عبد المصطفیٰ اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفیٰ الاعظمی مسلک اہل سنت و جماعت کے بریلوی مکتب فکر کے اکابر علماء سے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

الحاج مولانا عبدالمصطفیٰ الاعظمی ذیقعدہ 1333ھ کو اپنے آبائی وطن گھوسی اعظم گڑھ ضلع میں پیدا ہوئے ۔

شجرہ نسب[ترمیم]

شجرہ نسب یہ ہےمحمد عبدالمصطفیٰ بن شیخ حافظ عبدالرحیم بن شیخ حاجی عبدالوہاب بن شیخ چمن بن شیخ نور محمد بن شیخ مٹھوبابا ۔

والد[ترمیم]

آپ کے والد گرامی حافظ عبدالرحیم صاحب حافظ قرآن، اردو خواں، واقف مسائل دینیہ ، متقی، پرہیزگارتھے ۔ گاؤں کے مشہور بزرگ حافظ عبدالستار صاحب سے شرف تلمذ حاصل تھا جو حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی کے بڑے بھائی شاہ سید اشرف حسین صاحب قبلہ کچھوچھوی کے مرید تھے۔

تعلیم[ترمیم]

علامہ اعظمی صاحب قرآن مجید اوراردو کی ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کر کے مدرسہ اسلامیہ گھوسی میں داخل ہوئے اوراردوفارسی کی مزید تعلیم پائی۔ چند ماہ مدرسہ ناصر العلوم گھوسی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ معروفیہ معروف پورہ میں میزان سے شرح جامی تک پڑھا۔ پھر 1351ھ میں مدرسہ محمدیہ حنفیہ امروہہ ضلع مرادآباد (اتر پردیش) کا رخ کیا اوروہاں شیخ العلماء مولانا شاہ اویس حسن عرف غلام جیلانی اعظمی (شیخ الحدیث دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف متوفی 1397ھ اور مولانا حکمت اللہ صاحب قبلہ امروہی اور مولانا سید محمد خلیل صاحب چشتی کاظمی امروہی کی خدمت میں ایک سال رہ کر اکتساب فیض کیا۔

اس کے بعد 1352ھ میں صدرالشریعہ مولانا حکیم محمد امجد علی صاحب اعظمی کے ہمراہ بریلی شریف تشریف لے گئے اورمدرسہ منظر اسلام محلہ سوداگران بریلی میں داخل ہوکر تعلیمی سلسلہ شروع فرمایا ۔ ملا حسن، میبذی وغیرہ چند کتابیں محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سرداراحمد صاحب چشتی گورداسپوری سے پڑھیں باقی کتابیں صدرالشریعہ سے پڑھیں۔

ا س دوران میں حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامدرضا خان صاحب (خلف اکبرسرکاراعلیٰ حضرت امام احمد رضا )کی خدمت میں حاضری دی اور شرفیاب ہوئے۔موصوف آپ پر بڑا کرم فرمایا کرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے برادرخورد مولانا محمد رضا خان صاحب عرف ننھے میاں سے فرائض کی مشق کی اور مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خان نوری (زیب سجادہ عالیہ قادریہ رضویہ بریلی شریف، خلف اصغرحضور اعلیٰ حضرت )کے دارالافتاء میں بھی حاضری دی۔

بریلی شریف میں دوران میں طالب علمی آپ کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی ۔ مسجدکی امامت اورٹیوشن سے اخراجات پورے کرتے تھے۔ جب صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب بریلی سے رخصت ہوکر مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں ضلع علی گڑھ میں مسند تدریس پر جلوہ فرما ہوئے تو مولانا اعظمی صاحب بھی بریلی شریف نہ رہ سکے اور10 شوال 1355ھ کو علی گڑھ صدرالشریعہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورمدرسہ حافظیہ سعیدیہ میں داخلہ لیا اور امتحانات میں اچھی پوزیشن سے کامیاب ہوکر انعامات بھی حاصل کئے ۔

