عبد المصطفٰی اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ الاعظمی مسلک اہل سنت و جماعت کے بریلوی مکتب فکر کے اکابر علما سے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

الحاج مولانا عبد المصطفیٰ الاعظمی ذیقعدہ 1333ھ کو اپنے آبائی وطن گھوسی اعظم گڑھ ضلع میں پیدا ہوئے ۔ حضرت علامہ اعظمی کی ولادت ماہ ذیقعدہ ۱۳۳۳ھ؁ مطابق ۱۹۱۴ء؁ محلہ کریم الدین پور گھوسی میں ہوئی، چونکہ والدین کی مسلسل آٹھ اولاد کے انتقال کے بعد ویران چمن میں بہار بن کر آئے تھے، اس لیے والدین نے افلاس وتنگ دستی کے باوجود ہونہار فرزند کو بڑے نازونعم میں پالا ،خود تحریر فرماتے ہیں۔ ’’والدین نے اپنی غریبی کے باوجود مجھے اپنے اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے بے حد لاڈ پیار سے پالا، پھول پان کی طرح سنبھال کر رکھتے اورمیری ہر خواہش وتمنا کو ضروری پوری کرتے اورماں باپ کی انھیں ناز برداریوں کی وجہ سے میں ضدی مزاج ہوگیا تھا،جس کا آج تک اتنا اثر باقی ہے ،کہ اگر کوئی میری بات نہیں مانتا تو مجھے غصہ آجاتاہے‘‘۔

شجرہ نسب[ترمیم]

قصبہ گھوسی کی آبادی اوراس مقام پر بسنے والے خاندانوں کے جائزے سے معلوم ہوتاہے ،کہ دوسرے علاقوں سے ترک وطن کرکے یہاں سکونت گزیں ہوئے ،باہر سے آنے والا حضرت علامہ محمد عبد المصطفیٰ اعظمی رحمتہ علیہ کی بلند پایہ علمی شخصیت بھی ہے،جن کے چشمۂ علم سے ہزاروں تشنگان علوم نے اپنی پیاس بجھائی۔ آپ کا اسم گرامی محمد عبد المصطفیٰ اورسلسلہ نسب یہ ہے۔محمد عبد المصطفیٰ بن شیخ حافظ عبد الرحیم بن شیخ حاجی عبدا لوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد شیخ مٹھو بابا رحمتہ اللہ علیہ۔ شجرہ نسب یہ ہے محمد عبد المصطفیٰ بن شیخ حافظ عبد الرحیم بن شیخ حاجی عبد الوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد بن شیخ مٹھوبابا ۔

والد[ترمیم]

آپ کے والد گرامی حافظ عبد الرحیم صاحب حافظ قرآن، اردو خواں، واقف مسائل دینیہ، متقی، پرہیزگارتھے۔ گاؤں کے مشہور بزرگ حافظ عبد الستار صاحب سے شرف تلمذ حاصل تھا جو حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی کے بڑے بھائی شاہ سید اشرف حسین صاحب قبلہ کچھوچھوی کے مرید تھے۔

تعلیم[ترمیم]

