نے اسلام قبول کیا اس لیے آپ سابقون الاولون میں شامل ہیں۔ آپ نے غزوہ بدر سمیت ہر بڑے غزوہ میں شرکت کی۔

نام،نسب[ترمیم]

عبد اللہ نام،ابوعبدالرحمن کنیت،والد کا نام مسعود اوروالدہ کانام ام عبد تھا،شجرہ ٔنسب یہ ہے،عبد اللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن الحارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر حضرت عبد اللہ ؓ کے والد مسعود ایام جاہلیت میں عبدبن حارث کے حلیف تھے۔ [1]

ابتدائی حالات[ترمیم]

ایامِ جاہلیت میں زمانۂ طفولیت عموماً بھیڑ بکریوں کے چرانے میں بسر ہوتا تھا یہاں تک کہ شرفاء وامراء کے بچے بھی اس سے مستثنی نہ تھے،گویا یہ ایک درس گاہ تھی جہاں سادگی،جفاکشی وفاشعاری اورراستبازی کا عملی سبق دیا جاتا تھا۔ مکہ میں جب دعوتِ توحید کا غلغلہ بلند ہوا توحضرت عبد اللہ اسی درسگاہ میں تعلیم پا رہے تھے اورعقبہ بن معیط کی بکریاں ان کے سپرد تھیں۔ [2]

اسلام[ترمیم]

ایک روزآنحضرت ﷺ اپنے مونس وہمدم حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے ساتھ اس طرف سے گذرے جہاں یہ بکریاں چرا رہے تھے ،حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان سے فرمایا صاحبزادے تمہارے پاس کچھ دودھ ہو تو پیاس بجھاؤ، بولے میں آپ کو دودھ نہیں دے سکتا ؛کیونکہ یہ دوسرے کی امانت ہے،آنحضرت ﷺ نےفرمایا کیا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جس نے بچے نہ دیے ہوں عرض کیا ہاں اورایک بکری پیش کی ،آپﷺ نے تھن پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی یہاں تک کہ وہ دودھ سے لبریز ہو گیا،حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اس کو علاحدہ لے جا کر دوہاتواس قدر دودھ نکلا کہ تینوں آدمیوں نے یکے باد دیگرے خوب سیرہوکر نوش فرمایا،[3] اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے تھن سے فرمایا خشک ہوجا اوروہ پھر اپنی اصلی حالت پر عود کرآیا۔ اس کرشمہ قدرت نے حضرت عبد اللہ ؓ کے دل پر بے حد اثر کیا،حاضر ہوکر عرض کیا مجھے اس مؤثر کلام کی تعلیم دیجئے، آپﷺ نے شفقت سے ان کے سرپر دستِ مبارک پھیر کر فرمایا، تم تعلیم یافتہ بچے ہو، غرض اس روز سے وہ معلم دین مبین کے حلقہ تلمذ میں داخل ہوئے اور بلاواسطہ خود مہبط وحی والہام سے ستر سورتوں کی تعلیم حاصل کی جن میں کوئی ان کا شریک و سہیم نہ تھا۔ [4] اسلام قبول کرنے کے بعد وہ ہمیشہ خدمت بابرکت میں حاضر رہنے لگے اوررسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنا خادم خاص بنالیا انشاء اللہ آگے ایک خاص باب میں خدمت گذاریوں کی تفصیل آئے گی۔

جوشِ ایمان[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اس زمانہ مین ایمان لائے تھے جب کہ مومنین کی جماعت صرف چند اصحاب پر مشتمل تھی اور مکہ کی سرزمین میں رسول اللہ ﷺ کے سوا اورکسی نے علانیہ بلند آہنگی کے ساتھ تلاوتِ قرآن کی جرأت نہیں کی تھی ؛چنانچہ ایک روز مسلمانوں نے باہم مجتمع ہوکر اس مسئلہ پر گفتگوکی اورسب نے بالاتفاق کہا، خدا کی قسم قریش نے اب تک بلند آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے نہیں سنا؛لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس پرخطر فرض کو کون انجام دے؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کیا ،لوگوں نے کہا کہ تمہارا خطرہ میں پڑنا مناسب نہیں،اس کام کے لیے تو ایک ایسا شخص درکار ہے جس کا خاندان وسیع ہو اور وہ اس کی حمایت میں مشرکین کے دستِ ستم سے محفوظ رہے،لیکن حضرت عبد اللہ ؓ نے جوشِ ایمان سے برانگیختہ ہوکر کہا، مجھے چھوڑ دو خدا میرا محافظ ہے۔ غرض دوسرے روز چاشت کے وقت جب کہ تمام مشرکین قریش اپنی انجمن میں حاضر تھے،اس وارفتہ اسلام نے ایک طرف کھڑے ہوکر سازِ توحید پر مضراب لگائی اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد علم القرآن کا سحر آفرین راگ چھیڑا ،مشرکین نے تعجب اورغور سے سنکر پوچھا،ابن ام عبد کیا کہہ رہا ہے؟ کسی نے کہا کہ محمد پر جو کتاب اتری ہے اس کو پڑھتا ہے، یہ سننا تھا کہ تمام مجمع غیظ و غضب سے مشتعل ہوکر ٹوٹ پڑا اوراس قدر مارا کہ چہرہ ورم کر آیا،لیکن جس طرح پانی کے چند چھینٹے آگ کو اورزیادہ مشتعل کردیتے ہیں،اسی طرح حضرت عبد اللہ کا شعلہ ایمان اس ظلم و تعدی سے بھڑک اٹھا، مشرکین مارتے گئے لیکن ان کی زبان بند نہ ہوئی۔ حضرت عبد اللہ جب اس فرض کو انجام دے کر خشگی وشکستہ حالی کے ساتھ اپنے احباب میں واپس آئے تو لوگوں نے کہا کہ ہم اسی ڈرسے تم کو جانے نہ دیتے تھے، بولے،خدا کی قسم! دشمنان خدا آج سے زیادہ میری نظر میں کبھی ذلیل نہ تھے، اگر تم چاہو تو کل میں پھر اسی طرح ان کے مجمع میں جا کر قرآن کریم کی تلاوت کروں، لوگوں نے کہا بس جانے دو، اس قدر کافی ہے جس کا سننا وہ ناپسند کرتے تھے اس کو تم نے بلند آہنگی کے ساتھ ان کے کانوں تک پہنچادیا ۔ [5]

ہجرت[ترمیم]

حضرت عبد اللہ کے جوش وغیرت ایمان نے رفتہ رفتہ تمام مشرکین قریش کو دشمن بنادیا،یہاں تک کہ ان کی مسلسل وپیہم ایذارسانیوں سے تنگ آکر دودفعہ سرزمین حبش کی صحرانوردی پر مجبور ہوئے،پھر تیسری دفعہ دائمی ہجرت کا ارادہ کرکے یثرب کی راہ لی اوریہاں پہنچ کر حضرت معاذ بن جبل ؓ کے مہمان ہوئے،آنحضرت ﷺ نے مدینہ تشریف لانے کے بعدان دونوں میں بھائی چارہ کرادیا اورمستقل سکونت کے لیے حضرت عبد اللہ کو مسجد نبوی کے متصل ایک قطعہ زمین مرحمت فرمایا۔ [6]

غزوات[ترمیم]

حضرت عبد اللہ تمام مشہور واہم جنگوں میں جانبازی وپامردی کے ساتھ سرگرم پیکار تھے،غزوۂ بدر میں دو انصاری نوجوانوں نے سرخیل کفار ابوجہل بن ہشام کو تہ تیغ کیا تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ابو جہل کی خبر لاتا،حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ گئےا بھی کچھ کچھ جان باقی تھی،اس کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا کہ ابو جہل تو ہی ہے۔ [7]

غزوۂ احد،خندق ،حدیبیہ ،خیبر اورفتح مکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب تھے، مکہ سے واپس آتے ہوئے راہ میں غزوۂ حنین پیش آیا، اس جنگ میں مشرکین اس طرح یکایک ٹوٹ پڑے کہ مسلمان بدحواسی کے ساتھ منتشر ہو گئے اوردس ہزار کی جماعت میں صرف اسی اصحاب ثابت قدمی کے ساتھ شمع نبوت کے ارد گرد پروانہ وار اپنی فدویت کے جوہر دکھاتے رہے،حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ان ہی جان نثاروں میں تھے،فرماتے ہیں کہ جب مشرکین نے سخت حملہ کیا تو ہم لوگ تقریباً اسی قدم تک پسپا ہوئے ؛لیکن پھر جم کر کھڑے ہو گئے، آنحضرت ﷺ اپنے رہوار کو آگے بڑھاتے تھے؛لیکن وہ پیچھے کی طرف ہٹتا تھا اسی حالت میں آپ ایک دفعہ زین سے جھکے میں نے پکار کر کہا،آپ سربلند رہیں خدانے آپ کو رفعت عطا فرمائی ہے،فرمایا مجھے ایک مٹھی خاک اٹھادو، میں نے خاک اٹھا کر دی تو آپ نے مشرکین کے منہ کی جانب پھینک دی،جس سے ان کی آنکھیں غبار آلود ہوگئیں، پھر ارشاد ہوا مہاجرین وانصار کہاں ہیں؟ میں نے ارشارہ سے بتایا تو حکم ہوا کہ انہیں آوازدے کر بلاؤ میں نے چیخ کر پکارا تو یکایک سب کے سب پلٹ پڑے، اس وقت ان کی تلواریں نورایمان سے اس طرح چمک رہی تھیں جس طرح شعلہ دہکتا ہے،غرض بگڑاہواکھیل پھر بن گیا،مشرکین مغلوب ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے اورمیدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ [8]

جنگ یرموک[ترمیم]

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ایک عرصہ تک عزلت نشین رہے،لیکن عہد فاروقی میں جن عظیم الشان فتوحات کا سلسلہ چھڑگیا تھا اس نے بالاخر ان کی رگ شجاعت میں بھی ہیجان پیدا کیا،15 ھ میں گوشۂ خلوت سے نکل کر رزمگاہ شام کی طرف چل کھڑے ہوئے اورمیدان یرموک کی فیصلہ کن جنگ میں سرگرم پیکار ہوکرخوب داد شجاعت دی۔ [9]

عہدۂ قضاء[ترمیم]

20ھ میں کوفہ کے قاضی مقرر کیے گئے،عہدہ قضاء کے علاوہ خزانہ کی افسری مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اوروالی کوفہ کی وزارت کے فرائض بھی ان کے متعلق تھے،چنانچہ فرمان تقرری کے الفاظ یہ ہیں: إني قد بعثت عمار بن ياسر أميراً، و عبد الله بن مسعود معلماً ووزيراً، وهما من النجباء من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، من أهل بدر، فاقتدوا بهما، وأطيعوا واسمعوا قولهما، وقد آثرتكم بعبد الله على نفسي [10]

