مفکر ملت مولانا عبد اللہ کاپودروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبد اللہ کاپودروی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

مفکر ملت، رئیس الجامعہ ،فخر گجرات مخدوم العلماء ،بقیۃ السلف والخلف، شیخ عبد اللہ کاپودروی نوراللہ مرقدہ ہندوستان کے صوبہ گجرات کے جید عالم دین، عارف باللہ اور ہندوستان کے مشہور دینی ادارہ دار العلوم فلاح دارین ترکیسر کے روح رواں تھے۔

پیدائش[ترمیم]

برما میں شان اسٹیٹ نامی صوبہ کے" ہیھو"

نامی شہر میں1352 ھ م  1933 ء  میں ہوئی، آپ سے پہلے خاندان میں 5 بہنوں کی پیدائش ہوچکی تھی ؛اس لیے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،آپ کے والد ماجد کے تعلقات برما میں علما کے ساتھ اور ہندوستان میں بھی علما کے ساتھ بڑے اچھے تھے، تو آپ کے والد صاحب علما سے آپ کے لیے دعائیں کرواتے تھے اور یہاں تک کہ ایک خط میں حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی دعا کی درخواست آپ کے والد ماجد نے کی تھی ،حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے جواب میں ارشاد فرمایا: "دعا کرتا ہوں"

برما سے ہندوستان آمد اور کاپودرا کا قیام اور ابتدائی تعلیم[ترمیم]

حضرت کی عمر دو ڈھائی سال کی تھی کہ آپ کے والد ماجد نے برما سے ہندوستان کا رُخ کیا اور کاپودرا میں قیام فرمایا، کاپودرا تحصیل انکلیشور ضلع بھروچ کے مدرسہ اسلامیہ نامی مکتب میں شروع ہوئی ،آپ کے سب سے پہلے استاذجناب حافظ ابراہیم بن اسماعیل مُلا جو عمرواڈہ کے باشندے تھے ،حروف تہجی سے قرآن مجید مکمل اور اردو قاعدے سے تعلیم الاسلام ، بہشتی ثمر کے دو حصّے اور چہل سبق تک کے اسباق ان کے پاس ہوئے، نیز اسکول کی تعلیم بھی پانچویں کلاس تک کاپودرا ہی میں مکمل کی۔

جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں داخلہ[ترمیم]

1944ء میں جامعہ ڈابھیل میں داخلہ ہوا ۔

درجہ فارسی اول و دوم:مولانا داؤد کفلیتوی اور مولانا عبدالحئی ابن مفتی اسمعیل بسم اللہ سے پڑھا ۔

درجہ عربی اول: بھی مولانا عبدالحئی بسم اللہ ڈابھیلی سے پڑھا ۔

درجہ عربی دوم: عربی دوم کی کتابیں نورالایضاح ، قدوری ، علم الصیغہ بحرالادب ( مصری ) ، تیسیرالمنطق وغیرہ حضرت مولانا ابراہیم صوفی ڈابھیلی المعروف بہ صوفی صاحب سےپڑھا۔

دیوبند کا سفراور دوبارہ ڈابھیل آمد[ترمیم]

درجہ عربی دوم کے بعد والد صاحب کی اجازت کے بغیر دیوبند 1948 ءمیں ہوا

دیوبند میں کنزالدقائق و شرح جامی میں داخلہ ہوا ،پھر دوسرے سال شرح وقایہ وغیرہ کتابیں پڑھی دیوبند میں دو سال گزارنے کے بعد والد صاحب اور رشتہ داروں کی رائے پر دوبارہ ڈابھیل میں تعلیم حاصل کرنے کی بات طے  ہوئی

جامعہ ڈابھیل میں دوبارہ داخلہ:جس سال دیوبند سے ڈابھیل آئے اس سال جامعہ میں عربی چہارم میں کوئی طالب علم نہیں تھا؛ اس لیے عربی سوم یا پنجم میں داخلہ ہونے کی رائے ہوئی ، صحت کی خرابی کے سبب عربی پنجم میں داخلہ ہوا

ہدایہ اولین ، دیوان متنبی مولانا محمد صاحب پانڈور سملکی ، حسامی مولانا عبدالرؤف صاحب کے پاس پڑھی اور مختصرالمعانی بھی۔

مشکوۃ شریف: مشکوۃ شریف ، شرح عقائد مولانا عبدالرؤف صاحب کے پاس ، جلالین شریف مولانا عبدالجبار کے پاس ، ہدایہ اخیرین مولانا فضل الرحمن کے پاس ہوئی۔

دورۂ حدیث شریف:بخاری شریف جلد اول مولانا عبدالجبار اعظمی رحمتہ اللہ علیہ اور جلدی ثانی ، مسلم شریف اور طحاوی شریف مولانا عبدالرؤف صاحب کے پاس ، ابوداؤد شریف مولانا فضل الرحمن صاحب کے پاس پڑھی ،جامعہ سے 1953ء میں سند فراغت حاصل کی[1] ۔

فراغت کے بعد دیوبندمیں  دو سالہ قیام[ترمیم]

1959ء اور 1960ء دو سال تکمیل کی غرض سے دار العلوم دیوبند میں قیام  فرمایا، جامعہ ازہر کے مبعوث شیخ محمود مصری طنطاوی مرحوم سے عربی زبان اور بعض نحو کی کتابیں پڑھیں[2]۔

حواله جات[ترمیم]

  1. روداد سيمينار بر عنوان مفكر ملت منعقده تركيسر گجرات
  2. أضواء علی تاریخ الحرکۃ العلمیۃ فی غجرات