جب نوشت وخواندکی عمر کو پہنچے تو والد گرامی نے جو حافظ قرآن تھے، قرآن کریم ناظرہ اوراردوکی ابتدائی کتابیں گھرہی پر پڑھائیں،اس کے بعد مکتب میں داخل کردیے گئے،جہاں درجہ چہارم تک اردو،دینیات اورحساب کی تعلیم پائی، فارسی زبان وقواعد کی تعلیم شروع ہوئی، تو گھوسی کے ایک قدیم ادارہ مدرسہ ناصر العلوم ملک پورہ میں داخلہ لیا،مگر دوری کی وجہ سے چند ہی ماہ تعلیم حاصل کی، پھر مدرسہ اسلامیہ فیض عام بیسواڑہ گھوسی میں داخل ہوئے،جہاں اس دور کے بابائے فارسی مولانا محمد سعید خان فتح پوری علیہ الرحمہ سے یوسف زلیخا، گلستاں، بوستاں، اخلاق محسنی وغیرہ پڑھیں، اس مدرسہ میں عربی کی تعلیم کا بندوبست نہیں تھا،اس لیے اپنے ننہیال پورہ معروف ضلع مئو کے مدرسہ معروفیہ میں میزان ومنشعب سے لے کر شرح جامی تک تعلیم حاصل کی،۱۰/شوال ۱۳۵۱ھ؁ میں گھوسی کے ارباب علم ودانش حضرات کے مشورے سے مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ ضلع مراد آباد میں داخلہ لیا،جہاں شیخ العلماء مولانا غلام جیلانی اعظم علیہ الرحمہ ،حضرت مولانا حکمت اللہ امروہوی علیہ الرحمہ اورحضرت مولانا سعید محمد خلیل چشتی کاظمی امروی علیہ الرحمہ سے ایک سال تک متوسطات درس نظامی کی تحصیل کی، پھر ۱۰/شوال۱۳۵۲ھ؁ میں صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمتہ والرضوان کے ہمراہ بریلی شریف جاکر دارالعلوم منظر اسلام میں داخلہ لیا،میبذی، ملا حسن محدث پاکستان حضرت علامہ سردار احمد گورداس پوری علیہ الرحمہ سے پڑھیں،اورباقی درس کتابیں حضرت صدر الشریعہ کے زیر درس رہیں،بریلی شریف کا چارسالہ دورطالب علمی بہت تابناک رہا،علم وعرفان کی راجدھانی میں جو قلبی طمانیت وسکون میسر آیا،اس کی زریں یادیں سرمایۂ حیات بن گئیں۔ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’اس دوران میں حضرت حجتہ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب قبلہ خلف اکبر و سجادہ نشین اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی خدمت کا خاص طور پر شریف حاصل رہا،چند سفروں میں حضرت قبلہ نے مجھے اپنا رفیق سفر بھی بنایا،اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے بردار خرد مولوی محمد رضا خاں صاحب عرف ننھے میاں صاحب مرحوم سے فرائض کی مشق کی اورحضرت اقدس مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفی رضا خاں صاحب دامت معالہیم کے دارالافتاء میں بھی حاضر باش رہا، کبھی کبھی چھٹیوں میں مراد آباد بھی جاتا اورصدر الافاضل مولانا حافظ حکیم نعیم الدین صاحب قبلہ قدس سرہ العزیزکی خدمت میں بھی حاضری دیتا، عرس رضوی میں ہندوستان بھر کے اکابر علمائے اہلسنت کا بریلی میں اجتماع ہوتا، میں ان سب علماکی زیارت وخدمت کا شرف حاصل کرتا،سبحا ن اللہ وہ منظر نگاہوں کے سامنے اب بھی ہے،کہ جب یہ تمام علمائے اہل سنت قل شریف کے وقت ایک جگہ تشریف فرما ہوتے تھے،تو ایسا محسوس ہوتاتھا، کہ غالباً آسمان بھی زمین پر شک کرتا ہوگا‘‘۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ جب دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڈھ میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے،تو حضرت علامہ اعظمی علیہ الرحمہ بھی ۱۰/شوال ۱۳۵۵ھ؁ کو دادوں پہنچے اورحضرت صدر الشریعہ کے زیر سایہ دو سال تک دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ میں تحصیل علم کی اوریہیں سے ۱۳۵۷ھ؁ میں سند فراغت حاصل کی،دادوں کے دوران قیام آپ کی جو لانئی طبع اورممارست علم کا شہرہ علمی حلقوں میں ہونے لگا تھا۔ چنانچہ دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ دادوں کے متولی الحاج نواب غلام محمد خاں صاحب شروانی برادر خرد خان بہادر نواب ابو بکر خاں صاحب شروانی مرحوم جو بڑے ہی علم دوست،زاہد شب زندہ دار تھے،ایک مرتبہ انھوں نے طلبہ کے لیے تحریری مقابلہ کا انعقاد کیا اورآیت کریمہ ’’ورفعنالک ذکرک‘‘ کی تفسیر لکھوائی ،دوسرے طلبہ کے ساتھ علامہ اعظمی نے بھی تفسیر سپرد قلم کی،جو بہت دقیع اورایمان افروز تھی،طلبہ میں اول آئے ،نواب صاحب نے خوب ستائش کی اورگر انقدر انعام سے سرفراز فرمایا،اوریہ تفسیر نعتیہ مشاعرہ خیر آباد ۱۳۵۷ھ؁ کے مجموعہ نعت میں بطور مقدمہ شائع کی گئی۔ دادوں علی گڈھ کے دوران قیام حضرت علامہ سلیمان اشرف علیہ الرحمہ صدر شعبۂ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڈھ، صدر الصدور نواب حبیب الرحمن خاں شروانی جیسی عظیم علمی شخصتوں سے بھی نیاز حاصل رہا،اوریہ دونوں بزرگ حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی کی طباعی، جولانئی طبع، علمی استعداد اورقابلیت کے معترف رہے،مولانا شروانی مرحوم نے ازراہ کرم اپنی تصانیف کا ایک سیٹ عنایت فرمایا اوراپنے کتب خانہ حبیب گنج کی بھی زیارت کرائی، جوعلمی ودینی نوادر کا انمول ذخیرہ تھا۔ بریلی شریف اوردادوں کا زمانۂ طالب علمی بڑی عسرت اورتنگ دستی میں گزرا، گھر کی مالی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے اخرابات کے لیے رقم نہ آتی، ٹیوشن وغیرہ سے کچھ یافت ہوجاتی اورجیسے تیسے ایام گزرتے ،مگر طالب علم کی دھن اتنی پکی تھی،کہ پائے ثبات میں کبھی بھی لغزش نہ آئی، فاقہ مستی اورتنگ حالی کبھی آڑے نہ آئی،پوری لگن ، محنت اورجاں فشانی سے علم کی لازوال دولت اپنے دامن میں سمیٹے رہے،طبیعت میں غیرت واستغنا کا ایسا جوہر تھا ،کہ کبھی بھی اپنی اپنی خودداری پر آنچ نہ آنے دی اورکسی کے روبرو اپنی تنگ دامانی اورافلاس کا ذکر نہیں کیا۔ علامہ اعظمی صاحب قرآن مجید اوراردو کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کر کے مدرسہ اسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسہ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔ پھر 1351ھ میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ ضلع مرادآباد (اتر پردیش) کا رخ کیا اوروہاں شیخ العلماء مولانا شاہ اویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمی (شیخ الحدیث دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف متوفی 1397ھ اور مولانا حکمت اللہ صاحب قبلہ امروہی اور مولانا سید محمد خلیل صاحب چشتی کاظمی امروہی کی خدمت میں ایک سال رہ کر اکتساب فیض کیا۔