میں نے تم پر عمار بن یاسر کو امیر اولین مسعود کو معلم اوروزیر بناکر بھیجا ہے،ابن مسعود کو بیت المال کی افسری بھی دی ہے، یہ دونوں آنحضرت ﷺ کے ان ذی عزت اصحاب میں سے ہیں جو معرکہ بدر میں شریک تھے اس لیے ان کو سمعاوطاعہ کہو اوراتباع کرو،حقیقت یہ ہے کہ میں نے تمہارے لیے ابن ام عبد (عبد اللہ بن مسعود )ؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کامل دس سال تک نہایت مستعدی وخوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے، اس طویل عرصہ میں بساط سیاست پر گونا گوں انقلاب ہوئے، خلیفہ دوم ؓ نے وفات پائی،خلفیہ ثالث ؓ نے مسندِ خلافت پر قدم رکھا اورخاص کوفہ کی عنان حکومت اہل کوفہ کی شکایت واحتجاج پر یکے بعددیگرے مختلف والیوں کے ہاتھ میں آئی؛ لیکن وہ حسن احتیاط اورانصاف کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے تھے اس کے لحاظ سے کسی کو ان سے شکایت پیدا نہ ہوئی۔ فطری رحم دلی،نرمی اورتلطف کے باعث عفو ،درگزر اورچشم پوشی ان کا مخصوص شیوہ تھا؛ لیکن اسی کے ساتھ وہ اس راز سے بھی واقف تھے کہ بارگاہِ عدالت میں جب کسی مجرم پرکوئی جرم ثابت ہوجائے تواس کے ساتھ نرمی ودرگذر سے پیش آنا،درحقیقت نظامِ حکومت ارکان واساطین کو متزلزل کردینا ہے،اس بنا پر وہ اثبات جرم کے بعد اپنی طبعی نرمی وشفقت کے باوجود قانونِ معدلت کے اجرا میں کبھی دریغ نہ فرماتے تھے،ایک دفعہ ایک شخص نے اپنے برادرزادہ کو شراب خواری کے جرم میں پیش کیا،حضرت عبد اللہ ؓ نے تحقیقات کے بعد حد جاری کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب درے پڑنے لگے تو اس کا دل رحم وشفقت سے بھر آیا اورمنت وسماجت کے ساتھ سفارش کرنے لگا، انہوں نے غضبناک ہوکر فرمایا تو نہایت ظالم چچا ہے، اس کو حد شرعی کا مستحق ثابت کرکے چھوڑدینے کی سفارش کرتا ہے، جواب ممکن نہیں، اسلام میں سب سے پہلے ایک عورت پرحد جاری کی گئی جس نے چوری کی تھی، آنحضرت ﷺ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیدیا اورفرمایا کہ تم لوگوں کو اعراض وچشم پوشی سے کام لینا چاہیے، کیا تم اسے پسندنہیں کرتے کہ خداتمہیں بخشدے۔

بعض اوقات ایک ہی جرم مجرموں کے اختلاف حیثیات کے لحاظ سے ان کو مختلف سزاؤں کا مستوجب قراردیتا ہے،حضرت عبد اللہ اس نکتہ سے بھی اچھی طرح آگاہ تھے ،ایک دفعہ ان کو اطلاع دی گئی کہ مسیلمہ کذاب کے متبعین میں سے کچھ لوگ اب تک موجود ہیں جو اس کو رسولِ خدا کہتے ہیں، حضرت عبد اللہ ؓ نے چند سپاہی بھیج کر ان کو گرفتار کرادیا اورسب کی توبہ قبول کرکے چھوڑدیا ؛لیکن ان کے سرگروہ ابن نواحہ کے لیے قتل کی سزا تجویز کی، لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو بولے کہ ابن نواحہ اورابن اثال دوشخص مسیلمہ کذاب کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سفیر بن کر گئے تھے،آنحضرت ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم مسلیمہ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہو؟ انہوں نے کہاہاں، آپﷺ نے فرمایا کہ اگر تم سفیر نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کرادیتا، اس بنا پر جبکہ وہ اب تک اس کے اس باطل عقیدہ سے باز نہیں آیا ہے تو رسول اللہ ﷺ کی خواہش کا پورا کرناضروری تھا۔

حضرت عثمان ؓ کے آخری عہدِ خلافت میں جب کوفہ سازش فتنہ پردازی اوربد امنی کا مرکز ہو گیا تو عہدہ قضاء کے لحاظ سے قدرۃ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو بھی غیر معمولی دشواریاں پیش آئیں، ایک دفعہ عقبہ بن ولید کے دورِ امارت میں ایک ساحر کا مقدمہ پیش ہوا جو امیر کوفہ کے سامنے اپنی بازیگری کے کرشمے دکھا رہا تھا، لیکن فیصلہ صادر ہونے سے پہلے ہی جندب نامی ایک شخص نے اس کو قتل کرڈالا؛ چونکہ یہ صریحاً معاملاتِ حکومت میں مداخلت بیجا تھی،اس لیے انہوں نے قاتل کی گرفتاری کا حکم دے کر دربارخلافت کو مفصل واقعہ سے مطلع کیا،وہاں سے حکم آیا کہ معمولی تنبیہ وتعزیر کے بعد اس کو چھوڑ دو اورلوگوں کو سمجھاؤ کہ پھر آئندہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے پائے، حضرت عبد اللہ ؓ نے اس حکم کی تعمیل کی اوراہل کوفہ کو جمع کرکے فرمایا، صاحبو!صرف شک وشبہ پر کوئی کام نہ کرو اورعدالت کو اپنے ہاتھ میں نہ لے لو ،مجرموں اورخطاکاروں کو سزادینا ہمارا فرض ہے،تم کو اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ [11] اسی سال ولید بن عقبہ والی کوفہ پر شراب خواری کا الزام لگایا گیا اورایک جماعت نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر شکایت کی کہ وہ تخلیہ میں شراب پیتا ہے،انہوں نے جواب دیا کہ جاسوسی میرا فرض نہیں ہے،اگر ایک شخص چھپ کر کوئی کام کرتا ہے تو میں اس کی پردہ داری کے درپے نہیں ہوسکتا،ولید نے یہ جواب سنا تو ناراض ہوکر ان کو بلا بھیجا اورپوچھا کہ کیا مفسدین کو ایسا ہی جواب دینا مناسب تھا؟میں چھپ کر کون کام کرتا ہوں ، یہ تو اس شخص کے لیے کہا جاسکتا ہے جو مشکوک ہو،غرض اسی سوال وجواب میں بات بڑھ گئی اوردونوں ایک دوسرے سے کشیدہ خاطر اٹھے۔ [12]

خزانہ کی افسری[ترمیم]

حضرت عبد اللہ منصب قضاء کے ساتھ خزانہ کی افسری پر بھی مامور تھے،کوفہ عظمت وسعت وکثرتِ محاصل کے لحاظ سے اس کا بیت المال نہایت اہمیت رکھتا تھا، اس سے لاکھوں روپے کے وظائف جاری تھے،فوجی مرکز ہونے کے باعث ہزاروں سپاہیوں کی تنخواہیں مقرر تھیں اورخراسان،ترکستان اورآرمینیہ پر وقتاً فوقتاً جو فوج کشی ہوتی رہتی تھی، اس کے مصارف ادا کیے جاتے تھے،اس بنا پر دوسرے اہم مشاغل کے ساتھ اس شعبہ کی اس طرح نگرانی کرنا کہ ایک حبہ بھی اِدھر کا اُدھر نہ ہونے پائے درحقیقت حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی انتظامی قابلیت، بیدار مغزی اورحساب فہمی کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ ذاتی حیثیت سے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ زہد و بے نیازی کے اقلیم کے بادشاہ تھے،دنیا کی بڑی سے بڑی نعمتوں کو حقارت کے ساتھ ٹھکرادیتے تھے، لیکن قومی سرمایہ کے تحفظ میں اس قدر سخت تھے کہ اعزہ احباب،افسر اوروالیِ ملک کے ساتھ بھی کسی قسم کی رعایت ملحوظ نہ رکھتے تھے، ایک دفعہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ والیٔ کوفہ نے بیت المال سے قرض لیا، اورناداری کے باعث عرصہ تک ادا نہ کرسکے، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ مہتمم بیت المال کی حیثیت سے نہایت سختی کے ساتھ ان سے تقاضا شروع کیا، یہاں تک کہ ایک روز تلخ کلامی کی نوبت پیش آئی،حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے جھلا کر چھڑی زمین پر پھینک دی اوردونوں ہاتھ اٹھا کر کہا" اے آسمان وزمین کے پیدا کرنے والے"چونکہ وہ نہایت مستجاب الدعوات مشہور تھے، اس لیے حضرت عبد اللہ نے خوف زدہ ہوکر کہا دیکھو میرے لیے بددعا نہ کرنا، بولے"خدا کی قسم! اگر خوفِ خدا نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سخت بددعا کرتا"حضرت عبد اللہ نے ان کی برافروختگی کا یہ انداز دیکھا تو تیزی کے ساتھ کاشانۂ امارت سے باہر نکل آئے۔ اس واقعہ کی رپورٹ دربارخلافت میں پہنچی تو امیر المومنین حضرت عثمان ؓ نے سخت ناراضی ظاہر فرمائی اورحضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو معزول کرکے ولید بن عقبہ کو کوفہ کا والی بناکر بھیجا، حضرت عبد اللہ ؓ بھی گواس ناراضی سے مستثنی نہ تھے تاہم وہ ایک عرصہ تک اپنے عہدہ پر برقرار رہے۔ [13]

معزولی[ترمیم]

حضرت عثمان ؓ کے اخیر عہد حکومت میں جب سازش ومفسدہ پردازی کا بازار گرم ہوا تو مخفی ریشہ دوانیوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو بھی زیادہ دنوں تک اپنے عہدہ پر برقرار رہنے نہ دیا، اوریکا یک معزول کر دیے گئے،معزولی کی خبر نے کوفہ کی علمی دنیا کو ماتم کدہ بنادیا،احباب معتقدین،تلاندہ اوراعیانِ شہر کی ایک بڑی جماعت نے مجتمع ہوکر اس فرمانِ عزل پر سخت ناراضی ظاہر کی اورحضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مصر ہوئے کہ آپ کوفہ سے تشریف نہ لے جائیں اگر اس کی پاداش میں کوئی مصیبت پیش آئے گی تو ہم سب اپنی جانیں قربان کرنے کو حاضر ہیں، بولےامیر المومنین کی اطاعت مجھ پر فرض ہے میں نہیں چاہتا کہ فتنہ و فساد جو عنقریب برپا ہونے والا ہے اس کی ابتدا میری ذات سے ہو، غرض وہ عمرہ کی نیت کرکے ایک جماعت کے ساتھ حجاز کی طرف روانہ ہو گئے۔ [14]

حضرت ابوذر ؓ کی تجہیز وتکفین[ترمیم]

