عبد الکلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الکلام
APJ Abdul Kalam Speech.JPG 

صدرِ جمہوریہ Flag of India.svg بھارت
مدت منصب
26 جولائی 2002 – 24 جولائی 2007
وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی
منموہن سنگھ
نائب صدر بھیروں سنگھ شیخاوت
Fleche-defaut-droite-gris-32.png کوچیریل رمن نارائن
پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 15 اکتوبر 1931[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رامیشورم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 جولا‎ئی 2015 (84 سال)[1][2][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شیلانگ[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات بندش قلب[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات طبعی موت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[6]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ مدراس[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر[8]،  انجینئر[9]،  سیاست دان[9]،  سائنس دان[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان تمل[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان تمل،  تیلگو[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
اوم پرکاش بھانس اعزاز (1986)
IND Bharat Ratna BAR.png بھارت رتن [13]
پدم وبھوشن سائنس و انجینئرنگ اعزاز[13]
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن [13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
عبد الکلام
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر

ابو الفاخر زین العابدین عبد الکلام (مختصراً: اے پی جے عبد الکلام) بھارت کے سابق صدر اور معروف جوہری سائنس دان، جو 15 اکتوبر1931ء کو ریاست تامل ناڈو میں پیدا ہوئے اور 27 جولائی 2015ء کو دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوا۔ عبد الکلام بھارت کے گیارہویں صدر تھے، انہیں بھارت کے اعلٰی ترین شہری اعزازات پدم بھوشن، پدم وبھوشن اور بھارت رتن بھی ملے۔ عبد الکلام کی صدارت کا دور 25 جولائی 2007ء کو اختتام پزیر ہوا۔

ابتدائی زندگی

ڈاکٹر عبد الکلام کا تعلق تامل ناڈو کے ایک متوسط خاندان سے تھا۔ ان کے والد ماہی گیروں کو اپنی کشتی کرائے پر دیا کرتے تھے۔ اگرچہ وہ ان پڑھ تھے، لیکن عبد الکلام کی زندگی پر ان کے والد کے گہرے اثرات ہیں۔ ان کے دیے ہوئے عملی زندگی کے سبق عبد الکلام کے بہت کام آئے۔ غربت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی تعلیم کے دوران بھی عبد الکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ اور اس کے بعد اس کرافٹ منصوبے پر کام کرنے والے دفاعی تحقیقاتی ادارے کو جوائن کیا جہاں ہندوستان کے پہلے سیٹلائٹ طیارے پر کام ہو رہا تھا۔ اس سیارچہ کی لانچنگ میں ڈاکٹر عبد الکلام کی خدمات سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اس کے علاوہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر انہوں نے پہلے سیٹلائٹ جہاز ایسیلوا کی لانچنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

سیاسی زندگی

15 اکتوبر 1931ء کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبد الکلام نے 1974ء میں بھارت کا پہلا ایٹم بم تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جاتا ہے۔
بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو شکست دی ہے۔ عبد الکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔

عبد الکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدر تھے۔ انہیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔

وفات

عبد الکلام 83 برس کی عمر میں، 27 جولائی 2015ء بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گر پڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور دم توڑ دیا۔

اعزازات

عبد الکلام کو حکومت ہند کی طرف سے 1981ء میں آئی اے ایس کے ضمن میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ عبد الکلام کو بھارت کے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے 1997ء میں نوازا گیا۔[15] 18 جولائی، 2002ء کو عبد الکلام کو نوے فیصد اکثریت کی طرف سے بھارت کا صدر منتخب کیا گیا اور انہوں نے 25 جولائی کو اپنا عہدہ سنبھالا، اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی اس وقت کی حکمراں قومی جمہوری اتحاد کی حکومت نے کیا تھا جسے انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ صدر کے عہدے کے لیے نامزدگی پر ان کی مخالفت کرنے والوں میں اس وقت سب سے اہم جماعت بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کی ساتھی جماعتیں تھیں۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی طرف سے 87 سالہ محترمہ لکشمی سہگل کا اندراج کیا تھا جو سبھاش چندر بوس کے آزاد ہند فوج اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے شراکت کے لیے معروف ہیں۔

کتابیں

عبد الکلام نے اپنی ادبی و تصنیفی کاوشوں کو چار بہترین کتابوں میں پیش کیا ہے:

  • پرواز (ونگس آف فائر کا اردو ترجمہ)
  • انڈیا 2020- اے وژن فار دی نیو ملینیم
  • مائی جرنی
  • اگنیٹڈ مائنڈز- انليشگ دی پاور ودن انڈیا

ان کتابوں کا کئی ہندوستانی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس طرح عبد الکلام ہندوستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جنہیں 30 یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں مل چکی ہیں۔

تصنیفات

  • Developments in Fluid Mechanics and Space Technology by A P J Abdul Kalam and Roddam Narasimha; Indian Academy of Sciences, 1988[16]
  • India 2020: A Vision for the New Millennium by A P J Abdul Kalam, Y S Rajan; New York, 1998.[17]
  • Wings of Fire: An Autobiography by A P J Abdul Kalam, Arun Tiwari; Universities Press, 1999.[18]
  • Ignited Minds: Unleashing the Power Within India by A P J Abdul Kalam; Viking, 2002.[19]
  • The Luminous Sparks by A P J Abdul Kalam, by; Punya Publishing Pvt Ltd, 2004.[20]
  • Mission India by A P J Abdul Kalam, Paintings by Manav Gupta; پینگوئن (ادارہ), 2005[21]
  • Inspiring Thoughts by A P J Abdul Kalam; Rajpal & Sons, 2007[22]
  • Indomitable Spirit by A P J Abdul Kalam; Rajpal and Sons Publishing[23]
  • Envisioning an Empowered Nation by A P J Abdul Kalam with A Sivathanu Pillai; Tata McGraw-Hill, New Delhi
  • You Are Born To Blossom: Take My Journey Beyond by A P J Abdul Kalam and Arun Tiwari; Ocean Books, 2011.[24]
  • Turning Points: A journey through challenges by A P J Abdul Kalam; Harper Collins India, 2012.[25]
  • Target 3 Billion" by A P J Abdul Kalam and Srijan Pal Singh; December 2011 | Publisher پینگوئن (ادارہ).
  • My Journey: Transforming Dreams into Actions by A P J Abdul Kalam; August 2013 by the Rupa Publication.
  • A Manifesto for Change: A Sequel to India 2020 by A P J Abdul Kalam and V Ponraj; July 2014 by Harper Collins.[26]
  • Forge your Future: Candid, Forthright, Inspiring by A P J Abdul Kalam; by Rajpal and Sons, 29 October 2014.[27]
  • Reignited: Scientific Pathways to a Brighter Future by A P J Abdul Kalam and Srijan Pal Singh; by Penguin India, 14 May 2015.[28]
  • Transcendence My Spiritual Experiences with Pramukh Swamiji by A P J Abdul Kalam; June 2015 by Harper Collins India Publication.[29]