اس کے بعد 1352ھ میں صدرالشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی صاحب اعظمی کے ہمراہ بریلی شریف تشریف لے گئے اورمدرسہ منظر اسلام محلہ سوداگران بریلی میں داخل ہوکر تعلیمی سلسلہ شروع فرمایا۔ ملا حسن، میبذی وغیرہ چند کتابیں محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سرداراحمد صاحب چشتی گورداسپوری سے پڑھیں باقی کتابیں صدرالشریعہ سے پڑھیں۔

ا س دوران میں حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامدرضا خان صاحب (خلف اکبرسرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضا )کی خدمت میں حاضری دی اور شرفیاب ہوئے۔ موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے برادرخورد مولانا محمد رضا خان صاحب عرف ننھے میاں سے فرائض کی مشق کی اور مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان نوری (زیب سجادہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی شریف، خلف اصغرحضور اعلیٰ حضرت )کے دارالافتاء میں بھی حاضری دی۔

بریلی شریف میں دوران میں طالب علمی آپ کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی۔ مسجدکی امامت اورٹیوشن سے اخراجات پورے کرتے تھے۔ جب صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب بریلی سے رخصت ہوکر مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں مسند تدریس پر جلوہ فرما ہوئے تو مولانا اعظمی صاحب بھی بریلی شریف نہ رہ سکے اور10 شوال 1355ھ کو علی گڑھ صدرالشریعہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورمدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں داخلہ لیا اور امتحانات میں اچھی پوزیشن سے کامیاب ہوکر انعامات بھی حاصل کیے ۔

علی گڑھ کے دورانِ قیام حضر ت مولانا سید سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے ۔ 1356ھ میں مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں سے سند فراغ حاصل کیا۔ حضرت مولاناسید شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سر پردستار فضیلت باندھی۔

بیعت[ترمیم]

17 صفرالمظفر 1353ھ میں قاضی ابن عباس صاحب عباسی نقشبندی کے پہلے عرس میں الحاج حافظ شاہ ابرارحسن خان صاحب نقشبندی شاہ جہانپوری (جو قاضی صاحب موصوف کے پیر بھائی تھے ) سے مرید ہوئے ۔

2 ذیقعدہ 1370ھ کو شاہ ابرار حسن صاحب نقشبندی کا انتقال ہو گیا تو اس کے بعدآپ کے خلیفہ برحق الحاج قاضی محبوب احمد صاحب عباسی نقشبندی سے بھی اکتساب فیض کیا۔ چونکہ شروع ہی سے موصوف کا رجحان سلسلہ نقشبندیہ کی طرف زیادہ تھا اسی لیے اس سلسلے میں مرید ہوئے مگر دیگر سلاسل کے بزرگوں سے بھی اکتساب فیض وبرکات کا سلسلہ جاری رکھا۔ 25 صفرالمظفر 1358ء میں عرس رضوی کے مبارک ومسعود موقع پر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت واجازت سے سرفرازفرمایا۔