جب مقام ربذہ میں پہنچے تو وسطِ راہ میں ایک عورت کو سرگرداں وپریشان دیکھ کر پوچھا خیر ہے،کہا ایک مرد مسلمان کی تجہیز وتکفین کیجئے پوچھا کون؟ کہا ابوذر ؓ صحابی رسول ﷺ آپ" فدیتہ بابی وامی " کہہ کر مع اپنے ساتھیوں کے اتر پڑے،حضرت ابوذر ؓ ایک بلند پایہ اورنہایت زاہد و متقشف صحابی تھے وہ دارالخلافت کی روز افزوں تمدنی زندگی سے اس قدر بیزار ہوئے کہ ربذہ کے سنسان جنگل میں اٹھ آئے اوربالآخر اسی سرزمین نے ان کے لیے اپنا آغوشِ شوق پھیلادیا،یہ لوگ حضرت ابوذر ؓ کے پاس پہنچے ان کا دم واپسیں تھا،اپنی تجہیز وتکفین کے متعلق ضروری ہدایات دے کرواصل بحق ہوئے، حضرت عبد اللہ ؓ نے حضرت ابوذر کی وصیت کے مطابق ان کی تجہیز وتکفین کرکے نمازِ جنازہ پڑھاکر سپردِ خاک کیا۔ [15] حضرت عبد اللہ ؓ نے مکہ پہنچ کر امیرالمومنین کو حضرت ابوذر ؓ کی وفات کی اطلاع دی اورعمرہ سے فارغ ہوکر مدینہ پہنچے کہ زندگی کے بقیہ ایام عزلت نشینی و عبادت الہی میں بسر ہوں۔

علالت[ترمیم]

32 ھ میں جب کہ حضرت عبد اللہ ؓ کا سن مبارک ساٹھ برس سے متجاوز ہوچکا تھا ایک روز ایک شخص نے حاضر خدمت ہوکر عرض کیا،خدا مجھے آپ کی آخری زیارت سے محروم نہ رکھے، میں نے گذشتہ شب کو خواب میں دیکھا کہ حضرت رسولِ خدا ﷺ ایک بلند منبر پر تشریف فرما ہیں اورآپ سامنے حاضر ہیں،اسی حالت میں ارشاد ہوتا ہے، ابن مسعود ؓ! میرے بعد تمہیں بہت تکلیف پہنچائی گئی،آؤ میرے پاس چلے آؤ ،فرمایا خدا کی قسم تم نے یہ خواب دیکھا ہے؟ بولا، ہاں،فرمایا تم میرے جنازہ میں شریک ہو کر مدینہ سے کہیں جاؤ گے۔

یہ خواب درحقیقت واقعہ ہوکر پیش آیا، چند ہی دنوں کے بعد اس طرح بیمار ہوئے کہ لوگوں کو ان کی زندگی سے مایوسی ہو گئی،امیر المومنین حضرت عثمان ؓ سے چونکہ ایک گونہ شکررنجی تھی اورانہوں نے دو برس سے ان کا مقررہ وظیفہ مطلقاً بند کر دیا تھا،اس لیے وہ اِس آخری لمحہ حیات میں عفو خواہی وعیادت کے لیے تشریف لائے اوراس طرح گفتگو شروع کی۔ حضرت عثمان ؓ : آپ کو کس مرض کی شکایت ہے؟ حضرت عبد اللہ ؓ : اپنے گناہوں کی۔ حضرت عثمان ؓ : آپ کیا چاہتے ہیں ؟ حضرت عبد اللہ ؓ :خداکی رحمت۔ حضرت عثمان ؓ : آپ کے لیے طبیب بلاؤں ؟ حضرت عبد اللہ ؓ : مجھے طبیب ہی نے بیمار ڈالا۔ حضرت عثمان ؓ :آپ کا وظیفہ جاری کردوں؟ حضرت عبد اللہ ؓ : مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حضرت عثمان ؓ : آپ کی صاحبزادیوں کے کام آئے گا۔ حضرت عبد اللہ : کیا آپ کو میری لڑکیوں کے محتاج ودست نگر ہوجانے کا خوف ہے؟ میں نے انہیں حکم دیا ہے کہ ہر رات سورۂ واقعہ پڑھ لیا کریں؛ کیونکہ رسولِ خدا ﷺ نےفرمایا ہے کہ جو ہر رات کو سورۂ واقعہ پڑھے گا وہ کبھی فاقہ مست نہ ہوگا۔ [16]

مذکورہ بالا سوال وجواب سے بعض اصحاب سیر کو یہ غلط فہمی ہے کہ اس آخری وقت میں بھی دونوں ایک دوسرے سے صاف نہ ہوئے ؛لیکن طبقات ابن سعد کی ایک روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ باہمی عفو خواہی کے صیقل نے دونوں کے آئینہ قلب کو بالکل شفاف کر دیا تھا، محمد بن سعد نےاس واقعہ کی صحت پر خاص طور سے زور دیا۔ [17]

وفات[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ؓ کو جب سفر آخرت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے حضرت زبیر ؓ اوران کے صاحبزادہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو بلا کر اپنے مال واسباب اوراولاد نیز خود اپنی تجہیز وتکفین کے متعلق مختلف وصیتیں فرمائیں اورساٹھ برس سے کچھ زیادہ عمر پاکر 32ھ میں داعیِ اجل کو لبیک کہا، مستند وصحیح روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عثمان ؓ نے جنازے کی نماز پڑھائی اورحضرت عثمان بن مظعون ؓ کے پہلو میں سپرد خاک کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

علم وفضل[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ان صحابہ کرام میں ہیں جو اپنے علم وفضل کے لحاظ سے تمام دنیائے اسلام کے امام تسلیم کیے گئے ہیں ،تم نے پہلے پڑھا ہے کہ وہ ایام جاہلیت میں عقبہ بن معیط کی بکریاں چراتے تھے،لیکن خدا کی قدرت معلم ربانی کی نگاہ انتخاب نے گلہ بانی کی درسگاہ سے نکال کر اپنے حلقہ تلمذ میں داخل کر لیا اور علم وفضل کے آسمان پر مہر منیر بناکر چمکایا۔

علم کا شوق[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ؓ ابتداءہی سے علم کے شائق تھے،قبولِ اسلام کے ساتھ ہی انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ! مجھے تعلیم دیجئے بشارت ملی انک غلام معلم تم تعلیم یافتہ لڑکےہو۔ اس شوق کا یہ اثر تھا کہ شب وروز سرچشمہ علم سے مستفیض ہوتے،خلوت، جلوت،سفر،حضر،غرض ہر موقع پر ساقیِ معرفت کی خدمت میں حاضر رہتے تھے، لیکن طلب صادق کی پیاس نہ بجھتی؛ یہاں تک کہ آپ جب داخل حرم نہ ہوتے تو اپنی والدہ حضرت ام عبدؓ کو بھیجتے کہ وہ خانگی زندگی کے معلومات بہم پہنچائیں۔ [18]

رسالت مآب ﷺ کی خدمت وصحبت کا اثر[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ حضور پرنور ﷺ کے خدام خاص میں شامل تھے،مسواک اٹھاکر رکھنا، جوتہ پہنانا، سفر کے موقع پر کجاوہ کسنا اورعصالے کر آگے چلنا آپ کی مخصوص خدمت تھی، اس ختم گزاری کے ساتھ وہ آنحضرت ﷺ کے ہمدم وہمراز بھی تھے،(مستدرک :3/316) مخصوص صحبتوں میں شریک کیے جاتے بلااذن تخلیہ کے موقعوں پر حاضر ہوتے اورراز کی تمام باتیں سن سکتے تھے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام ؓ ان کو حضور کے بستر مسواک اوروضوکے پانی والے معززخطاب دے رکھاتھا۔ [19]

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم یمن سے آئے اورکچھ دنوں تک مدینہ میں رہے، ہم نے عبد اللہ بن مسعود ؓ کو رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کثرت سے آتے جاتے دیکھا کہ ہم ان کو عرصہ تک خاندان رسالت کا ایک رکن گمان کرتے رہے،[20] غرض اس خدمت گزاری اورہر وقت کی حاضر باشی نے ان کو قدرۃسب سے زیادہ خرمن کمال کی خوشہ چینی کا موقع دیا۔

قرآن[ترمیم]

قرآن کریم جو اصل اصول اسلام ہے،حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اس کے سب سے بڑے عالم تھے،فرماتے ہیں کہ سترسورتیں میں نے خاص مہبط وحی والہام ﷺ کے دہن مبارک سے سن کریاد کی تھیں،[21] ان کا دعویٰ تھا کہ قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں جن کی نسبت میں یہ نہ جانتا ہوں کہ کب کہاں اورکس بارہ میں اتری ہے وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کا مجھ سے زیادہ عالم ہوتا تو میں اس کے پاس سفر کرکے جاتا، ایک دفعہ انہوں نے مجمع عام میں دعویٰ کیا کہ تمام صحابہ جانتے ہیں کہ میں قرآن کا سب سے زیادہ عالم ہوں، گو سب سے بہتر نہیں ہوں، شقیق اس جلسہ میں موجود تھے وہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد میں اکثر صحابہ ؓ کے حلقوں میں شریک ہوا،مگر کسی کو عبد اللہ بن مسعود ؓ کے دعویٰ کا منکر نہیں پایا۔ ابوالاحوص فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم اورعبداللہ بن مسعود ؓ اپنے چند احباب کے ساتھ ابو موسی اشعری ؓ کے مکان میں تھے، حضرت عبد اللہ ؓ چلنے کے قصد سے کھڑے ہوئے تو ابو مسعود ؓ نے ان کی طرف اشارہ کرکے کہا، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ان سے زیادہ کوئی شخص قرآن کا عالم ہے، ابو موسیٰ ؓ نے کہا کیوں نہیں! یہ اس وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر رہتے تھے جب کہ ہم لوگ غائب ہوتے تھے اوران کو ان موقعوں میں باریاب ہونے کی اجازت تھی جب کہ ہم لوگ روک دیے جاتے تھے،حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کو اس دن سے بہت دوست رکھتا ہوں جس دن رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا کہ ‘قرآن چارآدمیوں سے حاصل کرو’ اورسب سے پہلے ابن ام عبد ؓ کا نام لیا، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جب وفات پائی تو حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ اورحضرت ابو مسعودؓ نے ایک دوسرے سے کہا، کیا عبد اللہ نے اپنے جیسا کسی کو چھوڑا دوسرے نے کہا نہیں و خلوت جلوت ہر موقع پر حاضر رہتے تھے جبکہ ہم لوگوں کے لیے یہ ممکن نہ تھا۔ [22]

