عبد الملک پہلوان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الملک پہلوان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1963 (عمر 55–56 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
صوبہ فاریاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Flag of Afghanistan.svg افغانستان
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

عبد ا لملک پہلوان ایک ازبیک سیاستدان ہے جس کا تعلق شمالی افغانستان کے صوبہ فاریاب سے  ہے۔ وہ افغانستان لبریشن پارٹی کا سربراہ ہے اور افغانستان میں 1990ء کے دہے  میں ہونے والی گروہی  لڑائی میں بہت زیادہ ملوث رہا ہے۔  ازبک اکثریتی شمالی صوبہ میں کنٹرول کے  لیے وہ عبدالرشید دوستم کا حریف رہا ہے اور طالبان کے زوال کے بعد سے ان کی ملیشیا کے درمیان کئی بار جھڑپیں  ہو چکی ہیں۔

مزار شریف پر قبضہ[ترمیم]

ابتدا میں عبد الملک دوستم کے ماتحتوں میں سے ایک تھا۔ تاہم 1996ء میں اس نے دوستم کو اپنے بھائی جنرل رسول پہلوان کے قتل کا قصوروار بتایا۔ اس کے بعد وہ طالبان سے خفیہ مذاکرات کا حصہ بن گیا، جنہوں نے اسماعیل خان کے قبضے کے بدلے بیشتر شمالی افغانستان پر اس کے اقتدار کو تسلیم کرنے کا وعدہ کیا۔ اسماعیل خان طالبان کا طاقتور دشمن تصور کیا گیا تھا۔[1][2] اس معاہدے کے تحت، 25 مئی، 1997ء کو وہ خان کو گرفتار کر کے طالبان کے حوالے کر دیا اور طالبان کو مزار شریف میں داخل ہونے کا موقع دیا۔ اس پیش رفت کی وجہ سے دوستم کو ترکی فرار ہونا پڑا۔ اس کے فوری بعد ملک کو یہ احساس ہو گیا کہ طالبان اپنے وعدے سے مکرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس کے آدمیوں سے اصلٰحہ چھیننا چاہتے تھے۔ اس کے بعد وہ طالبان کے حریف شمالی اتحاد سے دوبارہ مل کر اپنے حالیہ اتحادی طالبان کو مزار شریف سے بھگانے میں تعاون کرنے لگا۔

اکتوبر 1997ء میں دوستم جلاوطنی سے واپس لوٹا اور ملک کو شکست دے کر مختصر وقت کے لیے مزار شریف پر قابض ہوا، جس کی وجہ سے اسے ایران فرار ہونا پڑا۔[3]

2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد ملک نے اپنی حزب آزادیٔ افغانستان پارٹی تشکیل دی، جس کا عسکری دستہ دوستم کے ارکان کی جنبش پارٹی سے کئی بار بھڑ چکا ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Thomas H. Johnson۔ "Ismail Khan, Herat, and Iranian Influence"۔ Center for Contemporary Conflict۔ مورخہ 29 مارچ 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-20۔
  2. De Ponfilly, Christophe(2001); Massoud l'Afghan; Gallimard; ISBN 2-07-042468-5; p. 75
  3. UN Security Council report۔ "La situation en Afghanistan et ses conséquences pour la paix et la sécurité internationales"۔ Human Rights Internet۔ مورخہ مارچ 14, 2005 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-20۔
  4. Amin Tarzi۔ "Afghanistan: Government Turns Its Sights On Northern Warlords(Monday, August 21, 2006)"۔ Radio Free Europe Radio Liberty۔ مورخہ 14 مارچ 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-20۔