سلسلہ تدریس[ترمیم]

فارغ التحصیل ہونے کے بعد سب سے پہلے مدرسہ اسحاقیہ جودھ پور (راجستھان) میں مدرس ہوئے۔ درس نظامی کا افتتاح فرمایااورمدرسہ ترقی کی راہ پر چل نکلا تھا کہ اچانک جودھ پور میں ہندو مسلم فساد ہونے کی و جہ سے بہت سے بیرونی علما کے ساتھ آپ کو گرفتار کیا گیا اوربعد میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام لگا کر حکومت نے شہر بدرکردیا جس سے مدرسہ کوبھی نقصان ہوا اورمولانا موصوف کو بھی وہاں سے آنا پڑا۔

ستمبر 1939ء قاضی محبوب احمد کی دعوت پر امروہہ تشریف لے گئے اوروہاں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں جس کا سلسلہ تین سال تک رہا۔ اس وقت وہاں پر مولانا سیدمحمد خلیل صاحب کاظمی امروہی صدر مدرس تھے اس دوران میں بھی موصوف سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد 1942ء میں دار العلوم اشرفیہ مبارکپور میں تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا اور گیارہ سال تک یہاں بھی درس دیتے رہے اور اس کی تعمیر وترقی میں بھرپور حصہ لیا۔

1952ء میں آپ کا احمد آباد گجرات (بھارت) میں بسلسلہ تقریر دورہ ہوا۔ متعدد تقاریر کے سبب لوگ گرویدہ ہوئے اورجب وہاں پر ایک دار العلوم کا قیام عمل میں آیا تو احمد آباد کے عمائد اہل سنت نے بہ اصرار مبارک پورسے بلواکر دار العلوم شاہ عالم میں مدرس رکھا۔ اس سلسلے میں مولانا ابراہیم رضا خاں صاحب نبیرہ اعلیٰ حضرت اورحضورمفتی اعظم ہند نے بھی دار العلوم کے قیام اورترقی میں بھر پور حصہ لیا۔

مولانانے اس دار العلوم کی ترقی اوربقا میں بھر پور اورجان توڑکر کوشش کی اور اس کو عروج تک پہنچا کر دم لیا۔

اس کے بعد حج بیت اللہ کو روانہ ہوئے۔ واپسی پر دار العلوم صمدیہ بھیونڈی (مہاراشٹر)کی طلبی پر طلبہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدرسہ مذکور میں تشریف لے گئے اورچار برس تک جم کر وہاں تدریسی خدمات کو انجام دیا اور مدرسہ مذکور کی تعمیر میں بھی بھرپورکوشش فرمائی، جس کے طفیل ایک شاندار عمارت آج بھی موجود وشاہد ہے ۔

اس کے بعد فوراً دار العلوم مسکینیہ دھوراجی گجرات سے طلبی آگئی اورمولانا حکیم علی محمد صاحب اشرفی کے اوردوسرے لوگوں کے اصرار پر وہاں مع جمعیۃ طلبہ تشریف لے گئے مگر وہاں بھی زیادہ دنوں قیام نہ کرسکے اور بالآخردارالعلوم منظر حق ٹانڈہ فیض آباد (یوپی)میں بعہدہ صدرالمدرسین وشیخ الحدیث تشریف لے گئے جہاں تقریباًدس سال سے علوم و معارف کے گوہر لٹا رہے ہیں۔ خدا نے تفہیم کی خوب خوب صلاحیت بخشی ہے۔ تمام متداول کتابوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں اورپوری مہارت سے درس دیتے ہیں اورطلبہ خوب مانوس ہوتے ہیں۔ تدریس کی اس طویل مدت میں طلبہ کی ایک تعدادتیار ہو گئی اور آج ملک وبیرون ملک آپ کے تلامذہ تدریس و تقریراور مناظرہ و تصنیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جس کی مکمل تفصیل اور مزید کچھ یوں ہے۔

دارالعلوم اسحاقیہ جودھپور[ترمیم]