حضرت عبد اللہ ؓ کے پاس عہد نبوت کا جمع کیا ہو ایک مصحف بھی تھا جس کو وہ نہایت عزیز رکھتے تھے،چنانچہ امیر المومنین حضرت عثمان ؓ نے جب مصحف صدیقی کے سوا تمام مصاحف کو تلف کردینے کا حکم دیا تو انہوں نے نہایت ناگواری کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی۔ چونکہ اس مصحف کے نقل و ترتیب کی خدمت حضرت زید بن ثابت ؓ نے انجام دی تھی،اس لیے وہ اکثران کی ناتجربہ کاری پر معترض ہوتے تھے،شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا، ستر سے کچھ زیادہ سورتیں میں نے خاص رسولِ خدا ﷺ کی زبان سے سن کر یاد کی تھیں، حالانکہ زید بن ثابت ؓ اس وقت لڑکے تھےاور لڑکوں کے ساتھ کھیلتے پھرتے تھے،[23] اس سے بڑھ کر ان کی قرآن دانی کی اورکیا سند ہوسکتی ہے کہ خود حضور پر نور ﷺ نے ایک موقع پر لوگوں سے فرمایا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو، عبد اللہ بن مسعود ؓ،سالم ؓ، معاذ ؓ، اورابی بن کعب ؓ۔ [24]

تفسیر[ترمیم]

قرآن مجید کی تفسیر اورمناسب موقعوں پر برجستہ آیاتِ قرآنی کی تلاوت میں خاص مہارت رکھتے تھے،ایک دفعہ یہ حدیث زیر بحث تھی کہ جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال مارے گا قیامت کے روز خدا اس پر نہایت غضبناک ہوگا، حضرت عبد اللہ ؓ نے اس حدیث کی تصدیق میں برجستہ یہ آیت تلاوت فرمائی۔ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ [25] بے شک وہ لوگ جو خدا کے عہد اور اپنی قسموں کے معاوضہ میں نفع قلیل حاصل کرتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ [26] اسی طرح ایک دفعہ اپنے حلقہ درس میں بیان فرما رہے تھے کہ ایک روز رسول خدا ﷺ سے سوال کیا گیا کہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے، ارشاد ہوا کہ شرک،پھر قتلِ اولاد پھرآپ نے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا، اس حدیث کو بیان کرکے انہوں نے برجستہ اس آیت سے اس کی تصدیق فرمادی: وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا [27] جولوگ خداکے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اورناحق جان نہیں مارتے کہ اللہ نے اس کو حرام کررکھا ہے اورنہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اورجو شخص ایسا کریگا وہ ان گناہوں کا خمیازہ اٹھائے گا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی تفسیر یں حدیث وتفسیر کی کتابوں میں بکثرت منقول ہیں،اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک مستقل کتاب تیار ہوسکتی ہے۔

تفسیر بالرائے سے احتراز[ترمیم]

محض اپنی رائے وقیاس سے آیات قرآنی کی تشریح و تفسیر کرنا علمائے امت کے نزدیک بالاتفاق ناجائز ہے،حضرت عبد اللہ اگر کسی کو ایسا کرتے دیکھتے تو نہایت برہم ہوتے،ایک مرتبہ کسی نے آکر کہا کہ ایک شخص مسجد میں،‘ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ’ کی تفسیر محض اپنی رائے سے کررہا ہے،وہ کہتا ہے کہ"قیامت کے روز اس قدر دھواں ہوگا کہ لوگ اس میں سانس لے کر زکام یا اسی قسم کی ایک بیماری میں مبتلا ہوجائیں گے، بولے دانشمندی یہ ہے کہ اگر انسان کسی امر سے واقف ہوتو بیان کرے اوراگر ناواقف ہو تو اللہ اعلم کہہ کر خاموش ہوجائے،یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب کہ قریش کی نافرمانی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کے باعث تمام عرب قحط کی مصیبت میں مبتلا تھا، لوگ جب آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے تھے توبھوک کی شدت اورضعف و ناتوانی کے باعث زمین سے آسمان تک دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا، خدائے پاک نے اس موقع پر کفار کو متنبہ کیا کہ اس سے بھی ایک زیادہ ہولناک اورسخت انتقام کادن آنے والا ہے، اوروہ جنگ بدر کا دن ہے۔ [28]

قرأت[ترمیم]

قرأت میں غیر معمولی کمال حاصل تھا، صحاح میں بکثرت ایسی روایتیں ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ قرأت میں ابن ام عبد یعنی حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی پیروی کی جائے، ایک مرتبہ وہ نماز میں سورۂ نساء تلاوت فرما رہے تھےکہ خیر الانام حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمر ؓ کے ساتھ مسجد تشریف لائے اوران کی خوش الحانی اور باقاعدہ ترتیل سے خوش ہوکرفرمایا: اسئل تعطہ اسئل تعطہ جو کچھ سوال کرو پورا کیا جائے گا، جو کچھ سوال کرو پورا کیا جائے گا۔ پھر ارشاد ہوا کہ جو پسند کرتا ہے کہ قرآن کو اسی طرح تروتازہ پڑھنا سیکھے،جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو اس کو قرأۃ ابن ام عبد کی اتباع کرنا چاہیے۔ دوسرے روز حضرت ابوبکر صدیق ؓ ان کے پاس بشارت و تہنیت کے خیال سے تشریف لائے، اورپوچھا کہ رات آپ نے خدا سے کیا دعا مانگی ؟ بولے میں نے کہا اے خدا! مجھے ایسا ایمان عطا کر جس کو کبھی جنبش نہ ہو، ایسی نعمت دے جو کبھی ختم نہ ہو اورخلد بریں میں حضرت محمد ﷺ کی دائمی رفاقت نصیب کر۔ [29] وہ تلاوت قرآن کے نہایت شائق تھے اور تنہائی کے موقع میں عموماً اس سے دل بہلایا کرتے ،بسا اوقات خود آنحضرت ﷺ بھی ان سے قرآن کی کوئی سورت پڑھواکر سنتے اورمحظوظ ہوتے،خود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ارشاد ہوا کہ سورۂ نساء پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! آپ پر نازل ہوا اور آپ کو میں سناؤں! ارشاد ہوا کیوں نہیں ؛لیکن میں دوسرے کی زبان سے سننا چاہتا ہوں، غرض میں نے تعمیل ارشاد کی اور جب اس آیت پر پہنچا ‘ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ’ آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ [30]

روایت میں خوف واحتیاط[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو بارگاہِ نبوت میں جو مخصوص تقرب حاصل تھا اس کے لحاظ سے نہایت،وسیع معلومات رکھتے تھے،لیکن روایت میں وہ حد درجہ محتاط تھے ابو عمرشیبانی کہتے ہیں کہ میں ابن مسعو ؓ کی صحبت میں کامل ایک سال رہا، لیکن بہت کم قال رسول اللہ کا لفظ ان کی زبان سے سنا،ایک مرتبہ انہوں نے ایک حدیث بیان کی تو تمام جسم میں رعشہ آگیا اور کہنے لگے، آپﷺ نے اسی طرح فرمایا تھا یا اس کے قریب قریب یا اسی کے مشابہ۔ [31] عمروبن میمون فرماتے ہیں کہ تقریباً ایک سال تک عبد اللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں میری آمدورفت رہی،لیکن میں نے کبھی ان کو رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے کچھ بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، ایک مرتبہ حدیث بیان کرتے ہوئے اتفاقا ًان کی زبان سے قال رسول اللہ کا فقرہ نکل گیا، تو دیکھا کہ ان کا تمام بدن تھرااٹھا اورخوف وہراس سے عرق عرق ہو گئے۔ [32]

تلامذہ کو احتیاط کی ہدایت[ترمیم]

شاگردوں کوبھی عموماً روایت حدیث میں احتیاط کی ہدایت کیا کرتے اورفرماتے کہ جب تم کوئی حدیث بیان کرو تو اس خیال کو پیش نظر رکھو کہ رسولِ خدا ﷺ سب سے زیادہ مقدس پرہیز گار اورہدایت یاب تھے۔ [33]

کثرت روایات کی وجہ[ترمیم]

لیکن ان واقعات سے یہ قیاس نہ کرنا چاہیے کہ وہ مطلقاً حدیثیں روایت نہیں کرتے تھے، کیونکہ معلم دین ہونے کی حیثیت سے حضرت خیر الانام ﷺ کی تعلیمات وارشادات کا پھیلانا ان کے فرائض منصبی میں داخل تھا، یہی وجہ ہے کہ خوف واحتیاط کے باوجود صحاح و مسانید میں ان سے بکثرت روایات منقول ہیں،چنانچہ آپ کے جملہ مرویات کی تعداد 848 ہے ان میں سے 64 بخاری اورمسلم دونوں میں ہیں ان کے علاوہ 21 بخاری میں ہیں اور 35 مسلم میں ہیں۔ [34]

مذاکرۂ حدیث کا شوق[ترمیم]

بسا اوقات وہ مذاکرۂ حدیث کے شوق میں تلامذہ واحباب کے گھر پر تشریف لے جاتے اوردیر تک عہدِ نبوت کا ذکر مذکور رہتا،وابصہ اسدی فرماتے ہیں کہ میں کوفہ میں دوپہر کے وقت اپنے گھر میں تھا کہ یکایک دروازہ سے السلام علیکم کی آواز بلند ہوئی میں نے جواب دیا باہر نکل کر دیکھا،تو عبد اللہ بن مسعودؓ تھے، میں نے کہا ابوعبدالرحمن! یہ ملاقات کا کون سا وقت ہے؟ بولے آج بعد مشاغل ایسے پیش آگئے کہ دن چڑھ گیا اوراب فرصت ملی تو یہ خیال آیا کہ کسی سے باتیں کرکے عہد مقدس کی یاد تازہ کرلوں، غرض وہ بیٹھ کر حدیثیں بیان فرمانے لگے، اوردیر تک پر لطف صحبت رہی۔ [35]

آداب روایت[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ؓحدیث روایت کرتے وقت نہایت مؤدب متین اور سنجیدہ بن جاتے تھے اوراس طرح نقشہ کھینچ دیتےتھے کہ گویا سامع خود حضرت رسول مقبول ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے سن رہا ہے،ایک مرتبہ انہوں نے ایک طولانی حدیث بیان فرمائی جس میں قیامت، جنت اورمومنین وسبحان رب العزت کے سوال وجواب کا تذکرہ تھا، حدیث ختم کرکے متبسم ہوئے اور فرمایا ،تم پوچھتے نہیں کہ میں کیوں ہنستاہوں؟لوگوں نے کہا آپ کیوں ہنستے ہیں؟ اس لیے کہ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح تبسم فرمایا تھا۔[36]

فقہ[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ان فاضل صحابہ ؓ میں ہیں جو فقہ کے موسس اوربانی سمجھے جاتے ہیں،خصوصاً فقہ حنفی کی عمارت تمام تر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ہی کے سنگِ اساس پر تعمیر ہوئی۔ پہلے گذر چکا ہے کہ حضرت عبد اللہ ؓ کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے تو اس کے ساتھ تعلیم دین کی خدمت بھی سپرد ہوئی تھی، اس بنا پر ان کو قدرۃ ایک حلقہ درس قائم کرنا پڑا اور عام مسلمانوں میں مسائل فقہ اوراپنے اجتہادات کی ترویج واشاعت کا نہایت کافی موقع ہاتھ آیا،اس طرح تمام خطہ عراق فقہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا پیرو ہو گیا اوران کی درس گاہ سے بڑے بڑے اہل کمال سند فضیلت لے کرنکلے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مخصوص تلامذہ میں سے علقمہ اوراسود نے فقہ میں خاص شہرت حاصل کی، پھر ان کے بعد ابراہیم نخعی نے کوفہ کی فقہ کو بہت کچھ وسعت دی،یہاں تک کہ ان کو فقیہ العراق کا لقب ملا۔