سوانح حیات

  • Eternal Quest: Life and Times of Dr Kalam by S Chandra; Pentagon Publishers, 2002.[30]
  • President A P J Abdul Kalam by R K Pruthi; Anmol Publications, 2002.[31]
  • A P J Abdul Kalam: The Visionary of India by K Bhushan, G Katyal; A P H Pub Corp, 2002.[32]
  • A Little Dream (documentary film) by P. Dhanapal; Minveli Media Works Private Limited, 2008.[33]
  • The Kalam Effect: My Years with the President by P M Nair; Harper Collins, 2008.[34]
  • My Days With Mahatma Abdul Kalam by Fr A K George; Novel Corporation, 2009.[35]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/A-P-J-Abdul-Kalam — بنام: A.P.J. Abdul Kalam — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=149930341 — بنام: Avul Pakir Jainulabdeen Abdul Kalam — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. A. P. J. Abdul Kalam Birthday, Age, Family & Biography — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  4. ^ ا ب President APJ Abdul Kalam Dies at 83 — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  5. http://www.nytimes.com/2015/07/28/world/asia/apj-abdul-kalam-ex-president-who-pushed-a-nuclear-india-dies-at-83.html — اقتباس: A. P. J. Abdul Kalam, whose role in advancing India’s nuclear program made him one of his country’s most beloved figures, died on Monday after collapsing at an event where he was to deliver a lecture. The cause was cardiac arrest, doctors told NDTV, an Indian news channel.
  6. Dr. A.P.J. Abdul Kalam Biography — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  7. https://www.careerindia.com/news/2013/10/15/education-details-of-dr-a-p-j-abdul-kalam-007012.html — اخذ شدہ بتاریخ: 5 جولا‎ئی 2018
  8. Poetry — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  9. ^ ا ب Abdul Kalam, Indian aeronautical engineer and president, 1931-2015 — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  10. APJ Abdul Kalam: Great scientist, extraordinary human being — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  11. What is the mother tongue of Sir A.P.J. Abdul Kalam? — اخذ شدہ بتاریخ: 21 فروری 2018
  12. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb13756488m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  13. ^ ا ب پ https://www.news18.com/news/india/apj-abdul-kalams-list-of-awards-and-honours-1026484.html — اخذ شدہ بتاریخ: 5 جولا‎ئی 2018
  14. President APJ Abdul Kalam Dies at 83
  15. "بھارت رتن"۔ سانچہ:Deadlink
  16. "Developments in Fluid Mechanics and Space Technology"۔ National Informatics Centre۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 March 2012۔ 
  17. A.P.J. Abdul Kalam؛ Rajan Y.S. (1998)۔ India 2020: A Vision for the New Millennium۔ New York۔ آئی ایس بی این 978-0-670-88271-7۔ 
  18. Wings of fire: an autobiography۔ Universities Press۔ 1 January 1999۔ صفحہ 37۔ آئی ایس بی این 978-81-7371-146-6۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 March 2012۔ 
  19. A.P.J. Abdul Kalam (2002)۔ Ignited minds: unleashing the power within India۔ Viking۔ 
  20. A.P.J. Abdul Kalam (2004)۔ The luminous sparks : a biography in verse and colours۔ Bangalore: Punya Pub.۔ آئی ایس بی این 978-81-901897-8-1۔ 
  21. A.P.J. Abdul Kalam with Y.S. Rajan (2005)۔ Mission India : a vision for Indian youth۔ New Delhi, India: Puffin Books۔ آئی ایس بی این 978-0-14-333499-6۔ 
  22. A.P.J. Abdul Kalam (2007)۔ Inspiring thoughts۔ Delhi: Rajpal & Sons۔ آئی ایس بی این 978-81-7028-684-4۔ 
  23. A.P.J. Abdul Kalam (2006)۔ Indomitable Spirit۔ Delhi: Rajpal & Sons۔ آئی ایس بی این 978-81-7028-654-7۔ 
  24. You Are Born To Blossom : Take My Journey Beyond۔ New Delhi, India: Ocean Books۔ آئی ایس بی این 81-8430-037-9۔ 
  25. "Turning Points:A journey through challenges"۔ Harper Collins India۔ 
  26. "Dr. Abdul Kalam’s new Book A Manifesto for Change to release on July 14"۔ news.biharprabha.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 June 2014۔ 
  27. A P J Abdul Kalam (29 October 2014)۔ Forge Your Future: Candid, Forthright, Inspiring۔ Rajpal and Sons۔ آئی ایس بی این 978-93-5064-279-5۔ 
  28. A P J Abdul Kalam؛ Srijan Pal Singh (14 May 2015)۔ Reignited: Scientific Pathways to a Brighter Future۔ Penguin India۔ آئی ایس بی این 978-0-14-333354-8۔ 
  29. "Dr. Abdul Kalam’s new Book Transcendence My Spiritual Experiences with Pramukh Swamiji to release on June 15"۔ Harper Collins India Publication۔ 
  30. David Rohde (19 July 2002)۔ "Nuclear Scientist, 70, a Folk Hero, Is Elected India's President"۔ نیو یارک ٹائمز۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 June 2012۔ 
  31. Raj Pruthi (2003)۔ President Apj Abdul Kalam۔ Anmol Publications۔ آئی ایس بی این 978-81-261-1344-6۔ 
  32. K. Bhushan؛ G. Katyal (2002)۔ A.P.J. Abdul Kalam: The Visionary of India۔ APH Publishing۔ آئی ایس بی این 978-81-7648-380-3۔ 
  33. "Documentary on Kalam released"۔ The Hindu (Chennai, India)۔ 12 January 2008۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ11 May 2009 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 March 2009۔ 
  34. P. M. Nair (2008)۔ The Kalam Effect: My Years with the President۔ HarperCollins Publishers, a joint venture with the India Today Group۔ آئی ایس بی این 978-81-7223-736-3۔ 
  35. My Days with Mahatma Abdul Kalam۔ Novel Corp۔ 2009۔ آئی ایس بی این 978-81-904529-5-3۔