اسلامی علوم وفنون کے مروجہ نصاب درس نظامی کی تکمیل دارالعلوم حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڈھ میں ہوئی اورزندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا،علم وفضل کے اس پیکر نورانی نے اپنی تعلیمی خدمات کا آغاز دارالعلوم اسحاقیہ جودھ پور سے کیا،آپ سے پہلے یہ ادارہ ایک چھوٹا سا مکتب تھا،مگر حضرت کی کوششوں سے درس نظامی شروع ہوا،عربی وفارسی کے متعدد درجات قائم ہوگئے اوردیکھتے ہی دیکھتے یہ ادارہ عروج وارتقاکے راستے پر گامزن ہوگیا، ۱۳۳۹ھ؁ میں جودھ پور کے اندر ہندو ومسلم فساد ہوگیا،بہت سے معززین شہر کے ساتھ علمائے کرام بھی گرفتار کرلیے گئے،حضرت علامہ اعظمی علیہ الرحمہ کو اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام لگا کر حراست میں لے لیا گیا اور۱۶/جون ۱۹۳۹ء؁ کو مہا راجہ امید سنگھ کی حکومت نے آپ کو جودھ پور سے شہر بد کرنے کا فیصلہ کیا،چنانچہ پولیس کی حراست میں جودھ پور سے اجمیر شریف پہنچا دیا گیا۔

مدرسہ حنفیہ امروہہ[ترمیم]

حضرت قاضی محبوب احمد عباسی کی دعوت پر ۱۹۳۹ء؁ کو مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ گئے اورمدرس دوم کی حیثیت سے آپ کا تقرر عمل میں آیا،جہاں تین سال تک پورے انہماک اورذوق وشوق کے ساتھ طالبان علم نبوت کو تعلیم دیتے رہے ،اوراپنے استاذ،حضرت مولانا سعید محمد خلیل کاظمی چشتی علیہ الرحمہ مدرس اول سے استفادہ علم بھی کرتے رہے۔ تعلیم وتدریس کا مبارک شغل جاری تھا،کہ ۸/اگست ۱۹۴۲ء؁ کو انگریزی سامراج کے خلاف پورے ملک میں حریت پسند وں کا عظیم احتجاج ہوا،ریل کی پٹریاں اکھاڑی گئیں اورپورے ملک میں جابجا ہنگامے ہوئے،جاپان نے کلکتہ پر بمباری کی ،جس سے متاثرہ ہوکر حضرت علامہ اعظمی علیہ الرحمہ وطن آگئے،اسی دوران ہائی کورٹ نے شیعوں کے حق میں فیصلہ دے دیا اورمدرسہ محمدیہ حنفیہ ٹوٹ گیا۔

دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور[ترمیم]

۱۹۴۲ء؁ میں دارالعلوم اشرفیہ مبارکپورکے اندر ہنگامی کیفیت پیدا ہوگئی،اساتذہ مستعفی ہوگئے،حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ جامعہ عربیہ ناگپور چلے گئے جس سے اشرفیہ کا نظام تعلیم وتربیت درہم برہم ہوگیا،اسی دوران مجلس انتظامیہ کے صدر جناب محمد امین انصاری مرحوم کی دعوت پر حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی بحیثیت صدر المدرسین اکتوبر ۱۹۴۲ء؁ دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور پہنچے اورپوری لگن کے ساتھ وہاں کے تعلیمی نظم ونسق کو بحال کیا،ایک سال بعد حافظ ملت علیہ الرحمہ بھی مبارکپور آگئے اورمدرس اول کے منصب پر فائز ہوگئے،حضرت علامہ اعظمی ان کے نائب کی حیثیت سے گیارہ سال تک تعلیمی وتنظیمی خدمات انجام دیتے رہے۔

دارالعلوم شاہ عالم احمد آباد[ترمیم]