اصول فقہ[ترمیم]

قرآن ،حدیث ،اجماع اورقیاس فقہ اسلامی کی عمارت کے چارستون ہیں اوریہی اصول فقہ کے موضوع فن بھی ہیں، ان میں سے دونوں مؤخرالذکر کی ضرورت رسول اللہ ﷺ کے بعد پیش آئی،کیونکہ مہبط وحی والہام کی موجودگی میں اجماع وقیاس کی ضرورت ہی کیاتھی۔

اجماع[ترمیم]

اجماع کو عملی حیثیت سے رواج دینا گو حضرت ابوبکر ؓ وحضرت عمرفاروق ؓ کا خاص طغرائے امتیاز ہے،تاہم اصولی حیثیت سے پہلے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے اس کو مستحسن قراردیا اورفرمایا: مارای المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن وماراواسیئا فھوعنداللہ سئی جس چیز کو تمام مسلمان بہتر سمجھ لیں وہ خدا کے نزدیک بھی بہتر ہے اورجس کو براسمجھ لیں وہ خدا کے نزدیک بھی برا ہے۔ اوریہی درحقیقت اجماع کی اصلی روح ہے

قیاس[ترمیم]

اصولِ فقہ کا چوتھا رکن قیاس ہے، جو درحقیقت قرآن پاک،حدیث نبوی اوراجماع ہی کی ایک شاخ ہے،لیکن توسیع فقہ اورنئے نئے مسائل کی گتھیوں کی سلجھانے کے لحاظ سے وہ خاص اہمیت رکھتا ہے،یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید اوراحادیث میں تمام جزئیات مذکور نہیں اور نہ اس قدر احاطہ ممکن تھا،اس لیے علت مشترکہ نکال کر ان جزئیات غیر منصوصہ کو احکام منصوصہ پر قیاس کرنا فقیہ یا مجتہد کا سب سے اہم فرض ہے اوردرحقیقت یہی وہ موقع ہے جہاں اس کی قوتِ اجتہاد تفریع مسائل واستنباط احکام کا امتحان ہوتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ عملاً قیاس شرعی سے کام لے کر آیندہ نسلوں کے لیے ایک وسیع شاہراہ قائم کردی اورضمناً بہت سے ایسے قاعدے مقرر کردئے جو آج ہمارے علم اصولِ فقہ کی بنیاد ہیں،ہم یہاں ان کے چند قیاسی مسائل نقل کرتے ہیں جن سے ان کی قوت استنباط کا اندازہ ہوگا۔ حج یا عمرہ کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی احرام باندھ لے اوردشمن کے سدِ راہ ہو جانے سے حج یا عمرہ کے ارکان کو پورا نہ کرسکے تو وہ صرف قربانی کا جانور بھیج کر احرام کھول دے اورآیندہ جب کبھی موقع میسر آئے اپنے ارادہ کو پورا کرے جیسا کہ خود آنحضرت ﷺ نے غزوۂ حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا،لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ مجبوری کو علتِ مشترکہ قرار دے کر مریض یادوسرے مجبوراشخاص کے لیے بھی یہی حکم جاری فرماتے ہیں،چنانچہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں عمرہ کے لیے احرام باندھ چکا تھا کہ اتفاقا ًسانپ نے کاٹ کھایا اوراب جانے کی طاقت نہیں رہی، بولے تم صرف قربانی بھیج کر احرام کھول دو اورجب ممکن ہو عمرہ ادا کرو۔ [37] اس قیاس سے ضمناً دونہایت اہم اصول منضبط ہوتے ہیں، (ا) اشتراک علت اشتراکِ حکم کا باعث ہے۔(2) سبب کا خاص ہونا حکم کی تعمیم پر کچھ اثر نہیں ڈالتا۔ علم فرائض کا ایک قاعدہ یہ ہے کہ میت سے جس کو زیادہ قرابت ہوگی، اس کو وراثت میں ترجیح دے جائے گی، مثلاً حقیقی بھائی کو اخیافی یا علاتی بھائی پر صرف اس لیے ترجیح ہے کہ اول الذکر کو ماں اورباپ دونوں کی طرف سے قرابت ہے،برخلاف اس کے دونوں مؤخر الذکر میں صرف ایک ہی حیثیت پائی جاتی ہے،حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اس اصول کو دوسرے قرابت داروں میں بھی پیش نظر رکھتے ہیں، مثلاً ایک میت نے زید اوربکر دوچچازاد بھائی چھوڑے اورزید اس رشتہ کے علاوہ میت کا اخیافی بھائی بھی ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اس صورت میں ازدیاد قربت کی علت مرحجہ نکال کر زید کو بکر پر ترجیح دیتے ہیں، لیکن جمہور علمائے اہل سنت عصبہ ہونے کی حیثیت سے ان دونوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے ۔ [38]

اجتہاد[ترمیم]

مذکورہ بالاقیاسی مسائل کے علاوہ فقہ اسلامی کی بہت سی پیچیدہ گتھیاں صرف حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے ناخن اجتہاد سے حل ہوئیں ،آپ استنباط احکام وتفریع مسائل پر غیر معمولی قدرت رکھتے تھے،اورنصوص شرعیہ میں ناسخ و منسوخ،موقت وموبٔد کی تضریق کرکے صحیح استنباطِ حکم راہ پیدا کر لیتے تھے،مثلا ایک دفعہ استفتاء آیا کہ ایک حاملہ عورت کے لیے جس کا شوہر مرگیاہو، عدت کیا ہے؟ چونکہ قرآن مجید میں عدت کے متعلق مختلف احکام ہیں،سورۂ بقرہ میں عام حکم ی ہے۔ وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا [39] تم میں سے جولوگ مرجائیں اوربیویاں چھوڑیں تو وہ(عورتیں) اپنے آپ کو چار مہینے دس دن تک روکے رکھیں۔ اورسورۂ نساء میں خاص حاملہ عورتوں کے لیے جن کے شوہر مرگئے ہوں یہ حکم ہے۔ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ [40] اورجو عورتیں حاملہ ہوں ان کی مدت یہ ہے کہ اپنا حمل وضع کریں اس بنا پر حضرت علی ؓ کا خیال تھا جس میں زیادہ مدت صرف ہو وہی زمانہ عدت قرار دیاجائے،تاکہ دونوں آیتوں کا توافق پیدا ہوجائے ،لیکن حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے حاملہ عورت کے حق میں سورۂ بقرہ کی آیت کو سورۂ نساء کی آیت سے منسوخ قرار دے کر وضع حمل عدت قراردی اورفرمایا کہ میں اس کے لیے مباہلہ کرسکتا ہوں کہ سورۂ بقرہ، سورۂ نساء کے بعد نازل ہوئی ہے۔ [41] یہ مسئلہ کہ جہری نمازوں میں مقتدی کو سورۂ فاتحہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ آج تک احناف اوردیگر فرقِ اسلامیہ کے درمیان ایک معرکہ آرا مبحث ہے اوراس کا کسی طرح فیصلہ ہی نہیں ہونے پاتا، حضرت عبد اللہ ؓ کے زمانہ میں یہ بحث پیدا ہوچکی تھی، چنانچہ ایک شخص نے بطریق اسفتاءاس مسئلہ کو ان کے سامنے پیش کیا انہوں نے جواب دیا۔ انصت فان فی الصلوۃ شغلا سیکفیک ذاک الامام [42] خاموش رہو کیونکہ نماز میں توجہ قائم نہیں رہتی امام کا پڑھنا تمہارے لیے کافی ہے۔ اس جواب میں درحقیقت حسب ذیل تین دلیلوں کی طرف اشارہ ہے جو آج بھی احناف کے لیے مخالفین کے مقابلہ میں بمنزلہ سپر ہے (1)وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا۔ [43] جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو سنو اورخوموش رہو۔ (2)مقتدی کی قرأت سے نماز میں توجہ قلب باقی نہیں رہتی۔ (3)آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے" من کان لہ امام فقرأۃ الامام قراۃ لہ " یعنی جو امام کے پیچھے ہو اس کے لیے امام کی قرأت کافی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابوموسٰی اشعری ؓ کے پاس فرائض کا یہ استفتاء آیا کہ ایک میت نے ورثہ میں ایک لڑکی ایک پوتی اورایک بہن چھوڑی ہے،اس کی جائداد کس طرح تقسیم ہوگی انہوں نے جواب دیا کہ لڑکی اوربہن نصف کی مستحق ہیں اورپوتی محروم الارث ہے ،ابوموسیٰ ؓ کے جواب کے ساتھ یہی استفتاء حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں آیا، انہوں نے فرمایااگر میں رسول خدا ﷺ کے فرمان پر ابوموسیٰ کے قول کو ترجیح دوں تو میں گمراہ ہوں گا، بیشک لڑکی نصف پائے گی،لیکن دوثلث پورا کرنے کے لیے ایک سدس پوتی کو بھی ملے گا اورجو باقی رہے گا وہ بہن کا حصہ ہے،[44]یہ جواب حضرت ابوموسیٰ ؓ کو معلوم ہوا تو فرمایا جب تک یہ بڑا عالم ہم میں موجود ہے اس وقت تک ہم سے پوچھنے کی ضرورت نہیں، چنانچہ آج یہی فتویٰ تمام مسلمانوں کا معمول بہ ہے۔

معاصرین فضل وکمال کے معترف تھے[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے تبحر علمی و ملکۂ اجتہاد کے تمام صحابہ کرام ؓ معترف تھے، حضرت عمرؓ جب ان کو دیکھتے تو چہرہ بشاش ہو جاتا اورفرماتے: كنيف ملىء علما [45] [46] ایک ظرف ہے جو علم سے بھرا ہوا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ سے چند کوفیوں نے ان کے تقویٰ ،حسنِ خلق اورتبحرعلمی کی بیحد تعریف کی ،انہوں نے پوچھا کیا تم سچے دل سے کہتے ہو؟ بولے ہاں، فرمایا: تم لوگوں نے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی جو کچھ تعریف کی ہے میں ان کو اس سے بھی بہتر خیال کرتا ہوں۔ [47]

