عبد اللہ جوادی آملی
| آية الله عبد الله جوادي آملي | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | اپریل1933ء (93 سال) آمل، مازندران |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | فلسفی ، سیاست دان ، آخوند ، الٰہیات دان ، مصنف ، ماہر اسلامیات [1] |
| پیشہ ورانہ زبان | فارسی ، عربی |
| درستی - ترمیم | |
عبد اللہ جوادی آملی (فارسی: عبدالله جوادی آملی) ایک ایرانی شیعہ فقیہ، مفسر اور فلسفی ہیں۔ وہ ایران کے شہر قم میں قائم مؤسسة الإسراء للبحوث کے بانی ہیں اور معاصر شیعہ علما میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ معروف مفسر و فلسفی محمد حسين طباطبائی کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں انھیں شیعہ حلقوں میں قرآن کے ممتاز مفسرین اور فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ولادت
[ترمیم]عبد اللہ جوادی آملی کی پیدائش 1932ء (1351ھ) میں ایران کے شمالی شہر آمل میں ہوئی۔ ان کے والد میرزا ابو الحسن جوادی اس شہر کے معروف علما اور واعظین میں سے تھے، جنھوں نے ان کی ابتدائی تربیت اور دینی رجحان میں اہم کردار ادا کیا۔ .[2]
تعلیم
[ترمیم]انھوں نے 1364ھ میں آمل کی حوزۂ علمیہ میں دینی علوم کی تعلیم کا آغاز کیا۔ بعد ازاں 1369ھ میں مزید تعلیم کے لیے تہران گئے اور وہاں مدرسہ مروی میں تعلیم حاصل کی۔
1374ھ میں وہ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے قم منتقل ہوئے اور وہیں مستقل قیام اختیار کیا۔ قم کی حوزۂ علمیہ میں انھوں نے فقہ کے اعلیٰ درجے یعنی درسِ خارج کی تدریس شروع کی اور ساتھ ہی قرآن مجید کی تفسیر کے دروس بھی دیتے رہے۔
مناصب
[ترمیم]عبد اللہ جوادی آملی نے ایران کے بعض اہم مذہبی و سرکاری اداروں میں بھی خدمات انجام دیں، جن میں نمایاں یہ ہیں:
مجلس خبرگانِ دستور (آئینی ماہرین کی مجلس) کے رکن۔
اعلیٰ عدالتی کونسل کے رکن۔
مجلس خبرگانِ رہبری کی پہلی اور دوسری مدت میں رکن، جہاں وہ صوبہ مازندران کے نمائندے تھے۔
اساتذہ
[ترمیم]انھوں نے متعدد معروف ایرانی علما سے تعلیم حاصل کی، جن میں نمایاں نام یہ ہیں:
- میرزا ابو حسن جوادی
- حسين طباطبائي بروجردی
- محمد حسين طباطبائي
- محمد یزدی المعروف بالمحقق الداماد
- روح اللہ خميني
- محمد تقی آملی
- ہاشم آملی
- محمد حسین فاضل تونی
- مہدی محی الدین الہی قمشهای
- ابو حسن شعرانی ۔ .[3]
علمی تصانیف
[ترمیم]جوادی آملی کی تصانیف کی تعداد سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ان کی بعض مشہور کتابیں یہ ہیں:[4]
- تسنیم فی تفسیر القرآن (متعدد جلدوں پر مشتمل تفسیر)
- الحیاة العرفانیة للإمام علی
- الحماسة والعرفان
- الإمام المهدي الموجود الموعود
- أدب فناء المقربين (شرح زیارة الجامعة الکبيرة)
- الإسلام والبيئة
- الحياة الخالدة في علم الأخلاق
- ولاية الإنسان في القرآن
- الحكمة النظرية والعملية في نهج البلاغة
- علي بن موسى الرضا والفلسفة الإلهية
- انھوں نے اسلامی علوم میں تحقیق اور اسلام کے خلاف شبہات کے جواب کے لیے مؤسسة الإسراء للبحوث بھی قائم کی۔
فقہ اور سماجی قانون پر تصانیف
[ترمیم]فقہ اور سماجی قانون کے موضوع پر ان کی بعض کتابیں درج ذیل ہیں: اختیار مناسک الحج
- الحج (جلد اول)
- الحج (جلد دوم)
- مصدر الفكر (چار جلدیں) ۔ [5]
سیاسی مؤقف
[ترمیم]عبد اللہ جوادی آملی نے بعض عالمی مسائل پر بھی اپنے خیالات ظاہر کیے۔ انھوں نے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کی جانب سے شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے “جدید جاہلیت” قرار دیا۔ [6]
اسی طرح جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ مذہب کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان کو وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں بنانے چاہئیں اور ایسے ہتھیاروں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ [7][8]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/132945363 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ الشیعة | الشیعة آرکائیو شدہ 2018-01-26 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ موقع المجمع العالمي لأهل البيت[مردہ ربط]
"نسخة مؤرشفة"۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 11 يونيو 2020۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 مارس 2021
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link) - ↑ Biography of Hazrat Abdullah Abdullah Javadi Amoli jameehmodarresin.org Retrieved 29 August 2021 آرکائیو شدہ 2016-10-18 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ نظرة على كتابات ومقالات آية الله العظمى جوادي آملي 24 نوفمبر 2021 آرکائیو شدہ 2020-02-22 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ "وكالة مهر للانباء - ادانة الرسوم المسيئة لنبي الإسلام"۔ وكالة مهر للانباء۔ 17 يناير 2015 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Once again, it was a burden on the Ayatollah ... parsine.com Retrieved 29 August 2021 آرکائیو شدہ 2013-06-21 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Message of Ayatollah Javadi Amoli to the National Conference on Nuclear Jurisprudence irinn.ir Retrieved 29 August 2021 آرکائیو شدہ 2019-12-18 بذریعہ وے بیک مشین
- 1933ء کی پیدائشیں
- 1932ء کی پیدائشیں
- مفسرین
- ایرانی مسلم
- مسلم متکلمین
- مسلم فلاسفہ
- ایرانی شیعہ علما
- علمائے شیعہ
- ایران کے محدثین
- ایرانی سائنسدان
- ایرانی شیعہ
- ایرانی سیاست دان
- ایرانی اسلام پسند
- علمائے شیعیت
- آمل کی شخصیات
- بقید حیات شخصیات
- ایرانی آیت اللہ
- ایران میں ضد سامیت
- بیسویں صدی کے ایرانی سیاست دان
- ایرانی مصنفین
- ایرانی مسلمان صوفیاء
- ایرانی فلسفی
- اکیسویں صدی کے ایرانی سیاست دان
- ایرانی آیت اللہ العظمیٰ