۱۹۵۲ء؁ میں حضرت علامہ اعظمی نے احمد آباد کا تبلیغی سفرکیا، جہاں مسلسل بیس تقریریں ہوئیں،آپ کے مواعظ حسنہ سے احمد آباد میں دینی وعلمی بیداری پیدا ہوئی اورایک دارالعلوم کا منصوبہ زیر غور آیا،تعلیمی کانفرس احمد آباد،نے ایک ادارہ کے قیام کا ریزرویشن بھی پاس کردیا،مگر ادارہ کا قیام عمل میں نہ آسکا، بالآخر احمد آباد کے مخلص ومتدین اصحاب نے حضرت اعظمی علیہ الرحمہ کو باصرار احمد آباد آنے کی دعوت دی، حضورمحدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کے حکم پر آپ احمد آباد تشریف لے گئے۔ اورایک کرایہ کے مکان میں دارالعلوم شاہ عالم قائم کیا اوریکم ستمبر ۱۹۵۳ء؁ کو تعلیمی افتتاح فرمایا، اس ادارے کی تعمیر وترقی کے لیے اپنی مساعی جمیلہ کا آغاز فرمایا، اراکین ادارہ کے اخلاص وایثار اورحضرت علامہ اعظمی کی بے لوث تعلیمی، تبلیغی اورتنظیمی سرگرمیوں کے نتیجہ میں بہت جلد یہ ادارہ گجرات کی مرکزی درسگاہ بن گیا،حضرت علامہ اعظمی ادارے کی تاسیس اوراس سلسلہ میں پیش آنے والے مصائب وآلام اورمشکلات نیز ان کی دفاعی تدبیروں کا تذکرہ اس طرح فرماتے ہیں۔ ’’دن رات اس ادارالعلوم شاہ عالم کی ترقی کے لیے انتہائی جدوجہد کر کے بسم اللہ منزل کو خرید کر اس میں دارالعلوم شاہ عالم کو منتقل کیا،خداگواہ ہے،کہ اس دینی درسگاہ کو قائم کرنے اورترقی دینے میں اتنی محنت کرنی پڑی،کہ نہ زندگی میں کبھی اس سے پہلے اتنی محنت کی تھی،نہ آئندہ کبھی ہوسکے گی،اکیلے درس وتقریر اورفتاویٰ کی خدمت انجام دینے کے علاوہ تمام گجرات کا دروہ کرکے مالیات کا فراہم کرنا،اس پر بدمذہبوں اورحاسدوں کی طرف سے بے پناہ جسمانی وروحانی تکلیفوں اوراذیتوں کا پہنچنا،یہ وہ روح فرساشدائدومصائب تھے جنہوں نے میری صحت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اورمیں قسم قسم کے امراض میں مبتلا ہوگیا،مگر میں نے اس دارالعلوم شاہ عالم کی محبت میں سب کچھ برداشت کرلیا اوربالآخر اس کو معراج ترقی پر پہنچا کر ہی دم لیا۔‘‘ ’’بحمدہ تعالیٰ پورے گجرات کے سنی مسلمان اس دینی ادارہ سے وابستہ ہوگئے اوریہ مدرسہ گجرات کا مرکزی دارالعلوم اوراس کا آرگن ماہنامہ ’’طیبہ‘‘ گجرات میں اہل سنت کا ایک معیاری رسالہ بن گیا،مگر دارالعلوم شاہ عالم سے میری جدائی بھی میری زندگی کا ایک ایسا المناک وروح فرسانحہ ہے،جس کو تمام عمر میں فرمواش نہیں کرسکتا۔‘‘ حضرت علامہ اعظمی کی کاوش پہیم اورجگر سوزی سے دارالعلوم شاہ عالم عروج وارتقا کے بام بلند تک پہنچ گیا،مگر حاسدوں اورکینہ پروروں نے سازشوں کا ایسا جال بچھا دیا ،کہ آپ کے حق میں حالات بدسے بدتر ہوگئے،کمیٹی کے افراد اوردوسرے اعدادکا مقابلہ کرنا اوران کی نیچی سطح تک اتر کر جواب دینا ممکن نہ تھا،چنانچہ حالات کی نامساعدت دیکھ کر حضرت نے جنرل کمیٹی کے سامنے فروری ۱۹۵۹ء؁ کو اپنا استعفا پیش کردیا اورحرمین شریفین کی روانگی کا اعلان کیا،کمیٹی نے استعفا نا منظور کردیا مگر دل ٹوٹ چکا تھا،اس لیے اپنے خون جگر سے سینچے ہوئے چمن زار علم کو۱۷/شعبان المعظم ۱۳۷۸ھ؁ کو الوداع کہا۔

دارالعلوم صمدیہ بھیونڈی[ترمیم]

احمد آباد کے تلخ تجربات نے ملازمت سے بیزار کردیا تھا اورآپ نے ملازمت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا،مگر سفر حج سے واپسی کے بعد حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک میں شرکت کے لیے سرہند شریف گئے،آستانہ عالیۂ پر اپنے احوال وکوائف ذکر کیے،تو قلب کی حالت بدل گئی اورتدریسی کی طرف طبیعت مائل ہوگئی فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے اپنے ذوق سے سمجھ لیا،کہ غالباً یہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کا روحانی تصرف واشارہ طیبہ ہے ،چنانچہ مکان پر آیا تو دارالعلوم صمدیہ بھیونڈی کی ملازمت کا تار اورخط ملا،میں نے یہ ملازمت قبول کرلی۔‘‘ مارچ ۱۹۶۰ء؁ کو دورۂ حدیث اوردیگر جماعت کے طلبہ کو ساتھ لے کر بھیونڈی پہنچے اوردارلعلوم صمدیہ کی مسنددرس کو زینت بخشی ،چار سال تک پوری یکسوئی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے،بھیونڈی ،بمبئی اوراطراف وجوانب میں تبلیغی دورے بھی ہوتے رہے،عوامی سطح پر بھی کافی پذیرائی ہوئی،چاہنے والوں کا ایک وسیع حلقہ بن گیا ،مگریہ ادارہ شخص واحد کا ذاتی ادارہ تھا،اس کی مرضی ومنشا کے مطابق ہی تعلیم وتربیت کا اہتمام ہوسکتا تھا،حضرت علامہ کی غیور طبیعت کے لیے یہ ماحول سازگار نہ آسکا، چنانچہ دارالعلوم صمدیہ سے مستعفی ہوگئے۔