ایک دفعہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اگر کسی کے حلق سے بیوی کا دودھ فرو ہوجائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے، انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس پر حرام ہوجائے گی، حضرت عبد اللہ ؓ موجود تھے،انہوں نے روک کر کہا آپ یہ کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ رضاعت صرف دوسال تک ہے،حضرت ابوموسیٰ ؓ نے خوش ہوکر اعتراف فضل کے لہجہ میں لوگوں سے کہا جب تک یہ حبر یعنی عالم متبحر تم میں موجود ہے مجھ سے کچھ نہ پوچھو۔ [48] حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ایک شخص سے جو تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھا کہا تہ بند ذرا اوپر کرکے باندھو، اس نے کہا ابن مسعود تم بھی تہ بند اوپر کرو،بولے میں تمہارے جیسا نہیں ہوں، میری ٹانگیں پتلی ہیں، حضرت عمرؓ نے اس رد وقدح کا حال سنا تو اس شخص کو کوڑے لگوائے کہ تونے عبد اللہ بن مسعود ؓ جیسے شخص سے منھ زوری کی۔ [49]

نا معلوم مسائل میں رائے زنی سے احتراز[ترمیم]

ایک طرف توان کی قوتِ اجتہاد وجلالت شان کا یہ حال تھا ،لیکن دوسری طرف حزم واحتیاط کا یہ عالم تھا کہ نامعلوم مسائل میں کبھی رائے زنی سے کام نہ لیتے اوراپنے شاگردوں کو ہمیشہ ہدایت فرمایا کرتے جس چیز کو تم نہ جانتے ہو اس کی نسبت یہ نہ کہا کرو کہ میری رائے یہ ہے یا میرا خیال یہ ہے بلکہ صاف کہدیا کرو کہ میں نہیں جانتا۔ [50] مسروق جوان کے خاص تلامذہ میں ہیں بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ اکثر حسرت وافسوس کے ساتھ فرمایا کرتے تھے کہ عنقریب ایک ایسا زمانہ آنے والا ہےجبکہ علما باقی نہ رہیں گے اورلوگ ایسے جاہلوں کو سردار بنالیں گے جو تمام امور کو محض اپنی عقل ورائے سے قیاس کریں گے۔ [51] ایک مرتبہ ان کے پاس یہ استفتاء آیا کہ ایک عورت کا نکاح ہوا لیکن اس میں مہر کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا، اس کے لیے کیا حکم ہے وہ مہر دوراثت کی مستحق ہے یا نہیں؟ چونکہ ان کو اس کے متعلق کوئی واقفیت نہ تھی اس لیے لوگوں کے ضد اوراصرار کے باوجود تقریباً ایک مہینہ تک خاموش رہے،لیکن جب زیادہ مجبور کیے گئے تو بولے میرا فیصلہ یہ ہے کہ وہ مہر مثل اور وراثت کی مستحق ہے اوراس کو عدت میں بیٹھنا چاہیے، پھر فرمایا، اگر یہ صحیح ہے، تو خدا کی طرف سے ہے اوراگر غلط ہے تو میری طرف سے اورشیطان کی طرف سے ہے خدا اوراس کا رسول ﷺ اس سے بری ہے، اس وقت حاضرین میں دو صحابی حضرت جراح ؓ اورحضرت ابوسنان ؓ موجود تھے، انہوں نے اٹھ کر کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بروع بنت واشق کے حق میں بھی یہی فیصلہ فرمایا تھا، اس توافق سے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو غیر معمولی مسرت حاصل ہوئی۔ [52]

فتوی سے رجوع کرنا[ترمیم]

اگر وہ کبھی کوئی فتویٰ دیتے اور بعد کو اس کے خلاف ثابت ہو جاتا تو فوراً اس سے رجوع کرلیتے، ایک مرتبہ کوفہ میں ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو ہاتھ نہ لگایا ہو تو اس کے بعد اس کی ماں سے نکاح کرسکتا ہے؟ حضرت عبد اللہ ؓ نے جوازکا فتویٰ دیا، لیکن جب مدینہ آئے اورلوگوں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ربیبہ لڑکیوں کے سوا اورتمام صورتوں میں ناجائز ہے،چنانچہ انہوں نے کوفہ واپس آکر براہ راست مستقنی سے ملاقات کی اوراپنے فتویٰ سے رجوع کرکے فسخ نکاح کا حکم دیا۔ [53]

معاصرین سے استفادہ[ترمیم]

نا معلوم مسائل میں ان کو اپنے اہل علم معاصرین سے استفادہ کرنے میں عارنہ تھا،ایک مرتبہ انہوں نے اپنی بیوی سے ایک لونڈی خرید ی اورشرط یہ قرار پائی کہ اگر وہ فروخت کی جائے تو اس کی قیمت ان کی بیوی کو ملے گی،چونکہ ان کو خود اس بیع کی تکمیل میں شک تھا، اس لیے انہوں نے حضرت عمرؓ سے فتویٰ پوچھا انہوں نے جواب دیا کہ بیع مشروط سے ملکیت حاصل نہیں ہوتی تم اس کے قریب نہ جاؤ۔ [54] امام محمد نےکتاب الآثار میں روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام میں سے چھ شخص مجتہد تسلیم کیے جاتے تھے اور وہ باہم مسائل فقیہ میں بحث ومذاکرہ کرتے رہتے تھے، علی ؓ، ابی بن کعب ؓ، اورحضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ ایک ساتھ اورعمر ؓ،زید بن ثابت ؓ اور عبد اللہ بن مسعود ؓ ایک ساتھ امام شعبی کا بیان ہے کہ عمرؓ ،زید اورعبداللہ بن مسعود ؓ باہم ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے اوراسی وجہ سے ان کے مسائل باہم ملتے جلتے ہیں۔

ارباب علم کی قدرشناسی[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ؓ اربابِ علم وفضل کی نہایت عزت کرتے تھے ،حضرت عمرؓ کی نسبت ان کا قول تھا کہ ،اگر تمام عرب کا علم ایک پلہ میں رکھا جائے اورعمرؓ کا علم دوسرے پلہ میں تو عمر ؓ کا پلہ بھاری رہے گا، وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ عمر ؓ کے ساتھ ایک گھڑی بیٹھنا میں سال بھر کی عبادت سے بہتر جانتا ہوں۔ [55] حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی نسبت فرمایا کرتے تھے، ابن عباس ؓ بہترین ترجمان قرآن ہیں، اگر وہ عہد رسالت میں ہم لوگوں کا سنِ پاتے تو کوئی ان کی برابری نہ کرسکتا۔ [56] علقمہ ان کے شاگرد تھے،انہوں نے محض اپنی ذہانت وکثرتِ معلومات کے باعث ان کے حلقہ درس میں ممتاز عزت حاصل کرلی تھی، حضرت عبد اللہ ان کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ علقمہ کے معلومات سے میرے معلومات زیادہ نہیں ہیں۔ [57]

احترامِ خلافت[ترمیم]

منصب خلافت کانہایت ادب واحترام ملحوظ رکھتے تھے اورکبھی خلیفہ وقت کا کوئی حکم یا فعل سنتِ ماضیہ کے خلاف نظر آتا تو عملا اس کی مخالفت نہ فرماتے تھے کہ اس سے امتِ مرحومہ میں تفریق وانتشارکا اندیشہ تھا،ایک سال حج کے موقع پر حضرت عثمان ؓ نے منیٰ میں دو کی بجائے چار رکعتیں ادا کیں، حضرت عبد اللہ ؓ کو خبر ملی تو متاسف ہو کر بولے اناللہ واناالیہ راجعون میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں، ابوبکر ؓ وعمرؓ کے عہد میں بھی دوہی رکعتیں تھیں، اب یہ کیا انقلاب ہے؟[58] لیکن عملاً انہوں نے چار ہی رکعتیں پڑھیں، لوگوں نے اس پر تعجب ظاہر کیا تو بولے کہ خلافت کا احترام ضروری ہے۔ [59]

درس وتدریس[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کوفہ میں باقاعدہ حدیث ،فقہ اورقرآن پاک کی تعلیم دیتے تھے،ان کی درس گاہ میں شاگردوں کا بڑا مجمع رہتا تھا، جن میں سے علقمہ رحمہ اللہ ، اسودرحمہ اللہ، مسروق، عبیدہ حارث،قاضی شریح اورابووائل نہایت نام آور ہوئے خاص کر علقمہ ان کی صحبت میں اس التزام سے رہے تھے اوران کے طور وطریقہ کے اس قدر پابند تھے کہ لوگوں کا بیان تھا جس نے علقمہ کو دیکھ لیا اس نے عبد اللہ بن مسعود ؓ کو دیکھ لیا۔ شاگردوں کی ایک جماعت سفر میں بھی عموماً ہمراہ ہوتی تھی، علقمہ اس قدر اہتمام کرتے تھے کہ اگر خود جانے سے مجبور ہوتے تو اپنے کسی رفیق کو ساتھ کردیتے اورتاکید کرتے کہ ہمیشہ حاضرِ خدمت رہیں ،عبدالرحمن بن یزید کا بیان ہے کہ عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ایک مرتبہ حج کا قصد کیا علقمہ نے مجھ کو ان کے ہمراہ بھیجا اورتاکید کی کہ ہروقت حاضر رہوں اورجو کچھ معلومات حاصل ہوں ان سے ان کو مطلع کروں۔ [60] ایک مرتبہ حضرت خباب ؓ نے ان کے وسیع حلقہ درس کو دیکھ کر کہا ابو عبدالرحمن کیا آپ کی طرح آپ کے یہ نوجوان شاگرد بھی باقاعدہ قرأت کرسکتے ہیں؟ بولے اگر آپ کی خواہش ہو تو کسی کو سنانے کا حکم دوں، حضرت خباب ؓ نے کہا کیوں نہیں؟ حضرت عبد اللہ ؓ نے علقمہ کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے تقریبا پچاس آیتوں کی ایک سورت پڑھ کر سنائی،حضرت عبد اللہ ؓ نے حضرت خباب کی طرف دیکھ کر کہا،کیارائے ہے؟ انہوں نے نہایت تعریف کی۔ [61]

معتقدین کا ہجوم[ترمیم]

تلامذہ کے علاوہ معتقدین کا ایک بڑا مجمع بھی ہر وقت حاضر رہتا تھا ،شقیق کابیان ہے کہہم لوگ مسجد میں بیٹھ کر عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مکان سے برآمد ہونے کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ [62] طارق بن شہاب کہتے ہیں ہم لوگ عبد اللہ بن مسعود ؓ کے گرد بیٹھتے اوران کی صحبت سے فیضیاب ہوتے تھے، ایک روزحسب معمول بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص السلام یا ابا عبدالرحمن کہتا ہوا تیزی کےساتھ اس طرف سے گذرا ،انہوں نے جواب دیا صدق اللہ ورسولہ یعنی خدا اوراس کے رسول نے سچ فرمایا ہے یہ کہہ کر داخل حرم ہوئے ،ہم لوگوں کو اس جواب پر سخت حیرت تھی، باہم مشورہ ہواکہ ان کے برآمد ہونے کے بعد کون اس کے متعلق سوال کرے؟ میں نے کہا کہ میں پوچھوں گا، غرض وہ تشریف لائے اور میں نے پوچھا بولے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ خاص خاص آدمیوں کو سلام کرنا ،تجارت کا ترقی کرنا، اعزہ کے ساتھ بدسلوکی ،جھوٹی گواہی دینا اورحق کو چھپانا، قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ [63]