علی گڑھ کے دورانِ قیام حضر ت مولانا سید سلیمان اشرف بہاری پروفیسر دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (خلیفہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ) کی خدمت میں بھی حاضری دیتے اورعلمی اکتساب فرماتے رہے ۔ 1356ھ میں مدرسہ حافظیہ سعیدیہ دادوں سے سند فراغ حاصل کیا۔ حضرت مولاناسید شاہ مصباح الحسن صاحب چشتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سر پردستار فضیلت باندھی۔

بیعت[ترمیم]

17 صفرالمظفر 1353ھ میں قاضی ابن عباس صاحب عباسی نقشبندی کے پہلے عرس میں الحاج حافظ شاہ ابرارحسن خان صاحب نقشبندی شاہ جہانپوری (جو قاضی صاحب موصوف کے پیر بھائی تھے ) سے مرید ہوئے ۔

2 ذیقعدہ 1370ھ کو شاہ ابرار حسن صاحب نقشبندی کا انتقال ہوگیا تو اس کے بعدآپ کے خلیفہ برحق الحاج قاضی محبوب احمد صاحب عباسی نقشبندی سے بھی اکتساب فیض کیا۔ چونکہ شروع ہی سے موصوف کا رجحان سلسلہ نقشبندیہ کی طرف زیادہ تھا اسی لیے اس سلسلے میں مرید ہوئے مگر دیگر سلاسل کے بزرگوں سے بھی اکتساب فیض وبرکات کا سلسلہ جاری رکھا۔ 25 صفرالمظفر 1358ء میں عرس رضوی کے مبارک ومسعود موقع پر حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان نے سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت واجازت سے سرفرازفرمایا۔

سلسلہ تدریس[ترمیم]

فارغ التحصیل ہونے کے بعد سب سے پہلے مدرسہ اسحاقیہ جودھ پور (راجستھان) میں مدرس ہوئے ۔درس نظامی کا افتتاح فرمایااورمدرسہ ترقی کی راہ پر چل نکلا تھا کہ اچانک جودھ پور میں ہندو مسلم فساد ہونے کی و جہ سے بہت سے بیرونی علماء کے ساتھ آپ کو گرفتار کیا گیا اوربعد میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام لگا کر حکومت نے شہر بدرکردیا جس سے مدرسہ کوبھی نقصان ہوا اورمولانا موصوف کو بھی وہاں سے آنا پڑا۔

ستمبر 1939ء قاضی محبوب احمد کی دعوت پر امروہہ تشریف لے گئے اوروہاں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں تدریسی خدمات انجام دیں جس کا سلسلہ تین سال تک رہا۔ اس وقت وہاں پر مولانا سیدمحمد خلیل صاحب کاظمی امروہی صدر مدرس تھے اس دوران میں بھی موصوف سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد 1942ء میں دارالعلوم اشرفیہ مبارکپور میں تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا اور گیارہ سال تک یہاں بھی درس دیتے رہے اور اس کی تعمیر وترقی میں بھرپور حصہ لیا۔

1952ء میں آپ کا احمد آباد گجرات (بھارت) میں بسلسلہ تقریر دورہ ہوا۔ متعدد تقاریر کے سبب لوگ گرویدہ ہوئے اورجب وہاں پر ایک دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا تو احمد آباد کے عمائد اہل سنت نے بہ اصرار مبارک پورسے بلواکر دارالعلوم شاہ عالم میں مدرس رکھا۔ اس سلسلے میں مولانا ابراہیم رضا خاں صاحب نبیرہ اعلیٰ حضرت اورحضورمفتی اعظم ہند نے بھی دارالعلوم کے قیام اورترقی میں بھر پور حصہ لیا۔

مولانانے اس دارالعلوم کی ترقی اوربقا میں بھر پور اورجان توڑکر کوشش کی اور اس کو عروج تک پہنچا کر دم لیا۔