مدرسہ مسکینہ دھوراجی[ترمیم]

دارالعلوم صمدیہ ترک کرنے کی خبر عام ہوئی تو دھوراجی کے مخلصین جو بہت دنوں سے حضرت اعظمی علیہ الرحمہ کے متمنی تھے، انھیں سنہرا موقع ہاتھ آگیا’’مدرسہ مسکینیہ‘‘ دھوراجی کے سکریٹری الحاج سے سیٹھ اسماعیل پوٹھیا والے کا تارآیا اورمولانا الحاج حکیم علی محمد اشرفی نے نامہ شوق تحریر کیا،چنانچہ دھوراجی پہنچ کر یکم اپریل ۱۹۶۴ء؁ کو مدرسہ مسکینیہ میں درس کا افتتاح فرمایا۔ دارالعلوم مسکینیہ حضرت علامہ اعظمی علیہ الرحمہ کی تشریف آوری سے چالیس سال قبل قائم ہوچکا تھا،جس کی مسند تدریس پر اکابر علمائے اہلسنت مثلاً شیر پیشہ اہلسنت حضرت مولانا حشمت علی علیہ الرحمہ،حضرت مولانا عبد العزیز خاں فتح پوری علیہ الرحمہ جلوہ افروز ہوچکے تھے، مگر ادارے کی کوئی نجی عمارت نہ تھی، مسجدوں میں تعلیم وتعلم کا فریضہ انجام دیا جاتا تھا، حضرت علامہ اعظمی رحمتہ اللہ علیہ کو قدرت نے علم وفضل کے ساتھ تنظیمی صلاحیت اوررابطہ عامہ کی بھر پورقوت عطا فرمائی تھی، چنانچہ ادھوراجی پہنچنے کے بعد مدرسہ مسکینیہ کے ذاتی عمارت کی فکر ہوئی ،آپ نے حضرت مولانا الحاج حکیم محمد علی صاحب اشرفی کے ہمراہ ہمدرد قوم وملت سیٹھ الحاج یوسف غنی ماکڑا صاحب سے ملاقات کی اورادارے کی ذاتی عمارت کی ضرورت پیش کی،چنانچہ آپ کے پر خلوص خواہش کا احترام کرتے ہوئے سیٹھ صاحب موصوف نے اپنی ایک وسیع بلڈنگ جو محلہ پالا واڑ میں حضرت لدھا شاہ بابا کی درگاہ کے متصل تھی،مدرسہ مسکینیہ کے لیے وقف کردی ،مدرسہ اس بلڈنگ میں منتقل کردیا گیا۔ تین سالہ دوران قیام ادارہ دن دونی رات چوگونی ترقی کرتا رہا،پورے علاقے میں تبلیغ واشاعت دین کا کام بھی بڑے پیمانے پر ہوتا رہا،آپ کے مواعظ حسنہ سے لوگوں میں دینی بیداری پیدا ہوئی اورآپ کی مقبولیت اورہر دل عزیزی عام ہوگئی، مگر والد گرامی نے اپنی خراب صحت اوربیماری کا ذکر کرتے ہوئے حکم دیاکہ وطن سے قریب ہی کسی ادارے میں تدریسی خدمات انجام دی جائیں،چنانچہ دھوارجی کو خیر آباد کہا۔

دارالعلوم منظر حق ٹانڈہ[ترمیم]