قوتِ تقریر اوروعظ وپند[ترمیم]

تقریروخطابت میں خاص مہارت رکھتے تھے،ایجازواختصار کے ساتھ تاثیر ان کی تقریر اوروعظ کی ممتاز صفت تھی، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مختصر تقریر فرمائی ،پھر حضرت ابوبکر ؓ کو اور ان کے بعد حضرت عمرؓ کو تقریر کا حکم دیا، ان دونوں نے باری باری اختصار کے ساتھ اپنا بیان ختم کیا، توحضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو حکم ہوا،انہوں نے کھڑے ہوکر حمدو نعت کے بعد کہا۔ ایھا الناس ان اللہ ربنا وان الاسلام دیننا وان ھذانبینا (واومابیدہ الی النبی ﷺ ) رضینا مارضی اللہ لناورسولہ، السلام علیکم صاحبو! بے شک خدا ہمارا مالک ہے، اسلام ہمارا مذہب ہے اوریہ(ہاتھ سے آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ کرکے) ہمارے نبی ﷺ ہیں،خدا اوراس کے رسول نے جو کچھ ہمارے لیے پسند کیا ہے ہم نے بھی اس کو پسند کیا، السلام علیکم آنحضرت ﷺ نے اس مختصر تقریر کی نہایت تعریف کی اورفرمایا، ابن ام عبد نے سچ کہا۔ [64] حضرت عبد اللہ بن مسعود اپنے مواعظ حسنہ میں عموماً توحید، نماز باجماعت اورخوف خدا کی تلقین فرماتے اورتمثیلات سے ذہن نشین کراتے تھے ،مثلاً ایک وعظ میں انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص نے جس کے نامۂ اعمال میں توحید کے سوا اورکوئی نیکی نہ تھی، مرنے کے وقت وصیت کی کہ میری لاش کو جلا کر اورچکی میں پیس کر سمندر میں ڈال دینا،لوگوں نے اس کی وصیت پوری کی،خدانے اس کی روح سے سوال کیا تو نے اپنی لاش کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ بولا خدایا تیرے خوف اورڈر سے، اس گزارش پر دریائے رحمت جوش میں آیا اوروہ بخشدیا گیا،[65] اس تمثیل سے درحقیقت یہ سمجھانا تھا کہ خشیت باری تمام اعمالِ حسنہ کی روح ہے۔

کثرتِ وعظ سے احتراز[ترمیم]

وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ وعظ وپند کی کثرت اس کے اثر کو زائل کردیتی ہے، اس بنا پر لوگوں کے ضد واصرار کے باوجود بہت کم منبر وعظ پر تشریف لے جاتے اورجو کچھ کہنا ہوتا اس کو نہایت مختصر صاف وسادہ لیکن مؤثر الفاظ میں فرماتے کہ سامعین تقریر کی طوالت سے گھبرانہ اٹھیں، ایک مرتبہ وعظ سننے کے شوق میں معتقدین کا ہجوم تھا، یزید بن معاویہ نخعی نے ان کو خبر دی،لیکن وہ بہت دیر کے بعد گھر سے برآمد ہوئے اورفرمایا،صاحبو! مجھے معلوم تھا کہ آپ دیر سے میرا انتظار کر رہے ہیں،لیکن میں اس ڈر سے باہر نہیں آیا کہ کثرتِ بیان آپ کو تھکادے گی،رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کی تکلیف کے خیال سے کئی کئی دن ناغہ دے کر وعظ فرماتے تھے۔ [66] یوں تو ان کا دولت کدہ ہر وقت طالبان علم کا مرجع رہتا تھا،لیکن طلوع آفتاب کے بعد کے وقت مسئلہ مسائل کے لیے مخصوص تھا، ابووائل بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن فجر کی نماز کے بعد عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے، وہ اس وقت تسبیح و تہلیل میں مصروف تھے، طلوع آفتاب کے بعد ایک شخص نے پوچھا میں نے رات نماز میں پوری مفصل پڑھیں، عبد اللہ ؓ نے کہا شعر کی طرح جلدی جلدی پڑھی ہوں گی، ہم نے قرائن کی تلاوت سنی ہے اورمجھے وہ قرائن یاد ہیں جن کو آنحضرت ﷺ پڑھا کرتے تھے، آپ دس مفصل اور دوسورتیں آل عم کی پڑھتے تھے۔ [67]

اخلاق[ترمیم]

سنت نبوی کی پیروی کے شوق نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے اخلاق وطرز معاشرت میں ایک گونہ حضرت خیر الانام ﷺ کے مکارم ومحامد کی جھلک پیدا کردی تھی، عبدالرحمن بن یزید کا بیان ہے کہ ہم نے حضرت حذیفہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا، آپ ہم کو کسی ایسے شخص کا پتہ دیجئے جو خلق وہدایت میں آنحضرت ﷺ سے قریب تر ہوتا کہ ہم اس سے کچھ حاصل کریں، بولے عبد اللہ بن مسعود ؓ سب سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی ہدایت، حسن خلق اور طور طریقے کے پابند تھے اورحضوراکرم ﷺ کے دوستوں میں سے جو لوگ موجود ہیں وہ جانتے ہیں کہ بارگاہِ نبوت میں تقرب کے لحاظ سے ابن ام عبد کا درجہ سب سے بلند ہے۔ [68] حضرت علی ؓ جب کوفہ تشریف لے گئے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے چند دیرینہ احباب ان سے ملنے آئے، حضرت علی ؓ نے امتحاناً حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی نسبت ان کے خیالات دریافت کیے ،سب نے بالاتفاق تعریف کی اورکہا امیر المومنین! ہم نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے زیادہ متقی پرہیز گار، خلیق، نرم دل اوربہتر ہم نشین نہیں دیکھا، حضرت علی ؓ نے فرمایا بے شک میرا بھی یہی خیال ہے،بلکہ تم نے جو کچھ تعریف کی میں ان کو اس سے زیادہ بہتر سمجھتا ہوں، انہوں نے قرآن پڑھا، حلال کو حلال اورحرام کو حرام کیا وہ دین کے فقیہ اورسنت کے عالم تھے۔ [69] حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ ایک دفعہ اپنے ایک دوست ابو عمیر سے ملنے گئے، اتفاق سے وہ موجود نہ تھے انہوں نے ان کی بیوی کو سلام کہلا بھیجا اورپینے کے لیے پانی مانگا،گھر میں پانی موجود نہ تھا، ایک لونڈی کسی ہمسایہ کے یہاں سے لانے گئی اوردیر تک واپس نہ آئی، ابوعمیر کی بیوی نے غضبناک ہوکر اس کو سخت وسست کہا اوراس پر لعنت بھیجی، حضرت عبد اللہ ؓ یہ سن کر تشنہ لب واپس چلے آئے دوسرے روز ابو عمیرسے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس قدر جلد بازی کے ساتھ واپس چلے آنے کی وجہ پوچھی بولے خادمہ نے جب پانی لانے میں دیر کی تو تمہاری بیوی نے اس پر لعنت بھیجی،چونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جس پر لعنت بھیجی جاتی ہے اگر وہ بے قصور ہوتا ہے تو بھیجنے والے پر لوٹ آتی ہے، میں نے خیال کیا کہ خادمہ اگر معذور ہوئی تو بے وجہ میں اس لعنت کے واپس آنے کا باعث ہوں گا۔ [70] ایک بار انہوں نے ایک شخص سے ایک لونڈی خریدی ؛لیکن قیمت بے باق ہونے سے پہلے بائع مفقود الخبر ہو گیا حضرت عبد اللہ نے ایک سال تک اس کو تلاش کیا؛مگر کچھ پتہ نے چلا بالآخر مایوس ہوکر ایک ایک دو دو درہم کرکے اس کی طرف سے صدقہ کر دیا اور فرمایا اگر وہ واپس آئے گا تو قیمت ادا کروں گا اور یہ صدقہ میری طرف سے ہوگا۔ تمیم بن حرام فرماتے ہیں کہ مجھ کو اکثر اصحاب رسول اللہ ﷺ کی ہم نشینی کا فخر حاصل ہے،لیکن میں نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے زیادہ کسی کو دنیاسے بے نیاز اورآخرت کا طالب نہ دیکھا،[71]حضرت عثمان ؓ نے دو برس تک ان کا وظیفہ بند کر دیا تھا، وفات کے وقت انہوں نے ان کی اولاد کے لیے جاری کردینا چاہا ؛لیکن حضرت عبد اللہ نے نہایت بے نیازی کے ساتھ انکار کر دیا، بولے ،کیا آپ کو میری اولاد کے محتاج ودست نگر ہوجانے کا اندیشہ ہے؟ میں نے انہیں حکم دیا ہے کہ ہررات کو سورۂ واقعہ پڑھ لیا کریں،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جوہررات کو سورۂ واقعہ پڑھے گا وہ کبھی فاقہ نہ ہوگا۔ [72] حضرت عبد اللہ ؓ کو مہمان نوازی کا نہایت شوق تھا،انہوں نے کوفہ میں موضع الرمادہ کامکان مخصوص طور سے مہمانوں کے لیے خالی کر دیا تھا۔ [73]

مذہبی زندگی[ترمیم]

عبیداللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ رات کے وقت جب کہ تمام دنیا محو راحت ہوتی تھی، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیٹھ کر صبح تک آہستہ آہستہ قرآن کی تلاوت فرماتے تھے،[74] رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی تمام طاق راتیں شب قدر کی تلاش میں بسر ہوتی تھیں، ابوعقرب کہتے ہیں کہ میں رمضان میں ایک روز علی الصبح ان کی خدمت میں حاضر ہوا دیکھا کہ مکان کی چھت پر بیٹھے ہوئے فرما رہے ہیں، خدا اور اس کے رسول نے سچ کہا میں نے پوچھا کہ وہ کیا ہے؟ بولے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا تھا کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہے اوراس کی علامت یہ ہے کہ اس روز جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس میں شعاع نہیں ہوتی ؛چنانچہ آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ [75] سارا گھر صبح سویرے بیدار ہوکر عبادت میں مشغول ہوجاتا تھا، خود صبح صادق سے طلوع آفتاب تک تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے تھے۔ ابووائل راوی ہیں کہ ایک دن ہم لوگ صبح کی نماز پڑھ کر عبد اللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے دروازہ پر کھڑے ہوکر سلام کیا،اندر آنے کی اجازت ملی؛ لیکن ہم لوگ تھوڑی دیر دروازے پرٹھہرے رہے کہ اتنے میں لونڈی نے آکر کہا آتے کیوں نہیں، ہم لوگ گھر میں گئے تو وہ بیٹھے ہوئے تسبیح پڑھ رہے تھے،کہا اجازت ملنے کے بعد تم لوگوں کو اندرآنے سے کس نے روکا تھا؟ ہم لوگوں نے کہا کسی نے نہیں، خیال ہوا ممکن ہے بعض اہل بیت سو رہے ہوں،کہا ابن ام عبد کی اولاد پر تم نے غفلت کا گمان کیا،اس کے بعد پھر تسبیح میں مشغول ہو گئے،جب سمجھے کہ آفتاب نکل چکا تو لونڈی سے کہا دیکھو آفتاب طلوع ہوا؟اس نے جاکر دیکھا تو ابھی طلوع نہ ہوا تھا، پھر تسبیح میں مشغول ہو گئے ،تھوڑی دیر کے بعد پھر لونڈی سے کہا دیکھو آفتاب طلوع ہوا، اس نے جاکے دیکھا تو طلوع ہوچکا تھا تو پھر یہ دعا پڑھی، اس خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو آج کے دن معاف کر دیا، مہدی راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ بھی کہا تھا اورہمارے گناہوں کے بدلے میں ہم کو ہلاک نہیں کیا۔ [76] نمازیں نہایت کثرت سے پڑھتے تھے،فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے بہتر عمل خیر کیا ہے؟ ارشاد ہوا کہ نماز کا اپنے وقت پر ادا کرنا، میں نے کہا پھر کیا ہے؟ فرمایا والدین کے ساتھ نیکو کاری، میں نے کہا پھر؟ حکم ہوا، راہ خدا میں جہاد کرنا، اس کے بعد خاموش ہو گیا، ہاں اگر میں اپنا سوال آگے بڑھاتا تو آپ اس پر کچھ اوراضافہ فرماتے ،[77] غرض اس ارشاد کے مطابق وہ فرائض ٹھیک وقت پر ادا کرتے تھے، ایک مرتبہ ولیدبن عقبہ والی کوفہ کو پہنچنے میں دیر ہو گئی،حضرت عبد اللہ نے بغیر توقف وانتظارکےنماز پڑھادی،ولید نے برہم ہوکر کہلا بھیجا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ کیا امیر المومنین کا کوئی حکم ہے یا اپنی ایجاد؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو امیرالمومنین کا حکم ہے اورنہ اپنی ایجاد ،البتہ خدا کو یہ نا پسند ہے کہ تم اپنے مشاغل میں مصروف رہو اور لوگ نماز میں تمہارے منتظر رہیں۔ [78] رمضان کے علاوہ ہفتہ میں دو دن دوشنبہ اورجمعرات عموماً روزوں کے لیے مخصوص تھے ،عاشورے کا روزہ بھی پابندی کے ساتھ رکھتے تھے، باوجود اس کے عبدالرحمن ابن یزید کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود ؓ کے سوا اور کسی فقیہ کو اس قدر کم روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، چنانچہ ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ روزے کیوں نہیں رکھتے؟ بولے میں روزہ پر نماز کو ترجیح دیتا ہوں اگر روزے رکھوں گا تو ضعف کے باعث نماز نہ ہو سکے گی۔ [79]

خانگی زندگی[ترمیم]

بیوی بچوں سے محبت رکھتے تھے، گھر میں داخل ہوتے تو باہرہی سے کھکھارتے اوربلند آواز سے کچھ بولتے، تاکہ گھر کے لوگ باخبر ہوجائیں، ان کی اہلیہ محترمہ حضرت زینب ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز عبد اللہ ؓ کھکھار تے ہوئے اندر آئے، اس وقت ایک بڈھی عورت مجھے تعویذ پہنا رہی تھی، میں نے ان کے ڈر سے اس کو پلنگ کے نیچے چھپادیا، عبد اللہ آکر میرے پاس بیٹھ گئے،اورگلے کی طرف دیکھ کر پوچھا،یہ دھاگہ کیسا ہے؟ میں نے کہا تعویذ ہے، انہوں نے اس کو توڑ کر پھینک دیا اورکہا عبد اللہ کا خاندان شرک سے بری ہے، رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا ہے کہ تعویذ اورگنڈے شرک میں داخل ہیں، میں نے کہا، آپ یہ کیا فرماتے ہیں میری آنکھیں جوش کر آتی تھیں تو میں فلاں یہودی سے تعویذ لینے جایا کرتی تھی اوراس کے تعویذ سے سکون ہوجاتا تھا ،بولے یہ سب عمل شیطانی ہے تمہارے لیے صرف رسول اللہ ﷺ کی یہ دعا کافی ہے۔ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا۔ [80] خوف دورکراے پروردگار شفادے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا نہیں، وہ شفا ایسی ہے جو کسی بیماری کو نہیں چھوڑتی۔ پوشاک نہایت سادہ پہنتے تھے، ہاتھ میں ایک آہنی انگوٹھی رہتی تھی،[81]جو غالباً مہروغیرہ کے کام آتی ہوگی، غذا بھی پرتکلف نہ تھی، کھانے کے بعد عموماً نبیذ (چھوہاروں کا شربت )استعمال فرماتے تھے،ایک مرتبہ علقمہ نے ان سے کہا خدا آپ پر رحم کرے، آپ تمام امت کے مقتدا اورپیشوا ہو کر نبیذ پیتے ہیں، بولے میں نے رسول اللہ ﷺ کو نبیذ پیتے ہوئے دیکھا تھا، اگر میں آپ ﷺ کو نہ دیکھتا تو استعمال نہ کرتا۔ [82]

وظیفہ[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ؓ کے لیے بیت المال سے پانچ ہزار درہم کا سالانہ وظیفہ مقرر تھا جوان کی وفات سے دو برس پہلے خلیفہ ثالث کے حکم سے بند کر دیا گیا تھا،لیکن حضرت زبیر ؓ نے سفارش کرکے ان کی اولاد کے لیے جاری کرادیا، اس طرح ان کے پسماندوں کو ایک مشت دس یا پندرہ ہزار درہم مل گئے، اس کے علاوہ انہوں نے تقریبا 90 ہزار درہم نقد چھوڑے۔ [83]

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا،جسم لاغر ،قدکوتاہ، رنگ گندم گوں اورسرتا کانوں تک نہایت نرم وخوبصورت زلف، حضرت عبد اللہ اس کو اس طرح سنوارتے تھے کہ ایک بال بھی بکھرنے نہیں پاتا تھا۔ ٹانگیں نہایت پتلی تھیں، حضرت عبد اللہ ہمیشہ ان کو چھپائے رکھتے تھے ایک مرتبہ وہ آنحضرت ﷺ کے لیے مسواک توڑنے کے خیال سے پیلو کے درخت پر چڑھے تو ان کی پتلی ٹانگیں دیکھ کر لوگوں کو بے اختیار ہنسی آگئی، آنحضرت ﷺ نے فرمایا، تم ان کی پتلی ٹانگوں پر ہنستے ہو ؛حالانکہ یہ قیامت کے روز میزان عدل میں کوہِ احد سے بھی زیادہ بھاری ہوں گی۔ [84]



حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اسد الغابہ :2 تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  2. (تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  3. (اسد الغابہ جلد 2 تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  4. (مسند ابن حنبل)
  5. (اسدالغابہ تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  6. (طبقات ابن سعد قسم اول جلد 3 تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  7. (بخاری :2/565)
  8. (احمد:1/453)
  9. (اسدالغابہ:3/257)
  10. (اسد الغابہ:2/173)
  11. (تاریخ طبری :2845)
  12. (تاریخ طبری :2845)
  13. (تاریخ طبری:2811)
  14. (اصابۃتذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  15. (مسند احمد بن حنبل:5/166)
  16. (یہ تمام تفصیل اسدالغابہ سے ماخوذ ہے)
  17. (طبقات ابن سعد قسم اول:3/113)
  18. (مسند اعظم :184)
  19. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث 109)
  20. (صحیح مسلم:2/343)
  21. (بخاری:2/48)
  22. (مسلم باب میں فضائل عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  23. (اسد الغابہ:3/259)
  24. (بخاری باب القراء میں اصحاب النبی ﷺ )
  25. (آل عمران:77)
  26. (مسند: ا/ 277،وبخاری :2/652)
  27. (الفرقان:68) (مسند احمد:1/380)
  28. (مسند:1/381 وبخاری :2/710)
  29. (مسند:1/454)
  30. (مسند احمد:1/374 وبخاری:2/659)
  31. (تذکرہ الحفاظ:1/14)
  32. (ابن سعد قسم اول جز ثالث:110)
  33. (مسند احمد:1/385)
  34. ( تہذیب الکمال :234)
  35. (مسند احمد:1/448)
  36. ( مسنداحمد، عبد اللہ بن مسعود)
  37. (موطا امام محمد:232)
  38. (التوضیح واتسویح)
  39. (البقرۃ:234)
  40. (الطلاق:4)
  41. (التوضیح والتلویح)
  42. (موطا امام محمد:1/96)
  43. (الاعراف:204)
  44. (مسند احمد:1/428،بخاری :2/997)
  45. (طبقات ابن سعدقسم اول جز ثالث :110)
  46. (مستدرک حاکم،مناقب)
  47. (طبقات ابن سعد ق اجز 3:110)
  48. (مؤطا امام مالک:223)
  49. (اصابہ :3/130)
  50. (اعلام الموقنین :64)
  51. (اعلام الموقنین :64)
  52. (ابوداؤد باب فیمن تزوج ولم یسم صداقھا)
  53. (موطا امام مالک :193)
  54. (موطا امام محمد:342)
  55. (استیعاب تذکرہ عمرفاروق ؓ)
  56. (تذکرہ الحفاظ :1/35)
  57. (تہذیب التہذیب :8/308)
  58. (بخاری :1/147)
  59. (مسند اعظم :86)
  60. (مسند احمد:1/461)
  61. (بخاری:2/630)
  62. (بخاری :2/630)
  63. (بخاری:407)
  64. (تذکرۃ الحفاظ :1/13)
  65. (مسند احمد:1/398)
  66. (مسند احمد:1/377)
  67. (مسلم :1/ 304، مطبوعہ مصر اس حدیث میں اورواقعات بھی ہیں،مگر ان کا تعلیم سے تعلق نہیں ہے اس لیے ہم نے حذف کر دیے)
  68. (جامع ترمذی مناقب عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  69. (طبقات ابن سعد: قسم 1 :2/110)
  70. (بخاری :2/97)
  71. (اصابہ تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  72. (اسد الغابہ:3/259)
  73. (تاریخ طبری میں:2842)
  74. (اسدالغابہ تذکرہ عبد اللہ بن مسعود ؓ)
  75. (مسند احمد:1/406)
  76. (مسلم :1/305 باب ترتیل القراۃ واجتناب الہذ)
  77. (بخاری :1/390)
  78. ( مسند احمد:1/450)
  79. (طبقات ابن سعد، قسم اول:3/109)
  80. (مسند احمد:1/ 38 وابوداؤد:2/186)
  81. (طبقات )
  82. (مسند اعظم :201)
  83. (طبقات ابن سعد ،قسم اول :3/113)
  84. (طبقات ابن سعد، صفحہ 110)