اس کے بعد حج بیت اللہ کو روانہ ہوئے ۔ واپسی پر دارالعلوم صمدیہ بھیونڈی (مہاراشٹر)کی طلبی پر طلبہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدرسہ مذکور میں تشریف لے گئے اورچار برس تک جم کر وہاں تدریسی خدمات کو انجام دیا اور مدرسہ مذکور کی تعمیر میں بھی بھرپورکوشش فرمائی ، جس کے طفیل ایک شاندار عمارت آج بھی موجود وشاہد ہے ۔

اس کے بعد فوراً دارالعلوم مسکینیہ دھوراجی گجرات سے طلبی آگئی اورمولانا حکیم علی محمد صاحب اشرفی کے اوردوسرے لوگوں کے اصرار پر وہاں مع جمعیۃ طلبہ تشریف لے گئے مگر وہاں بھی زیادہ دنوں قیام نہ کرسکے اور بالآخردارالعلوم منظر حق ٹانڈہ فیض آباد (یوپی)میں بعہدہ صدرالمدرسین وشیخ الحدیث تشریف لے گئے جہاں تقریباًدس سال سے علوم و معارف کے گوہر لٹارہے ہیں ۔ خدا نے تفہیم کی خوب خوب صلاحیت بخشی ہے ۔ تمام متداول کتابوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں اورپوری مہارت سے درس دیتے ہیں اورطلبہ خوب مانوس ہوتے ہیں۔ تدریس کی اس طویل مدت میں طلبہ کی ایک تعدادتیار ہوگئی اور آج ملک وبیرون ملک آپ کے تلامذہ تدریس و تقریراور مناظرہ و تصنیف کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

افتاء[ترمیم]

تدریس کے ساتھ ساتھ فتوی نویسی کا کا م بھی کرتے رہے ہیں ۔ تحریر کردہ فتووں کی نقلیں کم محفوظ ہیں پھر بھی چھ سوسے زیادہ فتاوے منقول ہیں ۔

وعظ ونصیحت کی صلاحیت اچھی ہے۔ ملک کے گوشے گوشے میں آپ کے مواعظ حسنہ کا چرچا ہے اوربہت سے مواعظ تو مطبوعہ بھی ہیں جن سے عوام استفادہ کر رہے ہیں۔

ذوقِ سخن[ترمیم]

زمانہ طالب علمی ہی سے شعر وشاعری کا ذوق ہے ۔ نعت شریف، قومی نظمیں اورغزل میں بھی طبع آزمائی فرمائی ہے ۔ کوئی مجموعہ کلام مطبوعہ نہیں ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

آپ نے تصنیف وتالیف کا بھی بہت اچھا اورخوب ذوق پایا ہے ۔ اوراس کی طرف خاصی توجہ مبذول فرمائی ہے ۔ مختلف موضوعات پر آپ کی مطبوعہ اردو تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:

  • (1)موسم رحمت (سب سے پہلی تصنیف جومتبرک راتوں اورمبارک ایام کے فضائل پرمشتمل ہے)
  • (2)معمولات الابراربمعانی الآثار(تصوف کے بیان میں )
  • (3)اولیاء رجال الحدیث(اولیائے محدثین کی سوانح)
  • (4)مشائخ نقشبندیہ(نقشبندی بزرگوں کا سلسلہ وارتذکرہ)
  • (5)روحانی حکایات (دوحصے)
  • (6)ایمانی تقریریں
  • (7)نورانی تقریریں
  • (8)حقانی تقریریں
  • (9)عرفانی تقریریں
  • (10)قرآنی تقریریں
  • (11)سیرۃ المصطفیٰ
  • (12)نوادرالحدیث(چالیس حدیثوں کی عمدہ اورمفید شرح)
  • (13)کرامات صحابہ
  • (14)جنتی زیور
  • (15)قیامت کب آئے گی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بہشت کی کنجیاں،مؤلف، عبد المصطفیٰ الاعظمی،مکتبۃ المدینہ باب المد ینہ کراچی