دارالعلوم منظر حق ٹانڈہ سے دعوت نامہ موصول ہوا،چونکہ یہ شہر گھوسی سے قریب تھا،آمدروفت کے ذرائع بھی اچھے تھے،اس لیے حضرت علامہ اعظمی علیہ الرحمہ نے دعوت قبول کرلی اور۲۷/فروری ۱۹۶۷ء؁ کو’’ منظر حق ‘‘میں درس کا آغاز فرمایا ،اس وقت ادارہ زبوں حالی کا شکار تھا،اراکین میں رسہ کشی جاری تھی،تعلیمی وتنظیمی ڈھانچہ درہم برہم ہوچکا تھا ،حضرت علامہ اعظمی نے ادارے کی از سر نو تعلیمی وتنظیمی شیراز بندی کی شعبۂ مالیات کو مستحکم کیا،اساتذہ کی تعداد بڑھائی ،بیرونی طلبہ کے خور دنوش کا انتظام کیا ،پھر ادارہ پوری شان وشوکت کے ساتھ آگے بڑھنے لگا،عمارت میں توسیع بھی ہوئی اوردورۂ حدیث بھی قائم ہوگیا، تقریباً دس سال تک اس ادارے کی مسند درس وافتاً کو زینت بخشی اورپورے عالمانہ وقار ووجاہت کے ساتھ درس وتدریس کا شغل جاری رہا۔

دارالعلوم فیض الرسول برائوں[ترمیم]

۶/ربیع الاول ۱۳۹۷ء؁ مطابق ۲۵ /فروری ۱۹۷۷ء؁ کو شیخ العلماحضرت علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ کا وصال ہوگیا اوردارالعلوم فیض الرسول کی مسند درس حدیث خالی ہوگئی، وہاں کے ذمہ داروں کو ایک ایسی باوقار ،بلندپایہ علمی شخصیت کی ضرورت تھی جو حضرت علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ کے خلا کو پر کرسکے ،نگاہ انتخاب حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمہ پر پڑی اورادارہ کے ارباب اقتدار نے رابطہ قائم کیا،حضرت علامہ اعظمی نے دعوت قبول کرلی اورمنظر حق سے مستعفی ہوکر دارالعلوم فیض الرسول کا رخ کیا اورشیخ الحدیث کی مسند کو زینت بخشی اور۱۹۸۵ء؁ تک برائوں شریف کے علمی وروحانی ماحول میں فرائض منصبی انجام دیتے رہے۔

افتاء[ترمیم]

تدریس کے ساتھ ساتھ فتوی نویسی کا کا م بھی کرتے رہے ہیں۔ تحریر کردہ فتووں کی نقلیں کم محفوظ ہیں پھر بھی چھ سوسے زیادہ فتاوے منقول ہیں ۔

وعظ ونصیحت کی صلاحیت اچھی ہے۔ ملک کے گوشے گوشے میں آپ کے مواعظ حسنہ کا چرچا ہے اوربہت سے مواعظ تو مطبوعہ بھی ہیں جن سے عوام استفادہ کر رہے ہیں۔

ذوقِ سخن[ترمیم]

زمانہ طالب علمی ہی سے شعر وشاعری کا ذوق ہے۔ نعت شریف، قومی نظمیں اورغزل میں بھی طبع آزمائی فرمائی ہے۔ کوئی مجموعہ کلام مطبوعہ نہیں ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ نے تصنیف وتالیف کا بھی بہت اچھا اورخوب ذوق پایا ہے۔ اوراس کی طرف خاصی توجہ مبذول فرمائی ہے۔ مختلف موضوعات پر آپ کی مطبوعہ اردو تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:

  • (1)موسم رحمت (سب سے پہلی تصنیف جومتبرک راتوں اورمبارک ایام کے فضائل پرمشتمل ہے)
  • (2)معمولات الابراربمعانی الآثار(تصوف کے بیان میں )
  • (3)اولیاء رجال الحدیث(اولیائے محدثین کی سوانح)
  • (4)مشائخ نقشبندیہ(نقشبندی بزرگوں کا سلسلہ وارتذکرہ)
  • (5)روحانی حکایات (دوحصے)
  • (6)ایمانی تقریریں
  • (7)نورانی تقریریں
  • (8)حقانی تقریریں
  • (9)عرفانی تقریریں
  • (10)قرآنی تقریریں
  • (11)سیرۃ المصطفیٰ
  • (12)نوادرالحدیث(چالیس حدیثوں کی عمدہ اورمفید شرح)
  • (13)کرامات صحابہ
  • (14)جنتی زیور
  • (15)قیامت کب آئے گی
  • (16)عجائب القرآن
  • (17)غرائب القرآن
  • (18)جہنم کے خطرات
  • (19) مسائل قرآن
  • (20)بہشت کی کنجیاں
  • (21)جواہر الحدیث
  • (22)سامان آخرت
  • (23)آئینہ عبرت
  • (24)اسلام میں عورت کا مقام
  • (25)خواتین کی نماز
  • (26)مسلمانوں کے عقیدے

۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بہشت کی کنجیاں،مؤلف، عبد المصطفیٰ الاعظمی،مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی